عفیفہ کا دورہ پاکستان
اتفاق سے جن دنوں بھارتی لیڈر نریندر مودی نے امریکہ کا دورہ کیا اور ملالہ یوسف زئی برازیل کا دورہ مکمل کر کے واپس برطانیہ پہنچ چکی تھیں انہی دنوں میں ایک اور مشہور شخصیت عفیفہ میٹرک کے پیپرز دینے کے بعد چھٹیاں گزارنے پاکستان تشریف لے آئیں۔ عفیفہ کئی سالوں کے بعد اپنے مادر وطن تشریف لا رہی تھیں اور ان کو پورا یقین تھا کہ اب پاکستان کے اور ساہیوال کے حالات بدل چکے ہیں۔ دو تین دفعہ انہوں نے سیاسی رہنماؤں کے اخبارات میں بیانات پڑھے تھے کہ اب ساہیوال کو پیرس بنا دیا گیا ہے اور کچھ عرصہ بعد اس کو دوبئی بنا دیں گے۔
اپنی معصومیت کی وجہ سے وہ سمجھ بیٹھیں کہ سیاسی لیڈر جو کہتے ہیں وہ ہمیشہ سچ ہوتا ہے تو شاید ساہیوال سچ مچ پیرس یا دوبئی بن چکا ہے۔ ساہیوال داخل ہوتے ہی وہ کار سے اتر آئیں اور انہوں نے ساہیوال میٹرو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی کہ ٹرام میں بیٹھ کر سفر کر سکیں۔ مگر ان کو وہاں جہاں بجا سڑکوں پر وڑائچ طیارے دوڑتے نظر آئے جن کی چھتوں پر اور سائیڈوں پر بھی پاکستانی لٹکے ہوئے تھے۔ پھر ایک جگہ ان کو دکھائی گئی جہاں دور سے ایفل ٹاور کی ایک کاپی نظر آ رہی تھی مگر پتہ چلا کہ وہاں تک صرف چنگچی جاتے ہیں یا ان کے پیشرو تانگے جاتے تھے چنگچی کی ہیئت اور شور شرابا دیکھ کر مگر انہوں نے مزید سیر کا ارادہ ترک کر دیا۔ کیونکہ جون کا مہینہ تھا ساہیوال اور پیرس کے موسم میں بھی کافی فرق معلوم ہو رہا تھا۔
رستے میں انہوں نے خالی پلاٹوں میں اور سڑکوں چوراہوں پر جا بجا ویسٹ مینجمنٹ کے مظاہرے دیکھے ان کو بتایا گیا کہ یہاں لوگ گھر کا کوڑا باہر خالی پلاٹوں میں پھینکتے ہیں اور میونسپلٹی کے ٹرک اتنے پرانے ہیں کہ آدھے سے زیادہ کوڑا نکل کر دوبارہ سڑکوں پر گر جاتا ہے اور یہاں کی عوام گاڑیوں کے اندر سے شاپر اور ڈبے باہر پھینکتے ہیں تاکہ کسی کام میں کافر ملکوں کے لوگوں کی نقل کا پہلو نہ نکل سکے۔
گھر پہنچ کر ان کے ہاتھ میں دستی پنکھا تھما یا گیا کہ پچھلے چھ گھنٹے سے بجلی نہیں تھی اور یو پی ایس بھی جواب دے چکا تھا۔ انہوں نے اس کی وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ ساتھ والے محلے میں آندھی آئی تھی تو بجلی روٹھ چکی ہے۔ واپڈا کے کچھ اہلکار عجیب و غریب قسم کی وردیاں پہنے قدیم اوزاروں کے ساتھ کھمبوں پر چڑھ کر تاریں ٹھیک کر رہے ہیں۔ عفیفہ کو یقین دلایا گیا کہ لائٹ رات تک آ جائے گی اگر نہ آئی تو چھت پر سو جائیں گے۔ ایک انکل جو کافی دانشور قسم کے انسان تھے وہ بولے بیٹا ساہیوال پیرس نہ سہی دوبئی نہ سہی آپ یہ سمجھیں کہ یہ ہارون الرشید کا بغداد ہے یا عثمانیوں کا قسطنطنیہ ہے۔ عفیفہ جو گرمی سے بے حال تھیں ناراض ہو کر بولیں قسم سے انکل قسطنطنیہ میں بھی اتنی لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی ہوگی۔ میں جا رہی ہوں واپس کل ہی۔
اسی بات سے وہ قصہ یاد آیا جب عفیفہ نے آئس کریم کھائی تھی۔
عفیفہ جب چھوٹی تھیں تو آئس کریم کو دیکھ کر ان کا دل بہت للچاتا تھا مگر ان کے مما پا پا بڑے بچوں کو تو آئس کریم کھلا دیتے تھے مگر عفیفہ کو نہیں کھلاتے تھے کہ ان کا گلا خراب ہو جائے گا کسی الرجی کا ڈاکٹر نے بتایا ہوا تھا۔ ڈاکٹروں اور گھر والوں کے ان تمام یک طرفہ اور ظالمانہ اقدامات کے بعد عفیفہ نے ایک دن چپکے سے عہد کیا کہ میں جوں ہی کچھ بڑی ہوں گی اور کہیں سے اپنی رقم ہاتھ لگے گی تو ایک ہی دفعہ پندرہ کون آئس کریم کھا کر ایک ورلڈ ریکارڈ بنا دوں گی۔
کوئی دس سال بعد بالآخر وہ دن آ ہی گیا۔ اب ان کے پاس کافی رقم بھی جمع ہو گئی تھی جو وہ مما کی آنکھ سے اوجھل ایک جگہ جمع کرتی رہی تھیں۔ ایک دن عفیفہ جب امی اور بھائی کے ساتھ شاپنگ پر گئی ہوئی تھیں اور ان کی مما ایک دکان میں کپڑے لینے کے لئے داخل ہوئیں تو ان کو پتہ تھا یہاں کافی وقت لگنا ہے تو وہ ساتھ میں واقع ایک آئس کریم بار میں گھس گئیں۔ اور ان کو پندرہ کونز کا آرڈر دے دیا۔
لیجیے آئس کریم آنا شروع ہوئی اور عفیفہ اس پر اقبال کے شاہین کی طرح جھپٹ پڑیں۔ جب وہ آٹھویں آئس کریم تک پہنچیں تو گلے میں سے ہلکی ہلکی سی آواز آنے لگی پھر بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ بارہویں آئس کریم پر ان کی ناک نے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیا، چودہویں پر آنکھوں سے پانی بہنے لگا اور پندرہویں کھانے سے پہلے ہی مما اچانک نمودار ہو گئیں اور اس کے ساتھ ہی چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ افسوس! عفیفہ کا ورلڈ ریکارڈ بنانے کا خواب ادھورا ہی رہا۔

