ڈاکٹر خالد سہیل: فن اور شخصیت


میں امیر جعفری صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے کتاب ”ڈاکٹر خالد سہیل: فن اور شخصیت“ میں میرے مضامین کو جگہ دی اور اتنی شاندار کتاب ایک انسان پرور شخص پر مرتب کی اور ڈاکٹر خالد سہیل کی شکر گزار ہوں جنہوں نے نہ صرف اس کتاب پر رویو لکھنا کا موقع بھی فراہم کیا بلکہ جب میں یہ کتاب پڑھ رہی تھی تو انہوں نے میری کتاب پر لائیو کمینٹری کو تحمل سے سنا اور جہاں ان کو محسوس ہوا کہ میں اپنی ذمہ داریوں کی وجہ سے یا عادتاً دھکا اسٹارٹ موڈ میں جا رہی ہوں تو وہ اپنی مسکراہٹ اور اس کلاسک جملے سے سے کہ ”اس کتاب کی تقریب رونمائی 2 جولائی 2023 میں ہے 2 جولائی 2024 میں نہیں“ ، میرے پڑھنے اور لکھنے کے عمل کو مطلوبہ دھکا فراہم کیا، بلکہ اس کو میرے لیے شگفتہ بنا دیا اس میں اہم بات یہ ہے کہ وہ میری لمبی ریسرچ اور سوچ و بچار کی عادت اور ذمہ داریوں سے انجان نہیں ہیں اور اپنے ایک کالم دھکا اسٹارٹ رائٹر میں میری اس عادت کے محرکات کو بطور میرے خط کے شامل کر کے اور اس پر اپنی پروفیشنل رائے دے کر میری اس عادت کا نفسیاتی اور ادبی جائزہ لے چکے ہیں اس لیے وہ میری عادت سے بخوبی واقف ہیں اور پھر بھی اس کتاب کے سلسلے میں میرے پر اعتماد رکھتے ہیں۔ یہ ان کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو ہے۔
ڈاکٹر خالد سہیل کا انسانوں پر اعتماد، چاہے وہ ان کے دوست ہوں مریض ہوں جاننے والے ہوں حتی کہ میں نے ان کو اجنبیوں پر بھی اعتماد کرتے دیکھا ہے اور خاص کر وہ آپ ڈاکٹر صاحب کی نفسیات کے حوالے سے جب بھی کتاب پڑھیں گے اس میں ان کے مریضوں کے نام لکھے گئے خطوط اور رائے اس چیز کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ وہ کسی بھی مریض کو لوسٹ کیس نہیں سمجھتے اور انسان اگر ان کا دوست ہو تو چاہے اس کو اپنے پر اعتماد ہو یا نہ ہو ڈاکٹر صاحب اس پر اعتماد رکھتے ہیں یہ ان کا خاصہ ہے اور یہی وہی انسان کر سکتا ہے جو انسانیت پر ایمان رکھتا ہو اس لیے ان کا درویشی سے ہیومنسٹ کا سفر ان کے انسانوں پر اعتبار کا سفر ہے جس میں ان کی رہنمائی ان کی خود آگہی نے کی کہ میں نے ہمیشہ ان کو اپنی زندگی کی چوائسز اور نظریات میں یکسو اور واضح ذہن کا حامل پایا۔ جب مجھے یہ کتاب ”ڈاکٹر سہیل: فن اور شخصیت“ ملی تو میرے لیے اس میں فن کا لفظ اردو سے زیادہ یہ انگریزی کا فن ہے کیونکہ یہ خالد سہیل کی زندگی کا اصول ہے چاہے وہ ان کی ذاتی زندگی کے فیصلے ہوں، ان کا کلینک ہو یا ادبی کام سب اس چیز کے گرد گھومتے ہیں۔ اس کتاب میں میں نے کئی دفعہ یہ جملہ لکھاریوں کی حیرت کی غمازی کرتے ہوا پایا کہ نجانے ڈاکٹر سہیل کیسے اتنی کتابیں اپنے کلینک کے کام کے ساتھ لکھ لیتے ہیں اور اتنے لوگوں کے ساتھ ملتے بھی ہیں اس کی بہت سادہ وجہ ہے کہ he enjoys what he does اگر آپ وہ کام کریں جس کو آپ انجوائے کرتے ہوں تو آپ کبھی تھکیں گے نہیں۔ اس لیے جب وہ اپنے کلینک سے مریض دیکھ کر نکلتے ہیں تو تھکاوٹ کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا اور یہی صورتحال لکھنے کے عمل لوگوں سے ملنے جلنے اور ان کی ذاتی زندگی میں ہے وہ کسی بے جان رشتے کا بوجھ اپنے کندھوں ہر اٹھا کر نہیں پھر رہے۔

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے
جو عشق کو کام سمجھتے تھے
یا کام سے عاشقی کرتے تھے
ہم جیتے جی مصروف رہے
کچھ عشق کیا کچھ کام کیا
کام عشق کے آٹے آتا رہا
اور عشق کام سے الجھتا رہا
آخر تنگ آ کر ہم نے
دونوں کو ادھورا چھوڑا دیا

عشق اور خود آگہی کا سفر اور راستہ آسان نہیں چاہے آپ کے چہرے پر کتنی میٹھی مسکراہٹ کیوں نہ ہو اس پر چلنے والے عموماً معتوب و مصلوب ہوتے ہیں امیر جعفری صاحب ڈاکٹر خالد سہیل کے انتہائی قریبی دوست ہیں اور زبان پر قدرت رکھتے ہیں اس لیے انہوں نے اس سفر کی مشکلات اور زمانے کی گھٹن کا احوال شگفتہ زبان میں کرتے ہوئے اس ایک جملے پر اکتفا کیا کہ ڈاکٹر سہیل متنازع ہیں، اپنی تمام ملنساری انسان دوستی، قادرالکلامی اور ادب کا پاور ہاؤس ہونے کے باوجود ڈاکٹر سہیل متنازع ہیں کیونکہ وہ روایت اور زمانے کی روش سے ہٹ کر خیال اور مزاج کے حامل ہیں چاہے وہ نفسیات کا میدان ہو یا ادب یا ذاتی زندگی ڈاکٹر سہیل کے فیصلے، علاج کا طریقہ یا تحریر کے موضوعات وہ ان کے دماغ کے تابع رہے زمانے اور روایت یا ”لوگ کیا کہیں گے“ کے جملے کے نہیں قصہ مختصر ڈاکٹر خالد سہیل زندگی نفسیات اور ادب کے بیڈ بوائے ہیں اور امید ہے کہ آپ نے سن رکھا ہو گا کہ ”good boys go to heaven and bad boys bring heaven to you“ کے مصداق ان کا قلم ان کی سوچ ان کے نظریات سوال کی جنت آپ کے قدموں میں لا کر رکھتے ہیں۔
یہاں یہ اعتراف بھی ضروری ہے کہ یہ بیڈ بوائے کی خوبی ان کی اور میری دوستی کی بنیاد بنی کہ میری سوچ کو میرے نظریات کی تشکیل میں سب سے بڑا کردار میرے والد ڈاکٹر کرامت علی کا رہا اور وہ خود روایت کے سب سے بڑے باغی رہے اس لیے میں اس بغاوت اور اس کے نتائج کا ادراک رکھتی ہوں میرے والد ڈاکٹر کرامت علی اور میرے دوست ڈاکٹر خالد سہیل میں جو قدر مشترک مشترک دیکھی وہ یہ ہے کہ ان کو کسی بھی زمانے عدالت یا انسان کے good character certificate یا endorsement کی ضرورت نہیں کہ یہ لوگ زمانے کو اپنی ٹھوکر میں رکھتے ہیں کہ اگر وہ زمانے کی vindication کا انتظار کرتے رہیں تو اپنا کام نہ کر سکیں یہ جہد مسلسل پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں۔ یہ رند زمانہ ہیں، زندگی کے میدان میں دھمال ڈال کر، اپنی مرضی سے اپنے بل پر سر اٹھا کر زندگی کو جینے والے لوگ ہیں، زندگی کے بلیک اینڈ وائیٹ کینوس میں رنگوں کی قوس و قزح کا بندوبست کرتے ہیں اور زمانے کی اجازت سے بے پرواہ سوال، آزاد سوچ کو پروان چڑھاتے ہیں اور ممنوع موضوعات کو احاطہ قلم میں لا کر نئی نسل کے لیے علم اور تفکر کے در وا کرتے ہیں

ہمارا جرم تفکر تھا، آگہی تھی گواہ
نتیجتاً ہمیں دے دی گئی سزائے جنوں

اس کتاب کے سات حصے ہیں اور اس عدد کو دیکھ کے مجھے ان کا کالم نئی محبوبہ کی تلاش میں یاد آیا جس میں وہ اپنی سات ادبی محبوباؤں کی نشاندہی کرنے کے بعد آٹھویں محبوبہ کی تلاش میں گامزن تھے عشق آپ کو جن راہوں سے گزرتا ہے ان سے گزرنے کے لیے ہمت حوصلے کے ساتھ جنون اور خرد کا ایک ساتھ موجود ہونا لازمی ہے اور شبانہ خاتون کا مضمون خالد سہیل فن اور فنکار اس کا ثبوت ہے ہم میں سے کتنے لوگوں نے اپنے میڈیکل کالج کے دنوں میں اخوان شیاطین نامی ادبی گروپ تشکیل دیا ہو گا یا گائنی وارڈ میں ڈیوٹی دیتے ہوئے ”سرخ دائرہ“ لکھی ہوگی کہ بتایا جا سکے کہ خواتین کی زندگی میں کتنے اتار چڑھاؤ ان مخصوص ایام کے گرد گھومتے ہیں جن کو ہم نے ناپاک قرار دے کر اس موضوع کو موضوع ممنوعہ بنا کر کار پٹ کے نیچے چھپا دینا چاہتے ہیں سرخ دائرہ کی نظم انہوں نے ستر کی دہائی مہم لکھی، اس موضوع پر بات کرنا وہ بھی پانچ سو لوگوں کے مجمع میں اس کی ہمت آج بھی خال خال ہی کوئی رکھتا ہے۔ زبان بندی کے بہت سے طریقے ہیں اور کچھ ان دیکھے تالے اور ان دیکھی دیواریں ہوتی ہیں جن کا وزن صرف ان کو محسوس ہوتا ہے جن کو ان کے اندر یہ کہہ کر قید کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں عموماً ایک جملہ بولا جاتا ہے کہ اچھے لوگ ایسی باتیں نہیں کرتے اور اردو ادب کی خوش قسمتی ہے کہ ڈاکٹر خالد سہیل کو اچھا بننے کا کوئی شوق نہیں اگر یہ شوق ہوتا تو وہ ”ہر دور میں مصلوب“ گے اور لیس بین ادب کے متعلق مرتب نہ کرتے، اور نہ ہی ”کالے جسموں کی ریاضت“ میں سیاہ فارم ادب کے تراجم ہم تک پہنچتے کیونکہ جتنا تعصب کالے رنگ کے لیے آج بھی ہمارے خطے میں موجود ہے وہ اپنی جگہ خود ایک مثال ہے۔ لوگ کیا کہیں گے، جیسی سوچ سے بے نیازی ان کی شاعری میں بھی واضح ہے۔ میرے لیے یہ شاعری اس لیے بھی خوشگوار ہے کہ اس میں محبت میں رونے دھونے سے زیادہ محبت کو اور محبوب کی رفاقت سے لطف اندوز ہونے کا عنصر زیادہ ہے ہمارے خطے میں محبت کا جو کانسپیٹ over the period of time develop کیا ہے وہ بہت ہی toxic ہے اور دو طرفہ محبت، consent اور محبت میں احترام سے الگ ہو جانے والے نظریات معدود ہیں

جو نہ مل سکے وہ بیوفا یہ بڑی عجیب سی بات ہے

اس toxic love کے ساتھ ایک traditional love ہے جس میں وصل سے زیادہ ہجر اور محبت میں جینے سے زیادہ مرنے پر زور ہے لیکن اس traditional اور toxic نظریہ محبت کے برعکس ایک صحت مندانہ Dr۔ Sohail ’s love concept ان کی شاعری، تحریروں اور ذاتی زندگی کا حصہ ہے، یہ ایک انسان کی دوسرے انسان سے برابری کی بنیاد ہر محبت کا نظریہ ہے، وہ نہیں چاہتے کہ محبوب چاند میں چھپا رہے اور شرما شرما کے اس کے گلے سے آواز نہ نکلے وہ تو اس سے بات کرنا چاہتے ہیں اس کی رفاقت سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں

وصل کی لذتوں کا مزہ چھوڑ کر
آؤ کچھ دیر کو ہم بھی باتیں کریں

اس نظریہ محبت کا نہ صرف ان کی ذاتی زندگی میں بہت بڑا کردار ہے بلکہ اس نے ان سے دو بہت کمال کی کتابیں تحریر کروائیں ”love، sex and marriage“ اور art of loving in your green zone ”اس میں آپ کو سائیکل آف لو ملتا ہے جو درحقیقت سائیکل آف لائف ہے کہ ہمارے ہاں محبت فنا ہو جانے کا نام ہے لیکن سہیل کانسپیٹ آف لو میں محبت جینے کا نام ہے اور یہ اس لیے کہ ڈاکٹر سہیل زندگی اور انسان دونوں کو قیمتی گردانتے ہیں اور ہم جا خطے سے تعلق رکھتے ہیں وہاں سے بے وقعت چیز انسان اور اس کی جان ہے۔ انسان کا احترام اور اسڑانگ سینس آف ہیومن بینگ ان کے وسیع حلقہ احباب کی بنیاد ہے اس میں مرد عورت کی تفریق نہیں اور یہی strong sense of human identity ان کی تحریروں میں جھلکتی ہے وہ انسانوں کے ہر طبقے کے لیے جس کو نا انصافی اور امتیازی سلوک کا سامنا ہو اس کا درد محسوس کرتے ہیں اور اپنی رائے رکھتے ہیں میرے لیے ڈاکٹر سہیل کے عورتوں کی طرف کیے گئے امتیازی سلوک پر لکھے گئے مضامین اس لیے بھی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ وہ عورتوں کے بطور انسان حقوق سلب کیے جانے پر لکھی گاہ تحریریں ہیں وہ ان ادیبوں میں سے نہیں جو آپ کو درس دیتے ہیں کہ عورت کی عزت کرنی چاہیے کہ وہ ماں ہے میں ہمیشہ یہ سوال کرتی ہوں کہ جو عورت ماں نہیں کیا اس کی کوئی عزت نہیں اور یہاں ڈاکٹر سہیل کو میں اپنے ساتھ بطور انسان بطور دوست پاتی ہوں کہ وہ اس نظریے سے لکھتے ہیں کہ عورت سب سے پہلے انسان ہیں یہ حقوق انسانی حقوق ہیں اور ان کی پامالی انسانی حقوق کی پامالی ہے یہ جینڈر نہیں انسان کا معاملہ ہے اور یہ ان کو ادیبوں شاعروں اور سوشل اینڈ پولیٹکل ایکٹ ویسٹ میں ممتاز کرتا ہے۔ یہ نہیں کہ ان کو ماں کے دل یا اس کی مشکلات کا احساس نہیں لیکن ان کو اس دنیا کی man made unfair distribution of wealth کی وجہ سے پیدا ہوئی پریشانیوں کا بھی ادراک ہے اس لیے ان کے افسانے“ چند گز کے فاصلے ”میں ماں اور غربت دونوں کا دکھ دونوں اکٹھے ہیں

”تیسری دنیا کی مائیں درجنوں بچے جنتی ہیں تاکہ ان میں سے چند ایک زندہ رہیں“ اور زندگی کی ازلی ساتھی موت جو ہر لمحہ آپ کو اپنے پیاروں کی یاد دلاتی ہے

”کیا ہم خوش قسمت ہیں کہ ابھی زندہ ہیں یا بدقسمت کہ مرنے والوں کا سوگ منا رہے ہیں؟ عجیب دکھ ہیں انسان کہ جن کو اپنے دل میں لیے ڈاکٹر خالد سہیل مسکراتے ہیں اور انہی دکھوں نے ان سے humanism کا سفر طے کروایا اور گرین زون فلاسفی کی تشکیل کروائی۔ گرین زون فلاسفی میرے لیے تین الفاظ کا نام ہے خود شناسی، خوداعتمادی اور خود انحصاری تاکہ انسان اپنے نفسیاتی مسائل اور جذبات کے بحران سے منہ چھپانے کی بجائے اپنے آپ کو as it is accept کرے اور اپنی بہتری کے لیے قدم اٹھائے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نفسیاتی بحران کا شکار اگر امیر ہو تو وہ ted ex talk دے کے ہماری enlightenment کا سامان کرتا ہے اور اگر غریب ہو تو وہ سسٹم پر بوجھ ہوتا ہے اس لیے یہ ایک ایسے ڈاکٹر کی فلاسفی ہے جو ہوچی منہ، چے گویرا، نیلسن منڈیلا، فیڈل کاسترو کی تلاش میں جاتا ہے سماجی ارتقا جیسی کتاب لکھتا ہے اور اپنے الفاظ میں وہ man made miseries کے خلاف ہے جو unequal distribution of Wealth کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، لیفٹ کے activists کے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہوگی۔

یہ ساری کتاب میرے لیے نئی جانکاری کا سبب بنی جو پر مسرت تھا سوائے ایک بات کے کہ جب میری ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ اطالوی سوٹ پہننا ترک کر چکے تھے اور اپنی اسپورٹس کار بیچ چکے تھے سو میں اس کار کے جھوٹے لینے سے محروم رہی۔ اس کتاب کے مضامین پیغام اور پیغامبر، کالے جسموں کی ریاضت، گرین زون کا فلسفہ محبت اور فن شادی، ماڈرن درویش یا معمہ اس کی ادبی چاشنی میں اضافہ کرتے ہیں۔ اگر میں اس کتاب سے اور ڈاکٹر سہیل کی زندگی سے کوئی ایک بات سیکھ سکوں تو وہ یہ ہوگی کہ وہ کیسے ہر نیگٹیو کو پازیٹیو میں بدل لیتے ہیں اور نہ صرف اپنی بلکہ اپنے اردگرد لوگوں اور سماج میں progress through evolution and education کا ripple effect crest کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سہیل وہ atheist ہیں جو ہر انسان کو اس کا گمشدہ خدا تلاش کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

فگار پاؤں مرے، اشک نارسا مرے
کہیں تو مل مجھے اے گمشدہ خدا مرے

( یہ مضمون ڈاکٹر سہیل فن اور شخصیت مرتب امیر جعفری کی تقریب رونمائی 2 جولائی 2023 میں پڑھا گیا۔)

Facebook Comments HS