دائروں کا سفر


بندہ نا چیز نے آنکھ کھلی تو وطن عزیز ضیاء آمریت سے ایک جمہوری دور میں داخل ہو رہا تھا۔ گھر پر دن کا آغاز صبح کے ناشتے پر ابا جان کے ریڈیو پر بی بی سی سیربین سے اور اختتام اٹھ بجے کے خبروں پر ہوتا۔ یہی سے ملکی و غیر ملکی سیاسیات، حالات حاضرہ میں دلچسپی کا عنصر پیدا ہوا۔

نوے دہائی کے اواخر میں محترمہ بینظیر صاحبہ کا راستہ روکنے کی خاطر فیصلہ سازوں نے پراجیکٹ آئی جے آئی شروع کیا۔ ریاستی بے پناہ پشت پناہی اور مالیاتی وسائل کے باوجود جنرل الیکشن میں محترمہ کا راستہ مکمل طور پر نہ روکا جا سکا۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات اور آئی جے آئی جیسے بندوبستوں کے بدولت ملکی سیاسیات میں پیسوں کی ریل پیل، بد زبانیوں، گالم گلوچ، عدم برداشت وغیرہ پروان چڑھنا شروع ہوا۔ نظریاتی سیاست کے جگہ پاور پالیٹکس نے لی۔

سیاستدانوں میں بلڈرز، کاروباریوں، سرمایہ داروں، جاگیر داروں کے اکثریت ہونے لگی۔ نظریاتی کارکن جو کبھی کسی جماعت کا قیمتی سرمایہ تصور ہو تا تھا نظر انداز ہونے لگا۔ یہی روش ہر شعبے میں سرایت کرنے لگی۔ صحافت میں جینوئن صحافیوں کے جگہ چھا تر برداروں نے لی۔ بیوروکریسی میں وہی رفعت پانے لگے جو خوشامد اور چاپلوسی میں یکتا تھے۔ تعلیم کاروبار بن گیا اساتذہ عزت کے بجائے دولت کمانے لگے تعلیمی اداروں میں انسانوں کی بجائے گدھے مینوفیکچر ہونے لگے۔

ڈاکٹرز مسیحاؤں سے قصاب، وکلاء داد رساؤں سے رہزنوں کا روپ دھار نے لگے۔ علماء سیدھا راستہ دکھا نے کے بجائے اپنے اپنے گروہوں فرقوں کے راستوں پر لوگوں کو چلانے لگے۔ ملک کے اصل حکمران ایسی پالیسیاں بنانے میں جت گئی کہ ملک کمزور اور وہ خود نا قابل تسخیر بن گئے۔ دوسروں کے احتساب کرنے والے اداروں نے آئین کی ایسی من پسند تشریحات کی کہ خود اس کا احتساب ایک خواب ہی بن گیا۔ بلڈرز مافیا ہاؤسنگ سوسائٹی کے وجہ سے زمینیں اناج کے بجائے سیمنٹ اور سریاں اگلنے لگے۔ بمپرز پیداوار کے دعووں کے باوجود ملک میں اشیاء خورد و نوش کی قلت اور بلند نرخوں کا راج رہا۔ ان سارے باتوں کا حاصل صرف یہ کہ قانون ساز اداروں کے زوال پذیری کے اثرات زندگی کے ہر شعبے میں انحطاط سے ہم سمجھ سکتے ہیں۔

اب ذہن میں یہ سوالات ابھر رہے ہیں آزادی کے ان 76 سالوں کا حاصل ہمارا کیا ہے؟ ہم ایک فلاحی ریاست کیوں نہ بن پائیں؟ وسائل کے باوجود سارے عالم میں در بدر کیوں ہیں؟ ہمارا خارجہ پالیسی طاقتور ریاستوں کے مرہون منت کیوں ہیں؟ ہمارے لیے آزادی ایک خواب کیوں رہا ہیں؟

اسی طرح ڈھیر سارے سوالات کے جوابات ہمیں پروجیکٹ عمران میں مل سکتے ہیں۔ اس پروجیکٹ کا اصل شروعات اس وقت ہوا تھا جب دو بڑی جماعتوں پی ایم ایل این اور پی پی پی نے میثاق جمہوریت کے روشنی میں 2010 میں آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی، آمریت کا راستہ روکنے اور صوبائی خودمختاری جیسے اقدامات کر کے اصل فیصلہ سازوں کے ایوانوں میں خطرے کے گھنٹیاں بجائیں۔ فیصلہ سازوں نے جوابی اقدام کے ذریعے عمران کا بت تراش کر دیوتاؤں کا درجہ دیا۔ اس نیک کام میں نشریاتی اداروں کے باقی جماعتوں اور سیاستدانوں کے خلاف بدترین پروپیگنڈے، ہتھوڑا گروپ کے ذریعے دو منتخب نمائندوں کے برطرفی و نا اہلی اور عمران کو سرٹیفائیڈ صادق و امین قرار دے کر اس مقدس دیوتا کو مزید اعلیٰ مرتبت بنا دیا۔

اب جب فیصلہ سازوں کو وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئیں یا بننے والے اپنے خالقوں کو آنکھیں دکھانے لگے تو پروجیکٹ کو جڑ سے اس طرح اکھاڑ کر پھینکنا شروع کیا جس طرح اسے تخلیق کیا تھا۔ اس لاحاصل مشق میں ہمیشہ کی طرح دیوتا کے پرستش پر معصوم پجاری ستم کا نشانہ بنے اور تخلیق کار اس کی بیچارگی اور معصومیت پر قہقہے لگا کر کسی اور پتھر کو تراشنے پر لگے ہیں۔ پتھر تراشیوں کا یہ لاحاصل سفر ارض وطن کی ہر کل کو انتہائی پستیوں میں لے جا کر ہی کبھی دم لے گا۔

Facebook Comments HS