ایک وقت کی روٹی کے لئے


میں چودہ سال کا لڑکا، مسافر ریل گاڑی کا ڈرائیور ہوں

چودہ سال کا لڑکا اتنی لمبی ریل گاڑی کا ڈرائیور
میں خود حیران ہوں لیکن  بہت خوش ہوں
میری گاڑی پہاڑوں کے دامن سے
وادیوں کے درمیان میں سے

بل کھاتی ہوئی ریلوے لائن پہ
میری ریل اب بولان خندق سے گزرے گی
میں اپنے انجن سے خوب سیٹیاں بجاؤں گا
جلتے ہوئے کوئلے کا دھواں
اس کالے انجن سے کیسی شان سے نکل  رہا ہے
زمین کی سطح بلند ہو رہی ہے
میں بھٹّی میں اور کوئلہ ڈال رہا ہوں
پھر میں بلندی کی طرف ریل گاڑی کو لے جاؤں گا
چھک چھک چھک چھک
دور سے بولان کی سرنگ نظر آرہی ہے
میرا انجن شور مچاتا ہوااس میں داخل ہوگیا ہے
گھپ اندھیرےمیں بے نڈر
چھک چھک چھک چھک

سرنگ سے باہر نکل کر رفتار آہستہ کررہا ہوں
اگلے اسٹیشن پہ رکنے کا سگنل مل گیا ہے
اگلا اسٹیشن ، یہ آخری اسٹیشن ہے
مجھے کتنی خوشی ہے

میں نے مسافروں کواتنی حفاظت کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچا دیا ہے
اب کچھ بچھڑے لوگ ملیں گے
کچھ بچھڑ کر آئے ہیں اداس اداس سے
کچھ کاروباری لوگ ہیں
پیسے کمانے آئے ہیں یا، پیسے کما کر لائے ہیں
میں اشارے کا منتظر ہوں
پھر میں اس ریل گاڑی کو یارڈ میں لے جاوں گا
اس کو صاف کیا جائے گا۔

اس کو کل کا سفر کے لیے تیار کیا جائے گا
کل میں پھر انجن سنبھالوں گا
اس کو وادیوں میں سے واپس لے جاوں گا
چھک چھک چھک چھک

ایک بھاری ہاتھ نے میرے سر کوہلا دیا
اوئے  چھک چھک کے بچے
تجھے پھر چھک چھک کا دورہ پڑ گیا ہے
بس یہ بولان ایکسپریس کیا گزرتی ہے تو دماغ کہیں اور چلا جاتا ہے
جلدی اٹھ، بس کے نیچے جا
اس کے تیل کے  خانے کے والو کھول
تو چھک چھک ہی کرتا رہے گا تو کام تیرا باپ کرے گا
میرا باپ جو ایک گیراج ہی میں حادثے کا شکار ہو گیا تھا

 دو وقت کی روٹی ملتی تھی

میں اسکول  جاتا تھا تاکہ لکھ پڑھ کر ریل گاڑی کا ڈرائیور بن جاوں
اب بھی تو میں ریل گاڑی کا ڈرائیور ہوں
میری ریل گاڑی  میں چار مسافرہیں
میرے تین بہن بھائی، اور ماں
ایک وقت کی روٹی سب کو کھانی ہے
ایک وقت کی روٹی

 چھک چھک چھک چھک
میں اس بس کے نیچے جارہا ہوں
یہاں کافی اندھیرا ہے
بولان خندق میں گھس رہا ہوں

ایک وقت کی روٹی کے لئے
چھک چھک چھک چھک   

ایک وقت کی روٹی کے لئے۔

 

نوٹ:  جون  2023  یہ تحریر بلوچستان میں غربت میں اضافے کے بارے میں ایک حالیہ رپورٹ سے متاثر ہو کر لکھی گئی  ہے۔

Facebook Comments HS