قوانین سے انحراف، قرآن کی تکذیب

ہم نے، نہیں ہمارے پرکھوں نے، ایک ملک بنایا۔ ایک شاعر نے خواب دیکھا کہ ہمیں ایک قطعہ زمین چاہیے جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہو اور ہم وہاں ایک معاشرے کی تشکیل قرآنی احکامات اور اقدار کے مطابق کریں۔ ایک بیرسٹر نے دن رات ایک کر کے مسلمانوں کو اس پر یکسو کیا اور بالآخر انیس سو سینتالیس میں انگریزوں اور ہندوؤں کو بھی اس پر قائل کر لیا۔ بیرسٹر بہت قانون پسند تھے اور اپنے حامیوں کو بھی قانون کی پابندی کی تلقین کرتے تھے۔ ان کی صاف گوئی اور دیانت داری بھی ضرب المثل تھی۔
آئیے اب جائزہ لیتے ہیں کہ جو مملکت 1947 میں وجود میں آئی وہ کس قدر قرآنی احکامات پر عمل کرتی ہے۔ موضوع بہت جامع اور طویل ہے لہذا فی الحال ایک ہی قرآنی اصول پر بات کروں گا۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالی نے سورہ المائدہ میں انسانی جان کو نہایت مقدس بتایا اور اس کی حفاظت کی تلقین فرمائی ہے۔ چونکہ قرآن مجید کا یہ حکم تمام لوگوں کے علم میں ہے لہذا اس سے اگے چلتے ہیں۔ صرف یادداشت کے لیے یہ بات دہرانا چاہتا ہوں کہ حرمت ’انسانی‘ جان کی ہے۔
اس قرآنی حکم کے تابع ریاست نے اپنا آئین بناتے ہوئے آرٹیکل 9 میں تمام شہریوں کی جان اور آزادی کے تحفظ کی ذمہ داری لے لی۔ آرٹیکل 35 میں خاندان، ماں اور بچے کے تحفظ کی ذمہ داری بھی اٹھا لی۔ آئین پاکستان کی ان شقوں پر عمل درآمد کرنے اور کروانے کے لیے ضروری قوانین بھی موجود ہیں۔ آئیے مختصراً دیکھیں کہ یہ عمل کتنا اور کیسے ہو رہا ہے۔
کیونکہ آئین کے آرٹیکل 15 کے تحت شہریوں کو نقل و حرکت کی آزادی ہے وہ اپنی اس آزادی کا استعمال کرتے ہوئے صبح سویرے گھروں سے نکل آتے ہیں اور اپنے روزمرہ کے کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ اس کے لیے وہ سائیکل، موٹرسائیکل، گاڑیاں، بسیں اور نقل و حمل کے دیگر ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ ارے یہ کیا! سڑک پر ایک بڑے سے گڑھے کی وجہ سے موٹرسائیکل الٹ گئی اور جوان اپنی جان سے گیا۔ ادھر سگنل کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گاڑی اور بس میں ٹکر ہو گئی اور گاڑی ڈرائیور سمیت تباہ۔
ہائی وے پر بس ڈرائیوروں کے درمیان ریس لگ گئی اور تیز رفتاری کے باعث بس الٹ گئی، کھائی میں گر گئی، سامنے سے آتی ہوئی ایک اور بس یا ٹرالی سے ٹکرا گئی۔ یہ سب کیسے ہو جاتا ہے؟ بات بہت سامنے کی ہے۔ سڑکوں پر لگنے والے پیسے آپس میں تقسیم ہو جاتے ہیں اور ایک غیر معیاری سڑک کی تعمیر کے لئے لیے جتنی رقم درکار ہوتی ہے اتنی خرچ کر لی جاتی ہے۔ ڈرائیونگ لائسنس چند ہزار روپوں میں دستیاب ہے۔ ڈرائیونگ ٹیسٹ لینے والوں کو آپ کبھی گاڑی چلاتے دیکھ لیں تو آپ بخوبی سمجھ جائیں گے کہ کن خوبیوں پر لائسنس جاری کرتے ہوں گے۔ ہزاروں لوگ ہر سال ان ٹریفک حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسی کی رپورٹ درج ہوتی ہے اور کسی کے معاملے کو اللہ کی مرضی سمجھ کر خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
گلوبل ٹیررازم ڈیٹابیس کے مطابق پاکستان میں پچھلے بیس سالوں میں دہشت گردی سے 66 ہزار 500 لوگ اپنی جان سے گئے۔ ان میں فوجی، قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ارکان اور سویلین شامل ہیں۔ ہم نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنے قومی وسائل کا ایک خطیر حصہ صرف کیا۔ بہت اچھا کیا۔ لیکن یہ کہاں کی دانشمندی ہے کہ شہریوں کو دہشت گردوں سے بچا کر ایک دوسرے کے ہاتھوں سڑک پر مرنے کے لئے چھوڑ دیا جائے۔ انسانی جان کی یہ بے قدری مہذب معاشروں کا شیوہ نہیں۔
ہمارے ہاں ہر ایک ہزار زندہ پیدا ہونے والے بچوں میں سے 51.7 بچے نو زائیدگی ہی میں موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جب کہ یہ شرح بھارت میں 28.3 بنگلہ دیش میں 23.3 اور سری لنکا میں 8.5 ہے۔ گویا انسانی جان کے تحفظ کے قرآنی حکم پر عملدرآمد کوئی اور کرتا ہے اور اسلامی ہم ہیں۔ ان بچوں کو جنم دینے والی ہر ایک لاکھ میں سے ایک سو چھیاسی مائیں زچگی کے دوران ہی وفات پا جاتی ہیں۔
ہمارے یہاں ہسپتالوں کی کمی، موجود ہسپتالوں میں ادویات کی کمی، مناسب عملے کی عدم دستیابی اور دستیاب عملے کی عدم توجہی ان سب اموات کا باعث بنتی ہیں۔ مناسب وقفوں کے بغیر بچے کی پیدائش اور دوران حمل ماں کے لئے مناسب خوراک کا نہ ملنا اس عظیم نقصان کے سب اسباب ایسے ہیں جنہیں دور کیا جاسکتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ سب کچھ ہماری قومی ترجیحات میں شامل نہیں۔
انسانی جانوں کے زیاں میں ہمارے معاشرے کی فرسودہ رسمیں اور جہالت کا بھی ایک کلیدی کردار ہے۔ غیرت کے نام پر قتل، کاروکاری اور نہ جانے کیا کیا۔ لیکن چونکہ معاشرے کے سیاسی اور سماجی طور پر با اثر افراد اس جاہلانہ جبر کی سرپرستی کرتے ہیں لہذا حکومتیں بھی اس معاملے میں خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔
اقلیتوں کی زندگیوں کو تو ہم اب زندگی سمجھتے ہی نہیں۔ توہین مذہب کے قوانین کے تحت عوام ہی حق اور ناحق کا فیصلہ کر لیتے ہیں اور جج، جیوری اور جلاد بن جاتے ہیں۔ اسلام کے مبلغ جنہوں نے قرآن و سنت کی تعلیمات لوگوں تک پہنچانا اپنے ذمہ لے رکھا ہے اس بربریت کی مکمل پشت پناہی کرتے ہیں یا اس ضمن میں ایک مجرمانہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ ریاست اور ریاستی اداروں کا کیا ذکر کروں کہ جج صاحبان ان معاملات میں فیصلہ کرنے کی جرات سے ہی محروم ہیں۔ پولیس دل سے ہجوم کے ساتھ ہوتی ہے اور وکلا نہ صرف یہ کہ ان مقدمات کی فیس نہیں لیتے بلکہ قانون شکنوں کو لانے والی جیل کی گاڑیوں کے سامنے ناچتے بھی ہیں۔
ہزاروں لوگ ہر سال پاکستان میں معمولی تنازعات کا شکار ہو کر قتل ہو جاتے ہیں۔ بجا ہے کہ حکومت ان ہلاکتوں کو براہ راست نہیں روک سکتی۔ لیکن کیا حکومت ان قاتلوں کو سزا بھی نہیں دے سکتی جن کو سزا دینے کا حکم بھی قرآن حکیم میں دیا گیا ہے؟ کیا یہ حکومت کی ’اسلامی‘ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ تفتیش کا ایک موثر نظام وضع کریے اور ایسا عدالتی نظام تشکیل دے جس میں مقتول کے ورثاء کو انصاف مل سکے تاکہ وہ حصول انصاف کے لئے اللہ سے فریادیں نا کرتے رہیں یا مایوس ہو کر قانون کوہی اپنے ہاتھ میں لے لیں۔
ہمارے یہاں جب بھی اسلامی نظام کے نفاذ کی بات ہوتی ہے تو معاملہ تعزیری قوانین کے نفاذ، سود کی حرمت اور حسبہ بل پر پہنچ کر ختم ہو جاتا ہے۔ قرآن کے دیگر احکامات پر عمل درآمد کے لئے نہ اسلامی نظریاتی کونسل کی کوئی بیٹھک ہوتی ہے، نہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں کوئی کمیٹی بنتی ہے، نہ کوئی شرعی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، نہ سیاسی اور مذہبی جماعتیں ان معاملات کو اسلام سے منسلک کرتی ہیں۔ انسانی جان کی حرمت اور اس کے تحفظ کا معاملہ اب ’ہر ذی روح‘ سے نیچے آتے آتے ’تحفظ خویش‘ تک محدود ہو گیا ہے۔
میرا حکومت پاکستان سے مطالبہ ہے کہ جب تک ہم سنجیدگی سے اس ملک کو مختلف جہتوں سے قرآن کے راستے پر گامزن نہیں کر دیتے ہمیں اس کے نام میں سے ’اسلامی‘ کا لفظ حذف کر دینا چاہیے کہ قرآن اپنی تکذیب کو اپنے انکار سے بڑا جرم تصور کرتا ہے۔

