طارق ملک کا استعفیٰ
دوسرے ممالک ترقی کی منازل طے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور ہم ابھی تک دائروں میں سفر کر رہے ہیں۔ پائیدار ترقی کے لئے نظام کا تسلسل ضروری ہوتا ہے لیکن ہم ہر چند سال بعد نیا تجربہ کرتے ہیں اور یوں ہم ”زیرو پوائنٹ“ پرہی کھڑے ہیں۔ اس ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں کوئی بھی اپنا کام نہیں کرتا البتہ دوسرے کے کاموں میں دخل دینا فیشن بن گیا ہے۔
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے چیئرمین اسی زمرے میں آتا ہے طارق ملک نے وزیر اعظم شہباز شریف کو تین صفحات پر مشتمل جو استعفیٰ دیا اس کا متن ٹویٹر پر شیئر ہو چکا ہے جو استعفیٰ کم، چارج شیٹ زیادہ ہے۔
انہوں نے اپنے استعفیٰ میں لکھا کہ: چیئرمین نادرا سے پہلے میں یونائیٹڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام نیویارک میں چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر کے طور پر کام کر رہا تھا۔ میں نے اس ادارے کی بہتری کے لئے اپنی تمام توانائیاں استعمال کیں، قوم کی خدمت کو ایک مشن بنایا۔ نادرا جیسے بڑے ادارے کی سربراہی میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ملک میں کوئی بھی جماعت برسراقتدار ہوئی میں نے اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھائیں، پارلیمانی کمیٹیوں میں اپوزیشن یا حکومتی بینچ کے پارلیمنٹیرینز، الیکشن کمیشن کو معاونت فراہم کی۔
ملک کے تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ کام کیا۔ موجودہ سیاسی ماحول میں میرے لیے کام کرنا ممکن نہیں۔ جن سمجھوتوں کی مجھ سے امید کی جا رہی وہ میری اقدار سے اہم نہیں۔ کسی بھی پیشہ ور کے لیے ایسے ماحول میں اپنی عزت اور آزادی کو برقرار رکھنا مشکل ہے۔ کسی حاضر سروس یا ریٹائرڈ کو میری جگہ لگانے کی بجائے کسی پروفیشنل کو تعینات کیا جائے، نادرا کسی سیاسی تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ ”
طارق ملک پروفیسر فتح محمد ملک کے فرزند ہیں۔ دنیائے شعر و ادب پروفیسر فتح محمد ملک سے واقف ہے، علمی و صحافتی دنیا انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اقبال شناس لوگ ان سے مستفید ہوتے ہیں۔ طارق ملک قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد اور ہائیڈل برگ جرمنی کے فارغ التحصیل، جان ایف کینیڈی اسکول آف گورنمنٹ، ہارورڈ یونیورسٹی اور اسٹیشن فورڈ یونیورسٹی امریکہ سے تربیت یافتہ ہیں۔
2008 ء کے انتخابات کے بعد بطور نادرا چیئرمین ان کی پہلی تقرری ’میرٹ‘ پر ہوئی۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی تو اس کے ”مسٹر کلین“ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان طارق ملک سے نجات کے لیے جت گئے۔ مسلم لیگ نون نے 2013 میں لاہور طلب کر کے ان کے سامنے کچھ ’مطالبات‘ رکھے۔ طارق ملک نے انکار کر دیا نتیجہ یہ نکلا کہ اسی رات ایک بجے طارق ملک نوکری سے فارغ ہوچکے تھے۔ طارق ملک پر مقدمات قائم کیے گئے، پولیس اور ایف آئی اے کو پیچھے لگایا گیا۔ اسکول جانے والے بچوں کو بھی تنگ کیا گیا، وہ اتنے مجبور ہوئے کہ عدالت سے بحالی کے باوجود وہ کبیدہ خاطر ہو کر ملک چھوڑ گئے۔ چیئر مین نادرا کے منصب سے الگ ہوئے تو اقوام متحدہ نے یو این ڈی پی کی کمیٹی کا سربراہ بنا دیا۔ جس کے ساتھ وہ پہلے بھی کام کر چکے تھے اور اس دوران 130 ممالک نے ٹیکنالوجی کے ذریعے گورننس کے نظام کو بہتر بنانے کے پروگرامز میں ان سے مدد لی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی سر پرستی کرتے ہوئے 180 دنوں میں ملاوی (افریقہ) کے شہریوں کی بائیو میٹرک رجسٹریشن کا کام مکمل کیا اور وہاں اسمارٹ کارڈ کا نظام متعارف کروایا، انہیں عالمی ترقیاتی بینک امریکہ نے ”ترقی کے لئے شناخت“ نامی پروگرام کی بنیاد رکھنے کی ذمہ داری سونپی پھر ان کا نام اس کام کے بعد دس بہترین ٹیکنیکل ایکسپرٹس میں شامل کیا گیا۔ ورلڈ بینک دنیا بھر کے لئے طارق ملک کی مہارت سے استفادہ کیا۔
ایک اہم عالمی ادارے میں پرکشش ملازمت کے باوجود ان کے بقول انہیں وطن کی یاد ستاتی تھی۔ نادرا کے چیئرمین کے لیے سرکار کا اشتہار پڑھ کر درخواست دی۔ 109 افراد میں سے پانچ افراد کو شارٹ لسٹ کیا گیا، جن میں طارق ملک کا نام سرفہرست تھا۔ عمران خان کے دور میں میرٹ پر ایک بار پھر تقرری ہوئی۔ وہ اپنی بے چین طبیعت کے باعث ہمہ وقت مصروف کار رہتے۔ پانچ سال قبل اقوام متحدہ نے انہیں بین الاقوامی مقابلے میں 178 آئی ٹی ماہرین میں سے منتخب کیا تھا، 130 سے زائد ممالک کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے حکومتی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد فراہم کی۔
طارق ملک نے دنیا کے سب سے بڑے ملٹی بائیو میٹرک سسٹم کا آغاز کیا۔ دنیا انفارمیشن ٹیکنالوجی میں اسے اپنا رہنما مانتی ہے۔ طارق ملک نے ڈیٹا بیس کے ساتھ ساتھ ”بگ ڈیٹا کے تجزیہ“ کو پاکستان میں ٹیکس نیٹ میں اضافے، جرم اور بد عنوانی کے مقابلے، سماجی ترقی، خواتین کو با اختیار بنانے، جمہوریت کی مضبوطی، بہتر طرز حکمرانی اور غربت میں کمی کے لئے استعمال کیا، جب انہوں نے پاکستان میں 3.5 ملین ٹیکس نادہندگان کی نشاندہی کی تو سی این این نے طارق ملک کو ”مین آن مشن“ کا خطاب دیا۔ انہوں نے امریکہ، روس، کینیا، نائیجریا، تنزانیہ، صومالیہ، سری لنکا، بنگلہ دیش اور ملاوی میں پروجیکٹس کی قیادت کی، اقوام متحدہ کے کئی ذیلی اداروں کو شفافیت کے ساتھ مقاصد کی تکمیل کا راستہ دکھایا۔ مشی گن میں آن لائن پراپرٹی ٹیکس کے نظام کو چار چاند لگائے۔ پاکستان میں انہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ اٹلی میں انہیں ”آؤٹ اسٹینڈنگ اچیومنٹ ایوارڈ“ دیا گیا۔ نیو یارک کے ادارے ون ورلڈ آئیڈینٹیٹی کی جاری کردہ ڈیجیٹل کمیونٹی کے ماہرین کی فہرست میں تین سال ان کا نام فیس بک کے مارک زکربرگ، ایپل کے ٹم کوک، مائیکروسافٹ کے ڈینئیل بکنر کے ساتھ آتا رہا۔ کتنے ہی ایوارڈز ہیں، جو ان کی پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہیں۔
دنیا نے انہیں اعزازات سے نوازا مگر ہم نے ان کے کارناموں کو مٹی میں ملایا۔ مسلم لیگ کے پہلے دور حکومت میں ”مسٹر کلین“ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے طارق ملک کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیا اقوام متحدہ کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے پاکستانی مندوب کی درخواست کے باوجود انہیں دنیا کے ایک سو اسی ممالک کے نمائندوں کو بریفنگ دینے کے لیے جانے کی اجازت نہیں دی۔
سری لنکا میں چھ ارب روپے کا کنٹریکٹ بھارتی کمپنی نے ملی بھگت سے جیتا تو طارق ملک نے سری لنکا کی سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا کہ یہ کنٹریکٹ نادرا کا حق تھا۔ ایک ماہ کی سماعت کے بعد نادرا کا موقف درست نکلا۔ دوبارہ کنٹریکٹ میں دنیا بھر اور بھارتی کمپنیوں کے مقابلے میں نادرا نے چھ ارب روپے کا کنٹریکٹ حاصل کیا۔ دوسرے مرحلے میں تیس ارب روپے کے کنٹریکٹ پر سری لنکا حکام کا دستخط کے لئے فون آیا۔ وزارت داخلہ کو تین افسران کے سری لنکا جانے کی سمری بھیجی گئی۔
چوہدری نثار نے چیئرمین طارق ملک کو اجازت دینے سے ایک بار پھر انکار کر دیا۔ طارق ملک نے اپنا نام کاٹا تو دو افسران کو سری لنکا جانے کی اجازت دی گئی۔ پہلی بار پیپلز پارٹی کا بندہ ہونے پر اور اس بار مسلم لیگ (ن) کے موجودہ وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے انھیں ’عمران خان کا بندہ‘ تصور کرتے ہوئے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔
طارق ملک کا استعفیٰ ایسے ماحول میں افسوس ناک ہے، جب پاکستانی بیوروکریسی میں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ افسران نہیں۔ سی ایس ایس کے ذریعے ہارورڈ یا آکسفورڈ جیسی یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم کے بعد وطن لوٹتے ذہین نوجوان سرکار کے ایسے ہی ہتھکنڈوں سے اکتا کر مستعفی ہو جاتے ہیں۔ جنہیں طاقت ور ملٹی نیشنل کمپنیاں اور عالمی ادارے اچک لیتے ہیں۔ ہماری ریاست و حکومت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ’گورننس‘ کو یقینی بنانے کے لیے طارق ملک جیسے وطن سے محبت کرنے والے باصلاحیت افراد کی اشد ضرورت ہے۔ نہ کہ انہیں رسوا کر کے عہدوں سے ہٹانے کی۔ اسی رویے کے باعث دائروں کا یہ سفر جاری ہے۔ ہمارے حکمران اور اشرافیہ نے اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھنا تو انجام کیسے بدل سکتا ہے۔ عہدے امانت ہوتے ہیں نہ کہ مال غنیمت۔ کہ پروفیشنلز کے بجائے سیاسی وابستگی کی بنیاد پر بانٹے جائیں۔


