آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد: ایک دور اندیش مذہبی رہنما


قوموں کی ترقی اور خوشحالی میں لیڈرز کا کردار انتہائی کلیدی ہوتا ہے۔ نامور لیڈرشپ ایکسپورٹ جان سی مسکوئیل کا کہنا ہے کہ قوموں کی ترقی اور تنزلی کا انحصار لیڈرشپ کے معیار پر منحصر ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے، ادارے اور خاندان جہاں لیڈرز اپنا کردار بخوبی سرانجام دیں وہ ترقی کی منزلیں طے کرتے جاتے ہیں۔پاکستان میں مسیحی کیمونٹی کی ترقی، خوشحالی اور بہتری میں چرچ کا بنیادی اور کلیدی کردار رہا ہے۔ پاکستان کے معروضی حالات اور خد و خال کی وجہ سے چرچ کا کردار ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔ مذہبی قیادت پر نہ صرف مذہبی فرائض کی ادائیگی بلکہ کمیونٹی کی تعلیمی، سیاسی، سماجی اور اجتماعی بہتری کی اضافی ذمہ داریاں عائد رہی ہیں۔

اس صورتحال میں پاکستان کے تناظر میں مذہبی قیادت کا ہمہ گیر خوبیوں کا مالک ہونا فطری تصور کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ایک مذہبی رہنما سے صرف مذہبی رسومات کی ادائیگی ہی نہیں بلکہ دیگر معاشرتی و سماجی مسائل کے حل کی توقع بھی کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں مذہبی قیادت کا ان سارے چیلنجز نبرد آزما ہونا کسی امتحان سے کم نہیں ہے۔

پاکستان میں کاتھولک چرچ سب سے منظم اور اپنے انفراسٹرکچر کی وجہ سے مضبوط چرچ تسلیم کیا جاتا ہے۔ جو ویٹی کن اور پوپ سے براہ راست منسلک ہونے کی وجہ سے عالمگیر چرچ کا حصہ ہے۔ آج کے اس آرٹیکل میں پاکستان کاتھولک بشپس کانفرنس کے صدر آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد کی وژنری سوچ اور قیادت کے متعلق بات کریں گے۔ آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد اس وقت اسلام آباد اور اولپنڈی کاتھولک ڈایوسیس کے آرچ بشپ کی حیثیت سے اپنی مذہبی فرائض سرانجام دے رہے ہیں لیکن وہ صرف ایک مذہبی رہنما ہی نہیں جو اپنے فرائض کی تکمیل کو کافی سمجھتے ہیں بلکہ وہ پاکستان کے معروضی حالات، سیاسی پس منظر، سماجی و معاشرتی مسائل سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ ان کے حل کا ادراک بھی رکھتے ہیں۔ میری ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں اور میں نے ان کے کئی انٹرویوز بھی کیے لیکن ان سب میں میرے لئے حیران کن امر یہ تھا کہ وہ ہمیشہ نوجوان کی پرسنل اور پروفیشنل ڈویلپمنٹ کے لئے کوشاں رہتے ہیں بلکہ عملی اقدامات کے لئے ہمیشہ دوسرے لوگوں سے رائے لیتے ہیں۔

اس سلسلے میں انہوں نے کئی تاریخی اور قابل ذکر عملی اقدامات کیے ہیں جو ان کی اس سوچ اور فکر کی عکاسی کرتے ہیں۔ جس میں کرسچن گورنمنٹ افسرز کو یکجا کرنا، نوجوانوں کے لئے سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری اور داخلے کے لئے پروگرامز، نوجوانوں کو انٹرن شپ، ہوسٹلز کا قیام، پرنسپلز اور اساتذہ کی تعلیم و تربیت کے لئے سیمینار اور نوجوانوں کے لئے کئی دیگر تعلیمی و تربیتی پروگرامز کا آغاز کیا ہے۔ میرے لئے سب سے خوش کن تجربہ ان کی ڈایوسیس کے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ لیڈرشپ ورکشاپ کو منعقد کرنا تھا۔ مجھے ان کا یہ قدم انتہائی شاندار لگا کہ وہ اپنی مذہبی قیادت کو سیاسی، سماجی اور معاشرتی مسائل سے آگہی دینے اور پیشہ ورانہ رویوں کو اپنانے پر زور دے رہے ہیں۔

میرے خیال میں پاکستان کے کاتھولک بشپس صاحبان میں سب سے زیادہ عمدہ اور موثر انداز میں جدید میڈیا کا استعمال اور مین اسٹریم میڈیا میں بھرپور شرکت انہوں نے کی ہے۔ میری جب بھی ان سے بات یا ملاقات ہوئی انہوں نے ہمیشہ آئیڈیاز اور عملی اقدامات کے حوالے سے بات کی۔ وہ ایک روایتی مذہبی رہنما نہیں بلکہ معاشرے میں امید، امن اور خاندان میں اتحاد اور یگانگت کے لئے کوشاں ایک موثر و متحرک رہنما ہیں۔ ان کی سوچ اور فکر نے انہیں اپنے عصر کے انتہائی اہم کلیسیائی رہنما کے طور پر ایک منفرد پہچان دی ہے۔

آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد امن اور امید کو اپنا مقصد حیات سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”خداوند یسوع مسیح ہمارا من اور ہماری امید ہے۔ امن اور امید انسانی زندگی کے لئے بے حد ضروری ہیں۔ ان کے بغیر پر امن اور خوشحال زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ اس لئے امن اور امید کی قدروں کی بشارت دینا ہر انسان کا فرض ہے۔“

25 اگست 1965 کو لاہور میں پیدا ہونے والے جوزف ارشد نے اپنی ابتدائی تعلیم سینٹ جوزف ہائی سکول، کینٹ لاہور سے حاصل کی۔ وہ بچپن سے ہی چرچ کی سرگرمیوں میں مشغول رہتے تھے اس لئے انہوں نے اپنی زندگی کے مستقبل کا فیصلہ مذہبی رہنما بن کر کیا۔

مذہبی تعلیم و تربیت کی تکمیل کے بعد 1991 میں کاتھولک کاہن مقرر ہوئے۔ 1995 تک گوجرانوالہ میں خدمات سرانجام دیتے رہے اور اسی دوران انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے صحافت میں ایم اے کیا۔

1995 کو انہیں اعلیٰ تعلیم کے لئے روم بھیجا گیا جہاں انہوں نے اربن یونیورسٹی سے 1999 میں کینن لاء میں ڈاکٹریٹ کی اور پاپائی کلیسیائی اکیڈمی سے سفارتکاری کی تعلیم بھی مکمل کی۔ وہ پہلے پاکستانی کاہن ہیں جنہیں ویٹی کن کی جانب سے مالٹا، سری لنکا، بنگلہ دیش، مدغاسکر اور بوسنیا ہرزیگو وینا میں بطور سفارت کار تعینات ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

2013 میں پوپ فرانس نے انہیں فیصل آباد کا بشپ مقرر کیا۔ 2017 سے وہ آرچ بشپ کے منصب پر فائز ہو کر اسلام آباد اور راولپنڈی میں کام کر رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر ان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں 2016 میں صدر پاکستان نے نیشنل ہیومین رائٹس ایوارڈ دیا ہے۔

وہ اس وقت ملکی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی اور معاشرتی و سماجی رواداری کے لئے متحرک ہیں۔ آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد ایک ہمہ گہر شخصیت کے مالک ہیں وہ سماجی حلقوں میں مسیحی کیمونٹی کی تواناً آواز ہیں۔ وہ ایک بہترین منظم اور سفارتکار ہیں جس کی بدولت ہی انہیں مختلف ممالک میں یہ ذمہ داری سونپی گئی۔

مجھے ان کی زندگی اور خدمات کے متعلق ان کی کتاب A journey of peace and hope میں ان کے ساتھ کام کرنے والے ساتھیوں اور عالمی مذہبی قیادت کی رائے پڑھ کر احساس ہوا کہ وہ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل انسان ہیں جنہوں نے ثابت قدمی اور وفاداری سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا ہے۔

کسی بھی کامیاب انسان کی زندگی میں والدین اور گھر کے ماحول کا بے حد اثر ہوتا ہے۔


آرچ بشپ اپنے والدین کی زندگی پر مرتب کتاب ”الہٰی انمول تحفہ“ میں لکھتے ہیں۔ ”ہر انسان کی زندگی نشیب و فراز سے گزرتی ہے۔ خاندان میں جب بھی مسائل آتے ہیں میں نے اپنے والد کو ہمیشہ مسکراتے ہوئے ان مسائل کو حل کرتے دیکھا۔ وہ زندگی میں ہمیشہ اپنی ذمہ داریوں کو اولین ترجیح دیتے تھے۔ کیونکہ وہ ایک معلم تھے انہوں نے ہمیشہ اپنے طالب علموں کو اپنے بچوں سے بھی بڑھ کر پیار کیا اور ان کی تربیت کی یہی وجہ ہے کہ وہ سکول میں اپنے طالب علموں میں بڑے مقبول تھے۔

سیمنری تربیتی دور میں وہ میری بھی راہنمائی کرتے اور ہمیشہ ایک اچھا کاہن بننے کی تلقین کرتے ایسا کاہن جو لوگوں کا مددگار ہو۔ میرے بشپ بننے کے بعد بھی وہ اکثر مجھے تاکید کرتے کہ غریب لوگوں کا خیال رکھیں اور خاص طور پر اپنے مسیحی بچوں اور نوجوان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ اکثر میری مالی مدد بھی کرتے تاکہ میں اپنی پاسبانی زندگی میں لوگوں کی مدد کر سکوں۔ ”

میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت جن حالات اور مسائل کا ہمارے ملک، معاشرے اور کیمونٹی کو سامنا ہے۔ آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد جیسے وژنری رہنما، منظم منصوبہ ساز اور فکری جہت کی حامل شخصیت کی ہمیں ضرورت ہے جو معاشرے اور لوگوں میں نئی امید اور سوچ کو پروان چڑھا سکیں۔

Facebook Comments HS