دولت مند طبقے سے نفرت کا مسئلہ

جب سے ٹائٹن آبدوز کی تباہی اور اس میں پاکستانی کھرب پتی باپ بیٹوں کی ہلاکت کی خبر آئی ہے، تب سے وطن عزیز میں دو مختلف آراء کے درمیان ایک گہری تفریق نظر آ رہی ہے، ایک طبقہ داؤد فیملی کے فلاحی کاموں کو گنوا کر ان کی تعریف میں رطب اللسان ہے تو دوسری طرف وہ طبقہ ہے، جو پاکستان میں پھیلی غربت کو ایسے امیر لوگوں کی دین سمجھتا ہے اور اس ناگہانی موت پر خوب اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا ہے۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر طرح کے نظریاتی، سیاسی، سماجی، معاشرتی اختلافات کے باوجود کسی جوان اور ناگہانی موت پر خوش ہونا کسی انسان کا کام نہیں ہو سکتا ، کیوں کہ جب ہم مسائل کی بات کرتے ہیں تو مسائل کسی ایک فرد کی ذات سے نہیں کردار سے پیدا ہوتے ہیں، اور اگر بہت سارے لوگ مر بھی جائیں تو بھی کردار چاہے منفی ہو یا مثبت زندہ رہتے ہیں، لہذا، نفرت کرداروں سے ہونی چاہیے اور منفی کردار کے خاتمے میں اور مثبت کردار کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہر انسان کے لیے از حد ضروری ہے، لہذا، ہمیں داؤد فیملی کے سپوتوں کی موت کا بھی اتنا ہی دکھ ہے کہ جتنا ہمارے دل یونان کشتی حادثے میں مارے جانے والے تارکین وطن کی اموات پر دکھی ہے۔
اب آتے ہیں مسئلے کے اس پہلو پر جو وجہ تنازع بنا ہوا ہے، بہت سے لوگ داؤد فیملی کے فلاحی اور رفاہی پراجیکٹس کے حوالے دے دے کر ان کو انسانیت کا محسن ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں، لیکن یہ محض تصویر کا ایک رخ ہے، کیوں کہ پاکستانی معاشرے میں یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ ذاتی محنت سے انسان صرف اپنا نان نفقہ ہی پورا کر سکتا ہے، امارت حاصل کرنے کے لیے اسے مافیاز کا حصہ بننا پڑتا ہے اور مافیاز کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں ہی کوئی بھی شخص اپنی دولت میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر پاتا ہے، اب یہ چوری بھی کئی طرح کی ہوتی ہیں، ایک وہ چوری ہوتی ہے، جس کو برا سمجھا جاتا ہے، جیسا کہ ٹیکس وغیرہ چوری کرنا لیکن کچھ چوریاں ایسی بھی ہیں، جن کو سرے سے برا سمجھا ہی نہیں جاتا، جیسا کہ ملازمین کو اجرتوں کی عدم ادائیگی، ان کی صلاحیتوں سے کم ادائیگی اور حکومت کی منظور شدہ اجرتوں کے مقابلے میں کم ادائیگی وغیرہ، یہ ایسی چوریاں ہیں جو امیر طبقہ دیدہ دلیری سے کرتا ہے اور کوئی اسے برا بھی نہیں سمجھتا ہے۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے، جہاں اس وقت کم از کم تنخواہ 25 ہزار روپے مقرر کی گئی، جبکہ کام کے اوقات 8 گھنٹے روزانہ مقرر ہیں، لیکن 90 فیصد مزدوروں کو یہ تنخواہ نہیں ملتی، امیر طبقے نے اس کا حل یہ نکالا کہ مزدوروں سے 12 گھنٹے کام کراتے ہیں اور تنخواہ 25 ہزار ادا کرتے ہیں، حساب کتاب کے کھاتوں میں اوور ٹائم گول کر جاتے ہیں اور یوں مزدوروں کا حق کھا کر واللہ خیر الرازقین کا وظیفہ پڑھتے ہیں، سب سے زیادہ ظلم کا شکار چوکیدار ہیں، جن سے 12 گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے اور ان کو تنخواہ 12000 دی جاتی ہے، نئے مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے کم از کم تنخواہ 35 ہزار روپے مقرر کی ہے، لیکن امیر مالکان اپنے مزدوروں کو کتنی دیں گے، یہ سب مزدور جانتے ہیں۔
لہذا ایسے معاشرے میں جہاں امیر لوگ غریبوں کا اس بری طرح استحصال کرتے ہوں، وہاں امیروں سے نفرت غریبوں کا فطری حق ہے، حال ہی میں الکرم ٹیکسٹائل مل کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے، جس میں مل کے سیکیورٹی افسران مزدوروں پر تشدد کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں، الکرم ٹیکسٹائل جو عالمی برانڈز کے لئے بھی مصنوعات تیار کرتا ہے۔ مزدوروں کا دعویٰ ہے کہ یہاں مزدوروں سے بیگار کرایا جاتا ہے، اور اپنے حق مانگنے پر مارپیٹ ایک کلچر بن چکا ہے، ایسے معاشرے میں غریب امیر سے نفرت کیوں نہ کرے؟
کچھ لوگوں نے یہ بھی طعنہ دیا ہے کہ ایسے لوگ جو سستی یا کاہلی کی وجہ سے غریب رہ جاتے ہیں، وہ امیروں سے حسد کرتے ہیں، ایسے لوگ نجانے ایسا پتھر دل کہاں سے لاتے ہیں کہ غریب کو ہڈ حرام ہونے کا طعنہ دیتے ہوئے ذرا بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتے، آپ بھٹہ مزدوروں کو دیکھ لیں، آپ تعمیراتی صنعت سے وابستہ مزدوروں کو دیکھ لیں، ٹھیلوں اور پتھاروں پر اجناس بیچتے ہوئے مزدوروں کو دیکھ لیں، آپ فیکٹریوں کا ایک چکر لگا آئیں، جہاں مزدوروں کی اکثریت کئی کئی ماہ چھٹی نہیں کر پاتی، جی ہاں، ان کو اتوار کی چھٹی بھی میسر نہیں ہے، پاکستان کی اکثر فیکٹریوں کے حالات یہ ہیں کہ وہاں مزدوروں سے جبری طور پر 10 سے 12 گھنٹے کام لیا جاتا ہے، پھر اتوار کو بھی کام پر آنے پر مجبور کیا جاتا ہے، یعنی مزدور کو صرف کھانا کھانے اور سونے کا ٹائم ملتا ہے، اس کے عوض وہ بمشکل 25 ہزار کما پاتا ہے، فیکٹری مزدور کی زندگی اور کسی غلام کی زندگی میں کوئی فرق اگر آپ کو نظر آئے تو مجھے بتائیں، غلام تو شاید اس لیے خوش قسمت ہوں کہ اس کی پریشانیوں کا درمان اس کا مالک ہوا کرتا تھا، لیکن یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ اگر مزدور بیمار ہو جائے یا کسی اور پریشانی میں مبتلا ہو جائے تو مالکان اس سے لاتعلقی اختیار کرلیتے ہیں، پھر بھیک پر ہی اس کا گزارا ہوتا ہے، اگر کہیں بھیک ملا جائے تو علاج ہو جائے، ورنہ زندگی کی قید سے آزادی ہی اس کے غموں کا علاج بنتی ہے، مجھے لگتا ہے کہ اگر امیروں کے قصیدہ گو ان حقائق کو ایک بار دیکھ لیں، تو وہ پھر کبھی بھی غریب کو کاہلی، سستی، کام چوری یا ہڈ حرامی کا طعنہ نہ دیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ میں سوشل میڈیا پر داؤد فیملی کے فلاحی پراجیکٹس کی تصویریں دیکھ کر بھی داؤد فیملی کی عظمت کا قائل نہ ہوسکا، میں چاہتا ہوں کہ اگر میرے چند سوالوں کے جواب مل جائیں تو پھر میں بھی داؤد فیملی کو لٹیروں کی فہرست سے نکال کر مسیحا کی فہرست میں ڈال دوں۔ اگر کوئی شخص جانتا ہو تو وہ درج ذیل سوالوں کے جواب ضرور دے۔
کیا داؤد فیملی کی کمپنیوں میں ویج بورڈ کے مطابق اجرتیں دی جاتی ہیں؟
کیا وہ ٹیکس چوری نہیں کرتے اور اپنے ٹیکس مکمل طور پر ادا کرتے ہیں؟
کیا ان کے کاروبار اور مصنوعات تمام عالمی معیارات پر پورا اترتی ہیں؟
کیا ان کا پاکستان کی سیاست میں اثر و رسوخ نہیں ہے؟ اگر ہے تو کیا وہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو اپنے کاروباری مفادات کے حصول میں بروئے کار نہیں لاتے؟
کیا ان کا کاروباری ماڈل مافیاز سے ہٹ کر دنیا کے عالمی معیارات کے مطابق ہے؟
سوال تو مزید بھی ہیں لیکن فی الحال ان چند سوالات کے تسلی بخش جواب مجھے داؤد فیملی کو مسیحا سمجھنے میں مدد فراہم کریں گے، ورنہ یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ پاکستان میں اکثر فلاحی پراجیکٹس ٹیکس چوری کرنے کے لیے ہی لگائے جاتے ہیں۔

