قابل طلاق تصویریں


دو سال قبل ہم نے لکھاریوں کی ایک ایوارڈ تقریب منعقد کی تھی۔ جس میں پنجاب بھر سے نوجوان مصنفین کو ایوارڈز دیے گئے تھے۔ تقریب میں خواتین مصنفین بھی تھیں۔ ایونٹ تکمیل پانے کے بعد سب سے اہم مرحلہ تصاویر کی چھانٹی ان کو سوشل میڈیا پر ڈالنا اور متعلقین تک پہنچانا ہوتا ہے۔ تصاویر کی دنیا بہت ظالم دنیا ہے خیر تصاویر گروپ میں آئیں تو ایک تصویر نے مجھے بہت حیران کیا وہ ایک خاتون مصنفہ کی تصویر تھی جس میں وہ چیف گیسٹ سے ایوارڈ موصول کرتے ہوئے بہت مسکرا رہی ہیں۔ اس تصویر کو مختلف رنگ اور مطلب دیے جا سکتے تھے اور کوئی مخالف اپنے مقاصد کے لیے بھی استعمال کر سکتا تھا۔

مجھے لگتا تھا کہ یہ تصویر ان کے ازدواجی تعلق کو متاثر کر سکتی ہے یا کم از کم قابل سوال لازمی بنا سکتی ہے اور بڑی سے بڑی لڑائی اسی طرح کے کسی سوال یا مغالطے سے شروع ہوتی ہے۔ میں نے تصویروں کی ترسیل کو روکتے ہوئے ٹیم کو منع کیا مزید برآں فوٹو گرافر سے سارا ڈیٹا منگوایا کراس چیک کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ زیادتی شٹر نے کی ہے فوٹو گرافی کو جاننے والے شٹر سے واقف ہیں کچھ موبائلوں کا بھی فیچر ہے تصویر بنانے والے بٹن کو دبائی رکھیں تو وہ سینکڑوں تصاویر ایک ساتھ بنا دیتا ہے۔ اب وہ چھ تصاویر شٹر سے بنیں تھیں جس میں ایک تصویر ممنوعہ طرز کی بھی تھی ایک منٹ کے لیے سوچیے اگر وہ تصویر کسی مسئلے کا باعث بن جاتی تو نا چاہتے ہوئے بھی بہت بڑی زیادتی ہو جاتی۔

میں نے باقی پانچ تصاویر ڈیلیٹ کروا کر ایک سیدھی تصویر جس میں ایوارڈ لیا جا رہا ہے وہ سوشل میڈیا پر بھی لگوا دیں اور اس خاتون کو بھی ارسال کر دی عمومی سطح پر یہ بات معمولی نوعیت کی ہے لیکن یہ معاملہ حساس نوعیت کا ہے جیسا کہ جب گروپ فوٹوز بن رہی ہوں تو دو لوگ آپس میں بات کر رہے ہوں اور وہ دونوں مختلف جینڈر سے ہوں بات بھی کوئی غیر سنجیدہ ہو تو شٹر قابل طلاق تصویر نکال کر ہی دم لے گا۔

میں خود بھی کیونکہ ایونٹ مینجمنٹ کی دنیا سے تعلق رکھتا ہوں آپ کو پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں تصویریں مضبوط اثر رکھتی ہیں۔ دو ہزار انیس میں مجھے یاد ہے میں نے پنجاب پولیس کی امیج بلڈنگ اور پولیس عوام تعلقات پر مبنی ایک پراجیکٹ (Police Ambassadorship Program) ڈیزائن کیا تھا اسی سلسلے میں میری ملاقات ایس ایس پی ایڈمن اطہر وحید صاحب سے ہوئی تھی جٹ صاحب بہت پڑھے لکھے اور شاندار پولیس افسر سے پراجیکٹ کے مختلف پہلووں پر بات ہوئی ساتھ ہی انہوں نے ایک اور بات کہی وہ مجھے شروع میں تھوڑی معیوب لگی لیکن جب اس پر غور کیا تو وہ بہت مضبوط بات تھی۔ وہ کہتے میں پہلی ملاقات میں کسی کو اپنے ساتھ تصویر بنانے کی اجازت نہیں دیتا اور جب تک کوئی تعلق نا ہو یا ذہنی ہم آہنگی نا بنے تصویر نہیں کہنے لگے پہلی ملاقات ہوتی ہے لوگ تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر لگاتے ہیں کہ brother from another mother، With Bhaijanوغیرہ وغیرہ اب یہ بات درست بھی تھی اور مضبوط بھی تھیں کیونکہ زندگی میں انسان ایسے مقام پر بھی پہنچتا ہے جب اس کی تصاویر بکتی ہیں اور استعمال ہوتی ہیں۔

مجھے یاد ہے حافظ سعید کی نظر بندی سے ایک روز قبل ان کی اخبار نویسوں اور تجزیہ نگاروں کے ساتھ ایک نشست تھی۔ خاکسار بھی کسی طرح پہنچا اس موقع پر میری ایک تصویر بنی جو سوشل میڈیا پر بھی لگی اس تصویر نے میرے سرکل میں بہت دھوم مچائی تھی آپ میں سے کم و بیش سارے ہی اس بات سے واقف ہیں تصویروں کا اثر ہوتا ہے۔ میں آپ کو بتاتا چلوں تصویریں غلط استعمال بھی ہوتی ہیں اس لیے جب تصویریں بن رہی ہوں تو احتیاط لازمی ہے اور جب ہم سماجی دنیا کی بات کرتے ہیں تو معاملہ ہی مختلف ہے کسی بھی وقت آپ کو پراپیگنڈا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور سوشل میڈیا پر نوے فیصد لوگ وہ ہیں جو بلا تحقیق چیزوں کو آگے پھیلا دیتے ہیں۔

بہت دفعہ زندہ لوگوں کے بار بار مرنے کی خبر اور بعض اوقات مرے ہوئے لوگوں کی بار بار تازہ مرنے کی خبریں سوشل میڈیا کی زینت بنتی ہیں لہذا یا شٹر کو کنٹرول کریں یا کم از کم خود کو کنٹرول کریں کیونکہ بعض اوقات چھوٹی سی بات بھی بڑی بات بن جاتی ہے۔ لیکن اس سارے معاملے میں اہم ترین ذمہ داری ایونٹ آرگنائزر اور فوٹو گرافر کی ہے کہ وہ ایسی کوئی تصویر نا نکلنے دے جس سے مسائل پیدا ہوں کیونکہ میں نے جب وہ تصویر ٹیم کو دکھائی تو انہوں نے بھی کہا کہ تصویر مسئلہ پیدا کر سکتی ہے۔

مذکورہ خاتون عبایہ میں ملبوس تھیں اور ان کا گھرانا مذہبی بھی ہے۔ تصویر میں کسی مرد کو دیکھ کر یوں مسکرانے کو زیر سوال لایا جا سکتا تھا۔ اس پر آخری بات یہ کہ تصاویر لیتے ہوئے کم از کم بتائیں کے تصویر بن رہی ہے تاکہ جن کی تصویر بن رہی ہے تاکہ وہ خود کو الرٹ کر لیں ڈیجیٹل رائٹس فاونڈیشن کی تربیتی نشست میں بھی اس طرح کے بہت سے واقعات زیر بحث آئے تھے۔ جو تصویر اور ویڈیو سے متعلقہ تھے ٹریننگ دینے والی خاتون نے شروع کرتے ہی کہا کہ میری تصویر اور ویڈیوز بنانے سے گریز کیجئے گا کیونکہ میں کمفرٹیبل محسوس نہیں کرتی۔

اب یہ کہنے کے بعد سب کو اندازہ تھا کسی نے ان کی ویڈیو نہیں بنائی وگرنہ مجھے اندازہ ہے کہ کم و بیش اسی فیصد لوگ جب اپنے سوشل میڈیا کے لیے کلپ بناتے تو اس خاتون کو لازمی لیتے ڈیجیٹل رائٹس فاونڈیشن نے اس بات پر بہت زور ڈالا کہ تصویر کے لیے اجازت ضروری ہے کانسینٹ کے بغیر تصویر بنا نا غیر مناسب عمل ہے۔ مہذب معاشروں میں یا جہاں شہری حقوق اپنی مضبوط حیثیت رکھتے ہیں وہاں اس پر بہت سختی سے عملدرآمد کروایا جاتا ہے۔

یہاں پاکستان میں تو جب کوئی مائیک پکڑ لیتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کسی کی ذاتی زندگی میں گھسنے کا اسے لائسنس مل گیا ہے خیر یہ ایک الگ موضوع ہے اس پر پھر کبھی سہی ابھی کے لیے گزارش ہے کہ اپنی تصاویر کے معاملے میں احتیاط کریں وگرنہ آپ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں کے بھائی جان، بردار فرام این ادر مدر، بیسٹی اور پتا نہیں کیا کیا بن جائیں گے۔

Facebook Comments HS