معاشی بحالی کا قومی پروگرام


نو مئی کے واقعے کے بعد پی ٹی آئی کو دیوار کے ساتھ لگانے کی بھر پور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس وقت تمام ریاستی ادارے عمران خان کو سیاست سے مائنس کرنے کے لیے ایک پیج پر ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہر جائز اور ناجائز حربہ آزمایا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے بہت سے راہنما ریاستی جبر کے سامنے مٹی کے شیر ثابت ہوتے گرفتار ہوئے۔ دو دن جیل میں رہے۔ اور باہر آ کر پی ٹی آئی اور عمران خان سے لا تعلقی کا اعلان ایک عام وتیرہ ہے زمان پارک کی وہ رونقیں بھی ختم ہو چکی ہیں۔

عام نام لوگ اب زمان پارک کا رخ نہیں کرتے۔ کہ واپسی پر انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ ویسے بھی اب گرفتاری کے لیے کوئی مقدمہ، کیس، وارنٹ یا قانونی تقاضا پورا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے عمران خان طاقتور حلقوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر عمران خان کو یہ بتا دیا جائے کہ ان کو سیاست سے آؤٹ کرنے کے بعد ملک کو معاشی لحاظ سے کس طرح سنبھالا جائے گا۔ تو وہ وسیع تر قومی مفاد میں از خود ہی سیاست سے باہر ہوجائیں۔

تو اس کے جواب میں موجودہ حکومت نے 2035 ء تک معیشت کو ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کے لیے ایک انقلابی پروگرام پیش کیا ہے۔ اس بات کا فیصلہ وزیراعظم پاکستان جناب شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اعلی سطحی اجلاس میں کیا گیا۔ جس میں آرمی چیف کی شرکت اس بات کی دلیل تھی۔ کہ آرمی اس پروگرام کی کامیابی کے لیے ہر طرح سے ممد و معاون ہوگی۔ اس اجلاس میں ایک سپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس کا بنیادی مقصد غیر ملکی سرمایہ کاروں کو وطن عزیز میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا اور اس معاملے میں انہیں سہولت اور آسانیاں فراہم کرنا ہو گا۔

اس منصوبے کے روح رواں ہمارے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ ہے۔ یہ لوگ کس منطق اور اصول کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو وطن عزیزم گے۔ جب کہ انہوں اپنی اپنی سرمایہ کاری وطن عزیز کی بجائے دوسرے ملکوں میں کی ہوئی ہے۔ کیا وہ ان لوگوں سے سوال نہیں کریں گے۔ کہ جو کام آپ اپنے لیے پسند نہیں کرتے۔ ہمیں اس کام کے کرنے کا کیسے کہہ سکتے ہو۔ اگر یہ لوگ اس پروگرام کو کامیاب کرنے میں واقعی دل سے مخلص ہیں۔ تو آج ہی اپنی اپنی تمام سرمایہ کاری وطن عزیز میں لانے کا اعلان کر دیں اور پھر اس کے اثرات بھی دیکھ لیں۔

غیر ملکی سرمایہ کاروں کے علاوہ دوسرے ملکوں میں قیام پذیر پاکستانی سرمایہ کار بھی وطن عزیز میں سرمایہ کاری کے لیے آہستہ آہستہ تیار ہوتے جائیں گے۔ اور اگر ان لوگوں نے حسب سابق ان سرمایہ کاروں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بجائے سہولت کاری کا کام احسن طریقے سے انجام دیا تو یقیناً اس پروگرام کے معیشت پر مثبت نتائج مرتب ہونا شروع ہوجائیں گے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو نتائج ظاہر ہیں۔ حسب سابق ہی رہیں گے۔ اس پروگرام کے تحت اگلے تین سے چار سالوں میں 15 سے 20 لاکھ لوگوں کو براہ راست روز گار فراہم کیا جائے گا۔

اور 75 لاکھ سے ایک کروڑ لوگوں کی معیشت کو بالواسطہ طریقے سے فائدہ پہنچایا جائے گا۔ حال ہی میں حکومت وقت کے حضور اپٹما کی پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق موجودہ دور حکومت میں 75 لاکھ لوگ صرف ٹیکسٹائل کے شعبے میں بے روزگار ہوئے ہیں۔ برآمدات میں چالیس فیصد کمی ہوئی ہے۔ بلکہ باقی شعبوں میں بھی انحطاط اور تنزلی کی بدولت بیروزگاری اور غربت میں ہونے والے خوفناک اضافے کا با آسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کیا اس پروگرام کے تحت ہم اس نقصان کی تلافی کرتے ہوئے عوام الناس کے لیے کوئی سہولتیں فراہم کر سکیں گے۔ اس کا جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا۔

اس کے بعد اس پروگرام کے تحت زراعت، کان کنی، آئی ٹی، معدنیات اور لائیو سٹاک کے شعبوں کو فروغ دیا جائے گا۔ کیا اس پروگرام کے تحت سرکاری اداروں کی کارگردگی پر کام چوری اور نا اہلیت کا دیرینہ اور پرانا لگا ہوا زنگ جواب دہی کے ریگمار سے اتار کر ان کو فعال یا انہوں نے پرانی ڈگر پر ہی چلنا ہے۔ مدتوں سے ٹیکسٹائل کا شعبہ قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی رہا ہے۔ ہماری زرعی یوینورسٹیوں میں موجود ہزاروں کے حساب سے تحقیقی پلیٹ فارم پر کام کرنے والے سائنسدانوں کو جو یقیناً ہر ماہ اربوں کے حساب سے تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔

ٹیکسٹائل کا ضروری عنصر کپاس کی پیداوار کے لیے ایک بھی ایسا موزوں بیج تیار نہیں کر سکے۔ جو اس کی مطلوبہ پیداوار حاصل کرنے میں مدد کر سکے اور دوسری زرعی اجناس کا بھی یہی حال ہے۔ بلکہ یہ شعبہ بھی تنزلی اور انحطاط کا شکار ہے۔ باقی کان کنی اور معدنیات کے شعبے کو لے لیں۔ بلوچستان میں سینڈک پروگرام میں کون کون سی معدنیات کس مقدار میں نکالی جاتی ہیں۔ اور ان سے ہمیں حاصل حصول کیا ہوتا ہے۔ عام بلوچیوں کے اس بارے میں بڑے تحفظات پائے جاتے ہیں۔

اسی طرح ریکوڈک پروگرام میں دردغ برگردن راوی ٹریلنز کی معدنیات موجود ہیں۔ لیکن ہمارے سرکاری بابوؤں کی کارگردگی کی بدولت وہاں پر بھی ہمیں بین الاقوامی اداروں کی طرف سے گیارہ بلین ڈالر جرمانہ کیا گیا۔ گویا کہ قومی آمدنی میں اضافے کے لیے ایک قدرتی ذریعے کو بھی ہم نے اپنے اوپر ایک بوجھ بنا لیا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ بعد میں باہمی گفت و شنید سے جرمانے کو ایک اور معاہدے کی شکل میں معاف کروا لیا گیا۔ اس معاہدے میں ہمارے حقوق کے تحفظ کا باآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اس معاہدے کے کپتان جناب شہباز شریف ہیں ماضی میں ان کے قول و فعل میں پائی جانے والی مطابقت اور ہم آہنگی کا جائزہ لے لیں۔ اسی طرح وزیر خزانہ جناب اسحق ڈار کو دیکھ لیں۔ وہ تو ہنوز اسی ڈگرپر چل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ماضی میں ان کے متعلق جنرل باجوہ کے شکوک و شبہات اپنی جگہ پر ہیں۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ اگر تو اس پروگرام کو کامیابی سے ہم کنار کرتا ہے۔ تو اس کے لیے انقلابی قدم اٹھانا پڑیں گے۔ سرکاری مشینری کی بنیادوں کو کارگردگی، اہلیت اور میرٹ کے مٹیریل سے مضبوط کیا جائے۔ جو کل پرزے اس مشینری کی کارگردگی پر منفی اثرات ڈالتے ہیں۔ انہیں تبدیل کیا جائے اور اس پروگرام کے روح رواں روایتی کار کی بجائے

انقلابی انداز میں سب سے پہلے وطن عزیز میں اپنی سرمایہ کاری لانے کا اعزاز حاصل کریں۔ تو پھر تو اس پروگرام کی کامیابی کے امکانات ہوسکتے ہیں۔ ورنہ یہ پروگرام بھی ماضی میں بننے والے ایسے ہی پروگراموں کی طرح زبانی جمع خرچ کے علاوہ معیشت میں کوئی مثبت کردار ادا کرنے کے شاید ہی قابل ہو سکے۔ ویسے ہم تو اس پروگرام کی کامیابی کے لیے دل سے دعا گو ہیں۔ لیکن ایسے پروگراموں کی کامیابی کے لیے صرف دعائیں ہی کافی نہیں ہوتیں۔ عملی اور ٹھوس اقدامات لازمی ہوتے ہیں۔

Facebook Comments HS