ما بعد عمران سیاست کا منظر نامہ: توقعات، امکانات اور خدشات
عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے ساتھ ہی مسلم لیگ نون اور اس کے اتحادیوں کو حکومت تو مل گئی مگر اس کی سیاسی ساکھ کا بھرم بھی طشت از بام ہو گیا۔ شہباز سپیڈ ایسا دیومالائی نابغہ جس کے قبضے میں کوہ قاف کے جنات تھے مگر جنوبی پنجاب کے سیلاب زدگان تک نہ پہنچ پایا۔ اسحاق ڈار ایک ایسا طلسماتی کردار عالمی بنک اور آئی ایم ایف جس کے طلسم سے ڈھیر اور ڈالر کا جن مٹھی میں رہتا تھا مگر نہ آئی ایم ایف سے ڈیل ہوئی اور نہ ڈالر نیچے آیا۔ آخر میں طلال چوہدری اور عابد شیر علی کو ہی سامنے آ کر ناکامیوں کے ذمہ دار دوسرے اتحادیوں کو ٹھہرانا پڑ رہا ہے۔ پاکستان میں ایسی الزام تراشی کو ہی آج کل سیاست کہتے ہیں۔
تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد بھی عمران خان نے مسلم لیگ کو پنجاب کی حکومت بنانے نہ دیا۔ چوہدری پرویز الٰہی کی مکاریاں، عدلیہ کی مدد اور افسر شاہی کی ہٹ دھرمی سب شہباز شریف کی اس خواہش کے راستے کی دیوار بن گئے کہ ایک ہی وقت میں باپ وزیر اعظم اور بیٹا وزیر اعلیٰ بن کر تاریخ میں امر ہوجائیں۔ یہ بات تو بھتیجی مریم کو بھی کبھی پسند نہیں تھی کہ اس کا کزن ہٹو بچو کی صداؤں میں جھنڈا لگی گاڑی میں دھول اڑاتا پھرے اور وہ صرف تقریریں کرتی اپنا گلا بٹھا دے۔ مشرقی پنجاب میں اپنے آبائی وطن کے نام پر بنائے شریف خاندان کے گھر ’جاتی امرا‘ کی دیواریں اور چھت تو شاید اتحاد سٹیل کے لوہے سے مضبوط بنا دیے گئے ہوں مگر بے رحم سیاست کی ریشہ دوانیوں میں رشتوں کی دیواریں اتنی مضبوط ثابت نہ ہوں۔
تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پی ٹی آئی کی چھوڑی نشستوں پر عمران خان کا اکیلے انتخابات لڑنے کا فیصلہ نواز شریف اور آصف زرداری پر اپنی مقبولیت کی برتری ثابت کرنے کا کھلا چیلینج تھا۔ اس میں پیپلز پارٹی نے ایک پنجاب اور ایک سندھ کی نشست پر مقابلہ کا فیصلہ کیا اور دونوں جیت گئی۔ پی ٹی آئی کی چھوڑی نشستوں پر پنجاب میں انتخابات ہار کر مسلم لیگ نون کی جیسے کمر ہی ٹوٹ گئی تھی اور اس کے آئندہ انتخابات کے لئے متوقع امیدوار بھی کنی کترانے لگے تھے۔
شومئی قسمت عمران خان کی مت ماری گئی جو نو مئی کر بیٹھا جس کی وجہ سے مسلم لیگ نون کے ساکت جسم میں حرکت پیدا ہوئی۔ اب مسلم لیگ نون ایک طرف جہانگیر ترین کے ٹوکرے میں پی ٹی آئی کی ہلتی شاخوں سے گرے پھل الگ کر رہی ہے اور ساتھ ہی نواز شریف کو واپس لاکر چوتھی دفعہ وزیر اعظم بنانے کے نعرے پر اپنے ووٹر کا حوصلہ بڑھا رہی ہے۔
پنجاب جو پہلے دو میں تقسیم تھا اب تین میں مقابلہ ہو گا۔ نواز شریف مخالف ووٹ کی امید میں جہانگیر ترین بھی اپنے لوگ میدان میں اتاریں گے۔ مگر سوال یہ ہے کہ نواز شریف کے مخالفین اس جہانگیر ترین کو ووٹ کیوں دیں گے جو پہلے ہی نواز شریف کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ اگر یہ ووٹ نواز شریف مخالف ہے تو مخالف ہی رہے گا۔ اس صورت میں عمران خان یا اس کا امیدوار براہ راست میدان میں اتر نہ سکے تو ایک امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ بھی اپنے دشمن کے دشمن کی حمایت کریں، سیاست میں دوستوں کے احباب کام آتے ہیں یا غنیم کے دشمن۔ یہ بات ’گل ودھ گئی اے‘ والے ندیم افضل چن نے آصف زرداری کو بھی سمجھائی ہے کہ رندہ درگاہ ہوئی جماعت کے مقامی امیدواروں کو ساتھ کیسے ملایا جاسکتا ہے۔
عمران کے بعد [پوسٹ عمران] سیاسی منظر نامہ میں پرویز خٹک نے بھی اپنے وجود کا احساس دلانا شروع کر دیا ہے۔ پرویز خٹک کی سیاسی تربیت آفتاب شیرپاؤ نے پنڈی کے قبلہ کی طرف رخ کر کے کی ہے جہاں سے جیسی ہوا چلے گی یہاں سے آمنا و صدقنا کی صدا آئے گی۔ خیبر پختونخوا میں شریف خاندان سے بہت سی شکایات ہیں اور خاص طور پر سی پیک میں ان کو نظر انداز کیے جانے کے علاوہ تنظیم میں بھی مہتاب عباسی جیسے سرکردہ راہنماؤں کے نظرانداز کیے جانے کا احساس شدت کے ساتھ موجود ہے۔ خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کے لئے اے این پی، پرویز خٹک اور مسلم لیگ نون کی جے یو آئی سے تجدید وفا سے راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
بلوچستان عوامی پارٹی [باپ] کا عملاً کوئی وجود نہیں مگر انتخابات انفرادی طور پر جیتنے کی اہلیت کے حامل افراد جن کو الیکٹیبلز کہا جاتا ہے وہ اپنے باپ کی پشت پناہی کے بغیر جیتنے کے بعد بھی ہار جاتے ہیں اس لئے یتیمی کے خوف سے باپ کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ یہاں بلوچ اکثریتی علاقوں میں بلوچستان نیشنل پارٹی اور پشتون علاقوں سے جمعیت علمائے اسلام آئندہ کے سیاسی منظر نامہ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ پشتونخواہ قومی وطن پارٹی افغانستان کے بدلتے حالات کے پیش نظر اپنے موقف اور نظریے کی تشکیل نو میں الجھی ہوئی ہے۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کو فی الحال کسی بڑی مشکل کا سامنا نہیں ہے۔ دیہی سندھ کے علاوہ آصف زرداری کی نگاہ شہری علاقوں پر مرکوز ہے جس کا دار و مدار الطاف بھائی کے بائیکاٹ پر ہے جس کے بعد غیر مہاجر ووٹ فیصلہ کن ہوجاتا ہے۔ کراچی اور حیدر آباد میں بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ کے شہری علاقوں میں ایک اور سرپرائز کی امید بے جا نہیں ہوگی۔
گزشتہ عام انتخابات میں پنجاب کے بعد کراچی وہ علاقہ ہے جہاں عمران خان کو واضح برتری حاصل ہوئی تھی جس کی وجہ الطاف حسین پر پابندی اور اس کی طرف سے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان تھا۔ اگر آئندہ کے انتخابات میں بھی الطاف حسین کا بائیکاٹ جاری رہا تو یہاں سے ایم کیو ایم کے کسی بھی دھڑے کو واضح اکثریت سے کامیابی ملنے کی امید کم ہے۔ جماعت اسلامی دراصل الطاف حسین کے بائیکاٹ کی امید پر ہے کہ ایم کیو ایم کا مخالف ووٹ اس کو ملے گا۔
مگر بلدیاتی انتخابات کے نتائج یہ بتاتے ہیں کہ ایم کیو ایم مخالف ووٹ میں الطاف حسین کے بائیکاٹ کا ساتھ نہ دینے والوں میں اردو بولنے والوں کی تعداد قلیل ہوتی ہے جبکہ یہاں بسنے والے دیگر صوبوں کے لوگ اپنا ووٹ لازمی ڈالتے ہیں جن پر پیپلز پارٹی کی بھی نگاہ ہے۔ پیپلز پارٹی نے بلدیہ اعظمیٰ کراچی کے مئیر اور ڈپٹی مئیر کا انتخابی معرکہ جیت کر کراچی میں اپنے عام انتخابات کی راہ ہموار کرلی ہے۔
عمران خان کے بعد کے سیاسی منظر نامہ میں کسی بھی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت حاصل ہونے کے امکانات بہت ہی کم ہیں اس صورت حال میں موجودہ حکمران اتحاد کی طرز پر منتخب قومی حکومت کی تشکیل کا امکان ہے جس میں تمام سیاسی جماعتیں شامل ہوں جو میثاق جمہوریت کی طرح ایک میثاق معیشت بھی کریں اور اس کو آئینی تحفظ دیں۔ ویسے تو میثاق معیشت کی ابتداء بھی قومی سطح پر افواج کے کردار کے ساتھ ایک سرمایہ کاری کمیشن کی تشکیل سے ہو چکی ہے مگر جب تک اس کو آئینی تحفظ حاصل نہ ہو اس پر بین الاقوامی سطح پر اعتماد حاصل کرنا مشکل ہو گا اس لئے اگلے مرحلے میں اس کو قانونی اور آئینی دائرہ کار میں لانا ہو گا۔
دوسرا امکان یہ ہے کہ کسی ایسی اتحادی حکومت پر شاید اتفاق نہ ہو سکے اور دو بڑی جماعتیں واضح اکثریت نہ ہونے کی صورت میں آزاد امیدواروں اور چھوٹے گروپ ساتھ ملا کر وفاق میں حکومت بنا نے اپنی اپنی کوششیں کریں۔ اس صورت حال میں دیگر کے علاوہ تحریک انصاف کو بھی قومی سیاسی دھارے میں شامل ہونے کا موقع ملے گا۔ عمران کی نا اہلی یا جماعت پر پابندی نہ ہو تو تحریک انصاف آئندہ کی حکومت سازی خاص طور پر پنجاب میں میں بڑی اہمیت اختیار کر جائے گی جو اگلے مرحلے کی سیاست کا تعین کرے گی۔ اگر تحریک انصاف پنجاب اور وفاقی حکومت کا حصہ یا اتحادی بن گئی تو آج کا مائنس کل پلس بھی ہو سکتا ہے۔ مگر اس کے لئے تحریک انصاف کے راستے میں صرف ایک ہی رکاوٹ عمران خان کی انا ہوگی جس کو ختم کیے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔
جولائی اور اکتوبر کے بیچ میں اگست بھی آتا ہے جب اسمبلی کی مدت پوری ہونے کے بعد ایک نگران حکومت آنے والی ہے جو عام انتخابات کا انعقاد کرے گی۔ آئندہ کے پیش منظر پر یہ بھی منحصر ہے کہ نگران کس کے ہوں گے اور کتنی دیر کے لئے ہوں گے ۔ اسلام آباد کی فضاؤں میں ایک باز گشت جو عرصے سے سنائی دیتی رہی ہے کہ ملک کو کم از پانچ سالوں کے لئے ٹیکنوکریٹس کی ایک نگران حکومت بنا کر اس کے حوالے کرنا چاہیے۔ جس ملک میں 90 دن کے نگران 11 سالوں تک بیٹھے رہے ہوں وہاں ایسے خدشات بھی رہتے ہیں۔


