اندام نہانی ہماری طاقت ہے یا کمزوری؟

ہمیں، ہمارے وجود کو درجنوں کپڑوں میں لپیٹے رکھنے پر مجبور کیوں کیا جاتا ہے، بھلے درجہ حرارت 52 ہو کیا فرق پڑتا ہے؟
ہمیں شٹل کاک کے پیچھے سہمے ہوئے سے انداز میں دنیا کو دیکھنے پر مجبور کیوں کیا جاتا ہے؟
کیا مرد ہم سے برتر اس لیے ہوتا ہے کیونکہ اس کی دو ٹانگوں کے بیچ عضو تناسل جھول رہا ہوتا ہے اور خاتون کمتر اس لیے ٹھہرتی ہے کیونکہ اس کی ٹانگوں کے بیچ وجائنا ہوتی ہے جس پر اس کا کوئی حق نہیں ہوتا اور اسے استعمال کرنے کا استحقاق صرف مرد کے پاس ہوتا ہے؟
ہمیشہ ہمیں ہی اپنی شناخت چھپا کے کیوں جینا پڑتا ہے؟
ہمیں اپنی ذات کے پورے سچ کے ساتھ جینے کی آ زادی کیوں نہیں ملتی؟
کیا ہم فقط مردوں کی کھیتیاں ہیں، اس کے علاوہ بھی کوئی ہمارے وجود کا حوالہ بنتا ہے؟
کیا ہمارے بھی کوئی احساسات ہیں یا ہم کوئی جانور ہیں جنہیں ہماری مرضی جانے بغیر کسی بھی کھونٹے سے باندھ دیا جاتا ہے؟
اگر ہماری مرضی کی کوئی اہمیت ہی نہیں تو پھر ہماری کھوپڑیوں میں تعلیم جیسا جوہر انڈیلنے کا کیا مقصد؟
اگر ہماری خود کی سوچ مرد کے تابع ہے تو پھر اپنی نجی سوچ کا کیا کریں؟
پھر اے قادر مطلق! ہماری کھوپڑیوں میں عقل کا کیسا تکلف؟
اگر میرا وجود ہی سراپا برائی یا دعوت شیطانی کا موجب ہے تو پھر میری تخلیق کا تکلف کیسا؟
یہ ایک ایسی بیٹی کے سوالات ہیں جس نے اپنے بل بوتے پر گریجویشن کی اور چند کتابیں پڑھ لیں تاکہ وہ اپنی زندگی ڈھنگ سے گزار سکے، اسے کیا پتہ تھا کہ وہ جو سب اپنے طور پر زندگی کو جاننے یا سمجھنے کی تگ و دو کر رہی ہے وہ اسی کے گلے کا پھندا بن جائے گا اور یہی شعور اسے کاٹنے کو دوڑے گا؟
سوالات کی دستک اس کا جینا حرام کر دے گی، دماغ پر پڑنے والی سوالات کی ضرب اس سے اس کا آرام و راحت تک چھین لے گی؟
شعور آگے کی طرف دھکیلے گا جبکہ سماجی قدغنیں اسے پیچھے کی طرف کھینچیں گی۔
اب یہ بیٹی شعور اور سماجی قدغنوں کے بیچ ایک طویل عرصہ تک جھولتی رہی آخر میں وہی ہوا جس کا اسے خدشہ تھا۔ سماج اور سماج کے کھوکھلے ضابطے جیت گئے اور تن تنہا لڑتی ہوئی ایک باشعور بیٹی ہار گئی، شاید بیٹیوں کی قسمت میں ہارنا ہی لکھا ہوتا ہے کیونکہ ان کے ہاتھ کی لکیریں بھی کب ان کا ساتھ دیتی ہیں؟
ان کی خود کی قسمت ہی کہاں ہوتی ہے، انہیں تو اپنی قسمت بنانے یا چمکانے کے لیے بھی مرد کی رضامندی درکار ہوتی ہے۔ اپنے گھر میں ہوتی ہے تو باپ کی رضامندی چاہیے، اگلے گھر میں شوہر کی۔
آقا یا بیٹن آف کمانڈ بدلتی ہے وجود تو وہی رہتا ہے جسے زمین کا رزق بننے تک اپنے خاتون ہونے کی سزا بہرحال بھگتنا پڑتی ہے۔ یہ میری ایک اسٹوڈنٹ کی دکھ بھری داستان ہے، جس نے روتے ہوئے مجھ سے کہا کہ ” سر! آج آپ کی اسٹوڈنٹ ہار گئی، سماج جیت گیا۔ اب میں اس سوچنے، سمجھنے اور تفکر کرنے والے دماغ کا کیا کروں گی؟“
یہ اب میرے کسی کام کا نہیں رہا، جب میری خود کی زندگی پر میرا کوئی حق یا اختیار ہی نہیں تو پھر عقل و خرد کا کیا کرنا سر؟
آپ کی ساری تعلیم اور میرا خود کا شعوری سفر آج ایک مرد کی انا کے آگے ہار گیا۔
اپنے والد کی پیاری سی فرمانبردار گڑیا بن کے رہنے کے لیے میں نے اپنی تمام تر خواہشات کا گلا گھونٹ دیا۔
گھر سے قدم باہر نکالنا چھوڑ دیا، اپنے والدین کی خاطر جنت کا سہارا بننے کے لیے میں نے ایک مدرسہ سے عالمہ کا کورس بھی کر لیا۔
ایک دن کالج کا منہ دیکھنے کو جی کیا تو انتہائی پردے میں رہتے ہوئے انٹر کا امتحان پاس کیا، انگریزی کی کوچنگ لینے کے لیے سہیلیوں کے ساتھ آپ کے کوچنگ سینٹر کا رخ کیا جہاں پر آپ سے ملاقات ہوئی۔ آپ نے میری ذہنی قابلیت کو جانچتے ہوئے کچھ نصاب سے ہٹ کر پڑھنے کا مشورہ دیا، جسے میں نے بخوشی قبول کر لیا اور شعور کی راہوں پر چل نکلی۔
اس نے روتے ہوئے کہا کہ
” سر! آج آخری بار میں اپنا شعور آپ کو واپس کرنے آئی ہوں، یہ میرے لیے کسی کام کا نہیں ہے سر“
میں نے پلٹ کر پوچھا، بیٹا تمہیں کیا ہوا ہے اتنا بلک بلک کر کیوں روئے چلی جا رہی ہو؟
اس نے جواب دیا کہ
” سر! ساری زندگی اپنے والدین کی خواہشات پر قربان کر دی، صرف یہ سوچ کر کہ والدین کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا اور میرے والدین میری وجہ سے کبھی شرمندہ نہ ہوں، بدلے میں والد سے صرف ایک معصوم سی خواہش کا اظہار کیا تھا کہ پاپا بھلے میرا رشتہ جہاں مرضی کرنا بس اپنی گڑیا کے لیے پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا لڑکا ڈھونڈنا ”
آج میں ہار گئی بلکہ ٹوٹ کر بکھر گئی جب میرے والد نے میرے معصوم سے ارمان کو اپنے پاؤں تلے روندتے ہوئے میرا رشتہ ایک ایسا لڑکے سے طے کر دیا جو کہ بالکل ہی ان پڑھ، اجڈ اور بدتمیز ہے۔
میری حمایت میں، میری والدہ اٹھ کھڑی ہوئی تو میرے والد نے والدہ کو انتہائی ظالمانہ طریقے سے زد و کوب کیا اور طلاق کی دھمکی دے کر ہمیشہ کے لیے چپ کروا دیا۔
ویسے بھی سر میری ماں تو شروع دن سے ہی پٹتی آ رہی ہے، ہم نے بچپن سے گھر میں یہی کچھ تو دیکھا ہے، اب وہی مکروہ سرکل میری زندگی میں بھی شروع ہونے جا رہا ہے۔
میں نے بہت سمجھانے اور ہمت بندھانے کی کوشش کی مگر اس نے سننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ”سر بس اب اور کچھ نہیں“
آپ اپنا شعور اپنے پاس رکھیں کم از کم والدین کی آخری خواہش تو پوری کر کے سرخرو ہو جاؤں۔ میرا کیا ہے سر؟ ہم تو شروع دن سے ہی پرائے ہیں یونہی مر کھپ جائیں گے۔
وہ روتے ہوئے روانہ ہو گئی میرے حصے میں کچھ آنسو اور ڈھیر سارے سوالات چھوڑ گئی۔ جن کا میرے پاس کم از کم فی الوقت تو کوئی جواب نہیں ہے۔


بالکل جھوٹ پر مبنی ہے. والدین کو اولاد کی خوشی سے زیادہ کوئی چیز عزیز نہیں ہوتی.