ایک تجربی ذہن کی توحید- اپنی بیٹی کی پہلی سالگرہ کے لیے تحفہ
فاطمہ جان سلام
تم ایک سال کی ہونے کو ہو، یعنی تمہاری پہلی سالگرہ نزدیک ہے، تمہاری ماں چاہتی ہے اسے کچھ اچھے سے منایا جائے، میں بھی اسے یادگار بنانے کے لیے تم سے بہت سی باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ موقع کی مناسبت سے شاید میرے پاس لکھنے کو بہت کچھ ہے، اب نہیں معلوم اتنا طویل خط لکھنا مناسب بھی ہے یا نہیں، البتہ خوشی کا موقع ہے، ایسے میں بات کرنے کا وقت نکالنا چاہیے۔
سب سے پہلے مجھے ایک اعتراف کرنا چاہیے، تمہاری ولادت کے کچھ ہی عرصے بعد کسی ظالم نے ایک منطقی شبہ میرے دل میں ڈالا کہ بچپن میں بچوں کا رونا، ہنسنا، آوازیں نکالنا اور چیزوں کی طرف لپکنا کسی جذبے کے اظہار کے لیے نہیں بلکہ محض عضلات کی متناسب حرکتوں کے سبب ہوتا ہے جو جانے انجانے میں انجام پاتی ہے۔ بات انتہائی منطقی اور تجربی نتائج سے قابل اثبات تھی، میرے دل میں چھپا تجربی منطق رکھنے والا ذہن اس ملحد کی طرح چوری چھپے اس سب کو برداشت کر رہا تھا جو کائناتی حوادث کو جان لینے کے بعد ایسے منطقی طور پہ قبول کر لیتا ہے کہ اس سب کے پیچھے کسی حکیم و دانا کی موجودگی کے بارے میں مشکوک یا بدظن ہو جاتا ہے، میں کبھی کبھار عین اس لمحے پہ جب سب تمہارے مسکرانے اور کھلکھلانے پہ خوش ہوتے تھے، افسردہ ہو جایا کرتا تھا، سرگردان رہ جاتا تھا اور پریشان ہو جاتا تھا کہ اگر یہی سچ ہو تو کتنی تکلیف دہ بات ہو گی، بالکل ایسے جیسے انسان کسی سہانی شام بادلوں کے بنتے بگڑتے نقوش پہ سورج کی آڑی ترچھی کرنوں کے اتار چڑھاؤ سے کسی خوبصورت منظر کو اپنی پلکوں سے تراش لے، اس میں محو ہو جائے، لیکن بالآخر اسے یہ احساس ستائے جا رہا ہو کہ یہ منظر ہر لمحے تغیر پذیر بلکہ اختتام پذیر ہے، نہ اس منظر کی حقیقت کو جانچا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس منظر کا حصہ بنا جا سکتا ہے، یہی اعتراض ایک مادیت پرست کو اس کائنات کی حکمت سمجھنے پہ ہوتا ہے، یہی اعتراض اسے یہ ماننے پہ ہوتا ہے کہ اس کائنات کی تمام حقیقتیں جو اپنی ایک سائنسی علت رکھتی ہیں، کسی حکیم عقل کی محتاج بھی ہیں ؛ بالکل تمہارے مسکرانے کی حقیقت جیسا، جو ایک وقت میں محض عضلات کی حرکت نظر آتی تھی، حتیٰ جب تمہاری ماں ان بے معنی آوازوں اور اس بے وقت کی مسکراہٹ سے کچھ اخذ کرتی تو میرا تجربی ذہن ویسے ہی الجھ جاتا تھا جیسے بادلوں کے بنتے بگڑتے نقوش سے، یا خود کو تجربے سے وابستہ کرنے والے اس کائناتی حقیقت کو نہ سمجھتے ہوئے الجھتے ہیں، البتہ وہ نہیں جانتا کہ کائناتی حقائق بادلوں کے نقوش کی طرح نہیں ہیں، جس کو جانچا نہیں جا سکتا، اگر تم خود کو اس قابل بنا لو تو انسان اس نور حقیقت کی بارش میں نہا جاتا ہے، انسان اس نور کے جلوے سے چاند کی طرح دمک اٹھتا ہے، بلکہ اس کی حدت سے دہکنے لگتا ہے، پھر زمین و آسمان ایک ہو کر بھی انسان کو گمراہ نہیں کر سکتے۔
مجھے اس سب پہ بڑی شدت سے کوانٹم میکانیات کا پرابیبلیٹی کا قانون یاد آیا، جیسے شراڈنگر اپنے بلی والے فرضی تجربے میں سمجھاتا ہے کہ ہر چیز امکان رکھتی ہے، پس مشاہدہ ہے جو اس امکان کو حقیقت بنا دیتا ہے، گویا حسن کا ظہور پذیر ہونا خود عاشق کی نگاہ پہ منحصر ہے، گویا عشق صرف محو نظارہ ہی نہیں، نظارہ ساز بھی ہے، بالکل ایسے جیسے ایک مصور جو سادے کاغذ میں چھپے حسن کے امکانات کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ رنگ برنگے چھینٹے پھینکتا ہے اور جانتا ہے کہ وہ حسین تصویر جو اس کے تخیل میں ہے اسی کاغذ پہ ابھر آئے گی، بالکل ایسے جیسے ایک مجسمہ تراش ایک بڑے سے بھدے اور بدنما پتھر کو دیکھتا ہے اس میں چھپے خوبصورت مجسمے کو تصور کی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے، میں اور تم اگر دیکھیں تو بالکل اس مادی ذہن رکھنے والے ملحد کی طرح سوچیں گے کہ یہ کیا حماقت ہے، بھلا اس پتھر سے کوئی منظم چیز برآمد ہو سکتی ہے کیا، لیکن پتھر چھیلنے والے کو یقین ہے، اس کا یقین اس پتھر کو ایسے مجسمے میں بدل دیتا ہے جو منظم بھی ہے اور خوبصورت بھی۔
گویا یہی عشق کا کمال ہے، جسے باقی سب انہونا سمجھتے ہیں، عشق اسے اپنے یقین سے حقیقت بنا دیتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے تم اپنے آس پاس کہ شور شرابے سے بے نیاز ہو کر ٹیلی سکوپ سے ایک دور افتادہ سیارے کو دیکھان چاہتی ہو، تمہاری نگاہیں ہر سیاہ حصے میں ایک روشنی کے امکان کو تراش رہی ہیں، بالآخر کسی جگہ پہ تم اپنی نظریں ٹکا دیتی ہو اور وہاں موجود سیارہ یا ستارہ تمہیں دکھائی دینے لگتا ہے، لیکن وہ اس قدر مدھم ہے کہ پلک جھپکنے کی گستاخی بھی قبول نہیں کرے گا اور ممکن ہے کہ اگر تم لمحے بھر کے لیے بھی نظریں ہٹاؤ، یا اپنے اطراف موجود سیکڑوں آوازوں پہ کان دھرنے لگ جاؤ، وہ خوبصورت حقیقت تم سے گم جائے، اور تمہیں دوبارہ محنت کرنا پڑے۔
تمہارے وجود کی خوبیاں بھی انھیں ستاروں کی مانند ہیں، ان کو تلاش کرو اور اور ان پہ نظریں جمائے رکھو، نہ غرور و افتخار سے بلکہ خدا کی عطا کردہ نعمات کے تواضع سے۔ جانتی ہو فزکس کے کچھ ماہرین مطمئن ہیں کہ امکانات کے اس دلچسپ قانون کی رو سے خود اس کائنات کا ویو فنکشن کولیپس کرنا بھی تب تک ممکن نہیں تھا کہ جب تک کوئی شاہد اس لمحہ آغاز پہ موجود نہ ہو، وہ اسے انتھراپی پرنسپل کہتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ قرآن کی اصطلاح شاہد و مشہود کا اس سے کچھ لینا دینا ہے یا نہیں، یا اول مخلوق کا عقل مجرد ہونا اسی طرف اشارہ ہے یا نہیں البتہ یہ تمہارا کام ہے، شاید تم تحقیق کر سکو۔
لیکن میں جان گیا ہوں، حقیقت یوں ہی ہونے اور نہ ہونے کے درمیان یقین کے تصور میں سما جاتی ہے، جیسے تمہاری مسکراہٹ، جو ایک وقت تک مشتبہ تھی تو آج اس کائنات کی سب سے خوبصورت حقیقت بن کر میرے سامنے موجود ہے، یوں ہی شاید میں سمجھ گیا ہوں کہ اگر خدا کے وجود کو بھی جھٹلا دیا جائے یا اس پہ شک کیا جائے تو انسان کا جھٹلانا اس نظارے کو موہوم بنا دیتا ہے اور انسان زندگی بھر خدا کو ہی نہیں دیکھ سکتا۔ گویا اس کی تصویر کا کاغذ ہمیشہ سادہ رہتا ہے، باوجود یہ کہ اس کے پاس رنگ ہیں، گویا اس کا مجسمہ ہمیشہ بدنما پتھر میں دبا رہتا ہے، گویا وہ اپنی زندگی خدا، نظام اور نظم کے بغیر گزارنے پہ مجبور ہو جاتا ہے۔
گویا وہ مان لیتا ہے کہ یہ کائنات خود ہی مادے سے جنم لیتی رہی اور کھربوں پرابیبیلیٹیز میں رینڈم پرابیبیلیٹیز کولیپس کرتی چلی گئیں اور مادہ زندہ ہو گیا اور زندگی کے ارتقائی سفر سے ہوشمند مخلوقات بننا شروع ہوئیں اور ان ہوشمند مخلوقات کے ارتقا کے سبب مجھے یعنی بطور کلی انسان کو اور پھر انسانوں کی نسل بڑھانے کی خواہش کے سبب اس ایک فرد کو دنیا میں آنا پڑ گیا، کیسا لعنت زدہ جبری نظام ہے، یعنی میرے ہونے کی سازش آج سے کئی کھرب سال پہلے شروع ہو چکی تھی اور میں چاہ کر بھی اس کو نہیں روک سکا، ایسا فرد اگر نیہیلزم کا قائل ہو جائے یا عقیدہ جبر کا یا وہ اپنے ماں باپ پہ اس بات کا مقدمہ درج کروا دے کہ اسے اس کی مرضی کے بغیر کیوں جنم دیا تو تعجب نہیں کرنا چاہیے۔
نہیں میری بیٹی نہیں، ہم یا تم کسی ایسے جبر کا نتیجہ نہیں ہو سکتے۔ تمہیں چاہا گیا، خدا نے تمہاری محبت میرے دل میں اس وقت ڈالی جب تمہارے اس دنیا میں آنے کا امکان صرف لوح تقدیر میں درج تھا، میں تمہارے اس حسن کا ناظر تھا جس نے ابھی اپنے کاغذ پہ ظہور کرنا تھا، یہ تخیل ہی کتنا دلچسپ اور لطیف ہے، گویا میری محبت کا اثر تمہارے وجود کا باعث بن گیا۔ یعنی اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس لیے اپنی جگہ پہ کھربوں سالوں سے کام کرتا رہا تا کہ تم اس دنیا میں آؤ، جانتی ہو میری خواہش کے عین موافق کچھ سائنسدان اس بات کو ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اس مادی کائنات کا محور کوئی ایک بڑا ستارہ یا کوئی ایک بلیک ہول نہیں، بلکہ اس کے دائرے یوں رکھے گئے ہیں کہ ہر فرد اس کائنات کا محور ہو سکتا ہے، مجھے یہ خیال تمہارے لیے بہت پسند ہے۔
میر صاحب یاد آ گئے،
یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا
کیسا پیارا شعر ہے، یہاں توہم کے منفی معنوں کو نظر انداز کر دو تو دنیا کی تمام خوبصورتی انسانی آنکھ میں سما جائے گی۔ کاش اس کے حسن معانی کو سنانے کی فرصت نکال پاؤں، میں سمجھتا ہوں کہ غربت یہ ہے کہ انسان کی آنکھ حسن کو دیکھنے کی لیاقت پیدا کر لے اور وہ اپنے اطراف کسی کو نہ پائے جس سے وہ اس رزق کو بانٹ سکے، شاید انسان کا سب سے بڑا کام اور سب سے بڑی لذت یہی ہے کہ انسان اس کائنات کے حسن کو تلاش کرے اور پھر خوش قسمت وہ ہے جسے ایسے ذہن مل جائیں جو اس لطافت کو اس کے ساتھ مل کر سیلیبریٹ کر سکیں، خوش ہو سکیں، مدہوش ہو سکیں۔
کوئی خوبصورت شعر، کسی ناول کا لطیف حصہ، کسی کائناتی حقیقت کی خوبصورت تفہیم، کسی جذبے کی عکاسی، شاید انسان نے طول تاریخ میں سب سے زیادہ کاوشیں اسی پہ خرچ کی ہیں، البتہ وہ بھی خود کو انسان کہتے ہیں جن کی کاوشیں سوائے حسن کشی کے اور کچھ نہیں ہیں، ان کا کام اپنے سرمائے کے اضافے کے لیے انسانوں کا قتل عام اور حسن کشی ہے۔ حسن کے ان امکانات پہ بات کرنا بھی میری حسرتوں میں سے ایک ہے، جو مرجھا جاتے ہیں، وہ محروم چہرے جنھیں تلاش رزق نے سنولا دیا ہے، وہ ٹوٹے ہوئے گھر جنھیں بڑے گھروں کی نظریں کھا گئیں، وہ آدھے ادھورے جسم اور آدھے ادھورے جذبے جنھیں چند جسموں کی بقا کی ہوس نگل گئی، کتنا اہم ہے کہ انسان حسن کے ان پامال شدہ امکانات پہ آنسو بہائے، کاش کوئی ہو جس کے ساتھ مل کر اس عدالت کی گمشدگی پہ اشک افشانی کی جائے، اس غم پہ ماتم کیا جائے، اس کا مداوا تلاش کیا جائے، کاش کوئی رونے والی آنکھ میسر آ جائے۔
شاید اس لیے تمہیں یہ سب لکھ رہا ہوں کہ تم میرے اس غم میں شریک ہو سکو، شاید ایک خواہش پنپ رہی ہے کہ کبھی ایسا ہو سکے کہ تمہاری شرارتی آنکھیں میرے ہونٹوں پہ مرتکز ہوں، تمہاری ذہین سماعت میرے لفظوں پہ مرکوز ہو اور میں اس حسن کی تشریح کرتا چلا جاؤں، شاید لذت کی اس سے بہتر تعریف نہیں ہو سکتی، بعید نہیں کہ جنت میں کچھ ایسے مناظر ہوں۔
حالانکہ میں جانتا ہوں کہ تمہاری عمر ابھی اس سب کو سمجھنے کے لیے بہت کم ہے، شاید تم کچھ اور لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر تذکرہ حسن کرو اور میرا تذکرہ اس گمشدہ حسن کے ذیل میں شامل ہو جائے، بس میں چاہتا ہوں کہ تم میرے لفظوں سے مجھے پہچان لو، میرے ہدف کو جان لو اور اپنے تخیل کی خوبصورتی اور اپنے ذہن کی صلاحیت سے اس کے لیے آگے بڑھو تا کہ دنیا کے محروم رہ جانے والے حسن کو دوبارہ نکھار سکو، جن پر ظلم کیا جا رہا ہے، انھیں زندگی دے سکو، جنھیں غلام رکھا جاتا ہے انھیں آزادی دے سکو اور اس عالمی عدل کے لیے کوشش کر سکو کہ جس کے بعد دنیا کا تمام حسن اپنے تمام امکانات کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا۔ یعنی جو کچھ تمہارے تخیل میں حسین ہو گا وہ اس کا ویو فنکشن کولیپس کر جائے گا اور وہ تمہاری نگاہوں کے سامنے جلوہ دکھائے گا، تمہارے لیے، کیونکہ تم بھی اس کائنات کا محور ہو، میری کائنات کا، میرے وجود کا۔
اپنے حق میں تمہاری دعاؤں کا طلبگار


