قربانی کا فلسفہ


رب کائنات نے اسلام کو دین فطرت بنایا ہے۔ اس کے ہر حکم میں حکمت پوشیدہ ہے اور ہر حکمت میں مخلوق کی فلاح مضمر۔ قربانی کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے ہی شروع ہو گیا تھا جب ان کے ایک بیٹے کی قربانی قبول کر لی گئی اور دوسرے کی نہیں۔ ارشاد ہوا ”اور آپ اہل کتاب کو آدم کے 2 بیٹوں کا واقعہ پڑھ کر سنا دیجیے، جب ان میں سے ہر ایک نے اللہ کے لیے کچھ نیاز پیش کی تو ان میں سے ایک کی نیاز قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہیں کی گئی“ ۔

المائدہ 183 ”۔ اس آیت مبارکہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قربانی کا عبادت ہونا حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے ہی ہے البتہ اس کی پہچان حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے واقعے سے ہوئی۔ اس کے علاوہ یہ بھی طے کہ یہ قربانی ہر امت کے لیے تھی۔ جیسا کہ سورۃ الحج آیت 34 سے ظاہر ہے“ ہر امت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کر رکھا ہے تاکہ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں ”۔

سورۃ الحج آیت 37 میں صراحت فرما دی گئی“ نہ ان کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون، مگر اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اس نے ان کو تمہارے لیے اس طرح مسخر کیا ہے تاکہ اس کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اس کی تکبیر کرو ”۔ گویا قربانی کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ رب لم یزل کے ہاں خون پہنچتا ہے نہ گوشت بلکہ تقویٰ۔ بالا آیت مبارکہ سے ظاہر ہے کہ جس کی نیت میں کھوٹ ہو اس کی قربانی قبول نہیں ہوتی۔

ہمارا المیہ مگر یہ کہ اس ارض پاک میں قربانی جیسی عظیم عبادت کو بھی نمود و نمائش کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ قربانی تو نفس امارہ اور نفسانی خواہشات کو ذبح کرنے کی علامت ہے جس کا اہم فلسفہ ہی یہ ہے کہ مفلس و مساکین بھی امراء کی طرح تازہ اور وافر گوشت سے لطف اندوز ہو سکیں۔ دین مبیں کا اصل مقصد تو یہی ہے کہ دولت صرف اشرافیہ کے درمیان ہی گردش نہ کرتی رہے بلکہ مال کی محبت کم ہو، سخاوت کی عادت ہو اور ایثار کا جذبہ پیدا ہو۔

قربانی اخوت اور بھائی چارے کا پیغام دیتے ہوئے تواضع اور انکساری پیدا کرتی ہے۔ یہ مسلم اتحاد کا ذریعہ بھی ہے کیونکہ انہی دنوں میں پورا عالم اسلام قربانی کر رہا ہوتا ہے۔ حقیقت مگر یہ کہ ہمارے ہاں ایسا کوئی جذبہ نظر نہیں آتا البتہ نمود و نمائش کے مظاہر جابجا۔ الیکٹرانک میڈیا پر خصوصاً ایسے جانوروں کی نمائش کی جاتی ہے جن کی قیمتیں لاکھوں میں ہوتی ہیں اور جو مفلس تو کجا متوسط طبقے کے بس سے بھی باہر ہوتی ہیں۔

انہی ایام میں ذخیرہ اندوزوں کی بھی چاندی ہو جاتی ہے اور کھانے پینے کے سامان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ ایک عادت بد ہم نے یہ بھی پال رکھی ہے کہ اشرافیہ کے گھرانے صرف اپنی دولت کی نمائش کے لیے کئی کئی جانور خریدتے ہیں۔ اگر یہ جانور غربا و مساکین کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنے کے لیے ہوں تو عین عبادت لیکن اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ قربانی کے جانور بھی اپنے ہی جیسے دوسرے امراء کو نیچا دکھانے کے لیے خریدے جاتے ہیں۔

یہ ایسی عادت بد ہے جس کا عبادت سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر اشرافیہ میں واقعی قربانی کا جذبہ ہوتا تو پاکستان کو کبھی ڈیفالٹ کا خطرہ ہوتا نہ آئی ایم ایف کے حضور ناک رگڑنے کی نوبت آتی۔ بین الاقوامی سروے کے مطابق کرپشن میں اس وقت پاکستان دنیا کے 180 ممالک میں سے 140 ویں نمبر پر ہے اور معیار عدل میں 140 میں سے 130 ویں نمبر پر ۔ سورۃ المعاہدہ آیت 8 میں ارشاد ہوا ”عدل کرو وہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے“ ۔ لیکن ہمارے ہاں کرپٹ ترین اداروں میں عدل دوسرے نمبر پر ہے۔

یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہو رہا ہے اور جس طرح عدل کے اونچے ایوانوں میں میزان عدل متزلزل، وہ ناقابل برداشت۔ ایسے فیصلے سامنے آرہے ہیں جنہیں سن کر ایک عامی بھی حیران۔ سپریم کورٹ میں معزز جج صاحبان کے اندر تقسیم واضح اور ”ہم خیال“ بنچ کا شور گلی گلی۔ جب صورت حال یہ ہوگی تو پھر تقویٰ کہاں پیدا ہو گا، وہ تقویٰ جو قربانی کی اصل روح ہے، جو اس کیفیت کا نام ہے جس سے انسان کے دل میں گناہوں سے بچنے کی جھجک پیدا ہوتی ہے اور نیک کاموں کی تڑپ۔

یہ تقویٰ سے دوری اور کرپشن کی کرشمہ سازیاں ہیں جس کی بنا پر ہم کشکول گدائی تھامے دربدر۔ رب کائنات نے تو زمین کے اس ٹکڑے کو اپنی ہر نعمت سے نوازا ہے۔ یہاں 4 موسم، لہلہاتی کھیتیاں، فلک بوس پہاڑ، جھرنے، ندیاں اور زیر زمیں خزانوں کی بھرمار۔ 24 کروڑ آبادی کا یہ ایٹمی ملک جس کے جری جوان جذبۂ شوق شہادت سے لبریز۔ پھر بھی ہماری معیشت برباد، مہنگائی کا عفریت ہر شے نگلنے کو تیار۔ ہم کا سۂ گدائی تھامے کبھی امریکہ، کبھی چین اور کبھی روس کی نگاہ التفات کے منتظر۔ یہ وہ کیفیت ہے جو ہماری ترقی کی راہ میں سد سکندری بن کر کھڑی ہے۔ تحقیق کہ جب تک ہمارے اندر کچھ نہ کچھ کر گزرنے کی امنگ پیدا نہیں ہوتی ہماری ترقی کی خواہش خواب و خیال ہی رہے گی۔ اس ترقی کا راز تقویٰ میں مضمر جس سے ہم کوسوں دور۔

30 جون کو جب آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ ہوا تو پورے پاکستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ہم اس قرض کے ملنے پر شادیانے بجانے لگے۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ”شکر ہے پاکستان ڈیفالٹ ہونے سے بچ گیا“ ۔ حالانکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار متعدد مرتبہ فرما چکے تھے کہ 3 ٹرلین اثاثے رکھنے والا ملک کبھی ڈیفالٹ نہیں کر سکتا۔

اب پتہ نہیں وزیراعظم صاحب کا فرمان درست ہے یا اسحاق ڈار کا ۔ وزیراعظم نے یہ بھی فرمایا ”قومیں قرضوں سے ترقی نہیں کرتیں، قرض ہمیں مجبوری میں لینا پڑ رہا ہے۔ عوام دعا کریں کہ یہ آخری آئی ایم ایف پروگرام ہو“ ۔ وزیراعظم ہم سے بہتر جانتے ہیں کہ ترقی نہ کرنے کی وجوہات کیا ہیں اور ان وجوہات کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے۔ مقتدر وہ ہیں اور ساری طاقت انہی کے پاس ہے، پھر وہ بسم اللہ کیوں نہیں کرتے؟ ملک کو ڈیفالٹ کے کنارے تک پہنچانے اور پاکستان عالمی تنہائی کا شکار کرنے والوں پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالتے؟ جب تک ہم اس معاہدے کو بڑی عید پر بڑی عیدی قرار دیتے رہیں گے ترقی خواب و خیال ہی رہے گی کیونکہ دین مبیں کا فیصلہ ہے کہ خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ ہو۔ جس قرض کو ہم بڑی عیدی سمجھ کر بہت خوش ہو رہے ہیں اس کے بارے میں مرزا غالب کہہ گئے

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

Facebook Comments HS