ہستی ایک مٹھی ریت کی


فطرت کا انتظام ایک مکمل نظام ہے۔ جس میں ہر چیز تسلسل کے دھارے میں رواں ہے اور وقت کی بھی پابند ہے۔ انسان اگر اس میں بگاڑ پیدا نہ کرے تو یہ بنی نوع آدم کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ جب مخلوق کی طرف سے کوئی خرابی پیدا ہوتی ہے تو فطرت پھر بھی کوئی نہ کوئی راہ چھورتی ہے جس پر چل کر زوال زدہ انسان یا معاشرہ اپنی ترقی کی منزل کے طرف سفر جاری رکھ سکتا ہے۔ ایسی راہوں کی تلاش ہی زندگی ہے۔ زندگی انسانی وجود کی مرہون منت ہے۔ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی۔ اس لیے دنیا کا ادب اسی زندگی کو آرام دہ اور بہتر بنانے کا سبق دیتا ہے۔ یعنی بڑے سے بڑا ادب انسان کی داخلی و خارجی حیات کے مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل سے متعلق رائے زنی کرتا دکھائی دیتا ہے۔

ادب عالی میں شاعری کو ممتاز ترین مقام حاصل ہے۔ یہ فطرت کا وجدانی و الہامی عمل ہے۔ جس شاعری کا نزول فطری ہوتا ہے اس کی عمر لمبی اور مثبت معاشرتی سوچ کی آبیاری میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ویسے تو شاعری کے مختلف حوالے ہیں جیسے نظریاتی، رومانوی، سیاسی، مذہبی، معاشرتی وغیرہ اور اسے بیان کرنے کے انداز بھی جدا ہوتے ہیں۔ بعض سیدھی سادی مثلاً سیاسی یا نعرے بازی والی بیانیہ شاعری جو عام قاری کو فوراً سمجھ میں آ جانے، جب کہ دوسری علامتی یا تجریدی جو تشبیہ، تلمیح و ایہام، استعارہ، مجاز، کنایہ وغیرہ کی مدد سے سامنے آتی ہے اور رمز و ایماء کی وادیوں میں دور تک جاتی ہے۔ شاعری میں انور زاہد کا وجدان اور رجحان رمز و ایماء کی طرف زیادہ ہے۔ اس تناظر میں ان کی پہلی کتاب ”ریت“ گویا علامتی شاعری کا تنمہہ ہے۔ جس میں مجاز اور استعارہ کے مناظر و مظاہر پورے التزام سے آراستہ ملتے ہیں۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ شاعری کیا ہے؟

انور زاہد کے بقول ”زندگی فطرت کی قربت سے سجی، رات، دن اور شام، سویرے کی تفریق میں سوتی، بیٹھتی ہے۔ شناخت کی آنکھ کے آگے اوٹ کا نام رات ہے، اوٹ ہٹ جانے کا نام دن ہے۔ آنکھ جاگتی ہے اور چڑیا چہچہاتی ہے۔ اس چہکار کا نام شاعری ہے۔ جسے صبح شعور کی صورت گری کرنی ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہی شاعری استعارے کی شاعری ہے“ ۔

”ریت“ کے استعارے کی گہرائی و گیرائی کو زبان و بیان کے قدیم اور روایتی پیمانوں سے ماپنا نا انصافی کا معاملہ ہو گا۔ ”ریت“ کا لفظ اپنی معنویت میں بیک وقت مثبت بھی ہے اور منفی بھی۔ یہ سوچنے والے پر ہے کہ وہ اس کا ادراک کیسے کرتا ہے۔ ”ریت“ ایک طرف زرخیز مٹی کے وجود کے خاتمے کا اعلان ہے یعنی پیاس، خشکی اور بنجر پن کی علامت ہے۔ جیسے نظم ”افتاد“ کا یہ ایک مصرعہ دیکھیں : ”ہوا کا ریت پر لکھا، ہوا ہی چاٹ جاتی ہے“۔ تو وہیں یہ جب کسی دوسرے عنصر سے ملتی ہے تو اس کی اہمیت و قدر اتنی بڑھ جاتی ہے کہ یہ اس ملاپ کا جز لازم قرار پاتی ہے۔ ریت تعمیرات کی مضبوطی کا انتہائی اہم عنصر ہے۔ یعنی جب یہ مٹی، آگ، پانی، ہوا اور پتھر۔ کے ساتھ ایک ربط میں ملتی ہے تو طاقت، مضبوطی، اتفاق، جڑت، لمبی عمر، وغیرہ کا استعارہ بن کر سامنے آتی ہے۔

ریت پر پانی ڈالیں تو اس کی شکل اور خو بدل جائے گی۔ سمندروں کے ساحل اور صحراؤں میں اس کی بہتات پائی جاتی ہے۔ وہاں الگ سے اسے کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں۔ مگر جب سمندری لہریں ساحل پر اس کے ساتھ ملاپ کرتی ہیں تو ملاپ کی جدائی کے بعد مخصوص خوشبو کی موجودگی میں گیلی ریت پر چلنا جس سے لمحے بھر کے لیے بعد میں آنے والی لہروں تک پاؤں کے نشانات کو دیکھنا بھی ایک الگ سرور ہے۔ یہ سرور وجودی دباؤ کو کم کر دیتا ہے۔ دوسری طرف خشک ریت پر سورج کی کرنیں پڑیں تو یہ ہیرے موتیوں کے جیسے چمکتی نظر آتی ہے اور اس چمک کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا ہے۔ گویا ریت جہاں یہ زرخیزی کو لاحق تخریب کا خوف ہے وہیں اپنے اندر تعمیر کے مزید امکانات کی امید بھی ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی امریکہ میں تاریخ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر منان احمد آصف کے بقول ”ہمیں کسی مصنف کے کام پر لکھنے سے پہلے اس کی زندگی اور مطالعے کی کھوج لگانا انتہائی ضروری ہے کہ وہ اپنی تخلیق کی منزل تک کیسے اور کن مراحل سے گزر کر پہنچا ہے۔“

اس لیے ریت سے پہلے ریت کے شاعر کو جاننا بہت ضروری ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ ”ریت“ کی شاعری تخلیق کرنے سے پہلے وہ کن مراحل سے گزرے۔ انور زاہد کا تعلق سراء برادری سے ہے۔ آپ گاؤں کوٹ طاہر میں چوہدری محمد احمد اور مائی عنایت بی بی کے گھر 15۔ 02۔ 1968ء کو پیدا ہوئے۔ جٹ خاندان کا یہ سپوت زمانہ طالب علمی سے محنت کے بل بوتے پر آگے بڑھتے ہوئے ترقی کی منازل طے کرتا گیا۔ آپ نے زمانہ طالب علمی سے ہی جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے سیاست میں قدم رکھ دیا تھا۔ بچیکی میں سکول و اکیڈمی کے قیام سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کرنے والے اس نوجوان نے 1994 ء میں ایل ایل بی کرنے کے بعد ننکانہ صاحب میں حاجی محمد آمین شیخ ایڈووکیٹ کی راہنمائی میں وکالت شروع کی تو تھوڑے ہی عرصے میں اپنی ایک الگ پہچان بنا لی۔

پھر عملی سیاست میں حصہ لیتے ہوئے اپنی آبائی یونین کونسل ”لڑکا“ سے 2001 ء میں ناظم منتخب ہوئے۔ اس کے بعد 2004 ء میں سیکریٹری ننکانہ صاحب بار منتخب ہوئے۔ پھر 2013 ء میں ننکانہ صاحب بار کے صدر کا الیکشن جیتا۔ آپ نے وکلاء سیاست میں سات سال کے مختصر عرصے میں ضلع سے صوبے کا سفر طے کرتے ہوئے 2020 ء میں ممبر پنجاب بار کونسل منتخب ہو کر تاریخ رقم کردی۔ آپ ننکانہ صاحب بار کی تاریخ کے پہلے وکیل ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔

آپ کی طبیعت میں حاکم وقت کو للکارنے کی ہمت

بھی پائی جاتی ہے۔ اسی ہمت پر انور زاہد مشرف دور میں جب ننکانہ ضلع ( 2005 ء) بنا تو حکومت وقت نے گورونانک ڈگری کالج پر اپنے انتظامی امور چلانے کے لیے قبضہ جما لیا تو اپنے مادر علمی کو انتظامیہ سے واگزار کروانے کے لیے طلباء کے احتجاج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنے موقف پر اپنے ساتھیوں (جن میں چوہدری برکٹ علی غیور (مرحوم) ، حاجی عبدالحمید رحمانی، رانا علی اصغر اور محمد امین بھٹی شامل تھے ) ، کے ساتھ ڈٹے رہے۔ اسی پاداش میں ایجنسیوں نے سبھی کو تین ماہ کے لیے نظر بند کر دیا۔ رہائی کے بعد آپ بار روم میں درس قرآن باقاعدگی سے روزانہ دیتے رہے ہیں۔

سیاست اور وکالت دونوں شعبے ہمارے معاشرے میں بے وقار ہوتے جا رہے ہیں۔ ان میں ہوتے ہوئے آپ کی شخصیت اور کردار کو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جو سچ میں ایک کارنامہ ہے۔

زاہد صاحب نے اپنی شخصیت کا مزاج ایسا بنا لیا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ کس شخص سے کس حد تک بے تکلفی کا معاملہ رکھنا ہے۔ انہوں نے زندگی کے کچھ اصول وضع کیے ہوئے ہیں۔ جن پر وہ کاربند رہنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ ہمارا معاشرتی نظام ایسا ہے

جس میں اصولوں کا بھرم رکھنا کبھی کبھی بہت مشکل ہوجاتا ہے مگر وہ اس معاملے میں بھی پوری طرح کامیاب نظر آتے ہیں۔

وہ قابل نوجوانوں اور طلباء کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ غریبوں کی جہاں تک ہو سکے مدد کے لیے مستعد رہتے ہیں۔ اپنے تعلق میں وفا کے اس حد تک قائل ہیں کہ دوستوں کے مرنے کے بعد ان کے لواحقین سے اسی پیار اور جذبے سے پیش آنے کے آداب کو عزیز از جان رکھتے ہیں۔

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
(شاعر:عباس تابس)

اتنی جہتوں میں ایک جیسی کامیاب زندگی گزارنا سچ میں ایک مشکل مشق ہے مگر آپ بڑی کامیابی سے اس مشق کو حل کیے جا رہے ہیں۔

کردار و شخصیت کے منظر نامے کے باوصف مزید عوامل کون سے ہیں۔ جنہیں ریت کے پس منظر میں دریافت کرنا بہت ضروری ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ

ایرانی شاعر اور نثر نگار احمد ابن عمر ابن علی المعروف نظامی عروظی ( 1161۔ 1110 ) اپنی کتاب ”چہار مقالہ“ میں اچھے شاعر کے متعلق بیان کرتے ہوئے

لکھتے ہیں کہ ایک اچھے شاعر کو بیس ہزار شعر متقدمین کے یاد ہونے چاہے۔ اسی طرح بیس ہزار شعر متاخرین کے بھی یاد ہونے چاہیے اس کے ساتھ ساتھ اس نے تنقید و بلاغت کی کتابیں بھی پڑھی ہوں۔

انور زاہد صاحب ایک صاحب مطالعہ شخص ہیں۔ ان کی لائیبریری تعداد کے حساب سے نہیں بل کہ معیار کے لحاظ سے ایک اہم پرائیویٹ کلیکشن ہے۔ انہوں نے شاعری میں تمام مشرق و مغرب کے قدآور شعر و نثر کے تخلیق کاروں کے کام کو پڑھا ہے۔ تخلیقی کام کے علاوہ آپ نے تنقیدی کام پر بھی گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔

آپ کا ادبی حوالہ ننکانہ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا

جائے گا۔ آپ ننکانہ صاحب کی پہلی ادبی تنظیم ”بزم تنویر ادب“ کے ساتھ منسلک رہے جو 1957 ء سے علمی و ادبی سرگرمیوں میں مصروف رہی۔ آپ 2005 ء میں چوہدری برکت علی غیور کی انتقال کے بعد 2011 ء تک اس تنظیم کے صدر رہے۔ اس کے بعد آپ نے رائے محمد خاں ناصر اور حاجی عبدالحمید رحمانی کے ساتھ مل کر 2011 ء میں ادبی تنظیم وجدان کی بنیاد رکھی۔ جس نے ننکانہ صاحب کو ملکی و غیر ملکی سطح پر علمی و ادبی حوالے سے ایک نئی پہچان دی۔

انور زاہد ایک صابر شاعر ہیں جو معیار پر جلد بازی کو کبھی ترجیح نہیں دیتے ہیں۔

میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ ان کی والد صاحب سے دوستی کی وجہ سے ملنا جلنا رہتا ہے۔ یوں ریت کا سارا سفر راقم کی آنکھوں کے سامنے پایہ تکمیل کو پہنچا۔ وہ جب 2011 ء میں غزل کا مسودہ لے کر رائے محمد خاں ناصر کے پاس آئے تو فیصلہ ہوا ابھی رک جائیں۔ انہوں نے بات مانتے ہوئے صبر کا دامن تھام لیا۔ اس دوران میں انور زاہد کی شاعری کے نئے دور کا آغاز ہو چکا تھا۔ وہ سیدھی سادھی شاعری سے تشبیہ و استعارے والی شاعری کا سفر شروع کر چکے تھے۔ جدید غزل اور نظم ان کے قلم سے سامنے آنی

شروع ہو چکی تھی۔ انہوں نے دو سال میں غزلوں کا ایک نیا مسودہ لکھ لیا۔ جس کا نام ”تماشا رائیگاں رکھا گیا ہے“ رکھا تھا۔ زاہد میؤ سے کتاب کا ٹائیٹل بنوایا گیا۔ اس دوران میں ریت کی نظم دھیمے قدموں کے ساتھ ایک تسلسل سے اپنا سفر جاری کر چکی تھی۔ غزل کی کتاب جب اپنی اشاعت کے خواب دیکھ رہی تھی تو ریت واء ورولا بن کر ہوا کے کندھوں پر سوار ہو کر اس نے شاعر کو ایسا چکرایا کے تماشا رائیگاں رہ گیا اور ریت، اڑتی ریت سے ایک جدید، مضبوط آواز بن کر آج ہمارے سامنے ہے۔

چھیاسٹھ نظموں پر مشتمل ایک سو اٹھائیس صفحات کی ”ریت“ کو سلیکھ بک میکر لاہور نے بہت خوب
صورتی کے ساتھ شائع کیا ہے۔

”ریت“ وہ کتاب ہے جو قاری کو اس نفسا نفسی کے دور میں سنجیدہ مطالعہ کی دعوت دیتی ہے۔ اسے پڑھنے کے لیے آپ کو صاحب مطالعہ ہونے کے ساتھ معیاری شاعری کو پڑھنے اور سمجھنے کا وسیع تجربہ اور شعر فہمی کا ذوق ہونا ضروری ہے۔ ریت کی شاعری کے لیے قاری کی say کی بجائے do statement کی تکنیک سے واقفیت ہونا بہت ضروری ہے۔ یعنی text کے سیدھے الفاظ کے مطلب کی بجائے ان سے جو تصویر بن کر سامنے آتی ہے۔ اس کے پیچھے چھپی سوچ تک پہنچا جا سکے۔

ریت کی شاعری میں علامتی، تشبہیی، تلمیحی اور استعاراتی زبان گاہے بگاہے استعمال ہوئی ہے۔ ان کو مصرعے کے تناظر میں سمجھنا نہایت ضروری عمل ہے۔ جس نے سمجھ لیا وہ سچ میں اس استعاراتی شاعری جو ہمارے معاشرے کی تاریخی، سیاسی، معاشرتی، مذہبی، سماجی اور معاشی خرابیوں کی طرف دھیان دلاتی ہے اور ان کے حل کی طرف اشارہ بھی کرتی ہے سے اپنی سوچ کی سمت درست کر سکتا ہے۔ استعاراتی زبان کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہر قاری اپنے خود سے معنی اخذ کر سکتا ہے۔ اس کا لینڈ اسکیپ آفاقی ہوتا ہے۔ جسے کسی قوم یا جغرافیے

کی قید میں بند نہیں کیا جا سکتا ہے۔
میرے نزدیک یہ

شاعری کرشمہ ہے، کرشمہ سازی محض مصرع سیدھا کرنے والے کسی سہولت پسند، تک بند versifiercation) کے بس کی بات نہیں۔ شاعری کو کرشمہ بننے کے لیے شاعر کی ذات کا ایک ایک گن اور ایک ایک کمال اپنے لفظوں میں کشید کرنا ہوتا ہے۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ شاعری وہی کچھ ہے جو کہ شاعر خود۔ مطلب یہ ہوا کہ جیسا شاعر ویسی اس کی شاعری یا یوں کہہ لیں، انسان خود جتنا عمیق اور اس کا ذہنی افق جس قدر وسیع ہو گا اس کی تخلیق بھی اتنی گہری اور اسی قدر ہمہ گیر ہوگی۔ اپنی بات کی دلیل کے لیے ریت سے ایک نظم۔

غار کے پار
ظلمتوں کے جنگل میں جگنوؤں کی بستی تک
خوف کی مسافت ہی موت سا اندھیرا ہے
آہٹوں کی وحشت کو غار کے دہانے تک نیند کھینچ لائے بھی
شب کے گھور جنگل میں
مشتعل درندوں کی چیختی چنگھاڑوں میں
خواب کون دیکھے گا، نیند کس کو آئے گی
غار کے دہانے میں مستقل اندھیرا ہے
اور اس اندھیرے کے اس طرف سویرا ہے

یہ نظم تیسری دنیا کے پسے ہوئے لوگوں کی ایک ایسی فضاء کو قاری کے سامنے لاتی ہے جس میں ظلم کا جنگل، جگنووں کی بستی، خوف کی مسافت اور موت سا اندھیرا یہ استعارے جو ہمارے موجودہ معاشرے کے مکمل عکاس ہیں۔ جہاں ظلم، خوف اور موت مل کر جگنووں کی بستی کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔ بستی کی فضاء اس قدر بدبودار ہو چکی ہے جس میں خواب کون دیکھے گا، نیند کس کو آئے گی۔

شاعر اس ساری فضا کو اندھیرا کہتا ہے مگر اس اندھیرے کے اس طرف سویرا ہے۔ یہ مصرعہ امید، جستجو، تحریک کی طرف مائل کرتا ہے۔ مسلسل کوشش اور قربانی ہی اس اندھیر نگری کو روشن سویر میں بدل سکتی ہے۔ ”ریت“ کی ساری نظمیں قاری میں ایک ایسی فکر کی آبیاری کرتی ہیں جو رائج فرسودہ نظام اور خود ساختہ بیانیے کو چیلنج کر کے بہتری کی راہ دکھاتی ہے۔ یہ کتاب اکیسویں صدی میں اردو نظم کے لیے ایک سنگ میل کا درجہ رکھے گی۔ شعروں کی تعداد اور یاد کے متعلق تو نہیں معلوم مگر فی زمانہ انور زاہد نظامی عروضی کی مذکورہ تعریف پر باقی پہلووں کے حساب سے پورا اترتے دکھائی دیتے ہیں۔

Facebook Comments HS