سانحہ 9 مئی


 

سانحہ نو مئی سنتے ہی آپ کے ذہن میں جناح ہاؤس، پشاور ریڈیو سٹیشن، میجر عزیز، مردان، لاہور کینٹ، کراچی کینٹ اور ایسی ہی جلاؤ گھیراؤ کی ایک تصویر ابھرتی ہے۔ ایسا ہی ہے ناں۔ ؟ کتنے لوگوں کو یاد ہو گا کہ اس روز عمران خان گرفتار ہوا تھا؟ اور پارٹی نے خود اپنے منشور اور اپنی پارٹی کی بنیادوں کو آ گی لگائی تھی۔

چند۔ آہستہ آہستہ جن کو یہ سب یاد ہے ان کو بھی چند سالوں میں بھول جائے گا اور یاد رہ جائے گا سانحہ نو مئی۔

یہ ہے تاریخ سازی، تاریخ جو رقم ہو گئی ہے۔ آگے بڑھتے ہیں ہمارے پاس ایک قانون ہے، اس آگ کو قابو کرنے کا اس پہ عمل درآمد ہو گیا۔ اس کے بعد اب ”یہ دھواں سا کہاں سے اٹھا ہے“ والا حال ہے۔

وہ جن کے لیڈر انقلاب لانے کی باتیں کرتے تھے وہ انقلاب تو نہ لا سکے ایک سیاہ تاریخ رقم کر کے رخصت ہوئے

”وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے“

لیکن جو پیچھے رہ جانے والے اپنا پرانا منہ بھی کسی کو دکھانے جوگے نہیں رہے۔ اب ان کی اندر تو آگ لگی ہوئی ہے اس کا نکالنے کا ایک ہی رستہ بچا ہے بلا وجہ ان لوگوں کو گالیاں دینا جو اس مصنوعی انقلاب کا حصہ کبھی نہیں رہے۔ جن کی نگاہ ہمیشہ لکھی ہوئی اور نہ لکھی ہوئی تاریخ پہ رہی۔

جن کو علم تھا مصنوعی انقلاب جیسے آتے ہیں ویسے ہی چلے بھی جاتے ہیں لہذا اب ان پہ ایک آزمائش اور آن پڑی ہے۔ انقلابیوں کی گندی اور ننگی گالیاں اور کلمات سننے کی جو وہ اپنے ظرف اور گنجائش کے مطابق نکال رہے ہیں۔ قاسم کے ابا کا نام لینے پہ پابندی ہے اب کس نام کی مالا جپنی ہے سمجھ نہیں آ رہا۔

پانی نہیں آ رہا، دے گالی، بجلی گئی ہے، دے گالی، آندھی چلی ہے، دے گالی، بارش ہوئی ہے دے گالی، سر راہ بازار میں ملاقات ہوئی ہے دے گالی۔

آپ ہاتھ جوڑ کے التجا کرتے ”حضور ترجمہ بھی فرما دیا کریں اتنی پنجابی اور پشتو کے ہم ماہر نہیں ہیں ہماری مادری زبان مہاجروں والی ہے۔ اس پہ پھر دے گالی۔

قانون جوں جوں اپنے لمبے لمبے ہاتھ دیکھا رہا ہے گالیوں، بد کلامی اور فحش ویڈیوز کا روز بڑھ رہا ہے لیکن جذباتی انسان کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے وہ خود تو ڈوبتا ہے اوروں کو بھی لے ڈوبتا ہے۔

یہ جذباتی انسانوں کا ٹولا تھا ورنہ ہم نے اپنے بزرگوں سے یہی سنا ہے کہ مجیب الرحمن اور بھٹو کے جو بھی سیاسی معاملات تھے۔ تاریخ کا وزن دونوں طرف جو بھی تھا۔ اس وقت کے لوگ بے حس نہیں تھے۔ دونوں کا درد برابر سوگ بن گیا تھا۔ دے گالی والا ماحول نہیں تھا حالانکہ نہ اتنے تعلیمی ادارے تھے نہ ہی اتنی تعلیم تھی مگر انسانیت تھی۔

بھٹو جانتے ہیں کیوں نہیں مر رہا؟ کیونکہ اگر وہ انا پرست اور خاندانی تھا تو وہ مر گیا تھا۔ اس لئے وہ زندہ ہے۔

قاسم کے ابا تو کہتے ہیں ”غلامی سے اچھا ہے مر آپ جائیں“ یعنی اپنے مرنے کا خیال انہیں آج بھی نہیں ہے۔ قاسم کے ابا نے یہ بھی اپنے غلاموں کو کہا ہے۔ مگر مجال ہے جو کسی نے قاسم کے ابا کی بات مانی ہو اور مرنے کی تدبیر کی ہو۔ الٹا وہ اکثریت کو مارنے پہ تلے ہوئے ہیں تو جان منز ہجوم کی ایک اپنی نفسیات ہوتی ہے۔ ناکامی کی اپنی اقدار ہوتیں ہیں جیسے کامیابی کا اپنا فرعون ہوتا ہے۔

اب اس فرعون کی ممیز کو گلے لگا کر روئیں تاکہ حوصلہ ملے، رونے سے جی ہلکا ہو جاتا ہے، درد بہہ جاتا ہے۔

اخلاق سے کام لیں جیسے آپ کو انقلاب لاتا دیکھ کر سمجھ داروں نے اخلاق سے کام لیا تھا۔ اپنے جیسوں سے لڑیں، اپنی الگ محفلیں سجائیں کسی ڈی، بی، سی چوک میں۔ اب وہ انقلاب نہیں آئے گا جس کے خواب آپ کو آتے تھے کہ ابو کے ابو مطلب دادا ابو نے ہمیں بہت پہلے بتا دیا تھا بیٹا انقلاب کے لئے اخلاق ضروری ہوتا ہے۔

اللہ پاک آپ سب کو صبر جمیل عطا فرمائے اور سمجھ عطا فرمائے کہ مصنوعی انقلاب کے اندر ایک کیڑا ہوتا ہے وہ خود ہی اسے کھا جاتا ہے۔

 

Facebook Comments HS