روسی تیل اور ہماری خوش فہمیاں


یہ 2019 ء کی بات ہے جب اس وقت کے وزیراعظم بشریٰ بی بی کے ناراض شوہر اور سلمان کے والد نے عوام کو ایک نئی ٹرک کی بتی دکھائی تھی اور انتہائی مہارت سے یہ ظاہر کیا تھا کہ جیسے پاکستان میں تیل کے تمام ذخائر منظرعام پر آنے ہی والے ہیں اس لئے خوشخبری کا انتظار کریں لیکن ماہرین یہ جانتے تھے کہ یہ صرف توجہ ادھر ادھر کرنے کی ایک کوشش تھی۔ اس ہی طرح روس سے تیل آنے اور اس کے ثمرات عوام تک پہنچانے پر مصدق ملک نے شورو غوغا کیا لیکن صد حیف کہ یہ بھی کپتان کی طرح عوام کو ایک سبز باغ ہی دکھایا گیا ہے۔ پاکستان میں آنشور ڈرلنگ کا آغاز 1950 میں ہوا جس کے بعد 1960 میں دنیا بھر کے لیے جنیوا کنونشن میں آف شور ڈرلنگ کی اجازت دی گئی پاکستان کی پہلی حکومت پر سوئی میں آنشور ڈرلنگ میں کرپشن منکشف ہوئی تھی۔

1963 ء میں سن آئل کمپنی نے سب سے پہلے پاکستان میں ڈرلنگ کا آغاز کیا جسے ڈیپ سی میں 2 کنویں خشک ملے اور پاکستان میں اب تک کل 17 کنووں میں ڈرلنگ کی گئی۔ جرمنی ونٹر شال نے الٹرا ڈیپ سی میں ڈرلنگ کی جہاں سے کچھ بھی دریافت نہ ہو سکا۔ ونٹر شال نے دو کنویں 1972 میں جبکہ تیسرے کو 1975 میں کیا۔ اس کے بعد 1976 میں امریکی میراتھون آئل کمپنی نے بھی کوشش کی مگر کچھ نہ ملا۔ اس کے بعد husky کینیڈین آئل کمپنی نے 1978 میں ڈرلنگ کی مگر کچھ نہ ملا۔ سات سال بعد اوجی ڈی سی ایل نے بھی قسمت آزمائی مگر کچھ نہ مل پایا۔ پھر 1989 میں Occidental کمپنی نے سراغ لگا لیا لیکن اسے وہاں سے کچھ نہ حاصل ہو سکا اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ خشک ہو چکا تھا۔

1992 میں نیوزی لینڈ کی canterbury اور پھر امریکہ کی ocean کمپنی نے 2000۔ 1999 میں دو کنویں کھودے مگر یہ بھی خشک۔ اس کے بعد فرانسیسی کمپنی نے بھی ایک کنویں پر کھدائی کی لیکن اسے چھوڑ دیا۔ پاکستان پٹرولیم نے یہ کوشش 2005 میں کی اور نیدر لینڈ کی کمپنی shell نے 2007 میں لیکن کچھ حاصل نہ ہو سکا

ایک کمپنی shark 1 نے بھی 2010 میں یہ جسارت کی مگر سب بے سود رہا۔ یورپی کمپنیز جیسے کہ petronas وغیرہ برٹش پٹرولیم، او ایم وی، کو بھی بہت سے مسائل درپیش رہے جس پر وہ ملک چھوڑ گئیں

ان کمپنیز کو ملٹری آپریشنز اور لاء اینڈ آرڈر کی ابتر صورتحال کی وجہ سے پاکستان چھوڑنا پڑا۔ کئی کمپنیز ڈرلنگ کر کے خود تو تیل نکالتی گئیں لیکن پاکستانی عوام کو اس سے محروم رکھا گیا کہا جاتا رہا کہ تیل دریافت نہیں ہوا اور ایسے ہی تیل نکال کر بیرون ممالک پہنچایا گیا۔ پاکستان کو اپنا تیل نکالنے میں بہت سی مشکلات کا سامنا ہے جس میں سب سے بڑا مسئلہ ہمسایہ ممالک کی ناراضی مول لینا ہے اس ہی لئے آج تک معدنیات اور تیل ذخائر سے مالا مال کہلانے والا ملک ان سے خود محروم رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔

لیکن پاکستانی عوام کا تیل حکمران اپنی پالیسیز سے نکالتے رہے۔ بھارت اور چین کے بعد پاکستان میں روسی تیل کی کھیپ پہنچی جس کے بعد اگلا قدم روس سے ایل این جی درآمد کرنا ہے۔ خام تیل کی قیمت ملٹی نیشنل لیول پر بہت نیچے آ گئی ہے جو کہ 147 ڈالر ایک بیرل سے 71 ڈالر فی بیرل ایک روز ہو گئی ہے لیکن پاکستان کے لئے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی لگانا اور دیگر ٹیکسز لگانا ہی فی الحال ڈیفالٹ سے بچنے کا ذریعہ ہے۔

نواز شریف دور کے شاہد خاقان وفاقی وزیر پیٹرولیم نے بتایا تھا کہ ملک میں قدرتی وسائل کی تلاش کے لیے یہ مطالعہ جنوری 2014 میں یو ایس ایڈ کے تعاون سے شروع کیا گیا جو رواں ماہ مکمل ہوا اور اس میں تیل و گیس کے مذکورہ ذخائر کی تصدیق ہوئی۔ تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں نے ہائیڈرو کاربنز کے جو ذخائر دریافت کیے ہیں ان میں 6 کنویں شامل ہیں جن سے مجموعی طور پر 50.1 ملین کیوبک فٹ گیس اور 2,359 بیرل تیل روزانہ حاصل ہو گا۔

اس طرح کئی بڑی باتیں 2019 ء میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کرتی رہی غلام سرور بھی دعویٰ کرتے رہے کہ ایک مہینے میں خوشخبری ملے گی لیکن اس ڈرلنگ سے کچھ نہ نکلا اور عوام کی آس و امید پر پھر پانی پھر گیا اور پھر حال ہی میں پی ڈی ایم کی موجود حکومت کہہ چکی ہے کہ روسی تیل آئے گا تو ریلیف ملے گا پر گراؤنڈ رئیلٹی ہمیشہ کچھ اور نکلی۔

پاکستان میں ریفائنری صنعت کا تعاون ضروری ہے تاکہ ملک کی اقتصادی ضروریات پر یقینی اثر ہو سکے۔ روسی خام تیل کی صورت میں، ضروریات کو پورا کرنے کے لئے یہ ایک ممکنہ آپشن ہو سکتی ہے، لیکن پیٹرول کی قیمت کم کرنے میں یہ واحد حل نہیں ہے۔

پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کی طرف سے روسی خام تیل کی ضرورتوں کا خود رعایتی حصہ بنانا ایک دلچسپ عمل ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف ایک مضبوط تعاونی تعلق بن سکتا ہے بلکہ ملک میں صنعتی ترقی بھی ہو سکتی ہے۔ پارکو کے جانب سے روسی لائٹ خام تیل کی بلینڈنگ بھی ایک دلچسپ تجربہ ہو سکتی ہے۔ یہ آپشن ملک کو اسٹیبل ہونے اور اقتصادی تنوع پذیری کے راستے فراہم کر سکتا ہے۔

لیکن اس سب سے بھی زیادہ اہم ہے کہ حکمران طبقہ عوام کے خوابوں اور ضروریات پر غور کریں اور ان کو عملی شکل دیں۔ عوام کی توقعات پر پورا اترنا اور ان کے معیشتی حالات کو بہتر بنانا حکومت کا فرض ہوتا ہے۔ صرف خوابوں کے ٹرخانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ حقیقت پر عمل کرنے کے لئے کوشش کرنی چاہیے تاکہ عوام کو پیٹرولیم مصنوعات جیسی بنیادی ضرورتوں کے رعایتی اور بہترین ریٹس دیے جا سکیں۔ روس کی جانب سے رعایتی قیمت پر تیل کی فراہمی ہو یا پاکستان میں تیل کے ذخائر نکل آنے کی نوید یہ محض دعوے ہی رہے ان کا عوام کی امنگوں پر پورا اترنا کبھی ثابت نہ ہوا۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان کو روسی تیل خریدنے پر کسی قسم کی عالمی پابندیاں نہیں لگیں گی۔ یہ ایک خوش آئند خبر ہے کہ پاکستان کی خام تیل کی ضرورتیں اب روسی تیل سے پوری ہوں گی جس کی قیمت ہمارے دوست ملک چین نے یوآن میں ادا کی ہے۔ یہ اچھا عمل ہے جو ہمیں منفعت بخش ہو گا۔ لیکن افسوس! عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی خوشخبری سے محروم رہنا پڑے گا۔ مصدق ملک کے دعوے دھرے رہ جائیں گے اور حقیقت یہ ہے کہ سبسڈی یا ریلیف کا انتظام قطعی طور پر نظر نہیں آ رہا۔ شاہد خاقان اور غلام سرور کی طرح، مصدق ملک بھی جوار بھاٹا ہی بول پڑے ہیں اور حقیقت سے یہ دعویٰ قریب تر نہیں۔ آخر ریلیف عوام کو مل سکتا ہے یا نہیں، یہ اب واضح نہیں ہو رہا ہے۔

Facebook Comments HS