معرکہ 7 اکتوبر


معرکہ 7 اکتوبر ایک تجربہ کار سیاست دان اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (PKMAP) کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کی لکھی ہوئی کتاب ہے۔ 149 صفحات پر مشتمل یہ کتاب اصل میں پشتو زبان میں لکھی گئی ہے جبکہ میں نے اس کے اردو ترجمہ کا تیسرا ایڈیشن پڑھا ہے جو 2014 میں پشتونخوا ادبی فورم نے گوشہ_ادب کوئٹہ سے شائع کیا تھا۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی انسانی حقوق کے فروغ اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے آمریت کے خلاف ایک طویل تاریخ رکھتی ہے۔ اس کے بانی رہنما خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی انسانی حقوق اور جمہوریت کے پرچم کو سربلند کرنے والوں رہنماوں  میں سے ایک تھے۔ یہ کتاب 7 اکتوبر 1983 کو کوئٹہ میں ہونے والی قتل عام کے بارے میں چشم کشا حقائق پر مبنی  ہے جب پولیس نے MRD اور پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی موجودہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی  کے پرامن مظاہرین پر گولیاں چلائیں جو ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

اس ناخوشگوار واقعے نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے بہت سے سیاسی کارکنوں کی جانیں لے لیں جیسے کاکا محمود، داود، رمضان اور اولسیار جیسے کارکن شامل تھے ۔اور ساتھ ساتھ میں پارٹی کے 6 کارکن گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ۔ اگرچہ یہ کتاب ایک ناول کے طرز پر لکھی گئی ہے لیکن اس کتاب کے زیادہ تر کردار حقیقی ہیں۔ محمود خان اچکزئی اس سیاہ دن کا منظر نامہ بہترین پیرائے میں بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ  جب لوگ ایک مسجد میں  جمع تھے تو پولیس نے وہاں پر گولیاں برسائیں اور گیس کے شیلنگ کی۔ اس ظالمانہ تشدد اور واقعے کے بعد لوگ شہر بھر میں پھیل گئے ۔ وہ مظاہرین اسلام زندہ باد، جمہوریت زندہ باد، پشتونستان زندہ باد، اور آمریت مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ ان مظاہروں میں محمود خان اچکزئی، ڈاکٹر کلیم اللہ کاکڑ، اور عبدالقہار خان ودان بشمول درجنوں سیاستدان شریک تھے

محمود خان اچکزئی اس سفاک دن اور شہداء کا گہرائی اور زیرک بینی سے حقائق پیش کرتے ہیں کہ انہیں کیسے اور کہاں بیدردی سے  شہید کیا گیا۔ محمود خان اچکزئی نے مذکورہ کتاب میں اس پروپیگنڈے کو مسترد کیا ہے کہ یہ لوگ پیسوں کے لیے لائے گئے تھے اور پڑوسی ریاست نے ان کے لئے رقم فراہم کی تھی۔

اس کتاب میں خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی جدوجہد، ان کی قید، برطانوی سامراجیت کے خلاف ان کی جدوجہد،  گول میز کانفرنسوں میں ان کئ شرکت، ان کا سیاسی سفر، ان کی سیاسی جماعتوں انجمن وطن اور ورور پشتون کی تشکیل، ان کے اخبار استقلال، گاندھی کو ان کے لکھے گئے خطوط،  پشتونوں  اور انسانی حقوق کے لیے ان کی جدوجہد، اور NAP میں ان کا کردار کا گہرا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔

محمود خان اچکزئی نے واضح طور پر ان سیاسی کارکنوں کے بارے میں بات کی ہے جنہیں قید کیا گیا اور ان ظالمانہ واقعات کی تفصیل بیان کرتے ہیں کہ   کس طرح ان سیاسی قیدیوں  کے ساتھ بدسلوکی، تشدد خر کے انہیں دھمکیاں دی گئیں۔ اس کا کہنا ہے کہ عبدالقہار ودان نے اسے چھپکے سے جیل سے خط بھیجا تھا جہاں اس نے انتظامیہ کے مظالم سے آگاہ کیا تھا۔ عبدالقہار ودان کے مطابق جیل حکام ان سے محمود خان اچکزئی کے ٹھکانے کے بارے میں پوچھ رہے تھے تاکہ انہیں گرفتار کیا جا سکے۔ ان تمام سیاسی کارکنوں کو 16 ماہ قید کے بعد رہا کیا گیا۔

سیاسی رہنماؤں کی کتابیں لکھنا اور مطالعہ سے ان کا شوق بلخصوص پشتون قیادت میں اس کا شدید فقدان ہے۔ جب وہ اپنے عروج پر ہوتے ہیں تو وہ شاذ و نادر ہی لکھتے ہیں۔ جب وہ سیاست سے ریٹائر ہوتے ہیں تو وہ خود نوشت لکھتے ہیں۔ محمود خان اچکزئ یقینا تعریف کے مستحق ہیں جب انہوں نے ایک کتاب لکھی جب وہ سیاسی کیرئیر کے عروج پر تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی  بدقسمتی ہے کہ محمودخان اچکزئ  میں  لکھنے کی قابل تعریف استعداد ہونے کے باوجود لکھنا چھوڑ دیا ہے۔

یہ کتاب ملک میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے محمود خان اچکزئی، ان کے آباؤ اجداد، ان کے کارکنوں اور ان کی پارٹی کی جدوجہد اور عزم کے بارے میں زبردست معلومات پر مشتمل ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ  ان گہری حقائق اوع عوامل سے بھی پردہ  اٹھاتا  ہے کہ کس طرح سیاسی کارکنان، طلباء اور ناخواندہ افراد  آمریت کے خلاف کھڑے ہوئے۔ یہ کتاب پڑھنے میں روانی  اور کردار سازی کے حوالے سے قابل تعریف  ہے۔ اگرچہ محمود خان اچکزئی عملی مصنف نہیں ہیں لیکن یہ کتاب پھر بھی دس میں سے آٹھ نمبروں کی مستحق ہے۔

Facebook Comments HS