انسانی اسمگلنگ اور قیمتی جانوں کا زیاں


گرگ فارسی میں بھیڑیے کو کہتے ہیں، اور آشتی کے معنی مفاہمت یا میل ملاپ کے ہیں، مگر گرگ آشتی کے معنی نہایت منفی ہیں یعنی ایسی صلح جس کے درپردہ سنگین مقاصد پوشیدہ ہوں، یا منافقانہ طرز عمل یا پھر ایسا طرز عمل جو کسی کو دھوکہ دینے کے لئے اختیار کیا جائے اسے گرگ آشتی کہا جاتا ہے، دراصل یہ بھیڑیوں کے ایک انتہائی خود غرضانہ رویہ کی وجہ سے مشہور ہے جس میں باوجود اس کے کہ وہ جھنڈ یا قبیلوں کی شکل میں رہتے بستے اور شکار کرتے ہیں مگر وقت پڑنے پر اپنے ساتھی کو چیر پھاڑ کر کھانے میں بھی دیر نہیں لگاتے۔

اس لئے اس عمل کو گرگ آشتی کہا جاتا ہے۔ یعنی جھوٹی صلح یا امن کاذب۔ اب اگر ہم بغور اپنے معاشرتی رویوں کا جائزہ لیں تو پائیں گے کہ ہمارا پورا معاشرہ بدترین گرگ آشتی کا شکار ہے۔ جس کی بڑی وجہ دن بہ دن بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی، اور معاشرتی و اخلاقی ابتری ہے جو انسانی شکل میں موجود بھیڑیوں کو مستقل شکار فراہم کرنے کا سبب بنی ہوئی ہے۔

ملک بھر میں یوں تو انواع و اقسام کی چال بازیاں پوری شدت کے ساتھ جاری و ساری جن میں موبائل فون کے ذریعے لوٹ لیا جانا آج کل بہت عام ہے، اس ہی طرح جھوٹی شادیاں، دو نمبر جائیداد کی فروخت اور جانے کیا کیا شامل ہے۔ مگر ان میں سب سے زیادہ گھناؤنا اور جان لیوا فریب، روشن مستقبل کے خواب دکھا کر بیرون ملک نوکری یا آباد کرانے کا وعدہ کر کے لوٹ لیا جانا ہے، کچھ عرصہ قبل تک یہ گھناؤنا کھیل صرف پیسے کی حد تک محدود تھا مگر گزشتہ چند سالوں سے اس میں بڑی تعداد میں انسانی جانوں کا زیاں بھی شامل ہو گیا ہے۔ اب سادہ لوح عوام جان اور مال دونوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔

سفاک انسانی اسمگلرز بلاتفریق سب کا استحصال کر رہے ہیں، وہ عورتوں، بچوں یا آدمی جو ہاتھ لگے اسے اپنے مقصد کے حصول کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد بیچ دی جاتی ہے جن میں عورتیں اور بچے خاص طور پر بیچے جاتے ہیں جن سے جبراً جسم فروشی کرائی جاتی ہے۔ یہ بلا شبہ نہایت تکلیف دہ حقیقت ہے مگر اس کا ایک دردناک پہلو یہ بھی ہے کہ ان مظلوم انسانوں کو اسمگل کرنے کے لئے نہایت ہی تکلیف دہ حالات اور غیر انسانی سلوک سے گزارا جاتا ہے، زمینی سفر کے پہلے مرحلے کے دوران سفاکی کی انتہا یہ ہوتی ہے کہ کھلی گاڑیوں میں جانوروں کی طرح لاد کر لے جایا جاتا ہے، تعداد بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے اگر کوئی گر جاتا ہے تو اسے وہیں بے یار و مددگار اسی حالت میں چھوڑ دیا جاتا ہے، اب اگر کوئی زخمی ہے تو بھی کوئی مدد نہیں کی جاتی، دوسرے مرحلے میں جب یورپ میں داخل ہونے والے ہوتے ہیں تو سمندر کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے اور وہاں بھی یہی طریقہ جاری رہتا ہے۔

سمندر میں ان بے بس انسانوں کو اسمگل کرنے کے لئے پرانی ماہی گیری کی کشتیاں استعمال کی جاتی ہیں جو عموماً بہت ہی خراب حالت میں ہوتی ہیں، یہاں بھی انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح کشتی پر لاد دیا جاتا ہے، اور ایسے حالات میں سفر کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے جو شاید لوگ اپنے جانوروں کے لئے بھی استعمال کرنا پسند نہ کریں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ اب اگر کشتی خراب ہو جائے تو جان بچنے کے امکانات صفر کے برابر رہ جاتے ہیں، اگر کوسٹ گارڈ پکڑ لیں یا حملہ کر دیں تو بھی جان خطرے میں ہوتی ہے، لاکھوں روپے لے کر بھی ان تارک وطن لوگوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے جس کا نتیجہ عموماً بے بسی کی موت ہی ہوتا ہے۔ جس کی خبریں گاہے گاہے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا سے ملتی رہتی ہیں۔

انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں بری طرح بدنام ہو چکا ہے اور بین الاقوامی درجہ بندی میں ٹائر 2 پر گنا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں انسانی اسمگلنگ کا پاکستان میں رجحان بہت بڑھا ہے اور لوگ بہتر مستقبل کی تلاش میں جان پر کھیل کر جانے کو تیار رہتے ہیں۔

گزشتہ دنوں یونان کے سمندر میں تارکین وطن لوگوں سے بھری کشتی کے ڈوبنے سے ہلاکتوں نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ مگر ہمارا میڈیا بہت ہی غیر اہم انداز میں کوریج کرتا رہا۔ یہ لوگ جس بے بسی سے موت کے منہ میں گئے اسے دیکھ ہر ایک کا دل پسیج گیا۔ مگر نہ پگھلے تو ہمارے ارباب اختیار کے دل، کہ وہ اب تک مفروضوں اور قیاص آرائیوں پر ہی اکتفا کر رہے ہیں، حسب معمول یہ ایک پرانی ماہی گیری میں استعمال ہونے والی کشتی تھی جس پر گنجائش سے بہت زیادہ لوگوں کو سوار کرایا گیا تھا، ایک اندازے کے مطابق اس کشتی پر سات سو پچاس لوگ سوار تھے، یہاں تک کہ سامان رکھنے کی جگہ پر جہاں انسان کے سفر کرنے کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا انسان بلکہ بچے بھرے ہوئے تھے۔

جو کئی کئی روز سے بھوکے پیاسے تھے۔ زندہ بچ جانے والے ایک شخص کے اندازے کے مطابق وہاں سو بچے موجود تھے۔ اس کشتی کی مووی اور تصاویر دیکھ کر اسمگلرز کی سفاکی و بربریت کا با آسانی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ سینکڑوں لوگوں کی جانوں کے ساتھ بلا تکلف کھیل رہے تھے۔ اس طرح لوگوں کو ایک چھوٹی کشتی میں ٹھونسنا، وہ بھی اس مقام پر جہاں سمندر انتہائی گہرا ہے، سراسر غیر انسانی طریقہ کار تھا۔ دو آدمی کی جگہ پر دس دس لوگ بھرے ہوئے تھے۔ یہ سب لوگ تابناک مستقبل کے سپنے لئے اٹلی پہنچنا چاہتے تھے، کہ موت کے منہ میں جا پہنچے۔ اس بد نصیب کشتی پر تقریباً چار سو پاکستانی بھی سوار تھے جن میں سے تین سو نوے لقمہ اجل بن چکے ہیں دس بارہ کو بچا لیا گیا ہے۔ ان سب لوگوں نے فی کس چوبیس لاکھ سے ستائیس لاکھ روپے دے کر دردناک موت خریدی تھی۔

اس لحاظ سے صرف پاکستان کے کم و بیش چار سو گھروں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے، کوئی کہہ رہا ہے کہ میرا ایک ہی کمانے والا تھا تو کوئی کہہ رہا تھا کہ مرنے والا دو ننھے ننھے بچوں کا باپ تھا، کوئی اپنے بھائی کو تلاش کر رہا ہے تو کوئی اپنے بیٹے کو تلاش کر رہا ہے۔ غرض ہر کہانی نہایت ہی تکلیف دہ حقائق سے پر اور دل میں تیر کی طرح پیوست ہو رہی ہے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، گزشتہ کئی سالوں سے اس قسم کے واقعات تواتر کے ساتھ ہو رہے ہیں، مگر ارباب اختیار اور حکومتی ادارے اس ضمن میں بالکل بے بس یا لا تعلق نظر آتے ہیں، دنیا بھر میں پاکستان ان حادثات کی وجہ سے خاصہ بدنام ہو گیا ہے مگر اب تک ان واقعات کی روک تھام کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے سوئے ہوئے ادارے جاگ اٹھتے ہیں، کچھ گرفتاریاں ہوتی ہیں کچھ ایف آئی آر درج ہوتی ہیں پھر آہستہ آہستہ معاملات دبتے چلے جاتے ہیں اور ایجنٹ پھر وہی کام وہیں سے شروع کر دیتے ہیں جہاں سے چھوڑا ہوتا ہے۔ پہلے کی طرح اس بار بھی مقدمات بنے ہیں لوگ گرفتار بھی ہوئے ہیں مگر امید یہی ہے کہ کچھ عرصہ بعد یہ بھی رہا ہو جائیں گے۔ کیس سرد خانوں کی نظر ہو جائیں گے اور پھر سے یہی کچھ ہونے لگے گا۔

کیونکہ مجرموں کے پاس مظلوموں سے لوٹا ہوا بہت سارا پیسہ ہے، اور ہمارے ہاں پیسے سے آپ سب کچھ خرید سکتے ہیں، پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں کے ہزاروں نوجوان اس موت کے پھندے میں پھنس چکے ہیں۔ امر حیرت یہ ہے کہ ان اسمگلرز کے تانے بانے ملک سے باہر بھی ملتے ہیں جیسے ایک لڑکے کو ان لوگوں نے سعودیہ میں پھنسایا وہ سعودیہ میں لگی بندھی نوکری چھوڑ کر پاکستان آیا اور محض چند دن پاکستان میں رہنے کے بعد گھر والوں کو کچھ زیادہ بتائے بغیر اٹلی کے لئے نکل کھڑا ہوا اور مارا گیا۔ اس کے دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، جن کا اب کوئی پرسان حال نہ ہو گا، لوگ کچھ دن باتیں بنائیں گے اور پھر خاموشی چھا جائے گی۔

محسوس یہ کیا جا رہا ہے کہ ان واقعات کے بار بار ہونے کی وجہ سے وہاں کے مقامی حکام کا رویہ بھی قریب قریب غیر انسانی ہو چلا ہے، جیسے اس حادثے سے پہلے لوگوں نے بہت مدد مانگنے کی کوشش کی مگر مدد نہ پا سکے۔ یونان کی کوسٹ گارڈ پر باقاعدہ اس بات کی قدغن لگائی جا رہی ہے کہ انہوں نے بار بار مدد کے لئے پکارے جانے کے باوجود سات گھنٹے تک ان بے بس و لاچار لوگوں کی کوئی مدد نہ کی، اور کشتی انجن فیل ہونے کی وجہ سے ایک جگہ کھڑے کھڑے ڈوب گئی۔

دوسرا المیہ جو بچ جانے والوں نے بتایا وہ یہ تھا کہ وہ ہر قریب سے جانے والے جہاز یا کشتی سے مدد مانگتے تھے مگر لوگ انہیں پانی، کھانا یا کیک وغیرہ دے کر آگے بڑھ جاتے تھے، جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کیا کہتے تھے تو وہ کہنے لگے کہ ہم ہیلپ ہیلپ کہا کرتے تھے، غالب امکان یہ ہے کہ دوسری کشتی والے اس بات کو شاید کھانے پانی کی مدد سمجھ کر کھانا پانی دے کر آگے بڑھ جاتے ہوں۔

اگر مرنے والوں کی تعداد اور ان کے حدود اربعہ پر توجہ کی جائے تو اندازہ ہو گا کہ یہ ایک سرگرم مافیا ہے جو پورے ملک اور ملک سے باہر سرگرم عمل ہے، اور لوگوں کے مال لوٹ کر ان کی جان بھی لے رہا ہے کیوں کہ جس طریقے سے وہ یورپ پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اس میں بہت کم امکانات زندہ بچنے کے ہوتے ہیں زمین کے راستے جانے والوں کو عموماً بارڈر فورس گولی مار دیتی ہے اور سمندر کے راستے جانے والے پانی میں غرق ہو کر مارے جاتے ہیں، اس علاقے کا سمندر انتہائی گہرا ہے اور کسی غیر تربیت یافتہ کا بچ نکلنا ممکن نہیں ہے۔

اس کا ایک دردناک پہلو یہ بھی ہے کہ ان تارک وطن لوگوں میں بڑی تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے جو پہلے ہی مفلوک الحال ہوتے ہیں اور اپنی زندگی کی آخری پونجی جیسے گھر، زمین، زیور وغیرہ بیچ کر موت کے منہ میں جا رہے ہوتے ہیں۔ مگر ان کی حالت پر کسی کو بھی ترس نہیں آتا، بس ایک خبر ہوتی ہے جو کچھ دن میں اپنا اثر کھو دیتی ہے۔

حکومت کی جانب سے خاطر خواہ اقدامات کا نہ ہونا، ان جرائم کے پروان چڑھنے کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے، دوسرا ان مجرموں کو قرار واقعی سزاؤں کا نہ دیا جانا بھی اس قسم کے بد ترین جرائم کے پنپنے کی وجہ ہو سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری سطح پر اور غیر سرکاری طور پر عام لوگوں میں اس معاملے کی سنگینی کے متعلق آگہی پیدا کی جائے، انہیں سمجھایا جائے کہ یہ خالص نقصان کا سودا ہے، ساتھ ساتھ ایسی قانون سازی کی جائے جو اس مافیا کی بیخ کنی میں معاون ثابت ہو۔ ایسی سزائیں دی جائیں کہ لوگ عبرت پکڑیں، ورنہ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا اور سادہ لوح اور کم تعلیم یافتہ لوگ اپنی جان و مال گنواتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS