بلاول ذوالفقار علی بھٹو اور آصفہ بے نظیر بھٹو کی راہ پر


اس وقت وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری جاپان کے چار روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ لیکن طرفہ تماشا یہ کہ بلاول بھٹو بحیثیت وزیر خارجہ اتنے خبروں میں نہیں ہے جتنا کہ آصفہ بھٹو زرداری ہیں۔ کوئی ان کی موجودگی سیاسی، قانونی، اخلاقی ضابطوں اور سفارتی آداب کے منافی قرار دے رہے ہیں تو کوئی گرتی معیشت کے قرضوں کے اقساط پر چلنے والے ملک پر اضافی بوجھ کا رونا رو رہے ہیں۔

لیکن اس کے جواب میں ان کی پارٹی وضاحتیں دے رہی ہیں کہ اس وقت آصفہ بھٹو جاپان کے نجی دورے پر ہیں اور وہ سارے اخراجات نجی طور پر ادا کر رہی ہیں اور وہ ملک پر بوجھ نہیں بن رہی ہیں۔

ہمارے ایک دوست تھے وہ بہت چالاک اور بڑے تیز تھے اور وہ ان لوگوں میں سے تھے کہ ہر کیا ہوا کام بڑے مزے لے لے کر دوستوں کے ساتھ شریک کیا کرتے تھے۔

مثال کے طور پر وہ یہ بات اکثر سناتے تھے کہ ان کی ملازمت ایف سی ملیشا میں کلیریکل سٹاف میں بحیثیت سپرنٹنڈنٹ کی تھی اور ان کا اکثر افسروں کے ساتھ کام پڑتا رہتا تھا لیکن افسران آسانی سے کوئی کام کہاں کیا کرتے تھے بلکہ ان کے پاس جانا ہی بہت مشکل بات ہوا کرتی تھی۔ لیکن وہ یہ کام بڑی آسانی سے کر لیتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب ان کو کسی افسر سے کام لینا ہوتا تھا تو اس افسر کے گھریلو ملازمین سے تعلقات استوار کر کے، اپنے اعتماد میں لے لیتے تھے کہ قریب کے دنوں میں جب صاحب شاپنگ پر نکلے تو ان کو جگہ اور مارکیٹ کا ضرور بتایا جائے۔ اور وہ ایسا ہی کرتے۔

مثال کے طور پر اگر وہ ڈرائی فروٹ خرید نے کے لئے نکلتے تو وہ بھی اسی ہی مارکیٹ چلے جاتے اور ان کو نظر میں رکھتے اور عین اسی وقت ادھر نازل ہوتے جب وہ کاؤنٹر پر پیسے دینے کھڑے ہوتے، فٹ سے سلام کرتے اور اپنی موجودگی کو نجی اور اتفاقیہ بنا کر بل بھی ادا کر جاتے۔

اور پھر کچھ ہی دنوں بعد اس ہی افسر کے پاس بمع اپنے نجی مسئلے کے پیش ہو کر اپنا وہی نجی مسئلہ حل کروا لیتے اور یوں اپنے دیگر ہم پیشہ ساتھیوں میں اپنے نجی تعلقات کا ڈھنڈورا بھی پیٹتے اور مستقبل میں کام آنے والے ایک ساتھی کی حیثیت سے بھی خود کو منوا لیتے۔ خیر یہ تو ایک قصہ تھا جو اس تحریر کا حصہ تھا اور آپ تک ہلکے پھلکے انداز میں، میں نے پہنچایا۔

تو میں بات آصفہ بھٹو کے دورہ جاپان کی کر رہا تھا تو یہ پیپلز پارٹی کی خانگی سیاست میں کوئی نئی ریت یا روایت نہیں بلکہ یہ روایت در روایت کا قصہ ہے جو چلتا آ رہا ہے اور آصفہ بھٹو کے بعد بھی چلتا رہے گا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ بعض حلقے اس سیاسی دورے کے واقعے اور تصویری جھلکیوں سے ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی یادوں کو تازہ کرتے ہیں۔

جب ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی حکومت میں وزیر خارجہ تھے تو وہ اپنی طالب علم صاحبزادی بے نظیر بھٹو کو بھی خارجہ امور کی آگاہی کے لئے نہ صرف ان سے بین الاقوامی موضوعات پر گپ شپ کے انداز میں گفتگو کیا کرتے تھے بلکہ غیر محسوس طریقے سے ان کی بین الاقوامی امور پر تربیت بھی کرتے تھے۔ یہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ انیس سو اکہتر میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پاک بھارت معاملات پر بات کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں نمائندگی کرنے کے لئے گئے تو انہوں نے بے نظیر بھٹو کو جو اس وقت ہارورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھیں انہیں خاص طور پر وہاں بلایا۔

اسی طرح یہ بھی پیپلز پارٹی کی سیاسی تاریخ کا حصہ ہے کہ انیس سو بہتر میں بے نظیر بھٹو ایک بار پھر اپنے والد کی خواہش پر ان کے ہمراہ انڈیا گئیں جہاں انھوں نے شملہ مذاکرات کے تمام سیاسی مناظر اور احوال کا مشاہدہ کیا بلکہ اس دوران انڈیا کی اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی سے بھی ان کی ملاقات ہوئی۔ یہ سلسلہ تھما نہیں بلکہ انیس چوہتر میں جب لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی تھی تو اس میں اسلامی دنیا کی اہم شخصیات نے شرکت کی تھی اور بھٹو صاحب نے خصوصی طور پر بے نظیر بھٹو کی ان سے ملاقات کرائی۔

ویسے اگر آنے والے الیکشن میں پیپلز پارٹی حکمراں جماعت کی شکل میں آتی ہے تو بلاول بھٹو کے ساتھ ساتھ آصفہ بھٹو کی بطور وزیر خارجہ کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے اور شنید ہے کہ یہ آصفہ بھٹو کے لئے نجی دورے کے ساتھ ساتھ وزارت خارجہ کا ایک ٹرائل بھی تھا جس کا انھوں نے بنظر غائر مشاہدہ کیا ہو گا جو ان کے آنے والے وقتوں میں کام آ سکتا ہے۔

 

Facebook Comments HS