پریس پر پابندی – کل اور آج


تاریخ کے اوراق سے گرد جھاڑ کر مطالعہ کریں تو پڑھنے کو ملے گا کہ فرزانوں کے ہجوم میں کچھ دیوانے ایسے بھی ہوئے جو جابر کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے۔ انھوں نے جابر کے سامنے سر نہیں جھکایا بلکہ جبر کا ہر وار سینے پر سہ کر تاریخ میں امر ہوئے۔

قلمکار کے ہاتھ میں فقط ایک قلم ہوتا ہے توپ و تفنگ نہیں، مگر بیرونی و داخلی سامراج نے سب سے پہلے کلہاڑا قلم پر چلایا میڈیا پر کڑا سنسر لگایا اس سب کے باوجود آزاد منش قلمکار جبر کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے انھوں نے بھاری بھر نقصان بھی اٹھایا مگر جبر کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کیا۔ انگریز استعمار کے خلاف کھڑے ہونے والوں میں ایک نام مولانا ظفر علی خان اور دوسرا دیوان سنگھ مفتون کا ملتا ہے دونوں آزاد منش قلمکاروں کے اپنے اخبارات تھے ان کے اخبارات کی بندش کی گئی پابند سلاسل کیا گیا مگر جبر کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔

مولانا ظفر علی خان اپنے اخبار ”زمیندار“ میں انگریز جبر پر اداریہ لکھتے جو حکمرانوں کی طبعیت پر گراں گزرتا ان پر جھوٹے مقدمات بنا کر انھیں پابند سلاسل کیا جاتا ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی آدھی زندگی ریل میں اور آدھی زندگی جیل میں گزری، دیوان سنگھ مفتون سکھ قلمکار تھے انھوں نے انگریزوں کے مہروں کے خلاف اپنے اخبار ”ریاست“ میں قلم کا جہاد جاری رکھا ان پر کوکین رکھنے، بغاوت، جعل سازی، چوری، فراڈ اور غداری کے مقدمات بنائے جاتے ان کا دفتر دہلی میں تھا مگر مقدمات دہلی سے چھ سو کلومیٹر دور ہوشنگ آباد میں بنائے جاتے مقصود یہ تھا کہ ان آزاد منش لوگوں کو توڑا جائے عدالتوں میں کیسز چلتے اور عدالتیں ان مقدمات کو کو جھوٹا اور بے بنیاد کہہ کر خارج کر دیتی۔

محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں ہمیں ہند سے آزادی ملتی ہے ہم آزاد مملکت کے شہری کہلاتے ہیں اور ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہماری فکر اور سوچ پر کوئی قدغن نہیں ہم اپنے رائے کا اظہار کھلے عام کر سکتے ہیں مگر ایسا نہیں ہوا بیرونی سامراج کے بعد ہماری شہ رگ داخلی سامراج اپنے جبڑوں میں لے لیتا ہے خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں پریس اینڈ پبلی کیشنز 1963 نافذ کیا جاتا ہے۔ اس قانون کا پھندا وقتاً فوقتاً آج تک ہماری صحافت کے گلے میں پڑا ہوا ہے۔ کچھ لوگوں کو خوش فہمی تھی کہ ایوب دور کے بعد یہ کالا قانون اپنی موت آپ مر جائے گا لیکن ہر دور میں یہ نقش برآب ثابت ہوتی رہی۔ اندھے کے ہاتھ میں ایک بار لاٹھی آ جائے تو وہ اس کے سہارے کے بغیر دو قدم چلنے سے بھی معذور ہو جاتا ہے۔

یہ ایوب دور ہی ہوتا ہے کہ قرۃ العین حیدر کو ملک چھوڑنا پڑتا ہے پھر اس کے قلم سے آگ کا دریا جیسا شاہکار ناول تخلیق ہوتا ہے۔

پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم اور جمہوریت کے سب سے بڑے داعی ہونے کا دعویٰ کرنے والے ذوالفقار بھٹو بھی سیاسی مخالفین کے حق میں اپنے پیش روؤں سے مختلف ثابت نہ ہوئے۔ راؤ رشید اپنی کتاب ’جو میں نے دیکھا‘ میں لکھا ہے کہ انہوں نے مخالفین کو کچلنے کے لیے مختلف ادارے بنائے اور حزب اختلاف کو بے رحمی سے نشانہ بنایا۔ اہم اپوزیشن رہنماؤں کو مدتوں پس زنداں رکھا۔ ان پر انسانیت سوز تشدد کیا گیا۔ کئی بہادر صحافیوں کو جیل میں ڈال دیا گیا۔

پریس شکنجے میں آیا۔ زیر عتاب آنے والے صحافیوں میں الطاف حسن قریشی، ڈاکٹر اعجاز قریشی، مجیب الرحمٰن شامی اور دیگر شامل تھے۔ حسین نقی تو بھٹو کے دوست اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے تھے انہیں بھی بھٹو نے پس زنداں کیا۔ استاد دامن لاہوری نے ایک نظم کہی جو بھٹو کی طبعیت پر گراں گزری بھٹو نے استاد دامن کو سبق سکھانے کے لیے اپنے غنڈے بھیجے اور استاد دامن کے کمرے سے بم برآمد کروا کر ان پر مقدمہ بنوا کر جیل بھیج دیا

بھٹو چونکہ جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ان کے مزاج میں فسطائیت تھی جو اختلاف کو پسند نہیں کرتے تھے انھوں نے اپنی ہی جماعت کے قد آور لیڈروں کو پابند سلاسل کیا۔ بے داغ اور کھرے سیاست دان سردار شیر باز مزاری نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ ”ہم نے بھٹو دور میں بھی جیل گزاری اور ضیا الحق دور میں بھی، فرق یہ تھا کہ ضیا دور میں سیاسی کارکن جیل جاتے تھے، ان کے گھر والوں کی عزتیں محفوظ رہتی تھی لیکن بھٹو دور میں گھر والوں کی عزتیں بھی خطرے میں رہتیں۔ یہ صرف سیاسی مخالفین کے ساتھ نہیں تھا بلکہ اپنے کسی اکھڑ رکن اسمبلی کو سبق سکھانا مقصود ہوتا تو اس کی بیٹی اٹھا لینے کی دھمکی دی جاتی اور اس کام کے لیے باقاعدہ ایک فورس بنائی گئی تھی جسے نتھ فورس کا نام دیا گیا تھا۔“

ضیاء الحق، نواز شریف اور پرویز مشرف کے جبر کی داستانیں ملتی ہیں مگر موجودہ حکومت نے جبر کی ایسی لازوال کہانیاں رقم کی جس کی جس کی ہند کی تاریخ انسانی میں مثالیں نہیں ملتی۔ بولنے والے کو اٹھایا جا رہا ہے سچ لکھنے والے کو اغوا کیا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف سے ہمدردی رکھنے والوں کے کاروبار تباہ کیے جا رہے ہیں گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ خواتین کی تذلیل کی جا رہی ہے۔

حکم صادر ہوتا ہے کہ عمران خان کی تصویر، نام تک اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں نہیں چلایا جائے گا۔

ذہنوں پر روک تھام، بندش اور پابندی عائد کرنے والا ہر اقتدار کے دور میں قانون لازمی طور پر قوت تخلیق کو بنجر بانجھ اور بے ثمر کر دیتا ہے۔ دھونس و دھاندلی کا نشہ بھی شراب کی مانند ہوتا ہے۔ دونوں میں ایک قدر مشترک ہے کہ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی۔

آفاقی اصول ہے کہ طاقت کے نشے میں سچ کو دبایا نہیں جا سکتا۔ سچ نہ کل دبا تھا اور نہ مستقبل میں دبے گا۔ سچ لکھنے کی پاداش میں ایک نہیں سو بار جھوٹے مقدمات بنا کر پابند سلاسل کیا جائے بخوشی قبول کریں گے کیونکہ جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے اور جھوٹ سر بازار رسوا ہوتا ہے

Facebook Comments HS

بشارت راجہ

بشارت راجہ شہر اقتدار سے پچھلی ایک دہائی سے مختلف اداروں کے ساتھ بطور رپورٹر عدلیہ اور پارلیمنٹ کور کر رہے ہیں۔ یوں تو بشارت راجہ ایم فل سکالر ہیں مگر ان کا ماننا ہے کہ علم وسعت مطالعہ سے آتا ہے۔ صاحب مطالعہ کی تحریر تیغ آبدار کے جوہر دکھاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وسعت مطالعہ کے بغیر نہ لکھنے میں نکھار آتا ہے اور نہ بولنے میں سنوار اس لیے کتابیں پڑھنے کا جنون ہے۔

bisharat-siddiqui has 157 posts and counting.See all posts by bisharat-siddiqui