کیا ہندوستان میں ترقی انگریز کی مرہون منت ہے


ہم روزمرہ زندگی میں سنتے ہیں کہ اگر انگریز نہ آتا تو ہم آج بھی پتھر کے دور میں رہ رہے ہوتے۔ آج بھی بادشاہت قائم ہوتی۔ ہماری معیشت زرعی، سیاست بادشاہت اور ہماری مصنوعات گھریلو دستکاری پر تیار ہو رہی ہوتی۔ انگریز نے آ کر ہندوستانی سماج میں جدت لائی، یہاں نئی ثقافت روشناس کروائی۔

اگر ہم سولہویں اور سترویں صدی کے یورپ اور ہندوستان پر نظر ڈالتے ہیں تو دونوں علاقے سیاسی، معاشی اور سماجی طور پر ایک ہی سطح پر کھڑے تھے۔ دونوں خطوں میں بادشاہت قائم تھی۔ معیشت کا سارا دار و مدار زراعت پر تھا۔ گھریلو دستکاریاں دونوں علاقوں میں موجود تھی۔ ابھی مشین ایجاد نہیں ہوئی تھی۔ سارا کام ہاتھ سے کیا جاتا تھا۔ ہندوستان اور یورپ سیاسی، معاشی اور سماجی طور پر جاگیردارانہ سطح پر کھڑے تھے۔ لیکن جاگیرداری کمزور ہو رہی تھی اور تاجر طبقہ دن بدن مضبوط ہو رہا تھا۔

ہندوستان ایک وسیع ملک تھا۔ آبادی زیادہ تھی۔ یہاں تقریباً تمام دیہات روزمرہ کی تمام ضروریات میں خود کفیل تھے۔ کپڑے کی صنعت، فولاد کی بھٹیاں، شیشے کا سامان، سلک ساٹن زربفت، قالین، عطریات اور سامان تعیش تیار ہوتا ہے۔ ہندوستان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے کوئی چیز امپورٹ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ مکمل طور پر خود کفیل تھا۔ جبکہ ایکسپورٹ کرنے کے لئے اس کے پاس بہت کچھ تھا۔ لیکن یہاں کے تاجروں نے سمندری راستوں پر کوئی توجہ نہ دی بلکہ اندرون ملک ہی تجارت جاری رکھی۔ جبکہ یورپ بالخصوص برطانیہ ایک چھوٹا ملک تھا۔ اس کو اپنی روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لئے دوسرے ممالک سے امپورٹ کی ضرورت تھی۔ سمندر ان کے قریب تھا لہذا انہوں نے تجارت کے لئے سمندری راستے تلاش کیے۔ اگر ہم سترہویں صدی کے ہندوستان کو دیکھتے ہیں تو وہ یورپ سے زیادہ ترقی یافتہ تھا۔ اور ارتقائی مراحل میں آگے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ گو یہاں اندرونی سیاسی لڑائیاں اسے کمزور کر رہی تھی۔

1600 ء میں لندن میں ستر ہزار پاؤنڈ کی لاگت سے ہندوستان سے اجناس، ریشمی و سوتی کپڑا، چینی کے برتن اور گرم مصالحہ کی تجارت کے لئے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد رکھی گئی۔ جس نے 1608 ء میں سورت کے مقام پر پہلا تجارتی اڈا قائم کیا اور 1615 ء میں بادشاہ جہانگیر سے مزید مراعات حاصل کی۔ شروع شروع میں اس تجارت کی وجہ سے ہندوستان کو فائدہ ہوا کیونکہ برطانیہ کا بالائی طبقہ سامان تعیش ہندوستان سے خریدتا تھا۔ اور اس کے بدلے میں سونے اور چاندی کے سکے ادا کرتے تھے۔ یہ دولت بھی انہوں نے امریکہ اور افریقہ سے لوٹی تھی۔

1757 ء میں پلاسی کی جنگ برطانیہ جیت گیا۔ بنگال، بہار اور اڑیسہ کے صوبوں پر انگریز قابض ہو گیا۔

ہندوستانی تاجر طبقہ نے اس جنگ میں انگریز کا بھرپور ساتھ دیا جس کی وجہ سے انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کے بعد اس طبقہ نے دو طرح کا کردار ادا کیا۔ ایک تو اپنا مال بحری جہازوں کے ذریعے دنیا کی منڈیوں میں فروخت کرنے کے لئے انگریز کا ساتھ دیا۔ دوسرا مقامی دستکاروں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان دلالی کا کردار ادا کیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کو ہندوستان میں اپنے پاؤں جمانے میں یہاں کے تاجر طبقہ کا بہت بڑا کردار تھا۔ اگر وہ اپنے مفادات ایسٹ انڈیا کمپنی سے وفاداری میں نہ دیکھ رہے ہوتے تو ہندوستان پر ان کا قبضہ ناممکن تھا۔

1765 ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو بنگال، بہار اور اڑیسہ کے دیوانی دے دی گئی۔ جس کی رو سے ان علاقوں کے ٹیکس کی وصولی اور خزانہ کا مکمل کنٹرول ایسٹ انڈیا کمپنی کو حاصل ہو گیا۔ یہاں سے ہندوستان کی لوٹ مار کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ جو مختلف اشکال میں آج تک جاری ہے۔ ڈگبی کے اندازے کے مطابق ”1757 ء اے 1813 ء تک انگریز نے ہندوستان سے ایک ارب پاؤنڈ خزانہ سمیٹا اور ہندوستان منتقل کیا۔“

یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہے کہ انگریز نے ہندوستانی سماج میں جدت لائی اور اس کے فرسودہ سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچے کو ٹور کر اسے جدت کی راہ پر گامزن کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کی ترقی جو ایک ارتقائی مراحل میں جاری تھی۔ اس کے رستے میں رکاوٹ بنی۔ ہزاروں سالوں کے سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچے کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔ جس کے نتیجہ میں یہاں کا کاریگر طبقہ بے روزگار ہو گیا۔ یہاں سے خام مال کی لوٹ مار کے لئے مصنوعی بحران پیدا کیے۔ ہندوستان خوراک کے معاملے میں ہمیشہ خود کفیل تھا۔ خوراک ناپید ہو گئی۔ ایسے قحط پیدا کیے گئے جن میں لاکھوں ہندوستانی بھوک سے بلک بلک کر دم توڑ گئے۔ انگریز کے عہد میں عوام کے حالات دن بدن بد سے بدتر ہوتے گئے۔ جب صدیوں کے ارتقا میں جبراً رکاوٹ ڈالی گئی تو پھر سماج کا معاشی و سماجی ڈھانچہ ہی بکھر گیا۔ سماج کی ترقی جو جاری تھی رک گئی بلکہ پورا سماج ہی جامد و ساکت ہو گیا۔ اس کی تمام تخلیقی و تحقیقی صلاحیتیں دم توڑ گئی۔ سماج تنزلی و بربادی کی عمیق گہرائیوں میں گرتا چلا گیا۔

یورپ اور برطانیہ میں جو سائنس کی ایجادات ہوئی وہ ہندوستان، امریکہ اور افریقہ کے وسائل کی لوٹ مار کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ یہ بات قطعاً درست نہیں کہ انیسویں صدی میں سائنس نے جو ایجادات کی وہ یورپین کی ذہانت کا نتیجہ تھی۔ ان ایجادات میں دنیا کے ہر کونے بلکہ ہر گاؤں کا حصہ ہے۔ اس کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ ان ایجادات سے سب سے زیادہ فائدہ یورپین حکمران طبقات نے اٹھایا۔

1947 ء میں جب ہندوستان سے کالونیل ازم کا خاتمہ ہوا۔ کیونکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ کے لئے ممکن نہیں رہا تھا کہ وہ اپنی کالونیوں پر قابض رہے۔ پھر پاکستان کو نیو کالونیل ازم کے تحت امریکہ کے حوالے کر دیا گیا۔ یہاں پر مسئلہ جموں کشمیر پیدا کیا گیا۔ پاکستان کو ایک ملٹی اسٹیٹ بنا دیا گیا۔ جس کو ہر وقت دشمن کی ضرورت تھی۔ انڈیا کو اس کا دشمن قرار دیا گیا۔ اس دشمن کے خوف میں ایک دیوہیکل فوج کی ضرورت محسوس کی گئی۔ یورپ اور امریکہ کی اسلحہ انڈسٹری چلانے کے لئے پچھلے پچھتر سالوں سے مسئلہ جموں کشمیر کی بنیاد پر جنگ جنگ کھیلا جا رہا ہے۔ اور برصغیر کی نصف سے زائد آبادی تمام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم سطح غریب سے نیچے سسک سسک کر زندگیاں گزار رہے ہیں۔

آج پاکستان کے حکمران طبقات نہیں چاہتے کہ پاکستان ایک زرعی ملک سے صنعتی ملک بنے۔ اس کی ایکسپورٹ امپورٹ سے بڑھے۔ کیونکہ ایسا ہونے سے پچیس کروڑ کی یہ امریکہ اور یورپ کی منڈی ختم ہو جائے گی۔ حکمران اور ریاستی ادارے کوئی ایسی پالیسی بنانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتے کہ یہاں پر سرمایہ کاری ہو اور ہمارا ہنر مند ملک چھوڑنے کے لیے جو کروڑوں خرچ کر رہا ہے وہ یہاں پر لگایا جائے۔ ایسی صورتحال میں یہاں کے پڑھے لکھے، دانشور جو نچلے طبقات سے تعلق رکھتے ہیں انہیں سنجیدہ ہونا ہو گا۔ انہیں اپنے نوجوانوں کو درست تاریخ سے روشناس کروانا ہو گا۔ ماہر معاشیات سے رہنمائی لینی ہو گی۔ کہ ہم اپنا اصل سرمایہ جو ہمارے نوجوان ہیں۔ ان کو کیسے معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکتے ہیں۔ تا کہ وہ باعزت روزگار بھی پیدا کر سکے۔ اور یہ اصل دولت جو انسانی محبت کی شکل میں ہے اسے بیرون ملک سستے داموں فروخت ہونے سے روکا جا سکے۔

آج بھی پاکستان کا وزیر خارجہ جاپان کو آفر لگا رہا ہے کہ ہم آپ کو انسانی محنت دینے کے لئے تیار ہیں۔ یہ حکمران کوئی ایسا منصوبہ لگانے کے لئے سنجیدہ نظر نہیں آ رہے۔ جس سے اس اصل دولت انسانی محنت سے دولت پیدا کر کے پاکستان کو زرعی ملک سے صنعتی ملک بنایا جائے۔ پھر اس دولت کو ایکسپورٹ کر کے تجارتی خسارہ کو تجارتی آمدن میں تبدیل کیا جا سکے۔ ایسے میں ملک یا بیرونی ممالک میں موجود پڑھے لکھے، باشعور شہری اور دانشوروں کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کی معاشی و سیاسی طور پر رہنمائی کریں اور اپنے شہریوں کو بتائے کہ پاکستان کے زیر قبضہ جموں کشمیر کو اگر مکمل آزادی و خودمختاری دے دی جاتی ہے تو پاکستان معاشی طور پر کتنی تیزی سے ترقی کر سکتا ہے۔ دفاعی اخراجات کو کس طرح فوری بنیادوں پر کم کیا جا سکتا ہے اور اس رقم سے کس طرح صنعت لگائی جا سکتی ہے۔ پاکستان کی پچیس کروڑ محنت کشوں، مزدوروں، کسانوں اور عام شہریوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر کی مکمل آزادی و خودمختاری ناگزیر ہے۔

 

Facebook Comments HS