سویڈن مسیحی ریاست نہیں


پچھلے دنوں سویڈن میں ایک عراقی مہاجر سلوان مومیکا نے اپنی ذاتی حیثیت میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی، مگر پوری دنیا نے اس قبیح فعل کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ سویڈن کی حکومت کو تنقید کا نشانہ اس لیے بنایا کیونکہ سویڈن کی عدالت نے آزادی اظہار سے متعلق سویڈن کے قوانین کے تحت اس قبیح فعل کی اجازت دی۔

الہامی کتابوں یا مذاہب کی بے حرمتی شاید سویڈن جیسے سیکولر ملک میں حساس معاملہ نہیں کیونکہ انہوں نے مذہب کو ذاتی معاملہ قرار دے کی ریاستی امور سے نکال باہر پھینکا ہے۔ سویڈن اور دوسرے سکینڈے نیوئن ممالک جن میں ناروے، فن لینڈ اور ڈنمارک شامل ہیں میں افراد کثیر تعداد میں الحاد کی جانب راغب ہو رہے ہیں، اور معاشرہ عمومی طور پر مذہب کو ایک غیر اہم اور معاشی اور معاشرتی ترقی کے لئے غیر متعلقہ قرار دے چکا ہے۔

ہمارے ہاں یہ تاثر عام ہے کہ سویڈن یا اس جیسے دوسرے یورپی ممالک مسیحی ممالک ہیں۔ لیکن یہ تاثر انتہائی غلط ہے۔ اگر سویڈن کا آئین پڑھیں تو کوئی بھی مذہب اس کا ریاستی مذہب نہیں ہے بہت سے یورپی ممالک سیکولر ممالک ہیں اسی وجہ سے ان کے آئین کے مطابق ملک کا ہر شہری چاہے وہ غیر مسیحی ہی کیوں نہ ہو ان کے ملک کا وزیراعظم بن سکتا ہے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ راسخ العقیدہ مسیحی بہت سے یورپی معاشروں میں رد کیے جاتے ہیں۔

سویڈن میں معاشرتی ارتقا کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سویڈن کا معاشرہ آج جہاں کھڑا ہے اس کے پیچھے کئی صدیوں پر محیط سفر کارفرما ہے اور یہ سفر آج بھی جاری ہے، آج سے دہائیوں بعد سویڈن کا معاشرہ کیا شکل اختیار کرتا یہ ہم نہیں جانتے۔ صدیوں پہلے سویڈن ایک قدامت پسند ملک تھا جو آج آزادی رائے، اظہار اور مذہب کے طور پر جانا جاتا ہے اور کثیر ثقافتی معاشرہ سویڈن کی پہچان ہے۔

سویڈن میں مسیحیت کا آغاز گیارہویں صدی میں ہوا، مسیحیت کے آنے سے سویڈن کے قوانین بھی بدل گئے اور انیسویں صدی کے آخر تک سویڈن میں دوسرے دیوتاؤں کی پوجا پر پابندی تھی۔ 1530 میں پروٹسٹنٹ اصلاحات کے بعد سویڈن میں رومن کیتھولک کی اجارہ داری ختم ہوئی اور 1593 میں لوتھرنزم سویڈن کا سرکاری مذہب قرار پایا۔

اٹھارہویں صدی میں سویڈن میں مذہبی آزادی کا محدود پیمانے پر آغاز ہوا جس کے تحت یہودیوں اور رومن کیتھولک فرقے سے تعلق رکھنے والوں کو سویڈن میں آزادانہ رہنے اور کام کرنے کی آزادی ملی۔ تاہم 1860 تک لوتھرن فرقے سے تعلق رکھنے والوں کے لیے مذہب تبدیل کرنا غیر قانونی تھا۔ 1860 کے ایک قانون کے مطابق مسیحیوں کو آزادی ملی کہ وہ مسیحی رہتے ہوئے کسی بھی دوسرے مسیحی فرقے میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں 1951۔ میں مذہبی آزادی کے قانون کے تحت کوئی بھی مذہب اختیار کیا جاسکتا تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2000 میں چرچ آف سویڈن کو ریاستی امور سے علیحدہ کر دیا گیا۔ 2022 کے اعداد و شمار کے مطابق 52.8 فیصد سویڈیش چرچ آف سویڈن کے ممبر ہیں (یہ اعداد و شمار صرف چرچ آف سویڈن سے متعلق ہیں اس میں دوسرے مسیحی فرقے شامل نہیں) مگر یہ تعداد 2001 کے بعد سے سالانہ 1 تا 2 فیصد کم ہو رہی ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق چرچ آف سویڈن کے ممبران میں سے صرف 2 فیصد باقاعدگی سے اتوار کو چرچ جاتے ہیں۔

سویڈن میں مذہب اسلام کا باقاعدہ آغاز 1949 میں ہوا جب ایک مسلم تاتاری گروہ فن لینڈ اور اسٹونیا سے ہجرت کر کے سویڈن میں آباد ہوا۔ اگرچہ سویڈن میں مسلمانوں کی تعداد سے متعلق مستند سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں مگر ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 300000 سے 600000 مسلمان سویڈن میں آباد ہیں۔ سویڈن میں مسلم آبادی کے بڑھنے کی جو وجوہات ہیں ان میں سے سب سے بڑی وجہ مہاجرین کی آبادکاری ہے۔ سویڈن میں مسلم آبادی 1970 میں بڑھنا شروع ہوئی جب سویڈن نے ترکی، شمالی افریقہ اور وسط ایشیا سے مسلم مہاجرین کو وصول کرنا شروع کیا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سویڈن میں پہلی مسجد پاکستانی احمدی گروپ نے 1976 میں تعمیر کی جس کا نام ناصر مسجد ہے۔ سویڈیش سابق سفارتکار محمد کنوت برنسٹرام نے 1998 میں قرآن کا سویڈیش زبان میں ترجمہ کیا۔ کنوت برنسٹرام نے 1986 میں اسلام قبول کیا تھا۔

سویڈن کو دوسرے یورپی ممالک اور امریکہ کی طرف سے اس تنقید کا بھی سامنا ہے کہ سویڈن سب سے زیادہ اسلامی ممالک سے مہاجرین کو وصول کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آنے والے بیس سے پچیس سال میں تعداد کے لحاظ سے مسلمان سویڈن کی سب سے بڑی قوم بن جائیں گے۔ سویڈن کے قوانین کے مطابق مساجد کو حکومت کی طرف سے فنڈز جاری کیے جاتے ہیں اور مساجد سے منسلک سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی فیس حکومت ادا کرتی ہے۔ سویڈن میں مسلم آبادی باقی یورپی ممالک کی بنسبت زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔ سویڈن واحد یورپی ملک ہے جس میں مسجد میں لاؤڈ سپیکر پر اذان دینے کی اجازت ہے۔

جہاں مسلمانوں کو سویڈن میں خوش آمدید کہا جاتا ہے، جہاں انہیں معاشرے میں مساوی حقوق دیے جاتے ہیں، وہیں مقامی سویڈیش، مسلم کمیونٹی کے بارے تحفظات بھی رکھتے ہیں اور مختلف مواقع پر اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ مسلمانوں سے متنفر ہونے کی بہت بڑی وجہ کچھ مسلمان گروہوں کا عسکریت پسندی کی طرف رجحان ہے۔ سویڈیش ڈیفنس یونیورسٹی کے مطابق، 1970 کی دہائی سے سویڈن کے متعدد باشندے مختلف غیرملکی بین الاقوامی اسلامی عسکریت پسند گروپوں کو لاجسٹک اور مالی مدد فراہم کرنے یا ان میں شامل ہونے میں ملوث ہیں۔ ان تنظیموں میں حزب اللہ، حماس، جی آئی اے، القاعدہ، دولت اسلامیہ، الشباب، انصار السنہ اور انصار الاسلام شامل ہیں۔

2017 میں سویڈن کی سیکیورٹی پولیس نے اطلاع دی کہ سویڈن میں جہادیوں کی تعداد 2010 میں تقریباً 200 سے بڑھ کر ہزاروں ہو گئی۔ بی بی سی نے 2016 میں رپورٹ کیا کہ سویڈن میں 300 سے زیادہ لوگ عراق اور شام میں لڑنے کے لیے گئے، جس کی وجہ سے سویڈن یورپی ممالک میں ایسا ملک بن گیا جس کی سرزمین سے سب سے زیادہ جہادی نکلتے ہیں۔

آزاد رائے، خیال اور اظہار، آزاد صحافت اور مجموعی طور پر معاشرے میں کشادگی اور شفافیت سویڈیش معاشرے کی امتیازی خصوصیات ہیں۔ جہاں سویڈن کے مذہبی آزادی اور انسان دوستی سے متعلق قوانین کا مسلم مہاجرین فائدہ اٹھاتے ہیں وہیں ان مہاجرین کے لیے خاص کر جو اب سویڈن کے برابر کے شہری بن چکے ہیں سویڈن کی معاشرتی اقدار کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا بھی ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ سویڈن کے کثیر الثقافتی معاشرے میں مختلف سماجی اور مذہبی اقدار تنازعات کا باعث بھی بن چکی ہیں۔

سویڈن کے آزاد معاشرے کی معاشی اور معاشرتی خوشحالی کم ترقی یافتہ ممالک کے باشندوں خاص کر کے مسلمانوں کو اپنی طرف اس طاقت سے راغب کرتی ہے کہ لوگ سویڈن کی دھرتی پر پاؤں رکھنے لے لیے اپنی جان تک گنوا بیٹھتے ہیں۔

ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب سویڈن کا آئین یہ کہتا ہے کہ تمام شہریوں کو آزادی سے معلومات حاصل کرنے، مظاہرے کرنے، سیاسی جماعتیں بنانے اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق ہے تو ہماری مشرقی یا مذہبی سوچ یا روایات کے مطابق کچھ باتیں ہمیں بہت ہی عجیب معلوم ہوتی ہیں مگر سویڈن کی عوام کے کے لیے وہ باتیں عجیب نہیں کیونکہ انہوں نے صدیوں کا سفر طے کر کے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا ہے جس میں ہر انسان کو بہتر زندگی گزارنے کے یکساں مواقع میسر ہیں اور ہر انسان کے حقوق کو مساوات کی بنیاد پر تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔

سویڈن میں مذہبی آزادی کے تحت شیطان کی عبادت کو بھی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شیطان کی عبادت کرنا چاہے یا اسے مذہب کے طور پر متعارف کروائے تو اس گروہ کو باقاعدہ وہی حقوق حاصل ہوں گے جو دوسرے مذاہب کو۔ کچھ یورپی ممالک اور امریکہ میں تو شیطان کی پوجا کے لیے عبادت گاہیں بھی تعمیر کی گئی ہیں۔ سویڈن میں انسانی حقوق کے تحت ہم جنس پرستوں کو اتنے حقوق میسر ہیں کہ سویڈن ہم جنس پرستوں کے لیے جنت تصور کیا جاتا ہے۔

یورپ اور امریکہ میں مزاح اور اظہار رائے اور خیال کی آڑ میں جتنی تحقیر بائبل اور عیسیٰ علیہ السلام کی کی جاتی ہے شاید دوسرے کسی مذہب کی نہیں کی جاتی کیونکہ یورپ، امریکہ اور کینیڈا میں مسیحیت کئی دہائیوں سے انحطاط کا شکار ہے اور انسانی حقوق کی من مانی تشریحات، احکامات خداوندی پر حاوی ہو چکی ہیں۔

مسلم امہ اس حوالے سے تعریف کے لائق ہے جو امریکہ اور یورپی ممالک کو یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے کہ مذہبی حساسیت، عزت اور احترام کیا ہے۔ اس حوالے سے کیتھولک مسیحی رہنما پوپ کا کردار بھی قابل ستائش ہے۔

ابراہیمی مذاہب جن کا مزاج مشرقی ہے کی نظر سے دیکھا جائے تو یورپ، امریکہ اور کینیڈا کی معاشی ترقی کی جو قیمت ان معاشروں نے ادا کی ہے وہ کوئی قابل ستائش نہیں۔ یورپ، کینیڈا اور امریکہ میں جو معاشرتی ارتقاء جاری ہے لازم نہیں کہ وہ مثبت سمت میں ہی ہو۔ فقط معاشی خوشحالی ہی اطمینان اور خوشی کی ضامن نہیں ہوتی۔ صنعتی ترقی اور اربنائزیشن کی جو قیمت ادا کرنی پڑتی تیسری دینا کے ممالک ابھی اس سے واقف نہیں ہیں۔

عرض یہ ہے کہ امریکہ، کینیڈا اور یورپی ممالک کی مذہبی اور معاشرتی آزادی کی وجہ سے مذہب کے خلاف رونما ہونے والے واقعات کے بدلے میں اپنے ملک میں نفرت کی آگ مت پھیلائیں۔ ہمارے جو مذہبی اور سیاسی رہنما پاکستان میں مذہبی منافرت کو ہوا دیتے ہیں آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی اولادیں انہی سیکولر ممالک میں تعلیم حاصل کرتی ہیں اور عموماً ہمارے مذہبی اور سیاسی رہنماء بھی پاکستان کی بجائے انہی سیکولر ممالک میں زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں۔

خدارا سویڈن میں قرآن کی بے حرمتی کو مسیحیت سے منسلک مت کریں بلکہ ایسے فعل کو کسی بھی مذہب سے منسلک کرنا زیادتی ہو گی۔ حالیہ واقعے میں ملوث جہنمی شخص عراقی مہاجر ہے، عراقی حکومت نے سویڈن سے درخواست کی ہے کہ وہ ملعون شخص کو عراقی حکومت کے حوالے کرے تا کہ عراق اپنے قوانین کے تحت اسے سزا دے سکے۔ سویڈن کی عدالت نے الہامی کتاب کی بے حرمتی کی اجازت دی جس کا خمیازہ سویڈن کی حکومت کو بھگتنا پڑے گا اور بھگتنا چاہیے بھی۔

تمام ابراہیمی مذاہب اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ آخری زمانوں میں انتشار، خداوند کریم کے احکامات کا مذاق، خدا کے وجود کا انکار اور فطرت کے ساتھ کھلواڑ عام بات ہو گی۔ اور ہم اسی آخری زمانہ میں رہ رہے ہیں۔ ہماری آنے والی نسلیں موجودہ مذہبی ابتری سے بھی زیادہ ابتر حالات دیکھیں گی۔

کوئی بھی ذی شعور انسان مذاہب کے عقائد یا الہامی کتابوں کی تضحیک کی حمایت نہیں کر سکتا۔ سویڈن میں قرآن پاک کی جو بے حرمتی ہوئی اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہمارے پاکستانی معاشرے کے لئے ضروری ہے کہ ہم عالمی طور پر معاشی، معاشرتی، ثقافتی اور مذہبی بدلتے حالات کو سمجھیں جہاں کئی موقع پرست طاقتیں دنیا میں انتشار پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنا چاہتی ہیں۔

Facebook Comments HS