جمہوریت کے موسمی نقیب کہاں چلے گئے؟

ہمارے ہاں کالم نگاروں، صحافیوں اور دانش وروں کی ایک پوری کھیپ تھی جس نے دور عمرانی میں جمہوریت کی جنگ لڑی۔ یہ لوگ ان دنوں جالب کی نظمیں پڑھتے تھے اور فیض کی ”ہم دیکھیں ہیں“ پر دھمال ڈالا کرتے ہیں۔ ان میں احراریوں جیسی سرکشی اور خاکساروں جیسی شوریدہ سری امڈ آئی تھی۔ بعض نے تو خاکی لباس بھی پہن لیا تھا۔ جب کچھ سیاست دان خلائی مخلوق کو کوسنے دیا کرتے تھے تو یہ ان کی تائید میں ایک خاص مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلاتے اور پھر زور زور سے تالیاں پیٹتے تھے۔ ان دنوں بعض صحافی پبلک تقریروں میں ریٹائرڈ جرنیلوں کی کتابوں سے ”اہم انکشافات“ پر مبنی اقتباسات بہ آواز بلند سناتے پائے گئے۔
جس نسل سے میں تعلق رکھتا ہوں اس نے یہ تو نہیں دیکھا کہ ایوب اور ضیاء کے مارشل لا میں صحافت کس طرح استعاروں کی زبان میں بات کرتی تھی اور دل کے افسانوں کو نگاہوں کی زباں سے کیسے بیان کیا جاتا تھا لیکن دور عمرانی میں اس کی ایک ادنی سی جھلک ہم نے ضرور دیکھ لی تھی۔ ہر تیسرا صحافی ”ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا اور بندے کو خدا“ کہنے سے انکاری تھا۔
یہ لوگ طاقت کے غیر جمہوری مراکز کے خلاف نعرۂ عزت ووٹ بلند کیا کرتے تھے اور قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے والے سیاست دانوں کے شانہ بہ شانہ چلتے دکھائی دیتے۔ چینلوں پر مخصوص سیاست دانوں کی خبر نشر کرنے پر پابندی لگادی جاتی اور ان کے ٹاک شوز بند کر دیے جاتے تو یہ سوشل میڈیا پر نمودار ہو کر فرازؔ کی ”محاصرہ“ پڑھنے لگ جاتے تھے۔
وقت نے کروٹ بدلی اور اقتدار کی ہما نے پی ٹی آئی والوں کے سروں سے بیٹ کرتی گزر گئی اور پی ڈی ایم پر اپنا سایہ تن دیا۔ وہ دن اور آج کا دن، میں ان صحافیوں، دانش وروں اور کالم نگاروں کو ڈھونڈ رہا ہوں۔ یہ لوگ کہاں چلے گئے ہیں؟ میں ان کے کالموں، پروگراموں اور وی لاگز میں فیضؔ، جالبؔ اور فراز کی باتیں سننے کی کوشش کرتا ہوں لیکن حیرت انگیز طور پر وہاں راگ درباری کے علاوہ اور کچھ کانوں میں نہیں پڑتا۔ جو کل تک یہ لکھتے تھے کہ خاکی سائے جمہوریت کے پیڑ کو جھلسا کے رکھ دیتے ہیں، اب مبینہ طور پر نئی نسل کو اداروں کے غیر مشروط احترام کی تلقین کر رہے ہیں۔ (یہاں غیر مشروط کا لفظ اہم ہے۔ )
ان لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ کیا واقعی ہمارے حالات بدل گئے ہیں؟ کیا اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی کردار ختم ہو چکا ہے؟ اب چینل مالکان کو بلا کر مخصوص سیاست دانوں کے بیانات نشر کرنے سے منع کرنے کا سلسلہ بند ہو گیا ہے؟ اب سیاسی ورکروں کی پکڑ دھکڑ نہیں ہوتی؟ انتقامی سیاست کا خاتمہ ہو گیا ہے؟ کیا وہ مرحلہ آ گیا ہے جب راوی چین ہی چین لکھے؟
دو دن پہلے ایک محترم کالم نگار نے 9 مئی کے ”سانحے“ پر لکھے گئے شہر آشوب کی بات کی۔ حالاں کہ ان کی سابقہ پروفائل کے پیش نظر ہمیں یہ امید تھی کہ وہ پکڑ دھکڑ کے اس اندھے بہرے سلسلے پر کچھ لکھیں گے، فوجی عدالتوں کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے اور یہ سوال اٹھائیں گے کہ کور کمانڈر ہاؤس سے مور چرانا زیادہ بڑا جرم ہے یا ملک کے آئین کو معطل کرنے والے سزا یافتہ شخص کو مکمل عسکری اعزاز کے ساتھ قومی پرچم میں دفن کرنا؟ جہاں پوری ریاست کو آگ میں جھونکنے والے آزادانہ دندناتے پھر رہے ہوں وہاں عوامی مظاہروں میں کسی ہاؤس کا جل جانا کیا واقعی اتنا ہی بڑا سانحہ ہے کہ اس کے مجرموں کے کی مخبری کا انعام دو دو لاکھ روپے رکھ دیا جائے۔
عوامی مظاہروں میں سرکاری املاک کا نقصان ایک عام سی بات ہے۔ اس پر گرفتاریاں اور سزائیں بھی کوئی ایسا بڑا معمہ نہیں لیکن ان صحافیوں کے منہ سے یہ سن کر کلیجہ منہ کو آ جاتا ہے کہ 9 مئی کے مظاہرین ریاست کے باغی ہیں، انھوں نے اداروں پر حملہ کیا ہے، ان میں اور ٹی ٹی پی میں کوئی فرق نہیں۔ جو کام دشمن سے نہ ہو سکا وہ انھوں نے کر دکھایا۔ یہ اس ملک اور اس کے آئین کے سب سے بڑے مجرم اور غدار ہیں۔
جس طرح اس ملک کا بچہ بچہ یہ بات جانتا ہے کہ پی ٹی آئی کو اقتدار میں کون لے کر آیا اسی طرح اس ملک کا بچہ بچہ یہ بات بھی جانتا ہے کہ یہ گرفتاریاں، پریس کانفرنسیں اور ایک مخصوص پارٹی کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا یہ سلسلہ کس کے ایما پر ہو رہا ہے۔ حالات آج بھی ویسے ہی ہیں جیسے 2017 اور 2018 میں تھے۔ سب کچھ ویسے کا ویسا ہی ہے چہرے اور مہرے بدل دیے گئے ہیں۔ بدل کیا دیے گئے ہیں بس ادلی بدلی ہو گئی ہے۔ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کی نشستیں باہم تبدیل کردی گئی ہیں باقی ساری بساط تو آج بھی بچھانے والوں ہی کے ہاتھ میں ہے۔
چہروں اور مہروں کے علاوہ اگر کچھ بدلا ہے تو صحافت اور دانش وری کا ضمیر بدلا ہے۔ جو کل تک کسی صحافی کی گرفتاری یا اس پر پابندی لگنے پر سیخ پا ہو جایا کرتے تھے آج صرف اتنا تبصرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ فلاں صحافی لاپتہ ہے تو اس میں اس کا اپنا قصور ہے۔ اس نے کیوں پی ٹی آئی کی حمایت کی تھی۔ کل کو جب ہم پہ کڑا وقت آیا تھا تو اس نے خوشی کے شادیانے بجائے تھے۔ آج مکافات عمل کی گھڑی آئی ہے تو خود بھگتے۔
حالاں کہ یہ مکافات عمل نہیں محض غیر جمہوری قوتوں کی نگاہ کرم کا بدلاؤ ہے۔ آپ اگر کسی نظریے اور اصول کے ترجمان ہوتے تو آج بھی اس نظریے اور اصول ہی کی بات کرتے۔ آپ جس طرح کل انتقامی اور غیرجمہوری سیاست کے مدمقابل قلم کمان لے کر کھڑے ہوئے تھے، تکبیر مسلسل بلند کرتے رہے تھے اور سراپا نقش فریادی بنے ہوئے تھے آج بھی آپ اسی عزیمت، غیرت اور اصول پسندی کو اپنا شعار بناتے لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ہم نے جنھیں جمہوریت کا نقیب سمجھا وہ دراصل مخصوص جماعتوں کے سیاسی عہدے دار تھے۔ جن کے قلم کو ہم نے ”اپنے لوگوں کی امانت“ سمجھ رکھا تھا وہ اپنے اچھے دن آنے کے بعد اس دزد نیم شب کے رفیق بن گئے جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے اور ساتھ میں 9 مئی کی شہر آشوب پڑھتا ہے۔

