ہم سب

ہم سب

ہم سب مل کر چلیں گے

  • Live
  • Archive
  • کالم۔
  • بلاگ
  • بی بی سی
  • گوشہ ادب
  • میرے مطابق
  • ا- فیچر
  • اداریہ۔
  • روپ، رنگ اور روشنی
  • کتابیں
کتابیں 

’غبار حیات‘ کا ایک تجزیاتی مطالعہ

30/06/2023 محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی family, father, health, history, literature, love, Politics
     

کہانیاں انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں، لوگ اسے سنتے یا پڑھتے ہوئے نہ صرف یہ کہ اس کے ساتھ خود کو وابستہ کر لیتے ہیں بلکہ دوسروں کے جذبات و احساسات اور دکھ سکھ کو اپنا سمجھ کر کبھی آنسو بہاتے ہیں تو کبھی خوش ہوتے ہیں۔ ایسا لکھنا سب کے نصیب میں نہیں ہوتا، مگر جو ایسا لکھتے ہیں وہ ’فن کار‘ ہوتے ہیں۔

عربی زبان کے ادیب ڈاکٹر عمر فروخ کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے جسے اردو کا جامہ ڈاکٹر شمس کمال انجم نے پہنایا ہے۔ یہ دراصل ایک ادیب، دانشور اور محقق کی خود نوشت ہے۔ اصل کتاب کا نام ’غبارالسنین‘ ہے، اردو میں اسے ’غبار حیات‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ 1980 سے 1982 کے درمیان لکھے گئے کالم کا مجموعہ ہے جو مصر کے معروف اخبار ’النہار‘ روزنامہ ’اللواء‘ اور بیروت سے شائع ہونے والے روزنامہ ’السفیر‘ میں سنیچر کے دن شائع ہوتا تھا۔ مصنف کے بقول:

’میں بہت دنوں سے ان مختصر کالموں کو لکھ رہا ہوں۔ در اصل انھیں میں نے اپنے مجلہ‘ الامانی ’میں شائع کرنا شروع کیا تھا۔ اس مجلے کو میں نے ڈاکٹر محمد خیر نوری، عارف ابو شفراء، محمد علی حرمانی، عبداللہ مشنوق اور ذکی نقاش کے ساتھ مل کر جاری کیا تھا جو 1939 ء سے 1941 ء تک شائع ہوتاررہا، اس میں، میں نے ان کالموں میں سے الصدرالاعظم ( 23 ؍ 1 ؍ 1939 ) ، کسری والحلاق ( 3 ؍ 2 ؍ 1939 ) صلوٰۃالجمیل ( 24 ؍ 3 ؍ 1939 ) او ر قریۃ النمل ( 28 ؍ 7 ؍ 1939 ) نامی کالم شائع کیے۔ ‘ (صفحہ: 21 )

کتاب میں کیا ہے اس کے بارے میں مصنف کہتے ہیں : ’یہ کتاب میری زندگی کی تاریخ نہیں ہے بلکہ میری زندگی کے متفرق واقعات کا آئینہ ہے۔ ایسا آئینہ جو میرے نقش قدم کی تصویر کشی کرتا ہے۔ ‘ (صفحہ: 17 )

کتاب کے مشمولات کے بارے میں اور ڈاکٹر شمس کمال انجم نے اس کو اردو میں کیوں پیش کیا ہے اس پر گفتگو کرنے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے، یہ جان لیا جائے کہ ڈاکٹر عمر فروخ کون تھے اور ان کا تعارف کیا ہے؟

ڈاکٹر عمر فروخ ( 1906۔ 1987 ) ء ایک لبنانی مصنف اور استاد تھے۔ ان کی پیدائش بیروت میں ہوئی تھی اور انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم سرکاری اور نجی اسکولوں سے حاصل کی تھی۔ انھوں نے 1919 ء میں بیروت میں امریکن یونیورسٹی کے ابتدائی اسکول میں داخلہ لیا۔ بیچلر آف سائنس کی ڈگری امریکن یونیورسٹی آف بیروت سے حاصل کی اور نابلس (فلسطین) کے النجا نیشنل اسکول میں تاریخ اور طبعی جغرافیہ کے استاد کے طور پر کام کیا۔ انھوں نے 1937 میں جرمنی سے پی ایچ۔ ڈی کیا تھا۔ انھیں عربی، ترکی اور فرانسیسی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ دار المعلمین العالیہ اور دمشق یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر کے ساتھ، المجمع العلمی العربی دمشق کے علاوہ مختلف علمی و ادبی اکیڈمیوں کے ممبر رہے۔ انھوں نے عربی زبان و ادب کے علاوہ فلسفہ اور اسلامیات پر درجنوں گرانقدر علمی سرمایہ چھوڑا ہے۔ ’غبارالسنین‘ یعنی ’غبار حیات‘ بھی انھیں کتابوں میں سے ایک ہے۔

ڈاکٹر شمس کمال انجم نے اس کتاب کا خوبصورت، رواں اور سلیس ترجمہ کیا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ مترجم خود ایک اچھے شاعر، مصنف اور محقق ہیں، زبان و ادب پر ان کی اچھی گرفت ہے، اس کا عکس بھی اس کتاب میں نظر آتا ہے۔ انھوں نے عربی کی بڑی وقیع اور اہم کتابوں کو اردو میں ترجمہ کیا ہے جب کہ درجنوں تالیفات وتصنیفات علمی دنیا کو دیے ہیں۔ فی الحال وہ بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری، جموں وکشمیر میں پروفیسر ہیں۔

کتاب کے شروع میں تقریباً 40 صفحات پر مشتمل مترجم کے قلم سے وقیع مقدمہ ہے، جس میں مترجم نے خود نوشت کی روایت اور خصوصی طور پر عربی زبان و ادب میں اس کی ابتدا اور تاریخی حوالے سے خود نوشتوں اور تذکروں پر فاضلانہ گفتگو کی ہے، جس سے نہ صرف سوانحی ادب پر ان کی گرفت کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ اس بات کا بھی ادراک ہوتا ہے کہ کتنے مراحل سے گزرتے ہوئے اس فن کو شناخت ملی اور علم و ادب کے کیسے کیسے شہ پارے کس طرح وجود میں آئے؟

مقدمہ کے بعد تقریباً گیارہ صفحات پر مشتمل ’غبار حیات: ایک تجزیاتی مطالعہ‘ کے عنوان سے ایک معلوماتی مضمون بھی شامل ہے جس میں ڈاکٹر شمس کمال انجم نے مختلف عناوین کے تحت کتاب پر تبصرہ اور تجزیہ کیا ہے جو ایک عام انسان کو کتاب پڑھنے پر ابھارتا ہے۔ یوں تو انھوں نے اس مضمون میں سلیقے سے کتاب کے ماحصل اور روح کو سمیٹ دیا ہے لیکن مکمل کتاب کا مطالعہ بھی کم دلچسپ اور معلوماتی نہیں ہے۔

اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت اس کے مضامین کا مختصر ہونا ہے یعنی مصنف تین چار صفحے یا پھر زیادہ سے زیادہ پانچ سات صفحات میں اپنی بات سمیٹ دیتے ہیں۔ لکھنے کا انداز بھی چوں کہ واقعاتی اور داستانوی ہے، اس لیے قاری بوجھل بھی محسوس نہیں کرتا اور ایک نشست میں پوری کہانی پڑھ لیتا ہے اور پھر ایک کے بعد دوسری پھر تیسری، چوتھی، پانچویں پڑھتے ہوئے پوری کتاب ختم کر کے دم لیتا ہے اور پڑھنے کے بعد اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

اس کتاب کی ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں شامل تقریباً ہر واقعہ دل پذیر اور سبق آموز ہے۔ عام طور پر خود نوشتوں میں بات کو جس انداز سے بڑھا چڑھا کر اور رومانٹک انداز میں بیان کیا جاتا ہے، اس سے اس میں گریز کیا گیا ہے جس سے کتاب کی حیثیت محض ادبی نہ ہو کر مقصدی ہو گئی ہے۔ خصوصاً نوجوانوں کے لیے تو یہ کتاب ایک اکسیر ہے۔

اپنی اسی کتاب میں ڈاکٹر عمر فروخ نے اپنے بچپن سے لے کر عمر کے ستر سال تک کی کہانی کو بڑے ہی خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ جس سے عربوں کے طرز معاشرت کے ساتھ ساتھ مغرب اور اہل مغرب کی بھی سماجی و سیاسی صورتحال کا پتہ چلتا ہے۔ متعدد جگہوں پر وہ عرب اور عجم کا موازنہ بھی کراتے ہیں، جس سے کتاب کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔ مثلاً ہٹلر کا زمانہ جسے انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، اس کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں :

’اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ معاملات کی ترتیب اور درستگی کو استبداد کہتے ہیں تو آپ یہ سمجھ لیں کہ جرمنی اس وقت استبداد کی بلندی پر تھا۔ مثال کے طور پر اگر بلغاریہ سے انڈے آجانا بند ہوجاتا یا کسی موسم میں جرمنی میں پنیر کا پروڈکشن کم ہوجاتا اور آپ کسی ایسی دکان میں داخل ہوتے جہاں ایک ہی انڈا ہوتا یا ایک پاؤ پنیر ہوتی تب بھی آپ اس انڈے اور اس پنیر کو اسی قیمت میں خریدتے جس قیمت میں آپ نے کل یا اس سے پہلے خریدا تھا۔‘ (صفحہ: 145 )

کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے کس قدر تکلیف اور مشقت کی زندگی گزاری ہے۔ سماج میں لوگ عام طور پر ایک کامیاب انسان کی زندگی کے محض اس پہلو کو دیکھتے ہیں جو انھیں نظر آتا ہے، لوگ ماضی اور شہرت و ناموری سے قبل محنت و مشقت کے ان ایام کو بھول جاتے ہیں جس سے کوئی شخص گزر کر ایک شخصیت کا روپ لیتا ہے۔ ہمارے ملک کے سابق صدر اے پی جے عبدالکلام کی طرح مصنف کی ابتدائی زندگی بھی بڑی مشکلات سے بھری رہی۔ پیٹ پالنے کے لیے انھوں نے بیت الخلاء صاف کیا۔ اخبار فروخت کیا، ٹیوشن پڑھائے۔ لفافہ سازی کا کام کیا۔ چنانچہ عمر فروخ ایک جگہ فرماتے ہیں :

’عجیب بات یہ ہے کہ جب آپ محتاجی اور دولت و ثروت کی بات کرتے ہیں تو زیادہ تر لوگوں کا خیال مال کی قلت و کثرت کی طرف ہی جاتا ہے۔ جب کہ حقیقی محتاجی لوگوں کے ذہن و دماغ میں پائی جانے والی محتاجی ہے نہ کہ ان کے جیب میں پائی جانے والی محتاجی۔‘ (صفحہ: 90 )

اس کتاب میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ تقریباً ساڑھے تین سو صفحات کی کتاب سے ساری چیزیں تو نقل نہیں کی جا سکتیں، تاہم مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کچھ چیزوں کا ذکر ہو، تاکہ جو لوگ پوری کتاب نہیں پڑھ سکتے کم از کم اس مضمون سے ان کے پیغام کو پا سکیں۔

کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف تعلیم اور اس کی اہمیت پر بڑا زور دیتے ہیں چنانچہ ایک جگہ وہ کہتے ہیں :

’علم در اصل شائع شدہ کتابوں میں قید نہیں ہوتا، اسے کتاب فطرت سے بھی اخذ کیا جاسکتا ہے۔ ‘ (صفحہ: 92 )

اسی مضمون میں ’لفظوں کی تصویر کشی‘ عنوان سے گفتگو میں ایک جگہ فرماتے ہیں :

’جب میں یہ بات کہتا ہوں کہ ڈگری سے فی نفسہ کوئی فائدہ نہیں تو بہت سارے لوگ میری یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں جب کہ ڈگری تو دراصل صرف ایک کنجی ہے جس کے ذریعہ زندگی کا دروازہ کھولا جاتا ہے۔ اس کے کھل جانے کے بعد اس کنجی کی کوئی قیمت نہیں رہ جاتی۔ یہ بے کار ہوجاتی ہے۔ ‘ (صفحہ: 93 )

اساتذہ کے تعلق سے ایک جگہ فرماتے ہیں :

’حقیقت یہ ہے کہ تعلیم و تربیت اسکولوں کی عمارتوں میں حاضری کا نام نہیں ہے۔ نہ ہی تعلیم و تربیت استادوں کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے کا نام ہے۔ تعلیم و تربیت یہ ہے کہ طلبہ کا اساتذہ کے ساتھ اختلاط ہو، ایک دوسرے کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہو۔ اساتذہ طلبہ کی تعلیم و تربیت کا اسی طرح اہتمام کریں جس طرح باپ اپنے بچوں کی تعلیم و تربت کا اہتمام کرتا ہے۔ ‘ (صفحہ: 97 )

تربیت کے حوالے سے کچھ واقعات کا تذکرہ کرنے کے بعد جو والدین یا اساتذہ شاکی ہوتے ہیں کہ ان کی اولاد بگڑ گئی اس پر کہتے ہیں کہ:

’یہ فضول سی بات ہے کہ کھلے پن، ایڈوانس منٹ اور موڈرن ازم کے نام پر ہم اپنے بچوں کو بیس سال چھوڑ دیں۔ وہ جو سمجھ میں آئے کریں۔ یا ان کے ساتھ دوسرے لوگ جو چاہیں کریں۔ پھر اس کے بعد ایک دن اس کے کسی کام پر ہم اس کی سرزنش کریں۔ میں یہ بات کہنا بھولنا نہیں چاہتا کہ‘ قدوۂ حسنہ ’تربیت کی پہلی بنیاد ہے۔ ہر بچے کے اہل خانہ کے لیے ضروری ہے کہ بچے کی موجودگی اور اس کی غیر حاضری دونوں حالات میں صحیح اخلاقیات کا مظاہرہ کریں۔ کیوں کہ باپ بچے سے چھپ کر؛ جو بھی حرکتیں کرتا ہے کسی نہ کسی دن بچہ انھیں جان ہی لیتا ہے۔ ”(صفحہ: 106 )

کتاب میں اس زمانے کی ادبی چشمک اور معرکہ آرائی کا بھی ذکر ہے۔ چنانچہ ایک جگہ مجمع اللغہ العربیہ قاہرہ کے حوالے سے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ڈاکٹر طہٰ حسین نے ایک تجویز پیش کی جس میں انھوں نے مطالبہ کیا کہ عربی کے حروف تہجی کے ساتھ کچھ اور حروف کا اضافہ کیا جائے۔ مصنف نے دریافت کیا کہ آخر اس مطالبے کا سبب کیا ہے؟

ڈاکٹر طہٰ حسین نے دو ٹوک لفظوں میں جواب دیا کہ اگر ہمارے یہاں یہ زائد حروف نہ ہوں گے تو ہم ’فیکتر ہوجو‘ جیسے غیر عربی لفظ کو آخر کس طرح درست طریقے سے لکھ سکیں گے؟ مصنف کہتے ہیں :

’میں نے کہا فرض کریں اگر جن حروف کے اضافے کی تجویز آپ پیش کر رہے ہیں اگر ان سے فرانسیسی زبان کے ناموں کا مسئلہ حل ہو جائے گا جو کہ درست نہیں ہے لیکن ایسی صورت میں ترکی، فارسی، انگریزی، جرمن، اسپانوی اور چینی زبانوں میں وارد ناموں کا مسئلہ کس طرح حل ہو گا۔ اور میں نے طہٰ حسین کی تجویز کے بجائے اپنی تجویز پر ووٹنگ کا مطالبہ کر دیا۔ مگر ووٹنگ میں میری تجویز کو شکست ہو گئی۔

اس وقت عباس محمود عقاد اپنے بھاری بھرکم قدوقامت کے ساتھ کھڑے ہوئے اور اپنی پرسکون اور پختہ آواز میں گویا ہوئے : فلاں صاحب درست کہہ رہے ہیں ہمارے لیے جائز نہیں ہے کہ ہم عربی زبان میں اس طرح کا دروازہ کھولیں۔ ان سے کہا گیا یہ تجویز ابھی نہیں پیش کی گئی ہے بلکہ اس کمیٹی کی پیش کردہ ہے جس کے صدر طہٰ حسین ہیں۔ عقاد نے کہا اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ ہم دوسری کمیٹی بنا لیتے ہیں۔

چنانچہ عقاد کی اس دفاعی تقریر کا فائدہ یہ ہوا کہ دوبارہ ووٹنگ ہوئی اور عربی حروف تہجی میں کچھ نئے حروف کی تجویز کو اس بار شکست حاصل ہوئی۔ ’(صفحہ: 229 )

مصنف نے آگے لکھا ہے کہ حالاں کہ عقاد کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے نہ تھے اور انھوں نے اپنے پرچے میں ان کے خلاف لکھا بھی تھا لیکن تہذیب اور ثقافت کی بات آئی تو انھوں نے ان کا ساتھ دیا اور ان کی وجہ سے عربی زبان ایک ایسی تجویز سے نجات پا گئی کہ اگر مجمع اللغہ العربیہ نے طہٰ حسین کی تجویز کو تسلیم کر لیا ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اس تجویز کے کیا اثرات مرتب ہوتے اور کہاں تک ہوتے؟

کتاب میں ایک جگہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے بڑی خوبصورت بات نقل کی ہے۔ یہ بات انھوں نے 3 اکتوبر 1910 ء میں شیخ احمد عباس ازہری کے اخبار ’الحقیقہ‘ میں شائع ایک فلسطینی قاری کی معرفت بیان کی ہے، صہیونیوں کی کوششوں اور ریشہ دوانیوں کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں :

’فلسطین میں رہائش اختیار کرنے پر ہمیں یہودیوں کو ملامت نہیں کرنی چاہیے۔ نہ ہی ان کی کوششوں اور کاوشوں پر تنقید کے تیر چلانے چاہئیں۔ بلکہ ہمیں ان فلسطینیوں کو ملامت کرنی چاہئیں جو خواب غفلت سے ابھی بھی بیدار نہیں ہو رہے ہیں۔ زندگی کی یہ حقیقت ہے کہ زندگی میں کچھ غافل لوگ ہوتے ہیں اور کچھ باہوش، کچھ کوشش وکاوش کرتے ہیں اور کچھ سست اور کاہل ہوتے ہیں۔ اسی طرح کچھ ذہین ہوتے ہیں تو کچھ احمق، لیکن ان تمام سے زیادہ نقصان دہ وہ دشمن خدا ہوتے ہیں جو اپنی سرکی آنکھوں سے صبح کو طلوع ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں اور پھر بھی وہ اپنے بستروں پر پڑے ہوتے ہیں کیوں کہ وہ رات بھر شب بے داری کر رہے ہوتے ہیں۔

لہو لعب میں سرمست ہوتے ہیں۔ جب کہ ان کا دشمن بڑی سنجیدگی سے جاگ رہا ہوتا ہے۔ جب یہ لوگ خواب غفلت سے بیدار ہوں گے اور دیکھیں گے کہ شر نے انھیں ہر سمت سے گھیر لیا ہے تو وہ چیخنا شروع کریں گے اور ہمیں معلوم نہیں ہو سکے گا کہ ان کی اس چیخ کا مقصد کیا ہے۔ کیوں کہ انھیں خود پتہ نہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ کون سارا ستہ اختیار کر رہے ہیں پھر وہ اپنی چیخ و پکار سے لوگوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ ‘ (صفحہ: 253 )

کتاب سے کچھ خوبصورت اور کار آمد باتیں ملاحظہ فرمائیں۔ ’اگر آپ اپنے گھر میں خوش نہیں ہوں گے تو آپ کسی بھی جگہ خوش نہیں ہوسکتے۔ اگر آپ اپنے آپ میں خوش نہیں ہوں گے تو آپ دوسروں سے خوشیاں حاصل نہیں کر سکتے۔ ‘ (صفحہ: 261 )

’لوگ جب محرومی کا ذکر کرتے ہیں تو وہ عام طور سے مال و دولت کی قلت کو محرومی سمجھتے ہیں۔ یہ سوچ غلط ہے کیوں کہ انسان اپنی بہت ساری مادی ضرورتوں سے بے نیاز ہو کر بھی اچھی صحت، اچھی حالت اور اچھے مقام و مرتبے کا حامل ہو سکتا ہے۔ محرومی یہ ہے کہ انسان کو کوئی سوچ محاصل ہو مگر وہ اس سوچ کا درست استعمال کرنے سے قاصر ہو۔‘ (صفحہ: 292 )

’مختلف مذاہب کے لوگ اس وقت تک امن و امان کی زندگی باہم نہیں گزار سکتے ہیں جب تک کہ ان میں بہت سارے مسائل ہر اتفاق رائے نہیں ہوجاتا۔ ان کے اندر آپس میں مفاہمت نہیں ہوجاتی۔ بلا شبہ ڈائلاگ کرنے والے فریقین کے درمیان کبھی کبھی ڈائیلاگ کسی اچھی چیز پر جاکر ختم ہوتا ہے۔ ‘ (صفحہ: 300 )

’اشیاء کی ظاہری اور باطنی چیزوں کی معرفت کے لیے ضروری نہیں ہے کہ آپ انتظار کریں یہاں تک کہ آپ کے کاندھوں پر آپ کی زندگی کا غبار جمع ہو جائے بلکہ دوسروں کے کاندھوں پر جمع ہو جانے والے غبار کو بھی آپ دیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ زندگی میں کوئی بھلائی کا کام کریں تو ہو سکتا ہے کہ آپ کسی ایسے شخص کو نہ پائیں جو آپ کے کام کی کما حقہ یا تھوڑا بہت بھی قدر کرسکے۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ ایسے بھی ہوں جو آپ کے کام کو برا سمجھیں۔ ہاں اگر آپ کوئی کام برا کریں تو کوئی آدمی اس پر آپ کے ساتھ خیر کا معاملہ نہیں کرنے والا۔ خیر کے ساتھ شر کے مکافات عمل کو فرض کرنا انسانی منطق اور الٰہی عدل و انصاف کے بھی مخالف ہے۔ ‘ (صفحہ: 313 )

’طلبہ کے لیے سب سے آسان فنون علم و معرفت ہونا چاہیے۔ کیوں کہ حساب کا جو قاعدہ طالب علم ایک بار سیکھتا ہے وہ اس کے ذہن میں ہمیشہ کے لیے نقش کالحجر ہوجاتا ہے کبھی بھی نہیں بدلتا۔ جہاں تک تاریخ سیاست اور فلسفے کی بات ہے تو یہ اسے فنون ہیں جن کے مسائل بدلتے رہتے ہیں۔ ہر جگہ ان کے الگ قاعدے اور ضابطے ہوتے ہیں۔ ہر زمانے میں ان کے مسائل اسباب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر شخص اس میں خاص طرح کی تاویلات گھڑتا رہتا ہے۔ ‘ (صفحہ: 319 )

’ابن خلدون نے کہا ہے کہ تلاش علم کے لیے سفر کا مطلب علم سیکھنا نہیں ہوتا بلکہ ان کے بقول تلاش علم کے لیے سفر کا مطلب ہے، تلاش علم میں کمال پختگی اور یہ ایسی غایت ہے جس کا حصول لوگوں سے اختلاط کے بغیر ممکن نہیں، تاکہ انسانی آزمائش کا مرحلہ ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہو جائے۔ ‘ (صفحہ: 131 )

’کچھ لوگوں کے لیے یہ بڑی خوش نصیبی کی بات ہوتی ہے کہ وہ کسی عظیم اور مشہور آدمی کے زمانے میں جیتے ہیں۔ ابن اشیق کے نزدیک شہرت کی کئی نوعیت ہو سکتی ہے۔ لیکن عظیم آدمی کی تعریف میں لوگوں کا اختلاف ہے۔ پھر بھی کم ازکم ایک ایسی تعریف ہے جس پر سب کا اتفاق ہونا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ عظیم آدمی وہ ہے جو اپنے بعد برے نفع بخش اثرات چھوڑ کر جاتا ہے۔ ‘ (صفحہ: 145 )

’قدیم حکیمانہ مقولہ ہے! بادشاہوں کے ساتھ مت اٹھو بیٹھو۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر وہ تم سے محبت کرتے ہیں تو تمہیں رسوا کرتے ہیں اور اگر تم سے نفرت کرتے ہیں تو تمہیں قتل کروا دیتے ہیں۔ ‘ (صفحہ: 158 )

یہاں پر ہم نے محض نمونے کی خاطر کچھ اقتباسات نقل کیے ہیں، ورنہ پوری کتاب میں اس قسم کی عبارتیں بھری پڑی ہیں، جس سے ایک طرف زبان کے رمز کا پتہ چلتا ہے وہیں دوسری جانب علم و دانش کے در وا ہوتے ہیں۔

کتاب کے اخیر میں تقریباً 17 صفحات پر مشتمل مصنف کی مختصر سوانح حیات ہے۔ جس میں انھوں نے قدرے تفصیل سے اپنی زندگی کے مختلف پڑاؤ کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں بچپن سے لے کر عمر کے آخری ایام کی ایک سر سری کہانی بیان کی گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسے کتاب کا خلاصہ بھی کہہ سکتے ہیں۔

کتاب میں ضرب الامثال، اشعار، محاورات اور عرب تمثیلات کا کثرت سے استعمال ہوا ہے جس سے زبان کی نازکی اور اس کی باریکی کا اندازہ ہوتا ہے۔ کئی جگہوں پر مصنف عام روش سے ہٹ کر اشعار سے وہ نکات نکال کر لاتے ہیں جہاں عام آدمی کی نگاہ نہیں جاتی، ایسے میں پڑھنے والا عش عش کیے بغیر نہیں رہتا۔ مثلاً احمد شوقی کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں :

نظر فابتسام فسلام
فکلام فموعدفلقاء
(یعنی نظر ملتی ہے، پھر مسکراہٹ، پھر سلام، پھر گفتگو، پھر وعدہ اور پھر ملاقات تک بات جا پہنچتی ہے۔ )
ڈاکٹر عمر فروخ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :
’آپ ملاقات تک پہنچنا ہی نہیں چاہتے تو لازم ہے کہ آپ نظر سے اس کی شروعات بھی نہ کریں۔ ‘ (صفحہ: 165 )

کتاب میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ لڑکیوں کو جب اپنی کسی سہیلی تک ملاقات کے لیے گھر والے اجازت نہیں دیتے تھے تو وہ عمر سے ملنے کا جھوٹا بہانا بنا کر اپنی سہیلیوں سے ملنے جاتی تھی۔ یہی وہ وجوہات تھیں کہ جب ڈاکٹر عمر فروخ تعلیم مکمل کر کے جرمنی سے اپنے وطن لوٹ رہے تھے تو ان کے استاد رو رہے تھے، فروخ نے رونے کی وجہ دریافت کی تو انھوں نے کہا کہ لوگوں کی پاک دامنی کے بارے میں کتابوں میں پڑھا تھا، اسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

بحیثیت مجموعی ’غبار حیات‘ ایک عمدہ کتاب ہے۔ ڈاکٹر شمس کمال انجم نے اس کا خوبصورت ترجمہ بھی کیا ہے۔ یہ کتاب بہت سبق آموز ہے۔ اسے خصوصی طور پر والدین اور نوجوانوں کو پڑھنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ اتنی اچھی کتاب کا ترجمہ کرنے پر ڈاکٹر شمس کمال انجم مبارک باد کے مستحق ہیں۔ اس کتاب کو ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس ( نئی دہلی) نے شائع کیا ہے جس کی قیمت 209 روپے ہے۔

Facebook Comments HS

     

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

محمد علم اللہ نوجوان قلم کار اور صحافی ہیں۔ ان کا تعلق رانچی جھارکھنڈ بھارت سے ہے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تاریخ اور ثقافت میں گریجویشن اور ماس کمیونیکیشن میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ فی الحال وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’ڈاکٹر کے آر نارائنن سینٹر فار دلت اینڈ مائنارٹیز اسٹڈیز‘ میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے دلچسپ کالم لکھے اور عمدہ تراجم بھی کیے۔ الیکٹرانک میڈیا میں انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کے علاوہ راموجی فلم سٹی (حیدرآباد ای ٹی وی اردو) میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے طور پر کام کیا، وہ دستاویزی فلموں کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے نظمیں، سفرنامے اور کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ کئی سالوں تک جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پر بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں۔ ان کی دو کتابیں ”مسلم مجلس مشاورت ایک مختصر تاریخ“ اور ”کچھ دن ایران میں“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔

muhammad-alamullah has 182 posts and counting.See all posts by muhammad-alamullah