حضور والا ایک نظر ادھر بھی


ترک وطن انسانی المیہ ہے۔ ایسا المیہ جو ہمیشہ سے رہا ہے۔ کہتے ہیں انسان کو ہمیشہ اپنی مٹی سے محبت رہتی ہے اور وہ کسی طور بھی اس سے جدا ہونے کو ترجیح نہیں دیتا۔ اپنی مٹی سے لگاؤ کا یہ امر فطری ہے۔ مگر ایسا کیوں ہے کہ بیشتر انسان اپنی دھرتی کو چھوڑنے پر مجبور ہیں؟ کیا دھرتی ماں سے ان کی محبت ختم ہو چکی ہے؟ یا اس خطے کے مجازی خدا انھیں ان کے بنیادی حقوق دینے سے قاصر ہیں؟ یہ کہانی تھوڑی دھندلی سہی مگر اس کے پنے اب عیاں ہوتے جا رہے ہیں۔

اس خطے کو چھوڑ کر یورپ جا بسنے والوں کا سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے۔ یہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ بہتر مستقبل کے لیے تیسری دنیا کے لوگ ہمیشہ ترقی یافتہ ممالک کو اپنا مسکن بناتے رہے ہیں۔ مگر اس میں اتنی تیز رفتاری کبھی دیکھنے میں نہیں آئی جس پر اب آنکھیں محو حیرت ہیں۔ اور اب تارکین وطن غیر قانونی راستوں کو زیادہ اپنا رہے ہیں جس میں انسانی سمگلروں کا بہت اہم کردار ہے۔ جو انھیں روشن دنیا کے خواب دیکھا کر ان بوسیدہ بیڑوں کے حوالے کر دیتے ہیں جو انھیں کبھی تو سر زمین یورپ پر پہنچا دیتے ہیں اور کبھی سمندر کے گہرے پانیوں میں کہیں ڈبو دیتے ہیں۔ جہاں سے ان کے جسد خاکی بھی نہیں ملتے۔

پہلے کبھی کبھار کوئی ایسا واقعہ سننے میں آتا تھا کہ فلاں ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی۔ یا انھیں اندھی گولیوں سے بھون دیا گیا۔ یا وہ سرے سے ہی لاپتہ ہو گئے۔ مگر اب آئے دن یہ حادثات رونما ہونے لگے ہیں۔ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے کہ اٹلی کے قریب تارکین وطن کی کشتی سمندر کی تاریکیوں میں اوجھل ہو گئی۔ اس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی ہاکی کی قومی کھلاڑی سمیت ساٹھ کے قریب افراد سوار تھے۔ جن میں سے ایک بھی زندہ بچنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ ابھی وہ زخم بھرنے نہیں پایا تھا کہ آٹھ سو کے قریب تارکین وطن سے بھری ایک بوسیدہ جہاز نما کشتی کو یونان کے قریب گہرے سمندر نے نگل لیا۔ ایک اندازے کے مطابق اس میں چار سو صرف پاکستانی سوار تھے۔

اس صورت حال نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ سب سے بڑا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ اس تصویر کا اتنا بھیانک رخ واضح ہونے کے باوجود بھی نوجوان طبقہ جوق در جوق کیوں اس سفر کا حصہ بن رہا ہے؟ کوئی تو ایسی خرابی ہے کہ وہ یہاں رہنے کی بہ نسبت موت کا انتخاب کر رہے ہیں۔ اور اس خرابی کو اب بقول میر: جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔ اس مملکت خدا داد کے باسی جس بھٹیار خانے میں جینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں اس سے کون واقف نہیں ہے۔ ان کے مجازی خدا ہر جگہ لمبے بوٹ اور خادمی سوٹ میں تو نظر آئیں گے مگر اس بات سے لاعلم دکھائی دیں گے کہ اتنے لوگ موت کے اس سفر کا انتخاب کیوں کر رہے ہیں۔

ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ وہ لوگ گھر سے کیا خواب لے کر نکلے ہوں گے۔ اپنے بوڑھے والدین کو انھوں نے کیا کیا تسلیاں دی ہوں گی کہ ایک بار وہ سر زمین یورپ پر پہنچ جائیں تو پھر ان کے دن پھرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ اور پھر کئی دن کی بھوک پیاس کاٹنے کے بعد سمندر میں آخری سانس لیتے ہوئے انھوں نے کیا سوچا ہو گا۔ اور ہر ایک نے جان بچانے کی کس قدر چارہ جوئی کی ہو گی۔ بقول احمد ندیم قاسمی:

ہر ایک ڈوبنے والا یہ سوچتا ہے کہ میں
بھنور سے بچ کے نکلتا تو پار اتر جاتا
مگر ان میں سے صرف ایک سو بیس خوش نصیب ہی زندہ بچنے میں کامیاب ہوئے اور وہ بھی اس پار نہیں اتر سکے۔

یہ سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے اور اب اس کے مسافروں میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اور اضافہ ہو بھی کیوں نہ، جب یہاں امید کی کوئی کرن ہی نظر نہیں آ رہی تو لوگ اس صورت حال میں کیا کریں۔ جو ان کے لیے مسیحا بن سکتے تھے وہ حصول اقتدار میں اس قدر مشغول ہیں کہ انھیں اور کچھ نظر ہی آ رہا۔ ان کا سارا وقت تو اس فکر میں گزرتا ہے کہ وہ کتنے مخالفین کو راستے سے ہٹا چکے ہیں اور کتنے ابھی باقی ہیں۔ اور جو باقی ہیں انھیں راستے سے کیسے ہٹایا جائے تاکہ ”سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے“ ۔

اور صرف اس ایک ازلی مقصد کے لیے وہ اتنے سنجیدہ ہیں کہ اب عید قرباں کو بھی انھوں نے اس مقصد پہ قربان کر دیا ہے۔ اور اپنے گھر بار چھوڑ کر سبھی دبئی میں اکٹھے ہیں تا کہ مستقل اقتدار میں رہنے کے تمام اصول و ضوابط طے کیے جا سکیں۔ اور ان کے کچھ موروثی بابے جو بے تحاشا کرپشن کی وجہ سے الیکشن لڑنے سے نا اہل قرار پائے تھے انھیں کیسے دوبارہ اہل کروایا جا سکے۔ اور اس کے لیے وہ شبانہ روز کی معز ماری کے بعد قوانین میں اپنی مرضی کی دھڑا دھڑ ترامیم بھی کروا رہے ہیں۔

ظاہر ہے اس ساری بھاگ دوڑ میں ان بچاروں کے پاس اتنا وقت ہی کہاں بچتا ہے کہ وہ اسے انسانی جانوں کو بچانے جیسے فضول کام میں صرف کریں۔ اس صورت حال نے ایک ایسی بھوک اور نا امیدی کو جنم دیا ہے جسے ختم کرنے کے لیے لوگ خود کر گہرے سمندروں کے حوالے کر رہے ہیں۔ بھوک اتنی بے رحم ہے کہ اگر بھوک اور موت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو شاید لوگ موت کا انتخاب کریں۔ اس پس منظر میں اگر کوئی موت کا انتخاب کر رہا ہے تو اس میں اتنے اچنبھے کی بھلا کیا ضرورت ہے۔ ڈاکٹر خورشید رضوی نے شاید ایسے ہی موقع کے لیے کہا تھا:

ہاں ڈوبتے ہوؤں کی بڑھانے کو بے کسی
حد نظر پر کوئی کنارا بھی چاہیے

ہم ان خادمی سوٹ والوں اور ان سبھی سے جو کہہ رہے ہیں کہ اب خدمت کی باری ان کی ہے التجا کرتے ہیں کہ اقتدار بچانے اور مستقل کرسی پکی کرنے جیسے انتہائی ضروری کاموں سے اگر کچھ فرصت میسر آ جائے تو حضور والا ایک نظر ادھر بھی۔ ایڑیوں کے بل رینگنے والے مفلوک الحال عوام بھی اسی دھرتی کے باسی ہیں۔ معراج فیض آبادی نے کہا تھا:

بھیگتی آنکھوں کے منظر نہیں دیکھے جاتے
ہم سے اب اتنے سمندر نہیں دیکھے جاتے
وضع داری تو بزرگوں کی امانت ہے مگر
اب یہ بکتے ہوئے زیور نہیں دیکھے جاتے
مگر شاید کہیں دور دور تک بھی اس کے کوئی امکان نظر نہیں آ رہے۔

Facebook Comments HS