بیروت سے ”کل عام و انتم بخیر“
دوستان گرامی کی خدمت میں عید الاضحی کی مبارک باد۔ بلاد الشام میں عید سعودی عرب میں یوم عرفہ کے اگلے دن یعنی اٹھائیس جون کو طے تھی۔ اس خادم کو بیروت میں کچھ سرکاری کام اور آگے کا سفر درپیش تھا، لہذا سوچا کہ ایک روز پہلے ہی دمشق سے کوچ کیا جائے تاکہ ڈرائیور بے چارے کو عید اپنے اہل خانہ کے ساتھ منانے کا موقع ملے۔
احباب کو خبر ہوگی کہ ڈھائی سال قبل اہل لبنان کے ایک طبقے کو ”تبدیلی“ کا بخار بہت زور سے چڑھا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ لبنانی سیاست میں فرقہ ورانہ نفاق کا جو بیج فرانسیسی سامراجی بو کر گئے تھے اس نے اس معاشرے کو مستقل تناؤ اور تقسیم کا شکار رکھا ہوا ہے۔ ایک نہایت پیچیدہ آئینی بندوبست کے تحت رائے شماری کا عمل مذہبی بنیاد پر ہوتا ہے۔ پارلیمان میں نشستیں سن چالیس کی مردم شماری کے تناسب سے ہر فرقے کے لیے مخصوص ہیں۔ چنانچہ کسی بھی قومی ترقیاتی پالیسی کے لیے اتفاق رائے کا حصول ناممکن ہوجاتا ہے۔ اس تقسیم کا بدترین اظہار خون ریز خانہ جنگی کی شکل میں ہو چکا ہے۔ اوپر سے ہمسایہ ممالک کا لبنانی سیاست میں عمل دخل اور دہائیوں سے یہاں مقیم لاکھوں فلسطینی اور گزشتہ دس سال کے دوران آنے والے شامی مہاجرین کی موجودگی بھی ایک مستقل درد سر ہے۔
البتہ اس صورت حال کے خلاف تبدیلی کی جو تحریک ڈھائی سال قبل اٹھی، اس کی کوئی واضح سیاسی سمت نہیں تھی۔ طریقہ کار وہی جانا پہچانا سوشل میڈیا ٹرینڈز، دھرنوں اور بلند بانگ مگر مبہم جذباتی نعروں والا تھا، جو اس بات پر تو کم و بیش متفق تھے کہ کیا غلط ہے، مگر اس بارے میں کچھ پتا نہیں تھا کہ کیا ہونا چاہیے۔ قیادت اوپری درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے بے روزگار نوجوانوں کے ہاتھ میں تھی جن میں کوئی دانشور، کوئی ماہر سیاسیات یا اقتصادیات نہیں تھا۔ بلکہ کوئی باقاعدہ تنظیم یا سیاسی جماعت ہی نہیں تھی۔ اس سے تبدیلی وغیرہ تو خیر کیا آتی، سرمایہ کاروں کا برسوں سے باریک دھاگے سے بندھا اعتماد گر کر ریزہ ریزہ ہو گیا۔ سرمایہ ملک سے پرواز کر گیا۔
دو دہائیوں سے ڈالر اور لبنانی لیرے کی شرح تبادلہ ایک اور پندرہ سو پر مستقل قائم ہوا کرتی تھی۔ بینکوں کے اعتماد کا یہ عالم تھا کہ ہر اے ٹی ایم سے آپ ڈالر یا لبنانی لیرا، جو چاہیں نکال سکتے تھے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ڈالر کے بدلے میں ترانوے ہزار لیرا مل رہا ہے۔ حقیقی معنوں میں بھی منہگائی پہلے کی نسبت کوئی تین سو فی صد ہو چکی ہے۔ پڑھے لکھے اور ہنر مند لوگوں میں جس کا بس چل رہا ہے، وہ ملک سے باہر جانے کی سوچ رہا ہے۔
سو، ایسے میں خادم بھاری دل لیے وارد بیروت ہوا۔ نماز عید یہاں کے رواج کے مطابق فجر کے بعد تکبیرات و تہلیلات کے مختصر وقفے کے بعد مساجد میں ادا ہوئی، سورج چڑھا تو پرائے وطن میں تنہا عید کے ملال کا مداوا اسی میں نظر آیا کہ شارع پیمائی کی جائے۔ اہل بیروت کی عید کا نظارہ کیا جائے۔ سمندر کے کنارے کنارے ایک خوبصورت روش بنام کورنیش، تین چار میل چلتی ہے۔ اس پر لوگ اہل خانہ کے ساتھ، بنے ٹھنے سیر کرتے نظر آئے۔ اس خادم کا بچپن وطن عزیز بلوچستان میں گزرا ہے۔ عید کے دن کی سب سے بڑی عیاشی نئے جوتے کپڑے اور عید گاہ سے واپسی پر والد صاحب کا رنگین غبارے لے کر دینا ہوتا تھی۔ پتا نہیں عید اور غباروں کا یہ امتزاج کہاں سے آیا جو یہاں بھی جاری و ساری تھا۔
ہمارے بھارتی ہم کار اور ڈھاکہ کے قیام کے زمانے کے دوست کشور کمار سنگھ صاحب ان دنوں بیروت میں تعینات ہیں۔ ان سے سرکاری کام کے بہانے تجدید ملاقات مقصود تھی۔ بارے کشور صاحب کا کچھ بیان ہو جائے۔ تعلق بہار سے ہے، کٹر سیکولر پنتھی اور دنیا، خصوصاً اپنے وطن بھارت میں فرقہ ورانہ منافرت کی سیاست کے شمشیر برہنہ مخالف ہیں۔ علم الانسان میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور مدت تک دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پڑھاتے رہے ہیں۔ وہ ”راس بیروت“ نامی سنی مسلمانوں کے محلے میں رہتے ہیں۔ بحری جہازوں کو راستہ دکھانے والا بیروت کا قدیمی مینارہ نور اسی راس بیروت میں واقع ہے اور کشور صاحب کا دولت کدہ اس کے برابر میں ہے۔
سچ پوچھیں تو ہم جنوبی ایشیائی لوگوں کے لیے عید الاضحی کا تصور گلیوں میں بندھے جانوروں، گوبر، مینگنوں، چارے، آنت اوجھڑی کی لپٹوں اور جابجا خون اور آلائش کے نظاروں کے بغیر ذرا نامکمل رہتا ہے۔ باقی جگہ تو چلو ”کرسٹانوں“ کی اکثریت کی آبادی ہے۔ لیکن راس بیروت کو بھی باقی شہر کے مانند پاک صاف پا کر گھر جیسا ماحول دیکھنے کا شوق ناتمام رہ گیا حالانکہ ”اب تلک تو یہ توقع تھی کہ واں ہو جائے گا“ ۔ شام کو اپنی قیام گاہ کے قریب واقع مسجد کے امام صاحب سے، جو یہاں کے سنی اوقاف کا مرکز ہے اور دارالافتاء بھی، اس بابت استفسار کیا۔ اندازہ ہوا کہ امام صاحب قربانی کو صرف حاجیوں کے لیے فرض اور غیر حاجیوں کے لیے مستحب ماننے والوں میں سے ہیں۔ مستحب عمل کا شوق اور استطاعت رکھنے والوں کے لیے الگ سرکاری، اور مسلم اوقاف کے زیر اہتمام بھی بوچڑ خانوں کا انتظام ہے جہاں رجسٹرڈ قصاب حفظان صحت اور شریعت کے اصولوں کے مطابق یہ عمل سر انجام دیتے ہیں۔ ایک بار تو ہڑک اٹھی کہ انہیں نئے سرے سے اسلام سیکھنے کے لیے پاکستان، ہندستان یا بنگلادیش آ کر ”وقت لگانے“ کی دعوت دوں، پھر خدشہ ہوا کہ ”الٹے بانس بریلی کو“ کا عربی مترادف محاورہ سنا کر امام صاحب شرمسار نہ فرما دیں۔
شام گئے سورج ڈھلا تو کورنیش کی رونق میں چار چاند لگ گئے۔ ہر سمت اشیائے خورد و نوش کی عارضی دکانیں نمودار ہو چکی تھیں، بشمول وہ چیز جو بالوں کی شکل کی مٹھائی ہوتی ہے اور جس کا مقصد بچوں کے کپڑے، ہاتھ پیر چپچپے کرنے کے سوا کچھ سمجھ نہیں آتا، جسے ہمارے انگریزی میڈیم بچے ”کینڈی فلاس“ اور عرب ”شعر البنات“ کہتے ہیں۔ اور رنگین غباروں کا تو پوچھیے ہی مت۔ کئی جگہ بے فکرے نوجوان ڈھول کی تھاپ پر نصف دائرے میں ”دبکہ“ نام کا روایتی رقص کرتے مگن ملے۔ یہ خادم ان کی سیر دیکھتے اور لوگوں سے ”کل عام و انتم بخیر“ کہتا رات گئے اپنے ٹھکانے پر لوٹ آیا۔








