مرد عورت (شکوک و شبہات کے تناظر میں)


عورت کو رب تعالیٰ نے خوبصورت اور پرکشش بنایا ہے۔ دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق ؛ رب تعالیٰ نے جب انسان کا قلبوت بنایا تو اسے ہر طرح سے تراش سنوار کر فرشتوں کے سامنے پیش کیا؛ جس پر ایک طویل مکالمہ رب تعالیٰ اور فرشتوں کے درمیان قرآن میں منقول ہے۔ انسان یعنی مرد یعنی جد امجد ہمارا باپ ؛ہمارا پرکھ اور اس زمین کو انسانوں سے آباد کرنے والا پہلا انسان حضرت آدم ؑ ہے جس کے توسط سے آج ہم اس کرہ ارض پر موجود ہیں اور رب تعالیٰ کی کرشمہ سازیوں کے جلوے دیکھ رہے ہیں۔

روایت میں منقول ہے اور قصص انبیا میں بھی مندرج ہے کہ آدم ؑ کو جنت میں رب تعالیٰ نے فرشتوں پر علم کے اعتبار سے برتری دے کر نہایت اہتمام سے رکھا تھا۔ یہ معلوم نہیں کہ کتنے برس آدم ؑ تنہا جنت میں رہے ہیں۔ قصص انبیا میں اس بات کا ذکر موجود ہے کہ آدم ؑ نے تنہائی اور ہر طرح سے فراغت کے شغل کو طبیعت پر گراں پایا تو اداسی کی دبیر کیفیت شگفتگی اور فرخندگی کو زائل کر دیا ور یہ اداس اداس پھرنے لگے اور سائیں سائیں کرنے لگے۔ رب تعالیٰ نے ان کی تنہائی اور اداسی کو ختم کرنے کے لیے انھیں کے جسم سے پھوڑے کی شکل میں ایک غدود پیدا کی جو بائیں پسلی سے باہر کی طرف نمودار ہوئی اور پھیلتی چلی گئی پھر ایک دن خود بخود یہ غدود کی تھیلی پھٹی اور اس میں حوا یعنی عورت کا جنم ہوا جسے دیکھ کر اور پا کر آدم ؑ بہت خوش ہوا۔

یہاں سے کہانی شروع ہوتی ہے مرد اور عورت کے ملاپ اور سنگم کی۔ اس کہانی کے اوائل اور ابتدائی سکرپٹ پر اتنا کچھ لکھا، بولا، کہا اور سنا گیا ہے کہ حقیقت سے ماورا ہم مرد اسی تفاخر میں اکڑے پھرتے ہیں کہ عورت کو جنم تو ہم نے ہی دیا ہے ؛ پھر کیا ہوا کہ اب جننے کی ذمہ داری رب تعالیٰ نے اسے دے رکھی ہے۔ دوسری بڑی غلط فہمی تب شروع ہوئی، جب اماں حوا نے آدم ؑ کو جنت کا دانہ کھلانے پر مجبور کیا اور آفاقی قانون کی خلاف ورزی پر جنت سے دونوں کا نکالا جانا طے پایا۔

مرد عورت کو اس کرتوت کی وجہ سے کبھی معاف نہیں کرتا۔ کہتا ہے کہ تم نے ہمیں جنت سے نکلوایا ورنہ یہاں کون مرنے، جلنے، تڑپنے اور سسکنے کے لیے آتا ہے۔ تمہاری وجہ سے ہم بھی ذلیل ہو رہے ہیں اور اب تم بھی ہمارے ساتھ یہی رہو اور مرو۔ حساب برابر ہو جانا چاہیے تھا لیکن غلط فہمیوں اور بد گمانیوں کا لا ینحل سلسلہ آدم ؑ و حوا کے جنت سے نکالنے جانے سے شروع ہوا اور ہنوز طمطراق کے ساتھ سے جاری ہے اور آئے روز اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دیکھنے کی بات یہ ہے کہ رب تعالیٰ کی مرد، عورت بنانے کی حکمت کیا تھی اور کیوں ان کے اجسام میں تغیر اور اختلاف رکھا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ نسل انسانی کی بقا ہی سامنے آتی ہے مگر ہر انسان اپنی جگہ اس کی جدا اور منفرد وجوہ تراشے ہوئے ہے۔ مرد، عورت کو آپس میں خدا واسطے کا بیر ہے۔ یہ بیر ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس بیر کی اصل کہانی دونوں کے مستقل ایک دوسرے کو قبول کر لینے یعنی شادی کے رشتے میں بندھ جانے سے شروع ہوتی ہے۔

بچہ جب آنکھ کھولتا ہے تو ماں کی گود اور اس کے لمس کو سب سے زیادہ اور دیر پا محسوس کرتا ہے۔ شیر خوارگی سے لے کر لڑکپن تک کا زمانہ ماں یعنی عورت کی انتہائی نگہداشت میں گزرتا ہے۔ اس عرصہ میں بچے پر ماں یعنی عورت کے بول چال اور برتاؤ کے دور رس اور گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں جس سے بچہ عمر بھر خود کو علاحدہ نہیں کر پاتا۔

دیکھا جائے تو مرد کی نسبت عورت بچہ یا بچی دونوں کی پرورش اور تربیت اور ذہن سازی میں مرد کی نسبت زیادہ فعال کر دار ادا کرتی ہے۔ اس کی شخصیت کے ہر پہلو کو تراشنے سنوارنے میں اس کی عمر صرف ہو جاتی ہے۔ یہ عورت کی مدلل مداحی نہیں ہے بلکہ مبنی بر حقیقت سچائی ہے جس سے دنیا کے کسی خطے میں موجود مرد انکار نہیں کر سکتا۔ مرد کیا کرتا ہے؟ مرد کو رب تعالیٰ نے نان و نفقہ کی ذمہ داری تفویض کر رکھی ہے۔ اسے کہا گیا ہے کہ وہ کما کر لائے گا اور بیوی بچوں کو دے گا۔ روٹی، کپڑا اور مکان والا نعرہ پیپلز پارٹی کا نہیں بلکہ دین اسلام کا ہے جسے چودہ سو برس قبل ذمہ داری بنا کر مرد کے کاندھوں پر ڈالا دیا گیا تھا۔ ہزاروں برس گزر چکے مرد خوش اسلوبی سے اس فریضے کو انجام دیتا آتا ہے اور ہنوز اسی کشمکش میں سرگرداں حیراں و پریشاں ہے۔

اس مفصل تمہید میں کوئی ایسی بات نہیں جس کا علم آپ کو نہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ پھر اس مفصل تمہید سے میں کیا اخذ کرنا چاہتا ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ جس طرح عورت کو رب تعالیٰ نے ایک گراؤنڈ دی ہے اور اس کی حد طے کر دی ہے اور اس میں اپنا کردار ادا کرنے کی آزادی اور اختیار دیا گیا ہے، اسی طرح مرد کے لیے بھی ذمہ داری اور حقوق کی پاسداری کا فریضہ طے اور واضح ہے۔ دونوں اپنے فرائض کی انجام دہی میں غفلت برتنے پر سزا و احتساب کے مستحق ہیں۔ مذہبی حقائق اپنی جگہ مبنی بر حقیقت ہیں لیکن ارضی حقائق اس سے بہت مختلف ہے۔

دنیا کے عیار اور چالاک سوداگروں نے انسانوں کو تین خانوں یعنی کلاس سسٹم میں منقسم کر کے اس فطری، ارضی اور قدرتی تقسیم کو توڑ ڈالا ہے۔ اب مرد اور عورت کے درمیان بائیولوجیکل فرق کے علاوہ کوئی تفریق باقی نہ ہے۔ آج مرد سے زیادہ عورت کماتی ہے، مرد سے زیادہ عورت بہادر، دلیر، نڈر اور بے باک ہو چکی ہے۔ کوئی ایسا شعبہ نہیں رہا جس میں عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ نہ ہو۔ یار لوگ اسے قیامت کی نشانی قرار دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں لیکن سوال یہی ہے کہ آبادی کا بڑھنا اور شرح خواندگی میں اضافہ ہونا اگر کسی ملک کی ارضی ترقی اور مادی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے تو پھر مردوں کی پیدائش کو مصنوعی طریقے سے روک دیا جائے تاکہ دنیا پر بادشاہت کرنے کا خواب عورتیں پورا کر لیں۔

اہل مغرب نے عورتوں کو گھر سے نکالا تھا۔ تب یہ بہت خوش تھے۔ انھوں نے میاں بیوی کو گاڑی کے دو پہیے قرار دیا اور اس کار کو اتنا دوڑایا کہ اب پہیے تو مرمریں حالت میں باقی ہیں البتہ کار پاش پاش ہو کر خلاؤں میں گم ہو گئی ہے۔ تقابل ادیان کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مذہب نے عورت کو مرد کے مقابلے میں آنے اور اس کے کام کرنے اور خود کو ایڈمن پوسٹ کر بیٹھ کر تخت شاہی کرنے کا حکم نہیں دیا۔ دونوں کے جسم کا فرق اور بائیولوجیکل سسٹم اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ عورت کو گھر تک محدود رکھا جائے اور اس کے ذمے جو فرائض ہیں ؛وہ اسی کو انجام دینے کی حتی الا امکان کوشش کرے اور مرد دنیا کو بسانے، آباد کرنے اور اس کی نک سکھ سنوارنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔

یہ مذکورہ رائے اگر درست مان لی جائے تو آپ کو (سوال اٹھانے والے والے کو ) مشرقی، بنیاد پرست، پینڈو، اولڈ مائنڈڈ، دقیانوسی اور جانے کیا کیا تصور کیا جائے گا اور خوار کر کے بزم سے اٹھا دیا جائے گا۔ عورتوں نے حکومت کر کے دیکھ لی۔ اس میں بری طرح ناکام ہو کر بھی دیکھ لیا۔ عورتوں نے جہاز اڑا لیے، دریا میں کشیاں چلا لیں، نہروں میں ڈبکیاں لگا لیں، گویا ہر وہ کام کر لیا جو مرد کرتے ہیں، اس کے باوجود اس کی بے چینی، بے قراری اور اضطراب ختم نہیں ہوا۔ اسے مرد سے اللہ واسطے کا بیر ہے اور یہ بیر کیوں ہے؟ اس کا تشفی بخش جواب اس کے پاس نہیں ہے۔

جینڈر سٹڈی کے نام پر دنیا پھر میں جامعات میں ڈیپارٹمنٹ کھل گئے ہیں۔ ہزاروں سکالر پی ایچ۔ ڈی کر چکے لیکن بات کسی کی سمجھ میں نہیں آئی کہ آخر عورت کو مرد سے اور مرد کو عورت سے یہ بیر کیوں ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو قبول کیوں نہیں کرتے؟ ان کے درمیان اختلاف کی وجہ کیا ہے؟ وہ کون سے اسباب اور وجوہات ہیں جن کا تدارک کر کے اس لاینحل مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔

یونان کے فلاسفر اپنے زمانے کے ناقابل شکست تعقلی سورما تھے۔ ارسطو کے بارے میں غالباً یہ قصہ مشہور ہے کہ کسی نجی محفل میں ارض و سما کے درمیانی خلا اور اس کی ماہیت اور الوہی نظام کے بارے میں بحث جاری تھی۔ تین دن بعد ارسطو میاں گھر پہنچے تو بیگم نے کہا کہ تین دن کہاں غائب رہے۔ ارسطو خاموش رہے اور کوئی جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔ بیگم ہاتھ میں پانی کا مٹکا اٹھائے ہوئے تھیں، بیگم نے غصے وہ مٹکا ارسطو کے سر پر دے مارا۔

مٹی کا مٹکا تھا سو وہ ٹوٹ گیا اور ارسطو میاں پانی میں شرابور کمرے میں چلے گئے۔ شاگرد نے پوچھا، استاد محترم! بحث میں تین دن آپ نے مخالفین کو بولنے کا موقع نہیں دیا اور بیگم کے سامنے آپ کی زبان نہیں کھلی، اس کی کیا وجہ ہے؟ ارسطو نے جواب دیا۔ بادل گرجتے ہیں تو برستے بھی ہیں۔ یہ قصہ سنا کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ عورت کو ہرانا اور شکست دینا اور اپنے موقف پر قائل کر لینا ناممکن ہے۔ میرے مینٹور سید باسط علی شاہ صاحب ہیں جن سے ماڈل ٹاؤن کے ڈی پی ایس سکول میں اس موضوع پر کوئی چھے مہینے گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔

ہم دونوں نے مذہب، فلسفہ، منطق، استخراج، اصول حدیث، تفسیر، شرح و وضع اور جانے کس کس بیانیے اور تناظر میں اس موضوع پر بحث کی۔ سیکڑوں مشرقی مصنفین اور بیسیوں مغربی دانشوروں کی کتابوں کے حوالے اس موضوع کے حق اور رد میں شامل بحث کیے اور نتیجہ اس طویل بحث کا یہی نکلا کہ یہ ایک لاینحل مسئلہ ہے۔ اسے کتابوں، حوالوں، منطقی سیاق و سباق اور مذہبی و خانگی بیانیے سے سمجھنا اور سمجھانا ناممکن ہے۔

مرد اور عورت کے درمیان سوچنے، سمجھنے اور ردعمل ظاہر کرنے میں اختلاف موجود ہے اور یہ ہمیشہ رہے گا۔ دونوں کی جنس، فطرت، عادات، اطوار اور جملہ شخصیت کا رچاؤ مختلف ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ مرد عورت کو سمجھ لے اور عورت مرد کی شخصیت کے جملہ خد و خال سے آگاہ ہو جائے۔

اس مضمون کا ماحصل یہی ہے کہ عورتوں کو مردوں سے جو تحفظات ہیں، گلے ہیں، شکوے ہیں اور شکایات کا ایک گنج ہائے گراں مایہ ہے۔ یہ بے سود اور لاحاصل ورثہ ہے ؛ اس سے جان چھڑا کر باہم افہام و تفہیم سے درمیانی راہ نکالی جائے، جس سے یہ چند روزہ زندگی کا سلسلہ اپنے انجام کو جا پہنچے۔

مرد، عورت دونوں رب تعالیٰ کی پسندیدہ جنس ہیں۔ ان کے باہم ملاپ سے نسل انسانی کی بقا منحصر ہے۔ بہت سی ایسی باتیں، قصے، حکمتیں، خیالات، عادات، اطوار، روئیے، الجھنیں، گتھیاں، شکوک، بدگمانیاں اور غلط فہمیاں ایسی ہیں جن کے بارے میں ہمارے پاس کوئی ٹھوس ثبوت، دلیل، منطق، رائے اور خیال موجود نہیں ہوتا جس کو بنیاد بنا کر ہم مرد کی شخصیت کو رد کر سکیں یا عورت کے وجود پر سوال اٹھا سکیں۔ رب تعالیٰ نے قرآن میں بار بار اس تاثر کا ذکر کیا ہے کہ ”جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ “ اس ایک بات کو ذہن نشین کر لیں کہ یہ ممکنات کی دنیا ہے، بہت کچھ ایسا ہے جو عورتیں مردوں کے بارے میں نہیں جانتیں اور مرد بھی اپنے بارے میں اتنا کچھ نہیں جانتے جتنی جستجو عورت کو مرد کے بارے میں جاننے کی ہوتی ہے۔

اسی طرح عورت کی شخصیت، ذات، نفسیات، جذباتی ہیجان، اور خارجی ردعمل میں کارفرما عناصر ہیں، جس کے بارے میں عورت کو مطلقاً علم نہیں۔ وہ بولنے، کہنے، سننے اور سنا دینے میں کیا کہنے جا رہی ہے اور کیا کہے گی اور کیا کہہ گئی ہے، یہی اسے بعد میں پتا چلتا ہے یا بالکل پتہ نہیں چلتا۔

اس کائنات میں کوئی چیز جذبات اور احساس سے خالی نہیں ہے۔ ہر چیز کا ایک ردعمل ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ کے عمل کا ردعمل بھی آپ کی منشا اور خواہش کے مطابق ہو۔ کوشش کی جائے کہ رشتوں، تعلقات، شناسائیوں اور ملاقاتوں میں ایک دوسرے کی توقیر کا خیال رکھا جائے گا۔ رونے، کڑھنے، شکوہ، الزام تراشی اور بدگمانی میں بہک کر ایک دوسرے کے لیے نفرت کی حد تک جا پہنچنے سے بہتر ہے کہ معاف کرنے، نظر انداز کرنے، بھلا دینے، چارہ جوئی کرنے، مصلحت سے کام لینے اور مثبت انداز فکر اپنانے کر تعلقات کو بہر صورت بحال رکھا جائے۔ یہاں لوگ خدا کو معاف نہیں کرتے اور اس سے بدلہ لینے کی کوشش میں انسانی بساط سے باہر نکل جاتے ہیں۔ سوچیے! مرد، عورت کے درمیان نزاعات کی پھر کیا حیثیت رہ جاتی ہے!

Facebook Comments HS