کانفرنس آف برڈس


کردار۔ 1۔ ایک بوڑھا درخت
2۔ کبوتر
3۔ کوئل
4۔ کوا
5۔ مینا
6۔ بلبل
7۔ ابابیل
سین

ایک بوڑھا درخت اکیلا کھڑا ہے۔ مایوس اور فکر مند۔ کئی لمحے گزرتے ہیں۔ اچانک ایک کبوتر اور ایک کوا اڑ کر درخت کی شاخ پر بیٹھتے ہیں۔

کوا اور کبوتر (ایک ہی آواز میں ) : سلام۔ بوڑھے درخت۔ کیسے ہو؟

درخت ( حیران ہو کر ) : سلام میرے کوے اور میرے کبوتر۔ میرے بچو۔ بڑے لمبے دنوں کے بعد نظر آئے ہو۔ کہاں رہے اتنے دن۔

کوا: (مایوس آواز میں ) : کیا بتائیں درخت بابا۔ زندگی کچھ اچھی نہیں گزر رہی ہے۔ کیوں کبوتر بھائی؟ (کبوتر کی طرف دیکھتے ہوئے )

کبوتر : (مایوس آواز میں۔ ایک آہ بھرتے ہوئے ) : ہاں میرے کوے دوست۔ زندگی کو جیسے کسی کی نظر لگی ہو۔ آرام و سکون چھن گیا ہو جیسے۔

کچھ لمحوں کی خاموشی۔ اچانک کہیں سے کوئل اور اور مینا اڑ کر کوے اور کبوتر کے سامنے شاخ پر بیٹھتے ہیں۔

کوئل اور مینا (ایک ہی آواز میں ) : سلام بوڑھے درخت۔ اور سلام ہمارے کوے اور کبوتر بھائی۔ کیسے مزاج ہیں سب کے۔ ؟

بوڑھا درخت، کوا اور کبوتر (ایک ہی آواز میں ) : سلام کوئل اور مینا۔ کیسی ہو آپ دونوں۔

کوئل اور مینا (ایک ہی مایوس کن آواز میں ) : بس ٹھیک ہیں۔ کچھ اتنے بھی زیادہ نہیں۔ ہم کمزور اور لاچار ہیں۔ ہمیں حالات نے بہت ستایا ہے۔ ہمیں بہت ڈر لگتا ہے۔

پھر سے خاموشی۔ اور کچھ لمحوں میں بلبل او ر ابابیل اڑ کر درخت کی ایک اور شاخ پر بیٹھتے ہیں۔
بلبل اور ابابیل (ایک آواز میں ) : سلام بوڑھے درخت اور سلام ہمارے بھائیو اور ہماری بہنو۔

بوڑھا درخت: سلام بلبل اور سلام ابابیل۔ آپ ٹھیک ہو۔ آپ اپنا حال سناؤ۔ کہاں رہے اتنے دن اور کیسے گزری تمہاری زندگیاں۔

کوئل اور مینا: (ایک آواز میں ) : کیسی ہو بلبل اور کیسی ہو مینا۔ ہم سے ناراض ہو کیا؟

بلبل (کمزور آواز میں ) : کیا بتائیں آپ کو ۔ ایک ایک لمحہ جیسے ایک ایک صدی ہو۔ اب کسی چمن کسی گلشن میں دل نہیں لگتا۔ ایسے لگتا ہے جیسے سب کچھ تھم سا گیا ہو۔

ابابیل (ہلکی آواز میں ) : ہاں پیارے درخت اور اچھے ساتھیو۔ میرا بھی اب دل کہیں نہیں لگتا۔ نہ دانہ چگنے کی خواہش ہے اور نہ اڑنے کی خواہش۔ جی کرتا ہے کہ کسی صحرا میں جا کے مر جاؤں۔

بوڑھا درخت (فکر مند ہو کر ) : نہیں نہیں میرے بچو۔ ایسا نہیں کہتے۔

کوئل ( جلدی جواب دیتی ہوئی) : کیوں نہ کہیں ایسا درخت بابا۔ آپ کو نہیں معلوم کہ موسم کتنا بدلا ہے۔ میرے گلے میں میری میٹھی آواز پھنس کے رہ گئی ہے۔ میری کوک پہ اب کسی اللہ کے عاشق کا دل نہیں دھڑکتا۔ میری ملہار سے کسی غم زدہ کے جگر پہ ٹھنڈک نہیں پڑتی۔ میرا سکون اجڑ گیا ہے۔ میرے گلے میں جیسے کوئی پھانس اٹک گئی ہے۔ آپ کیا بات کرتے ہو۔ بوڑھے بابا۔ لوگ میرے گیتوں کے لئے ترس رہے ہیں۔ میرا گلا محبتوں کے راگ چھیڑنے کو بے قرار ہے۔ درخت بابا۔

کبوتر (کوئل کی تائید کرتے ہوئے ) : ہاں بوڑھے درخت۔ کوئل بہن ٹھیک کہہ رہی ہے۔ اب وہ بات نہیں رہی۔ اب شہر میں گاؤں میں سب بدل گیا ہے۔ یاد ہے۔ (ٹھہرتے ہوئے ) میری گٹر گوں پہ مردہ لوگ اٹھ کر ناچنے لگتے تھے۔ اور میں جب ہواؤں میں تیرنے لگتا تھا تو پرندوں کے غول کے غول میرے ساتھ خوشیاں منانے آسمان کو رنگیں کرتے تھے۔ اب میں نکلتا ہوں تو وحشت ہوتی ہے۔ بوڑھے بابا۔

بوڑھا درخت اور سارے پرندے غور سے سنتے ہیں۔ کوا خاموشی کو توڑتا ہوا۔

کوا (بھاری آواز میں ) ۔ : میرے ساتھیو۔ مجھے تو لگا تھا کہ ایسا صرف میرے ساتھ ہوتا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہے دوستو۔ شاید ہم سب کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔ میں شام کے سایوں میں اور صبح کی پرنور ساعتوں میں کائیں کائیں کر کے پتا نہیں کتنے راز اگلتا تھا۔ میرے اپنے خاندان کے سینکڑوں ہزاروں کووں کے جھنڈ کے جھنڈ لے کر فضاؤں میں شور مچاتا تھا۔ انسان سمجھتے تھے کہ آج کوؤں کی شادی ہے۔ آج بھی ایسا ہوتا ہے مگر ایسے لگتا ہے جیسے وہ مزا نہیں رہا۔ جیسے ہمارے رنگ کی طرح کسی کالی نحوست نے ہمیں آ گھیرا ہو۔ ایسا کیا ہے میرے ساتھیو اور میرے درخت بابا۔

بوڑھا درخت (فکر مند ہو کر) : ایسا ضرور ہے میرے بچو۔ مگر مجھے لگتا ہے آپ نے ہمت ہاری ہے۔ ایسا کرنا ہماری پہچان مٹا دے گا۔ اس طرح تو ہمارا وجود خطرے میں ہے۔ میرے پیارو۔

(ایک ہلکی سی خاموشی )

مینا ( گہرے تاثر کے ساتھ) : تو کیا کریں بوڑھے بابا۔ ہماری پہچان تو ہے ہی داؤ پر ۔ ہم جن درختوں پر اپنے گھونسلے بناتے ہیں۔ وہ درخت بھی پریشان سے نظر آتے ہیں۔ ان کا بھی جیسے سکون اجڑ گیا ہو۔ ہم جن انسانوں کے گھروں میں اپنے بچوں کو پناہ دیتے تھے۔ ان گھروں سے رونے کی، چیخنے کی، چلانے کی، درد کی، غم کی، مایوسی کی سہمی سہمی آوازیں آتی ہیں۔ ہم بھی ڈرتے ہیں اور ہمارے بچے بھی ڈرتے ہیں۔ کبھی کبھی زور زور کی بڑی بڑی خوفناک آوازیں آتی ہیں۔ ہمارے گھونسلے ہلنے لگتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے ساری کائنات ہل گئی ہو۔ ایسے لگتا ہے جیسے محشر قائم ہوا ہو۔ یہ سب کیا ہے بوڑھے بابا۔ کیا کوئی قیامت آئی ہے۔ میرے بابا۔

ایک ہلکی خاموشی۔ بوڑھا درخت غور سے سنتے ہوئے خاموشی کو توڑتے ہوئے بلبل کی طرف دیکھتے ہیں۔
بوڑھا درخت: (سوالیہ انداز میں ) : ہاں میری جان۔ بلبل خوش کلام۔ آپ بھی تو کچھ بولو۔

بلبل (اپنی خوبصورت آواز میں ) : میرے دوست سچ کہہ رہے ہیں۔ بوڑھے بابا۔ ہم جس گلستان کی بلبلیں تھیں وہ گلستان ویران پڑا ہے۔ برگ و ثمر، سبزہ و شجر سب مایوس ہیں۔ میرے کلام میں اب کوئی تاثیر نہیں۔ میری چہچہاہٹ سے اب کسی کا دل نہیں پگھلتا۔ میری محبت بھری نظروں سے اب کوئی پھل نہیں پکتا۔ میرے عشق کی تپش سے اب کسی پھول پہ رنگ نہیں آتا۔ میں نے جب سے گلستاں چھوڑا ہے، تب سے ہر پھول ہر ثمر اور ہر ایک شجر میری یاد میں نالہ گریاں ہے۔ میرے بابا۔

(ہلکی خاموشی) میری خاموشی پہ شاعر شعر کہنا بھول گئے ہیں۔ میری نوائے غم آلود سے چمن کے گوشے گوشے میں ماتم ہے۔ میں اپنے آپ سے، اپنے وجود سے بے زار ہوں۔ بوڑھے درخت۔ تم نے نہیں دیکھا کہ تمہاری شاخوں میں بھی اب دم نہیں۔ تم نے نہیں دیکھا بابا کہ اب تمہارا اپنا وجود تمہارے لئے بوجھ ہے۔ کچھ تو بولو بابا۔ خاموش کیوں ہو۔ میرے بوڑھے استاد۔

(ہلکی سی خاموشی )
بوڑھا درخت ( خاموشی توڑتے ہوئے ) : ابابیل میری جان۔ تم بھی تو کچھ بولو۔
ابابیل ایک شاخ سے اڑ کر نزدیک والی شاخ پر بیٹھتی ہے۔
(چند لمحوں کا وقفہ)

ابابیل ( اپنی پاک آواز میں ) : میرا بھی حال ان سارے دوستوں کی طرح ایسا ہی ہے۔ آپ جانتے ہیں نا بوڑھے بابا کہ میں کسی اور وطن میں رہتی ہوں۔ اور اس موسم میں جب بھی میں اس دیس میں آتی تھی تو یہاں کے پرندے، یہاں کے انسان مجھے کتنا معتبر اور پاک سمجھتے تھے۔ میرے آنے سے بہاریں جھومنے لگتی تھیں۔ میری آمد پہ لوگ اور پرندے خوشیوں کے گیت گاتے تھے۔ شادیانے ہوتے تھے۔ گھروں میں رونقیں ہوتی تھیں۔ اس دیس والے مجھے اتنا معتبر سمجھتے ہیں کہ میرے نام پر اپنی عورتوں کے نام رکھتے تھے۔ میرے نام پر یہاں کے شاعروں نے شاعری کی ہے۔

(تھوڑا وقفہ) ۔ آپ کو معلوم ہے بوڑھے درخت کہ میں درختوں پہ اپنے آشیانے نہیں بناتی۔ میں انسانوں کے گھروں میں پناہ لیتی ہوں۔ جس گھر کو میں اپنا مسکن چنتی ہوں اس کے مکین خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں۔ وہ میرے آشیانے کو سجاتے ہیں۔ مگر اے بوڑھے درخت۔ جن کے اپنے آشیانے محفوظ نہیں۔ وہ میرے گھر کی کیا رکھوالی کریں گے۔ میں بھی اب یہاں کم ہی آتی ہوں۔ یہاں کی ہوائیں اب وہ ہوائیں نہیں رہیں۔ یہاں کی فضاؤں سے بارود کی بو آتی ہے۔ میرا یہاں دم گھٹنے لگتا ہے۔ میں اپنے دیس کی جھلسا دینے والی گرمی برداشت کرلوں گی مگر یہاں کی گھٹن مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔ بوڑھے بابا۔

(ہلکی خاموشی)
(بوڑھا درخت اپنی گھنی بوڑھی شاخیں ہلاتا ہوا)

بوڑھا درخت (سپاٹ اور رعب دار لہجے میں ) : میرے ننھے بچو۔ میرے جگر کے ٹکڑو۔ میری شاخوں کی رگوں میں خون دوڑانے والے میرے عزیز پر ندو۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ میں اتنا بوڑھا ہو گیا ہوں کہ مجھ میں کچھ بھی سمجھنے کی صلاحیت نہیں۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مجھے تمہاری دوریوں کے احساس کا کوئی اندازہ نہیں۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں ایک بے حس اور بے جان بوڑھا درخت ہوں جو اپنے آس پاس ہو رہی ہر اک واردات سے بے خبر ہوں۔ ایسا نہیں میرے بچو۔ ایسا بالکل نہیں۔

میں کئی صدیوں سے یہاں کھڑا ہوں۔ میں نے اس دیس میں لاکھوں کروڑوں انسانوں کو آتے ہوئے، جاتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے لاکھوں کروڑوں پرندوں کو اپنی گود میں پناہ دی ہے۔ میں نے کتنے ہی ظالم موسموں کے تھپیڑے جھیلے ہیں۔ میں نے ہزاروں طوفانوں کا ، باد و باران کا سینہ تان کے مقابلہ کیا ہے۔ میری شاخوں نے خون جما دینے والے ٹھنڈے یخ بستہ موسموں کو مات دی ہے۔ میرے بازؤں نے جھلسا دینے والی گرم لہروں کو برداشت کیا ہے۔

میں نے کئی زلزلوں اور تاخت و تاراج کردینے والی ساعتوں میں اپنے وجود کو بکھرنے سے بچایا ہے۔ میں نے سینکڑوں دفعہ انسانوں کے ہاتھوں اپنے کٹے ہوئے بازؤں کا مرہم کیا ہے۔ میں نے نہ جانے کتنی بار اپنے زخموں کو ناسور بننے سے روکا ہے۔ آپ ابھی بہت چھوٹے ہو۔ میرے بچو۔ ابھی سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

کوئل (پہل کرتی ہوئی) : اسی لئے تو آپ کے پاس آئے ہیں درخت بابا۔ ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہم نہ جانے کہاں بھٹک جائیں گے۔ نہ جانے کہاں بکھر جائیں گے۔

کبوتر ( کوئل کی تائید کرتے ہوئے ) : ہاں بوڑھے درخت۔ ہمیں آپ کے سوا کوئی نصیحت کرنے والا نہیں۔
بوڑھا درخت ( مسکراتے ہوئے ) : دیکھو میرے بچو۔ میرے نونہالو!

ذرا یاد کرو۔ کیا تم نہیں تھے جب جنت سے حضرت آدم کے ساتھ نکلے تھے۔ کیا حضرت سلیمان تمہاری بولیاں نہیں بولتے تھے اور تم اس کے ساتھ باتیں کرتے تھے۔ کیا تم سب کی ایک ایک جوڑی نے حضرت نوح کی کشتی میں سفر نہیں کیا جب ساری زمین سیلاب کی نذر ہو گئی تھی۔ کیا تم میں سے ایک پرندہ نہیں تھا جو کوہ طور سے آسمان کی طرف اڑا تھا۔

کیا تمہاری نسل میں سے ایک پرندہ نہیں تھا جس نے ابن مریم کی ہتھیلی سے ٹپکتی بوند سے جنم لیا تھا۔ بولو میرے پر ندو! بولو! کیا حضرت ابراہیم کو بچانے اپنی معصوم چونچ میں ایک معمولی چڑیا نے آگ بجھانے کے لئے پانی نہیں لایا تھا۔

بوڑھا درخت (ابابیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) :

ذرا یاد کرو میری جان ابابیل۔ کیا ابرہہ کے ہاتھیوں کو تمہاری فوج نے نیست نابود نہیں کیا جب انہوں نے خانہ کعبہ پر چڑھائی کی تھی۔ کیا غار حرا کے بطن سے ایک پرندہ پیدا نہیں ہوا تھا۔ کیا آسمانی صحیفوں سے پھڑپھڑاتے ہوئے پرندے زمینوں میں نہیں پھیلے۔ اور کیا مٹی سے پیدا ہونے والے پرندوں نے عشق کی بھٹی میں پک کر جنتوں کی سیر نہیں کی۔

میرے کبوتر! کیا تمہارے ہزاروں بھائی بہن مدینہ و حرم کے مہمان نہیں ہیں۔ کیا تمہارے بہن بھائی درگاہ حضرت بل، مخدومؒ صاحب، نقشبندؒ صاحب، اور امیر عجم حضرت امیرؒ کے دسترخوان پہ روز اپنے دانے نہیں چگتے۔ اقبال کے شاہین کو بھول گئے کیا۔ کیا وہ فضاؤں میں اڑنا بھول گیا ہے۔ نہیں نا۔ خواجہ فریدالدین عطارؒ کے طائران کو دل سے نکال دیا کیا؟

کبوتر اور ابابیل (ایک ہی آواز میں ) : یہ بالکل سچ ہے۔ بوڑھے بابا۔ بالکل سچ۔ ہمیں یہ احساس ہی نہیں تھا۔

بوڑھا درخت ( جوشیلی آواز میں ) : میرے بچو۔ میرے پر ندو! میں جانتا ہوں کہ ہم سب ایک برے وقت میں جی رہے ہیں۔ لیکن ہمیں مایوس نہیں ہونا ہے۔ مایوسی گناہ ہے میرے دوستو۔ مشکلوں میں جینے والے اصل میں جیتے ہیں۔ جو مخلوق زندہ رہنے کا ہنر سیکھتی ہے، کامیابی اس کی منزل ہے۔ اٹھو میرے جگر پارو۔ اور آسمانوں کی فضاؤں کو چیر ڈالو۔ یہ وقت اپنے خوابوں کی تکمیل کا ہے۔ جاؤ اپنے اپنے خواب چن لو۔ جاؤ تم سے تمہاری خوشیاں چھیننے والوں کو زندگی کا سبق دو ۔ جاؤ مایوس لوگوں کو جینے کا ہنر سکھاؤ۔

جاؤ اور غم ذندگی، مایوسی، خوف اور ڈر کو مات دو ۔ جاؤ۔ تمہارے خواب، تمہارے چمن، برگ و ثمر، سبزہ و شجر اور تمہارے مسکن تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ جاؤ۔ اڑو۔ اور غم آلود فضاؤں کو رنگین کردو۔ جاؤ۔ خود بھی جینے کے خواب دیکھ لو اور اپنے دوستوں کو بھی جینے کا ڈھنگ سکھاؤ۔ جاؤ میرے بچو۔ اللہ نگہبان۔

(سارے پرندے ایک ایک کر کے اڑتے ہوئے ) :
سارے پرندے ایک ہی آواز میں : آپ کا بہت بہت شکریہ بوڑھے درخت۔ اللہ نگہبان۔
سین ختم۔ پردہ گرتا ہے۔

(ماخوذ از منطق الطیر – فرید الدین عطار)

Facebook Comments HS