خالی جھولی کے ساتھ مرو

میں ان دنوں ایک کتاب پڑھ رہی ہوں جو میرا اوڑھنا بچھوڑنا بنی ہوئی ہے۔ اس کتاب نے میرے اندر زندگی کی ایک نئی امنگ پیدا کی ہے اور میں اپنے اندر وہ ولولہ محسوس کر رہی ہوں جو کبھی اپنے کیریئر کے آغاز میں تھا۔ اس کتاب نے مجھے اتنا انسپائر کیا ہے کہ میں نے اپنی لغت سے ریٹائرمنٹ کا لفظ نکال دیا ہے۔ اس کتاب کا نام ہے Die Empty اور اس کے مصنف ہیں ٹوڈ ہینری۔ کتاب ایمازون کی ویب سائٹ سے دستیاب ہے۔
کتاب کے آغاز میں مصنف نے ایک واقعہ لکھا ہے جس میں امریکہ کے شہر نیو اور لینز میں ایک آرٹسٹ نے فروری سنہ دو ہزار گیارہ میں ایک اجاڑ گھر کو سجا سنوار کر نئی زندگی دی۔ آرٹسٹ کینڈی چینگ اس وقت اپنے ایک پیارے کے گزر جانے کے غم سے گزر رہی تھی اور جیسا کہ غم کی کیفیات کے دوران اکثر ہوتا ہے اس امر پر غور و فکر کر رہی تھی کہ آخر اس زندگی کا مقصد کیا ہے اور اس میں کس چیز کی سب سے زیادہ اہمیت ہے۔ زندگی کی بے ثباتی اور کسی بھی وقت اس کے چھن جانے کا خدشہ لا شعوری طور پر شاید ہر انسان کو ہوتا ہے یا ہونا چاہیے ۔
آرٹسٹ کینڈی چینگ نے اس گھر کے باہر کی ایک پوری دیوار کو چاک بورڈ کی شکل دے دی اور اس میں بہت سی سطریں اس سرخی کے ساتھ شروع کیں "میں مرنے سے پہلے ——- ” اور راہگیروں کو خالی جگہ پر کرنے کی دعوت دی۔
لکھنے کے لیے چاک موجود تھے۔ اس دیوار کے پاس سے گزرتے لوگوں نے اپنی اپنی خواہشات ان خالی جگہوں پر لکھیں ۔ کسی کی حسرت تھی کہ وہ مرنے سے پہلے اپنے گانا گانے کےشوق کو منظر عام پر لے کر آئے ۔ کسی نے مرنے سے پہلے اس کتاب کو لکھنا تھا جس کو لکھنا قرض تھا۔کسی نے مرنے سے پہلے اپنی ماں کو بتانا تھا کہ اسے اس سے کتنی محبت تھی۔
دیکھتے ہی دیکھتے اس بورڈ کی شہرت دور دور تک پھیل گئی اور لوگ اس پر اپنی خواہشات لکھنے کے لیے آنے لگے۔ دوسرے محلوں میں بسنے والے لوگوں نے اپنے اپنے محلے میں ایسے بورڈ لگانے شروع کر دیے۔۔اسی پر بس نہیں یہ تحریک دنیا بھر میں پھیل گئی۔
ٹوڈ ہینری لکھتے ہیں کہ ایک دن وہ اپنے دوستوں کی محفل میں بیٹھے تھے اور یہ بحث چھڑ گئی کہ دنیا میں سب سے قیمتی زمین کہاں پر ہے۔ کسی کا خیال تھا کہ یہ زمین نیویارک شہر کے علاقے مینہیٹین میں ہے، کسی کا کہنا تھا کہ مشرق وسطی میں تیل کے کنوؤں کی زمین بہت قیمتی ہے، ایک اور حضرت بولے کہ افریقہ میں سونے کی کانوں کا علاقہ قیمتی ہے۔
ایک صاحب جو خاموشی سے یہ سب کچھ سن رہے تھے بالآخر گویا ہوئے کہ ان سب جگہوں سے زیادہ قیمتی جگہ قبرستان ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا کہ اس شہر خموشاں میں لوگ اپنی اپنی حسرتوں اور خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی بجائے کل پر ٹالتے ہوئے اپنے ساتھ لے کر قبروں میں جا سوئے اور قبرستان کے قبرستان ان خزانوں سے بھرے پڑے ہیں۔ کتنی ہی کتابیں لکھنے سے رہ گئیں ۔ کتنی ایجادات ہوتے ہوتے نہ ہوئیں ۔ کتنے پراجیکٹ شروع ہوتے ہوتے رہ گئے ۔کتنے جذبات کا اظہار نہ ہوا۔ کتنے ٹوٹے رشتوں کو نہ جوڑا گیا ۔ میں اس میں یہ بھی اضافہ کرونگی کہ کتنے رشتے جو ٹوٹ جانے چاہیے تھے وہ نہ ٹوٹے کیونکہ بستر مرگ پر کچھ لوگوں کا پچھتاوا یہ بھی ہوتا ہے کہ انھوں نے کتنے بے معنی اور خود غرض رشتوں کو نبھانے میں اپنی زندگی کا قیمتی وقت برباد کیا اور اپنی بجائے دوسروں کی زندگی جیے ۔
اس گفتگو نے ٹوڈہینری کو اتنا متاثر کیا کہ گھر آ کر اس نے اپنے دفتر میں لکھ کر لگا دیا "Die Empty”اور اس پر عمل بھی شروع کر دیا۔ ہر روز وہ اپنا احتساب کرتا تھا کہ اسے جو صلاحیتیں اور ہنر دیے گئے ہیں کیا اس نے اس دن انہیں استعمال کرنے کا حق ادا کیا یا نہیں۔اسی عنوان کے ساتھ اس نے کتاب لکھی اور لیکچر دینے شروع کیے۔ جب یہ کتاب میرے ہاتھوں تک پہنچی تو مجھ پر بھی اس کا گہرا اثر ہوا۔ وہی کتاب آپ پر اثر انداز ہوتی ہے جس کے لکھنے والے پر وہ بیتی ہو۔
غالبا یہ علامہ اقبال کا قول ہے کہ انسان کو جب زندگی گزارنے کا سلیقہ اتا ہے تو اسے موت آ جاتی ہے۔
اگرچہ موت برحق ہے لیکن میڈیکل سائنس نے انسان کی زندگی میں اضافہ ضرور کر دیا ہے ۔ آج کے اکثر انسانوں کو جب زندگی گزارنے کا سلیقہ آ تا ہے تو انہیں چند سالوں کے لیے عقلمند بزرگ بننے کی مہلت بھی مل جاتی ہے۔ ہم اکثر اپنے آرام دہ بکس میں مگن ہوتے ہیں اور یہ سوچ کر لمبی تان لیتے ہیں کہ ہم نے زندگی میں بہت محنت کی ہے اور اب ہمارے آ رام کا وقت ہے۔ بے شک زندگی ہمیشہ کولہو کے بیل کی طرح کام کرنے کا نام نہیں ہے اور ہمیں اس کے بکھیڑوں کو کم کرنے کا پورا حق حاصل ہے لیکن ہمیں جو بھی ہنر دیا گیا ہے وہ ہمارے پاس امانت ہے ۔ مرنے سے پہلے اس کا ہر ذرہ انسانیت کو سکھا کر جانا ہمارے اوپر قرض ہے اور انسان کو قرض کی حالت میں نہیں مرنا چاہیے۔
ٹوڈ ہینری کی کتاب پڑھنے کے بعد میں نے اپنا محاسبہ کیا اور اپنی اس کتاب کے مسودے کو کمپیوٹر کے تہہ خانے سے برآمد کیا جسے دس سال پہلے لکھنا شروع کیا تھا اور ادھورا چھوڑ دیا تھا ۔ اس کتاب کو مکمل کرنے کا عمل جاری ہے۔ میں بہت سالوں سے اپنے کیریئر میں جو ایڈونچر کرنا چاہتی تھی اور اسے ہر سال اگلے سال پر ٹال دیتی تھی بالآخر اسے کرنے کی جرات پیدا کی ۔ جس والنٹیئر ورک کے خواب کی”نیک نیتی” پر نازاں تھی اسے نیت سے عملی درجے تک پہنچایا ۔ رشتوں پر ازسرنو غور وفکر کیا۔ اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کو ترجیح بنایا۔ اس فہرست کا ہر روز جائزہ لیا جاتا ہے کیونکہ موت کسی بھی وقت آ سکتی ہے۔ آج کا کام کل پر نہیں ٹالا جا سکتا ۔
میرا ارادہ قبرستان کے خزانوں میں اضافہ کرنے کا نہیں ہے اور جھولی خالی کر کے جانے کی تمنا ہے۔
Facebook Comments HS

