دیوانے کا خواب

لوگ میرا مذاق اڑاتے ہیں۔ میرے منہ پر مجھے دیوانہ، پاگل اور مضحکہ خیز کہتے ہیں۔ مجھے قابل تضحیک سمجھتے ہیں۔ ہر ایک مجھ پر ہنستا ہے۔ لیکن ان بے وقوفوں کو یہ معلوم نہیں کہ اس میں مذاق کی تو کوئی بات ہی نہیں۔ میں تو ہمیشہ اس حقیقت سے آگاہ رہا ہوں کہ مجھ سے زیادہ دیوانہ اور قابل تمسخر کوئی اور نہیں ہے۔
پیدائش کے وقت سے نہ سہی لیکن کم از کم سات سال کی عمر سے تو مجھے پتہ چل گیا تھا کہ میری زندگی باقی لوگوں سے کس قدر مختلف ہے۔ اور مختلف اچھے معنوں میں نہیں، برے معنوں میں۔
ابتدائی سکول اور بعد میں یونیورسٹی میں بھی میں جوں جوں علم حاصل کرتا گیا مجھ پر یہ بات اور بھی شدت سے آشکار ہوتی گئی کہ میرے حصول علم کا واحد مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ میری زندگی کس قدر بے معنی ہے۔ کتنی بے مقصد۔ کس قدر قابل تضحیک۔
ایک خیال آہستہ آہستہ میرے ذہن میں جڑ پکڑتا گیا کہ ہر چیز بیکار ہے۔ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ زندگی رہے یا ختم ہو جائے۔ دنیا موجود ہو یا تباہ ہو جائے۔ کوئی مرے یا جیے، کسی بات سے ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑتا۔ مجھے یوں لگتا جیسے میری ہی نہیں بلکہ تمام زندگی حقیقت نہیں محض ایک تصور ہے۔ ماضی میں بھی کچھ نہیں ہوا۔ تاریخ محض ایک ذہنی اختراع ہے جو ہم نے اپنے آپ کو دھوکا دینے کے لئے وضع کی ہے۔ مستقبل میں بھی کچھ نہیں ہو گا۔
جس دن مجھ پر یہ سچ پوری قوت سے عیاں ہوا وہ دن مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔
نومبر کی تین تاریخ تھی۔ سارا دن بارش ہوتی رہی۔ میں رات کے گیارہ بجے کے قریب گھر لوٹ رہا تھا۔ چھتری کے باوجود بارش میں بالکل بھیگ گیا تھا۔
جب بارش رکی اور میں نے آسمان کی جانب دیکھا تو بادلوں کے ایک شگاف میں سے ایک تارہ دکھائی دیا۔ مجھے یوں لگا جیسے اس تارے نے مجھے مسمرائز کر دیا ہے۔ میری نظریں ستارے سے الگ نہیں ہو رہی تھیں۔ مجھے یقین تھا کہ غیب سے مجھے کوئی پیغام آ رہا ہے۔
آج رات اپنی جان لینے کا پیغام۔
ویسے تو میں نے دو مہینے پہلے ہی خود کشی کا ارادہ کر لیا تھا۔ لیکن ابھی تک وقت اور موقعہ کا تعین نہیں کیا تھا۔ حالانکہ میرے پاس فالتو پیسے نہیں ہوتے تھے لیکن میں نے پھر بھی اپنی چھوٹی سی آمدنی میں بچت کر کے ایک پستول خرید لیا تھا۔ اسی دن چیمبر میں گولیاں بھی بھر لی تھیں۔ اور پھر اس کو اپنے ڈسک کی دراز میں رکھ دیا تھا۔ سوچا جس دن میری یہ سرد مہری اور بے سروکاری کچھ کم ہوگی اس دن اپنی زندگی کو ختم کروں گا۔ کیوں؟ وجہ تو خود مجھے بھی نہیں معلوم۔ شاید اس لئے کہ بالکل لاتعلق ہو کر جان لینے کی کوئی تک نہیں بنتی۔ اور کچھ ہو نہ ہو زندگی سے کم از کم نفرت تو ہونی چاہیے۔ ، خود کشی کی کچھ تو وجہ ہو۔
میں ستارے کے اس پیغام کو خوش آمدید کہہ رہا تھا۔ اور مصمم ارادہ کر چکا تھا کہ آج کی رات میری زندگی سے فراق اور فرار کی رات ہے۔
اتنے میں ننھا سا ہاتھ میرے کوٹ کی طرف بڑھا۔ میں نے ستارے سے نظر ہٹا کر نیچے دیکھا تو ایک غریب سی بچی، سر پر رومال باندھے آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ وہ بارش میں شرابور تھی مگر جو بات میری توجہ کا مرکز بنی وہ اس کے گیلے اور پھٹے ہوئے جوتے تھے جو کیچڑ سے لت پت تھے۔ جن سے اس کے پاؤں کی انگلیاں جھانک رہی تھیں۔ مجھے اس پر غصہ تو آیا کہ میرے اس اہم منصوبے میں مخل ہو رہی ہے اور اسے ڈانٹنے والا ہی تھا کہ اس نے روتے روتے فریاد کرنی شروع کر دی۔ سردی سے اس کے دانت ایسے بج رہے تھے کہ کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کیا کہہ رہی ہے۔ وہ ممی ممی کی رٹ لگا رہی تھی جیسے اس کی ماں کسی مصیبت میں مبتلا ہو، یا شاید قریب المرگ ہو۔
میں نے ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ اپنے کوٹ سے الگ گیا اور گھر کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ مجھے زیادہ اہم کام جو کرنے تھے۔ مجھے اپنی خود کشی کی منصوبہ بندی کرنی تھی۔ یہ لڑکی میرے اتنے ضروری کام میں مخل ہو رہی تھی۔ اس بچی نے میرے ساتھ ساتھ اپنے ننھے ننھے قدموں سے بھاگنا شروع کر دیا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ کسی پولیس والے کو تلاش کرے اپنی ماں کی مدد کے لئے لیکن وہ کانپتی آواز میں مجھ سے کچھ کہتی رہی۔ میں نے قدم اور تیز کر دیے اور اس کو پیچھے چھوڑ کر اپنے ایک کمرے والے فلیٹ میں واپس آ گیا۔
ساتھ والے فلیٹ سے حسب معمول میرے ہمسائے کپتان اور اس کے دوستوں کی آوازیں آ رہی تھیں جو شراب پینے، تاش کھیلنے اور ایک دوسرے سے لڑنے میں مصروف تھے۔ میں اپنی اکلوتی کرسی پر بیٹھ گیا اور اپنی زندگی ختم کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ میں اکثر ساری ساری رات اس کرسی پر بیٹھا رہتا ہوں اور کوئی کام نہیں کرتا۔ کتابیں بھی بس دن ہی میں پڑھتا ہوں۔ میری اکثر راتیں سوچتے سوچتے گزر جاتی ہیں۔ مجھے ہمسایوں کا شور بھی سنائی نہیں دیتا۔
میں بہت دیر تک ساکت کرسی پر بیٹھا رہا۔ چند گھنٹے کے بعد میں نے میز کی دراز کھولی اور پستول کو دراز سے نکال کر میز پر رکھ دیا۔
”تو آج کی رات وہ رات ہے جس کا مجھے مدت سے انتظار تھا۔ آج میرے سب دکھ درد دور ہو جائیں گے۔“
میں نے سوچا۔
اب صرف یہ فیصلہ کرنا تھا کہ کس وقت پستول فائر کیا جائے؟ کتنی دیر اور انتظار کیا جائے، ؟ کیوں انتظار کیا جائے؟
میں سوچ رہا تھا کہ اگرچہ اب کسی بات سے کچھ فرق نہیں پڑتا لیکن میں درد تو محسوس کر سکتا ہوں۔ اگر کوئی مجھے جسمانی آزار پہنچائے تو مجھے تکلیف تو ہو گی۔ اسی طرح جذباتی زخم بھی مجھے دکھ دے سکتا ہے۔ اگر کوئی ایسی بات ہو جس پر ترس آنا چاہیے تو کیا میں رحم کے جذبات کو اپنے دل میں جگہ دے سکتا ہوں؟ میں معذرت چاہتا ہوں کہ میں بات ٹھیک طرح سے سمجھا نہیں پا رہا ہوں۔ خود میرا ذہن بھی الجھن کا شکار ہے۔ میں اس لڑکی پر رحم بھی کھانا چاہتا تھا اور اس کو نظرانداز بھی کرنا چاہتا تھا۔
میں اسی مخمصے میں رہا کہ اگر میں نے خود کو مارنے کا مصمم ارادہ کر ہی لیا تھا تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ میں نے اس بچی کی مدد کی یا نہیں؟ اب مجھے خود پر غصہ آنے لگا تھا۔ سوچوں کے مختلف دھارے الگ الگ سمت میں بہہ رہے تھے۔ ایک کہتا کہ جب تک میں فنا نہیں ہو جاتا اس وقت تک تو میں انسان ہوں۔ اور جب تک انسان ہوں، انسانی جذبات تو مجھ میں رہیں گے۔ میں مرے بغیر تو ان سے نجات حاصل نہیں کر سکتا نا۔
لیکن سوچ کا دوسرا دھارا مجھے اور طرف لے جاتا۔ اگر دو گھنٹے کے اندر اندر میں خود کشی کر ہی لوں گا تو اس بچی پر ترس کھانے یا نہ کھانے سے کیا فرق پڑتا ہے؟
لیکن میں نے اس بچی کو کیوں دھتکارا؟ کیوں اس کی مدد نہیں کی؟ ٹھیک ہے میں نے چند گھنٹوں میں مر جانا تھا لیکن میں ابھی مرا تو نہیں تھا۔
قارئین آپ ذرا میری جذباتی اور روحانی اذیت کا اندازہ لگائیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ ساری کائنات کا وجود میرے لئے صرف اس وقت تک ہے جب تک میں زندہ ہوں۔ میرے آنکھیں بند ہوتے ہی میرے لئے تمام عالم کا وجود بھی ختم ہو جائے گا۔ کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، دریا، سمندر، زمین، آسمان میرے لئے سب نیست و نابود ہو جائیں گے۔
مجھے وقت کا بالکل احساس نہ رہا۔ پستول میرے سامنے رکھا تھا، خود کشی کا ارادہ مضبوط تھا اور چند لمحے کی بات تھی زندگی کے ختم ہونے میں۔ لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ اس بچی کی مدد نہ کرنے کا خیال مجھے موت کے بعد بھی نہ چھوڑے؟ میں ان سوالوں کے جواب کے بغیر نہیں مر سکتا تھا۔ اس بچی نے مجھے مجبور کر دیا کہ جب تک میں اس سوال کا جواب نہیں دیتا، مجھے اپنی جان لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔
بہر حال، چلیں خواب ہی سہی، پہلے سن لیں۔ بعد میں فیصلہ کریں۔ لوگ اب تک میرا مذاق اڑاتے ہیں کہ میں ایک خواب کو حقیقت سمجھ بیٹھا۔ لیکن اس سے فرق کیا پڑتا ہے خواب ہو یا حقیقت مجھ پر سچ تو آشکار ہو گیا نا۔
سچ کی خاصیت یہ ہے کہ ایک مرتبہ اگر آپ سچ کو پا لیں تو دنیا کی کوئی قوت اس کو آپ کے لئے بدل نہیں سکتی۔ میرے اس نام نہاد خواب نے میری زندگی کو ہمیشہ کے لئے بدل دیا۔ برے معنوں میں نہیں، اچھے معنوں میں۔
تو سنیں۔
میں نے پستول اٹھایا اور بجائے کنپٹی پر رکھ کر گولی چلانے کے، پستول کی نالی کا رخ اپنے دل کی طرف کیا اور اور بقائم ہوش و حواس فیصلہ کیا کہ دل کو گولی مارکر جان لینا دماغ کے پرخچے اڑانے سے بہتر ہے۔ میں ایک لمحے کے لئے جھجھکا اور مجھے محسوس ہوا کہ کمرے کی دیواریں اچانک گھومنے لگیں۔ شمع کا شعلہ اچانک بھڑکا۔ میں نے ٹریگر دبایا۔ ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ گولی میرے دل کے پار ہو گئی۔ میری قمیص پر خون کا ایک دھبہ نمودار ہوا۔ اچانک گھپ اندھیرا چھا گیا۔ میں چلانا چاہتا تھا لیکن آواز سے محروم ہو گیا تھا۔
مجھے ایسے لگا جیسے میں کسی سخت سطح پر لیٹا ہوں۔ کچھ لوگوں نے مجھے بلندی پر اٹھایا ہوا ہے۔ میں ہل جل رہا تھا جیسے کسی گھوڑا گاڑی میں بیٹھا مسافر ہچکولے کھاتا ہے۔ پھر مجھے کسی گہری جگہ پر اتارا گیا۔ اب جیسے لکڑی پر مٹی گرنے کی آواز آ رہی تھی۔ لوگ با آواز بلند دعائیں پڑھ رہے تھے۔ پھر آوازیں مدھم ہو گئیں۔ اور اس کے بعد مکمل خاموشی چھا گئی۔
میں سوچ رہا تھا کہ اب کیا ہو گا۔ لیکن مجھے یہ بھی احساس تھا کہ مرنے کے بعد کسی چیز کے ہونے کی توقع بیکار ہے۔ اب مجھے تسلی ہو گئی تھی۔
میں خود سے باتیں کر رہا تھا لیکن آواز کے بغیر۔ مجھے اس بچی کا رہ رہ کر خیال آ رہا تھا جس کی فریاد کو میں نے نظر انداز کر دیا تھا۔ میں اب خدا سے مخاطب تھا۔ میں کہہ رہا تھا کہ عذاب قبر اس عذاب کا پاسنگ بھی نہیں ہے جو میں خود کو پہنچا رہا ہوں۔
اچانک قبر میں ایک شگاف پیدا ہوا۔ میرے تابوت کی چھت کھلی اور ایک شبیہ قبر کے اندر نمودار ہوئی۔ میری بینائی واپس آ گئی تھی۔ اگرچہ وہ شبیہ حبشیوں کی طرح بالکل سیاہ تھی، تاریک رات کی مانند، لیکن میں پھر بھی اس کو دیکھ سکتا تھا۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے قبر سے نکالا اور خلا کی جانب پرواز شروع کر دی۔
ہم بہت تیزی سے پرواز کر رہے تھے۔ میں نے نیچے نظر ڈالی۔ زمین ایک نقطے کی طرح دکھائی دے رہی تھی۔ میں اپنے ساتھی سے بات کرنا چاہتا تھا۔ خدا جانے وہ میری زبان بولتا تھا یا نہیں؟ اس نے میرے خیالات پڑھ لئے اور پوچھے بغیر میری بات کا جواب دے دیا۔ اس کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلا لیکن میں نے اس کی ہر بات سن لی۔
ہماری پرواز ہر لمحے تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی تھی۔ اس گہری تاریکی میں مجھے ایک ستارہ دکھائی دیا۔ میں اس شبیہ سے پوچھنا چاہتا تھا کہ یہ کون سا ستارہ ہے کہ اس نے خود ہی جواب دیا۔
ہم کتنی ہی کہکشاؤں کے پار آچکے ہیں۔ یہ جہاں اور ہے۔ لیکن یہ وہی تارہ ہے جو تم نے اپنے گھر جاتے ہوئے گھنے بادلوں کے درمیان دیکھا تھا۔
میں سوچ رہا تھا کہ جب میں نے خود کشی کر لی تھی تو زندگی ختم ہو گئی تھی۔ لیکن یہ بعد از مرگ زندگی کیا تھی؟ کیا حیات جاوداں کے بارے میں مذہب جو کچھ سکھاتا ہے وہ درست ہے؟ کیا قبر کے بعد بھی ایک زندگی ہے جس میں اب میں جی رہا تھا؟
اتنے میں مجھے دور سے اپنا زمینی سورج عروج ہوتا دکھائی دیا۔ لیکن یہ کیسے ممکن تھا کہ میں ابھی تک اپنے ہی نظام شمسی میں پرواز کر رہا ہوں۔ ہم تو ان سب حدوں کو پار کر آئے تھے۔ یہ سورج ہمارا سورج نہ بھی ہو اس کا جڑواں بھائی تو ضرور تھا۔ اگر یہ بھی ہماری طرح کا نظام شمسی ہے تو اس کے ارد گرد یقیناً زمین بھی گردش کرتی ہو گی۔ میرے دل میں زندگی ایک رمق بیدار ہوئی۔ جیسے مجھے زندگی سے دوبارہ پیار ہو گیا ہو۔
اگر یہ ہمارے سورج کی طرح ہے تو ہماری زمین کی متبادل زمین کہاں ہے؟ میں نے سوچا۔
اس شبیہ نے دور اسی ٹمٹماتے ہوئے ستارے کی طرف اشارہ کیا۔
یہ کیسے ممکن ہے۔ وہی زمین جس سے تنگ آ کر میں نے اپنی جان لی تھی اس کی نقل مجھے اتنی پیاری لگ رہی تھی۔ اچانک مجھے وہ بچی یاد آ گئی اور میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔
وہ ستارہ جس کو میں زمین سمجھ رہا تھا تیزی سے نزدیک ہو رہا تھا۔ اب مجھے اس کے سمندروں کا پانی بھی نظر آنے لگا تھا۔ میں نے اپنے ساتھی پر نظر ڈالی مگر وہ مجھے دکھائی نہیں دیا۔ وہ خلا میں غائب ہو گیا تھا۔ اب میں اس نئی زمین کو چھونے کے قریب تھا۔
اچانک ایک دھچکے کے ساتھ میرے قدم ٹھوس سطح پر لگے۔ ہر چیز ایسی ہی تھی جیسی ہماری پرانی زمین پر لیکن بہت مختلف بھی۔ نئی زمین پر صرف حسن ہی حسن تھا۔ گھنے درخت، ہر طرف ہریالی اور پھول۔ حسین لوگوں کا ایک ہجوم میری طرف بڑھا۔ انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا۔ گلے لگایا۔ پیار کیا۔ ایک باغیچے سے بچوں کے قہقہوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ کسی نے مجھ سے کوئی سوال نہیں پوچھا لیکن انہیں میرے بارے میں سب کچھ معلوم تھا۔ ان کی آنکھوں سے ایسا پیار جھلک رہا تھا جس نے میرا ہر قسم کا احساس جرم اور شرمندگی ختم کر دیا تھا۔ انہوں نے مجھے اپنا لیا تھا۔ میں بھی ان ہی کی طرح معصوم ہو گیا تھا۔
چلو فرض کر لیں کہ یہ خواب تھا۔ لیکن کس قدر حقیقت سے بھر پور۔ نئی دنیا کے ان باسیوں کی حقیقت میری زندگی کے گزرے ہوئے واقعات سے زیادہ حقیقی تھی۔
وہ سچ مچ کے لوگ تھے۔ انہیں ایک دوسرے سے کچھ نہیں کچھ نہیں چاہیے تھا۔ وہ کسی سے نفرت نہیں کرتے تھے۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ میں اپنی زمین پر رہنے والے انسانوں سے کس قدر نفرت کرتا تھا، وہ میری بات سمجھ نہ پائے۔ نفرت کا تصور تک ہی ان کے ادراک سے باہر تھا۔
اب میں جب اپنے پرانے جاننے والوں کو اس دنیا کے بارے میں بتاتا ہوں وہ میرا مضحکہ اڑاتے ہیں۔ مجھ پر حقارت سے ہنستے ہیں۔ لیکن مجھ سے کوئی یہ حق نہیں چھین سکتا کہ میں نے یہ دوسری معصوم، پاکیزہ اور بے گناہ دنیا دیکھی ہے اور اس کے باسیوں سے ملا ہوں۔ جو میں نے دیکھا وہ حقیقت ہے، جو یہ دنیا کہہ رہی ہے وہ خواب ہے۔
لیکن میں آپ کو ایک راز کی بات بتاتا ہوں۔ یہ ایک خواب نہیں تھا۔ آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ کیا میرا محدود دماغ اور ناقص دل اتنے بڑے سچ کو آشکار کر سکتا ہے۔ میں ابھی تک سب سے یہ بات چھپاتا آیا ہوں۔ اب آپ کو بتا رہا ہوں۔ جس معصوم انسانیت کو میں نے اس نئی دنیا کے سفر میں تخلیق کیا تھا اس کو بتاؤ کرنے کا ذمہ دار بھی صرف میں ہی ہوں۔
یہ بات کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔
تخلیق سے میری یہ آگاہی اگرچہ ازل سے ابد تک حاوی تھی لیکن میں صرف اس کے چند لمحات میں آپ کو شریک کروں گا۔ مجھے یاد ہے کہ جب ایک انسان نے پہلی مرتبہ دوسرے انسان کا خون بہایا تھا۔ اس نے جرم کے بعد قانون بنانا سیکھا اور قانون کی بالا دستی کے لئے تختہ دار اور گلوٹین کو ایجاد کیا۔
مجھے یاد ہے جب انسان نے سچائی کو چھپانا سیکھا تھا۔ اس نے دل کے اندر نفرت رکھتے ہوئے بظاہر ہونٹوں سے مسکرانا سیکھا۔ اس نے میرا اور تیرا کا فرق سیکھا۔ اس نے تہذیب کے نام پر ایک گروہ سے اتحاد کرنا سیکھا تاکہ دوسرے گروہ کو اس لئے تباہ کر دے کہ وہ اس کی طرح تہذیب یافتہ نہیں۔ ہر گروہ نے سمجھنا شروع کر دیا کہ سائنس اور خدا صرف اس کے ساتھ ہیں اور باقی سب غلط ہیں۔
افسوس، صد افسوس، میں نے پچھتاوے میں اپنی جان کی قربانی دینا چاہی لیکن دنیا والوں نے میری شہادت بھی گورا نہیں کی۔ میں نے سولی پر چڑھے کی پیشکش کی جس کو انہوں نے رد کر دیا۔ میں اپنی جان نہیں لے سکتا تھا۔ مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی۔ وہ صرف مجھ پر ہنستے رہے۔ میرا مذاق اڑاتے رہے۔
اس بچی کو دھتکارنے کی سزا میں ابھی تک بھگت رہا تھا۔ میں نے اپنی نئی زندگی اس کفارے کو ادا کرنے کے لئے وقف کر دی اور آخر اس بچی کا سراغ لگا لیا جس کو اب میری مدد کی ضرورت نہیں تھی۔
صبح کے چھہ بجے اچانک میری آنکھ کھلی۔ میں اپنے کرسی میں بیٹھے بیٹھے سو گیا تھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ ہمسایوں کے فلیٹ میں مکمل خاموشی تھی۔ تاش اور شراب کی پارٹی سے تھک کر سب لوگ گہری نیند کے مزے لے رہے تھے۔
مجھے یقین کامل ہے کہ میں سچائی سے آگاہ ہوں۔ میں نے مصمم ارادہ کر لیا ہے کہ میں انسانیت کو تباہ ہونے سے بچاؤں گا اور لوگوں کو سچ کی تعلیم دوں گا۔ لیکن جب بھی میں انہیں کوئی سچی بات بتاتا ہوں لوگ میرے منہ پر ہنسے ہیں، میرا تمسخر اڑاتے ہیں مجھے دیوانہ کہتے ہیں اور میرے پیغام کو دیوانے کا خواب۔

