پچاس سالہ سخت جان نامرد


اپنی ازدواجی زندگی کے چوبیسویں سال میں سلطنت بی بی اپنے تیسرے بچے کو جنم دینے والے تھی اور اسی گومگو میں تھی کہ بچے کا مستقبل کیا ہو گا۔

اسے یاد نہیں تھا کہ وہ کس انتظام کے تحت ملک مقتدر کے زیر تصرف تھی؟ کیا وہ اس کی شرعی منکوحہ تھی یا محض طاقت کے بل پر رکھیل بنا لی گئی تھی؟ لیکن یہ طے تھا کہ اپنے تئیں ملک مقتدر سلطنت بی بی پر اپنے استحقاق کو نہ صرف جائز بلکہ بابرکت اور ناگزیر سمجھتا اور بتاتا تھا۔

بلی جب بچے جنتی ہے تو اس میں ایک خوف بیٹھ جاتا ہے کہ بلا اس کے بچوں کو کھا جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ بلا ان بچوں کو بلی پر اپنے کلی استحقاق کے لئے خطرہ سمجھتا ہے اور اس لئے انہیں مارنا چاہتا ہے۔ سلطنت بی بی کو بھی ملک مقتدر سے ایسا ہی خوف تھا۔

بلی کا یہ خوف نہ جانے حقیقی ہے یا بے جا، لیکن سلطنت بی بی کا خوف کچھ ایسا بے جا نہیں تھا۔ اس کے پہلے دونوں بچے دو سال اور سات سال کی عمروں میں ملک مقتدر کے جبر و استبداد کی بھینٹ چڑھ چکے تھے۔ جونہی ملک مقتدر کو شبہ ہوتا کہ اس کا کوئی بچہ سلطنت بی بی کو اس کی دستبرد سے بچانے کو ہے تو وہ اس بلے کی طرح اپنے بچے کو ہی نگل جاتا تھا۔ دو بچے تو پیدائش کے بعد مقتل گاہ کی زینت بنے، جبکہ اسقاط حمل اور مانع حمل اقدامات کی ایک طویل فہرست موجود تھی سلطنت بی بی اور ملک مقتدر کے محبت اور نفرت کے گنجلک رشتے کی تاریخ میں۔

اس لئے اب جبکہ سلطنت بی بی اپنی اس ازدواجی زندگی کے چوبیسویں سال میں اپنے تیسرے بچے کو جنم دینے کی تیاریوں میں تھی تو اسی گومگو میں تھی کہ اس بچے کو اس کے دو بڑے بھائیوں کے انجام سے کیسے بچایا جائے۔

آنے والے مہمان کی طویل عمری کے لئے گلی کی بڑی بی سے ٹوٹکے لئے گئے، درگاہ کے ملنگوں سے چلہ کٹوایا گیا۔ علاقے کے تھانیداروں اور محلے کے بدمعاشوں کو بیچ میں ڈال کر ملک مقتدر سے وعدے لئے گئے، قسمیں اٹھوائی گئیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بڑی بوڑھی دائیوں نے 6 نمبر کا امام ضامن بھی لکھوا کر سلطنت بی بی کی کوکھ میں رکھوایا گیا کہ کہ ملک مقتدر نومولود کو نقصان نہ پہنچانے پائے۔ غرض ہر طرح کے حفظ ماتقدم اقدامات کے بعد دستور الملک کی ولادت با سعادت ہوئی۔ سلطنت بی بی امید و بیم کے بیچ بیچ دستور الملک کو پروان چڑھتے دیکھتی رہی۔

ملک مقتدر کو کسی وعدے کا پاس یا دھمکی کا ڈر تو کیا ہوتا، البتہ شاید 6 نمبری امام ضامن اثر دکھا گیا کہ اس نے دستور الملک کی جان بخشی کر دی۔ لیکن جیسا کہتے ہیں چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ تو ملک مقتدر کو ایک قتل چھوڑ، سو دیگر حیلے میسر تھے۔ دستور الملک سے اس کی پرخاش تو اتنی ہی تھی ناں کہ وہ مضبوط و توانا ہوتا تو سلطنت بی بی پر اپنا غاصبانہ تسلط کیسے برقرار رکھتا؟ تو اس کے لئے دستور الملک کی موت کیا ضروری تھی۔ ملک مقتدر نے ولادت کے دوسرے سال ہی دستور الملک کو ہنگامی افیون چٹا دی اور چوتھے سال بے ہوشی کا انجیکشن۔

سلطنت بی بی نے کبھی ڈاکٹر اعظمیٰ اور کبھی نرس عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن ملک مقتدر کی پہنچ ہر ہسپتال ہر شفا خانے، ہر ڈسپنسری تک تھی۔ دستور الملک کو چار سال اور پھر چھبیس سال کی عمر میں بے ہوشی کے انجیکشن، جبکہ ہمہ وقت کبھی ہنگامی، کبھی ضرورتی افیون چٹائی جاتی رہی۔

تین ماہ قبل دستور الملک کی پچاسویں سالگرہ تھی۔ محلے کی دائیوں نے یہ سالگرہ اپنے امام ضامن کی کامیابی کے جشن کے طور پر منائی۔ ملک مقتدر البتہ اس سالگرہ سے لاتعلق ہی رہا۔ سلطنت بی بی بھی شرمندہ شرمندہ نظریں چرائے پھر رہی ہے۔ جس دستور الملک کی زندگی کے لئے اس نے اتنے جتن کیے ، جس کے گبھرو جوان ہونے پر اسے ملک مقتدر کی چیرہ دستیوں سے چھٹکارا ملنا تھا، اس دستور الملک کو بلا اس کے بڑے بلونگڑے بھائیوں کی طرح چبا کر کھا نہ سکا۔ اتنا سخت جان تو وہ نکلا، لیکن کاش وہ اتنا نامرد نہ ہوتا کہ سلطنت بی بی کو ریپ ہوتے دیکھتا اور اپنی افیون میں مگن رہتا۔

Facebook Comments HS