بلو کی کلیجی جل گئی
بلو کو منڈی میں دیکھتے ہی ابا اس پر فریفتہ ہو گئے۔ ”ماشا اللہ ماشا اللہ“ کہتے نہیں تھکتے تھے۔ ”بھرا ہوا جسم، چوڑے پٹھے، صحت مند ٹانگیں، سینگ ایسے، جیسے کسی حسینہ کی ستواں ناک۔ اور آنکھیں تو ایسی غضب کی، دیکھنے سے جی نہیں بھرتا تھا۔“ ابا اس کے حسن و شباب کے قصیدے ہر کسی کو بٹھا کر سناتے تھے۔
ابا نے ایک بیل کی بات تقریباً پکی کردی تھی۔ بس دو چار ہزار اور توڑنے کے چکر میں ان کی نگاہ بلو پر پڑ گئی۔ اور اس سفید رنگ کی خوبصورت گائے کو دل دے بیٹھے، جس پر نیلے رنگ کا نقش و نگار کیا گیا تھا۔ لگتا ہے کہ بلو کا مالک بھی اس کے شدید عشق میں مبتلا تھا۔ تبھی بڑے چاؤ سے اپنے محبوب کو سجا کر بازار میں لایا تھا۔ کیا کرتا بیچارہ ”تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے“ ۔
مجھے لگتا ہے، ان بیوپاروں کے مال میں ایک جانور تو ضرور ایسا ہوتا ہو گا، جس کو بیچتے ہوئے ان کا بھی کلیجہ منہ کو آتا ہو گا۔ انمول سمجھ کر وہ قیمت بھی ایسی رکھتے ہوں گے کہ خریدنے والا اس کی جان لینے سے پہلے اس پر جان چھڑک دے۔ اس کے بارے میں ان کا رویہ ”خریدنا ہے خریدو ورنہ اپنا رستہ لو“ والا ہوتا ہے۔ سو پچاس کی تکرار کو وہ اپنے محبوب کی شان میں بے عزتی سمجھتے ہیں۔
بلو کا مالک بھی اپنی لخت جگر کی قیمت پر ایسا اڑ گیا تھا کہ میرے باپ کا ہاتھ بری طرح سے جھٹک دیا۔ جب وہ قیمت کم کرنے کے لئے اس کی داڑھی پکڑ کر منتیں کر رہے تھے۔ بلو کے لئے ابا یہ بدتمیزی بھی برداشت کر گئے اور ایڈوانس دے کر سیدھے موبائل مارکیٹ پہنچے اور اپنا
Non PTA approved
موبائل بیچ دیا۔ جو دوچار دن پہلے تایا جان ان کے لئے دبئی سے لے کر آئے تھے۔ کمال کا کیمرا تھا اس کا ۔ اس سے آخری ویڈیو بلو کی ہی بنائی گئی تھی۔ ایک دم چکاس۔
ابا جتنے پیسے جیب میں ڈال کر گئے تھے۔ ان میں بھی اچھا خاصا جانور سوزوکی چڑھ کر آنا تھا۔ مگر بلو نے بجٹ آؤٹ کر دیا تھا۔ یہ عشق ہے ہی بڑا کم بخت۔ پیسہ، اوقات، حیثیت، سب کا بجٹ آؤٹ کر دیتا ہے۔ قرض دار بنا دیتا ہے۔ زندگی بھر کا سکون قسطوں میں ادا کرنا پڑتا ہے۔
خیر اگلے دن بلو اسی شان و شوکت سے اٹھا کر لائی گئی، جس کی تمنا اس کے مالک نے کی تھی۔ سوزوکی کے پیسے الگ سے ابا کے ہاتھ میں رکھے۔ ”میری بلو رانی کو سہولت سے لے کر جانا۔“ یوں بلو رانی بڑے شان سے اکیلی ڈالے میں بیٹھ کر آئی۔ میرے بھائی کے ساتھ تین چار دوست بھی ڈولی اٹھانے گئے تھے۔ ان کے تجسس نے محلے کے دوسرے ہمسایوں کی طرح بیٹھ کر بلو کے آنے کا انتظار نہیں کیا۔ بلو اپنی آمد سے پہلے ہی محلے میں ہٹ ہو گئی تھی۔ بھائی کے دوست نے اس کی وڈیو گزشتہ دن ہی ٹک ٹاک بنا کر ریلیز کردی تھی۔ جو ہر دوست دشمن تک وٹس ایپ گروپس کے ذریعے وائرل ہو گئی تھی۔
بلو کی آمد نے دھوم مچا دی۔ محلے میں اس کا شاندار استقبال ہوا۔ میں بھی تجسس کی ماری چھت پر چڑھ کر دیکھنے گئی۔ بلو واقعی میں حسین تھی۔ نوخیز، دلربا، مگر مغرور نہیں معصوم۔ نازوں میں پلنے کے باوجود نہ کوئی ناز نہ نخرہ۔ نکڑ پر اتر کر ہجوم کے ساتھ ایسے چلنے لگی جیسے اسی محلے سے اٹھ کر گئی تھی۔
گھر کی دیوار کے ساتھ ہی باہر ہمارے انکروچمنٹ والے چھوٹے سے لان میں مٹی کی ایک سوزوکی بلو کی آمد سے پہلے ہی لاکر بچھا دی گئی تھی۔ چارے اور پانی کے نیلے رنگ کے ٹب بلو کے نیلے رنگ کی مناسبت سے فوراً لاکر رکھ دیے گئے۔
بلو سلیبریٹی بن گئی۔ ابا کا فخر، امی کی شان، بھائی کا بھرم، مگر میرے لئے غم۔ کیونکہ میری محبت دوسروں کی طرح فانی نہیں تھی۔ جوں جوں عید کے دن قریب آرہے تھے۔ اس کی جدائی کا تصور کلیجہ کاٹ رہا تھا۔ اور جدائی بھی اس کی موت۔ اور اس کی قبر ہمارے گھر کا فریزر۔ اف، سوچ سوچ کر دل دہل جاتا۔
جانور تو اس سے پہلے بھی عیدوں پر آئے تھے مگر اتنی اٹیچمنٹ کسی سے نہیں ہوئی۔ شاید ابا نے آمد سے قبل ہی اس کی ایسی ہائپ بنادی کہ دیکھتے ہی میں بھی اس کو دل دے بیٹھی۔ شاید جینڈر کی وجہ سے بھی قربت تھی۔ اس سے پہلے آنے والے سبھی میل تھے۔
میری اور بلو کی انٹریکشن بھی کوئی اتنی زیادہ نہیں تھی۔ رات گئے جب اس کے اردگرد سیلفی بنانے والوں کا جمگھٹا چھٹ جاتا اور بلو چٹکار کی ہوئی مٹی پہ تھک ہار کر بیٹھ جاتی تو میری اس سے ملاقات ہوتی۔ تب بھی اس کے چہرے پر تھکن بھری مسکراہٹ ملتی۔ ان بچیوں کی طرح جو اپنے دن بھر کی شوخیوں، مستیوں، اٹکھیلیوں اور شرارتوں کو سونے سے پہلے یاد کرتی ہیں۔ میں اس کی مسکراہٹ پہ فدا۔
یہ سوچ سوچ کر اداس ہوتی کہ بلو کو سر آنکھوں پر رکھنے والے ایک دن اس کو زمین پر گرا دیں گے۔ اس پر محبت سے ہاتھ پھیرنے والے اتنی ہی سختی اور ترندی سے اس کے پیر پکڑیں گے تاکہ حلال ہوتے وقت وہ کوئی مزاحمت نہ کرسکے۔ اس کی یہ پرسکون مسکراہٹ تب جانے کتنی وحشت ناک ہوگی۔ میں سوچتی جاتی اور بلو نیند کی آغوش میں چلی جاتی۔ کم بخت، سوئی ہوئی تو اور بھی زیادہ حسین لگتی تھی۔ چاند رات کو تو میں باقاعدہ بین کر کے روئی تھی۔
اگلی صبح اس سے بھی زیادہ مشکل تھی۔ قصائی کے آنے تک جیسے میں بھی خود کو کال کوٹھڑی میں جلاد کا انتظار کرتے ہوئے محسوس کر رہی تھی۔ اس کی آمد پر میں نے اپنے کان بند کر دیے۔ میری آنکھوں کے آگے بلو کا معصوم چہرہ لہرانے لگا۔ کچھ دیر بعد ایک بچہ بھاگتا ہوا اندر آیا اور پھولی سانس میں خبر دی۔ ”بلو آدھی گردن کٹوا کر بھاگ گئی۔“ میں چھت کی طرف بھاگی۔ ”یا االلہ“ ، گلی کا منظر جیسے گھمسان کا رن۔ بلو دیواروں سے سر ٹکرا رہی تھی۔ خونم خون۔ ایک سرے سے دوسرے تک تڑپتی ہوئی چکر کاٹ رہی تھی۔ پکڑ میں نہیں آ رہی تھی۔ نیلے رنگ کے نقش و نگار سرخی میں ڈوب گئے تھے۔ بلو کے معصوم چہرے پر اپنے چاہنے والوں کے لئے حیرت بھری وحشت تھی۔ مگر کب تک۔ آخر گرفت میں آ گئی۔
کچھ دیر بعد بلو کی کلیجی، دل اور گردے ایک تھال میں ہمارے کچن میں لائے گئے۔ امی نے اس کا دل چیر کر کلیجہ کاٹا اور ہانڈی چڑھا دی۔ ابا نے پچھلے دس دنوں کی بڑھاء ہوئی داڑھی شیو کر کے ناخن کاٹنے کے بعد ناشتہ کرنا تھا۔ میں ہونق بیٹھی یہ سب دیکھ رہی تھی۔ امی مجھے بری طرح ڈانٹ کر ہانڈی کے حوالے کر کے مہمانوں سے ملنے چلی گئی۔ میں ابھی آنکھیں اور ناک پونچھ رہی تھی کہ میرا بھائی وہاں پر آیا، بھیگی ہوئی آنکھیں لے کر ۔ کہنے لگا۔ ”آپا سب کچھ میری وجہ سے ہوا“ ۔ میں بلو کو ذبح ہوتے نہیں دیکھ سکا۔ ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے۔ اور بلو ادھ کٹی گردن کے ساتھ خود کو چھڑا کر اتنی دیر تک تڑپتی رہی۔ ”
دل کا بوجھ بٹ گیا۔ دونوں بہن بھائی بلو کی باتیں کرتے ہوئے روتے جاتے تھے۔ تب امی کی غضب ناک آواز نے ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
”ہائے کم بخت ماری۔ بلو کی کلیجی جلا دی اس کے ماتم میں“


