ننھے میاں کی عمدہ تربیت کرتے ہوئے پریشانیاں


تو بھائی کیا کرتے معاملہ ہی ایسا تھا کہ جان چھڑانے میں ہی عافیت تھی۔ حسنین میاں نے جب ہوش سنبھالی اور چوں چاں کرنے اور سوال کرنے کے قابل ہوئے تو ہم نے شفقت پدری سے مغلوب ہو کر عمدہ تربیت کا بیڑا اٹھانے کا قصد کر لیا۔ پہلی اولاد تھی تو تربیت سے کیسے غافل رہ سکتے تھے۔ بڑی فکر اٹھی کہ بچے کو مینر ازم خود سکھانے ہیں۔ اس کی ماں کو کیا پتہ بچے کو کیسے سکھایا جاتا ہے؟ بھلا ہر بات پہ جوتا اٹھا لینا بھی کوئی طریقہ ہے بچے کو سکھانے کا؟ بچے تو پھول ہیں ذرا سی سختی سے کملا جاتے ہیں۔ اور یہ کیا کہ سب کچھ ایک ہی دن میں سکھا دینا ہے؟ ایسے سیکھتے ہیں بچے بھلا؟ بات بات پہ چپ کرا دو۔ بات بات پہ ڈانٹ دو۔

یوں حسنین کی ماما کے فوری معطلی کے احکامات جاری کر کے مار نہیں پیار کے تحت تربیت کا باقاعدہ چارج ہم نے خود سنبھال لیا۔

مینر ازم کا آغاز کھانے کے آداب بتانے کے سیشن سے ہوا۔ دوسرے ہی دن جناب نے ہمارے ساتھ ناشتہ کرتے ہوئے نقطہ اٹھا لیا۔ پاپا آپ تو کہہ رہے تھے منہ بند رکھ کر کھانا چباتے ہیں تو پھر آپ منہ کھلا رکھ کے کیوں چبا رہے ہیں؟ موصوف کھانے کی بجائے میرے منہ کی طرف دیکھے جا رہے تھے۔ کھسیانی سی ہنسی کے ساتھ ایک اور مینر کا اضافہ کیا کہ بیٹا کھانا کھاتے ہوئے دوسرے کے منہ کی طرف نہیں دیکھتے۔ تھوڑا وقت گزرا تو جناب نے دوسرا نقطہ پکڑا کہ پاپا آپ نے تو کہا تھا کھانے کے بعد پانی نہیں پینا تو خود کیوں پی رہے ہیں؟ لو جی پکڑے گئے تو کیا کرنا تھا کہنا پڑا کہ بیٹا کلی کرنا ضروری ہوتا ہے تو کلی کی تھی۔ غلطی سے پانی پی لیا ہو گا۔

کھانا کھا کر اٹھے اور سیدھے ٹی وی روم میں پہنچے تو جناب پیچھے پیچھے آن وارد ہوئے، بابا آپ نے ہاتھ تو کوئی نہیں دھوئے؟ سنجیدگی ایسی کہ قربان جانے کو دل کرے۔ مجبوراً واش بیسن کی طرف مڑتے ہوئے کہا وہ بیٹا مجھے دھیان نہیں رہا۔

پھر تو گویا پورا گھر ہی تفتیشی مرکز بن گیا۔ ادھر ہم نے آداب بتائے اور ادھر جناب پوری سنجیدگی اور معصومیت کے ساتھ ہمیں پہ منکر نکیر بن بیٹھے۔ بابا آپ خود چپل گھسیٹ کر کیوں چل رہے ہیں؟ پاپا موبائل سے آپ کی آنکھیں نہیں خراب ہوتیں؟ بابا جھوٹ بولنے سے اللہ بڑوں کو کچھ نہیں کہتا؟ بابا ہمیں تو کہتے ہیں آرام سے بات کرنی چاہیے تو پھر آپ دن کو ماما کو غصے سے کیوں ڈانٹ رہے تھے؟ پاپا ہمیں تو کہتے شام کو باہر نہیں نکلنا خود کیوں چلے جاتے ہیں؟

پاپا آپ نے تو آج پھر جوتے اپنی جگہ پہ تو نہیں رکھے۔
پاپا آپ نے تو کہا تھا وہ چاچو اچھے آدمی نہیں ہیں تو پھر آپ ان سے کیوں مل رہے تھے؟

چند دن تو کوشش کی کہ چلو اچھا ہے ہماری بھی اسی بہانے اصلاح ہو رہی ہے مگر کہاں۔ عمروں کی پختہ عادتیں دنوں میں کہاں بدلنے والی تھیں۔ روز ہم سے وہی غلطی سرزد ہو جاتی جس کو نہ کرنے کی ہم موصوف کو نصیحت کر چکے ہوتے اور روز کوئی نہ کوئی آئیں بائیں کر کے نکلنا پڑتا۔ آخر چند ہی دنوں میں احساس ہو گیا کہ ہم نے انجانے میں معصوم سے منکر نکیر کو اپنے پیچھے لگا لیا ہے اور مرضی کرنے کی ساری آزادی چھن چکی ہے۔ آخر کو ایک روز ایسے ہی کسی سوال پر میں پھٹ پڑا اور بے اختیار بول اٹھا

اوئے توں میرا پیو لگیا ایں؟ (تم میرے باپ لگتے ہو؟)
پاپا آپ نے کہا تھا کہ چھوٹی موٹی بات پر غصہ نہیں کرتے اب خود ہی مجھے ڈانٹ رہے ہیں؟
اس کے ساتھ ہی مجھے بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی۔ پاس بیٹھی حسنین کی ماں کے قہقہے بھی سننے والے تھے۔
—————————————————–

تو صاحبو یہاں باریک نقطہ سمجھنے والا ہے اور بہت اہم ہے کہ ہمارے بچے ہم سے وہی سیکھتے ہیں جو وہ ہمیں کرتا ہوئے دیکھتے ہیں جبکہ ہم انہیں زبانی بتا کر اپنا فرض ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ بچے کو صفائی کا درس دینا چاہتے ہیں تو صفائی خود پر لاگو کر کے دکھانی پڑے گی، شائستگی کا سبق شائستہ رہ کر ہی سکھا سکتے ہیں۔ صبر کی تلقین تبھی کارگر ہو سکتی ہے جب صبر کی تلقین کرنے والا ایک پتھر کے مقابلے میں اپنے پیٹ پر بندھے دو پتھر دکھائے۔

دانا کہتے ہیں کہ آپ ہمیں بچے دکھائیں ہم آپ کو ان کا ماں باپ بتا دیں گے۔

بحیثیت استاد بھی ہم عشروں سے بچوں کے درمیان رہتے ہوئے یہ دیکھتے آ رہے ہیں کہ بچے اپنے والدین کی شخصیت اور گھر کے ماحول کا ہی پرتو ہوتے ہیں۔ ایک بچے کے عمومی رویے سے اس کے والدین کی عدم موجودگی، ناچاقی یا گھریلو ماحول کا آسانی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

بحیثیت معاشرہ بھی ہم سبھی ”کہنے“ پر زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں بے شمار معلم اور مبلغ موجود ہونے کے باوجود شکستگی کا عمل تعمیر کے عمل کو مسلسل دھول چٹا رہا ہے۔

Facebook Comments HS