اظہر عباس عادل: جھنگ کا فخر

آج جس شخصیت کے بارے میں میں تبصرہ لکھنے جا رہا ہوں وہ ضلع جھنگ سے تعلق رکھنے والی خوبصورت، ملن سار، خوش اخلاق، مین آف میرٹ، محبت بانٹنے والی سماجی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں افسر ہوتے ہوئے انسانیت، فطرت اور اپنے شہر جھنگ سے بے پناہ محبت کی۔ وہ ایک سماجی ادارے کے افسر ہوتے ہوئے عام لوگوں کی طرح خدمت کرتے رہے۔ راقم کا تعلق ان سے بہت زیادہ پرانا نہیں ہے مجھے ان کے ساتھ اگست 2019 میں انسانی حقوق کی خدمات سرانجام دینے کا موقع ملا۔
چار سال ہم نے مل کر ایسے کام کیا کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ اس شہر میں محکمہ سوشل ویلفیئر کے وہ ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں ایسا لگتا تھا کہ وہ دنیا میں افسر شاہی نہیں بلکہ خدمت خلق کرنے آئے ہیں ان کی سروس کے دوران ہر فرد ان سے خوش تھا کبھی کبھار جب کبھی کسی کی ناراضی ہو بھی جاتی تو وہ اس ناراضی کو پھر محبت میں بدل دیتے اور ناراض ہونے والے شخص ان کی محبت میں گرفتار ہو جاتے۔ میری تحریر سے ان کے اور میرے حلقہ احباب کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ میں جھنگ کی ہر دلعزیز مایہ ناز شخصیت اظہر عباس عادل صاحب کی بات ہی کر رہا ہوں۔
اظہر عباس عادل جو محکمہ سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال جھنگ میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ بعد از ان کی بہترین خدمات کے عوض انہیں ترقی ملی اور وہ ڈویژنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ریٹائرڈ ہوئے۔ وہ نہایت شفیق، صابر، رحم دل، حلیم، محنتی، منظم، دور اندیش، انسان دوست اور فطرت سے محبت کرنے والی ملن سار شخصیت ہیں۔ اس بات سے اندازہ اس طرح بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد اب تک ان سے محبت کرنے والوں نے ان کے لئے الوداعی پارٹیوں میں ان کو مدعو کر کے ان کی خدمات کے پیش نظر سلام پیش کیا اور خوبصورت شخصیت کو شیلڈز اور تحفے پیش کیے گئے۔
پنجاب بھر میں یہ محکمہ ایک ایسا محکمہ ہے جس کے پاس ایک ایسا منصب ہے جو این جی اوز اور شہریوں کو جوڑ کر رکھتا ہے۔ جب بھی کوئی قدرتی آفت آئی تو انہوں نے چاک و چوبند ہو کر سول سوسائٹی کو متحرک کر کے اس آفت یا مصیبت میں بلا تفریق شہریوں کی مدد کی۔ کرونا وائرس اور سیلاب جیسے مشکل حالات میں انہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے متاثرین کی مدد کرنے میں کوئی کثر نہ چھوڑی، معذور افراد کے حقوق کی فراہمی، مالی مدد، وہیل چیئرز، راشن، میرج گرانٹس، مناسب چھوٹے روزگار، کونسلنگ جیسے کام ان کی روزمرہ زندگی میں شامل ہیں۔
جھنگ سمیت لاہور میں ان کی خدمات کو سراہا گیا اور ڈی جی سوشل ویلفیئر مدثر ریاض ملک اور ان کی ٹیم نے بھی ان کی بہترین سروسز پر ان سے محبت کا اظہار کیا۔ وزارت برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور پنجاب حکومت کی طرف سے 11 جولائی 2019 کو ضلعی انسانی حقوق کمیٹیاں تشکیل دی گئیں اور مجھے ضلع جھنگ میں منسٹر اعجاز عالم آگسٹین کی طرف سے ضلعی کمیٹی انسانی حقوق جھنگ کا ممبر مقرر کیا گیا تو میری ان سے ملاقات ہوئی ملاقات کے بعد وزارت کی طرف سے لاہور میں انسانی حقوق پر تین روزہ تربیتی کورس کروایا گیا جہاں پر اکٹھے ہوئے اور ایک دوسرے کو جاننے کا موقع ملا۔
ہمارے نظریات اور خدمات ایک ہونے کی وجہ سے ہم نے مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس کمیٹی کے سیکرٹری تھے اور بندہ ناچیز بطور رضاکار مذہبی اقلیت سے 28 لاکھ آبادی کے شہر میں اکیلا ممبر ہے۔ مجھے ایک اعلی اور قابل افسر کے ساتھ خدمات کا موقع ملا تو میرے اندر موجود صلاحیتیں اور نکھر اور ابھر کر سامنے آئیں۔ اظہر صاحب کو میں نے ہمیشہ اپنا محسن، بڑا بھائی، بزرگ، اپنی دھرتی سے محبت کرنے والا ایک سچا انسان پایا۔
میں نے ہمیشہ ان کے عہدے کا جائز اور صحیح استعمال کیا۔ یوں ہماری نیٹ ورکنگ بڑھتی گئی اور جھنگ میں ہماری این جی اوز اور سماجی کارکنان کا بہترین گروپ بن گیا۔ روز صبح سویرے بیدار ہوتے تو انسانیت کی خدمات کا کوئی نیا مشن سامنے ہوتا۔ انسانی حقوق، افراد باہم معذوری کے حقوق، بچوں، خواتین، اقلیتوں کے حقوق، کمزور و طبقات کے حقوق، بین المذاہب ہم آہنگی، پرائس کنٹرول، چائلڈ لیبر، نشے کے عادی افراد کی صحت یابی کا کام، بونڈیڈ لیبررائٹس کا کام، حکومتی مہم کا حصہ رہنا معمول بن گیا۔
دکھی افراد کی ہم سے امیدیں، انصاف کے متلاشی کا ہم تک پہنچنا یہ میرے رب کی نعمتوں میں سے ایک بہترین نعمت ہے۔ میری اور ان کی محنت، دلچسپی، مخلص پن نے مجھے انعام دیا۔ مجھے سال 2022 میں گورنر ہاؤس پنجاب میں انسانی حقوق کی بہترین خدمات انجام دینے کے عوض وزارت برائے انسانی حقوق و اقلیتی پنجاب کے وزیر اعجاز عالم آگسٹین کی طرف سے مشیر اعلی ٹو وزیر اعظم پاکستان نے قومی ایوارڈ سے نوازا۔ اس سفر میں مجھے اظہر صاحب، منسٹر صاحب، حقوق رفیق گل ایم پی اے، ڈائریکٹر ہیومن رائٹس محمد یوسف اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر میاں عمر حیات کا بھر پور ساتھ رہا۔
جبکہ ڈی آر آئی این جی او نے ہماری خوب تربیت کی۔ ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنرز محمد طاہر وٹو، فیاض احمد موہل، شاہد عباس جوئیہ، اسسٹنٹ کمشنر قاسم گل، پولیس افسر شاہد امیر لدھیانہ اس وقت کے انچارج سیکورٹی نے بھرپور ساتھ دیا اور مسائل حل کرنے میں مدد فراہم کی۔ اس کے علاوہ بہت سارے ایسے نام موجود ہیں جنہوں نے ہر اچھے کام میں میرا بھرپور ساتھ دیا۔ اس کے علاوہ کئی درجنوں سرٹیفکیٹ اور شیلڈز ملیں۔ بعد از اظہر عباس عادل صاحب کو اللہ تعالی نے عزت دی اور وہ ڈویژنل ڈائریکٹر پرموٹ ہو گئے اس دن ان کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا یقیناً یہ بہت بڑا دن تھا سالوں کی محنت رنگ لائی اور اظہر صاحب نے تمام دوستوں کا شکریہ ادا کیا۔
لوگوں کو ان سے اتنی محبت تھی کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے تین ماہ تک لوگ دفتر اور گھر میں جاکر انہیں خوبصورت تحفوں کے ساتھ مبارک باد پیش کرتے رہے۔ آج بھی وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے باوجود اپنے شہر اور انسانیت کے فروغ کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی ان کو اور ان کے تمام خاندان کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے۔ ایسے آفیسرز ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں جو بغیر کسی لالچ کے انسانیت کی خدمت میں مگن ہیں۔ ہمیں اظہر عباس عادل جیسے تمام آفیسرز کا مثبت کاموں میں دست بازوں بننا ہے۔ اور معاشرہ سے جرائم، بدامنی، عدم برداشت، نا انصافی، ظلم و بربریت، اونچ نیچ کو ختم کرنا ہے اور عادل کی طرح عدل کا ہمیشہ بول بالا قائم رکھنا ہے۔

