پکی قبر

بابا کرم دین پر اپنے نام کی مثل خداوند تعالیٰ کا خصوصی کرم تھا۔ علاقہ کے چند بڑے زمینداروں میں بابا کرم دین کا طوطی بولتا تھا۔ جس دور میں گاؤں دیہات کے لوگوں کے پاس رہائش کے لیے پکے مکان میسر ہونا مشکل تھا اس دور میں بھی بابا کرم دین کے جانوروں کا باڑہ پکی اینٹوں سے پلستر شدہ تھا، جس میں قیمتی نسل کی گائیں، بھینسیں، بیل اور دیگر پالتو جانوروں کی خاص نگہداشت کی جاتی تھی۔ یہی نہیں بلکہ فصلوں اور باغات کی جانب نگاہ اٹھائیں تو بابا کرم دین کی زمینوں پر عام چارہ جات سے لے کر غذائی اجناس، انواع و اقسام کی سبزیاں اور موسمی پھل بہم میسر تھے۔ اگرچہ بابا کرم دین نے اپنے اس زمیندارے کے لیے دو گھرانے بطور مزار عین رکھے ہوئے تھے لیکن وہ ان پر کلی بھروسا کرنے کی بجائے ذاتی طور پر تمام امور کی نگرانی خود کرتا اور شاید یہی اس کی کامیابی کی بڑی وجہ تھی۔
خداوند کریم کے اس خصوصی فضل کے باوجود بابا کرم دین کی شخصیت کے چند پہلو کچھ مثبت اہمیت کے حامل نہیں تھے۔ مثال کے طور پر اس کا دینے والا ہاتھ بہت تنگ تھا۔ وہ وحدہ لاشریک کے عطا کردہ فضل میں کسی دوسرے کو شراکت دار نہ بنا پایا۔ حتیٰ اپنے ہاتھوں سے کمائے ہوئے رزق کو اپنے اوپر خرچ کرنے میں بھی بخل سے کام لیتا۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا تب سے بابا کرم دین کی وفات تک گنتی کے چند عام سے قمیض اور پتلون تھے جنہیں وہ ادل بدل کر زیب تن کرتا۔ ہاں لیکن اپنی اس کمائی سے اپنی جائیداد اور زمیندارے کو وسیع سے وسیع تر کرتا گیا۔
بابا کرم دین کی کوشش ہوتی کہ اہالیان علاقہ اس کے پاس بیٹھیں، محفل سجائیں، اس کی تعریف و توصیف کریں، اس کے پاس لوگوں سے جمع شدہ بلکہ بعض ضبط شدہ کتب سے حاصل کردہ علم سے فیض یاب ہوں، لیکن اگر مہمان چائے پانی یا حقہ کا طلبگار ہے تو اس مہمان نوازی کے واسطے بابا کرم دین کے چچا زاد امیر حسین کے مہمان خانے کی جانب رہنمائی کر دی جاتی۔
امیر حسین بھی اپنے نام کی مثل دل کا امیر تھا۔ بابا کرم دین کی طرح وسیع زمیندارہ تو نہیں تھا لیکن اتنا رزق بہم میسر رہتا کہ نا تو کوئی سائل خالی ہاتھ لوٹا اور نا ہی مہمان خانے میں ہمہ وقت رونق افروز لوگوں کی مہمان نوازی میں کبھی کوئی کمی آئی۔ غریب پرور ہونے کی بناء پر علاقہ کے اکثریتی پسے ہوئے طبقہ کے دلوں کا حکمران تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مقامی تنازعات یا دیگر امور کے لیے لگنے والی کسی بھی پنچایت کا فیصلہ امیر حسین کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ امیر حسین کا فیصلہ ہی حتمی فیصلہ تصور کیا جاتا۔
امیر حسین کی زوجہ غلام فاطمہ بھی کوئی اللہ لوک سادہ روح تھی۔ دونوں میاں بیوی خلق خدا کی خدمت میں کچھ ایسے مصروف رہتے کہ غریب کے چہرے پر مسکراہٹ کا سامان مہیا کر کے اپنا سیروں خون بڑھا لیتے۔ خلق خدا کے دلوں سے نکلی ہوئی خالص دعاؤں سے یہ جوڑا ہمیشہ سرشار رہتا۔ بابا کرم دین کی طرح یہ جوڑا نا تو کوئی علمی معرکہ آرائی کر سکا اور نا ہی اپنی زمین اور جائیداد میں کوئی اضافہ کر سکا۔ ہاں لیکن اپنا ظاہری ٹھاٹ باٹ اور پہناوا ہمیشہ عمدہ رکھا۔ اس سب کے باوجود عاجزی و انکساری کا یہ عالم تھا کہ غریب پاس بیٹھنے میں یا اپنا مسئلہ بیان کرنے میں عار محسوس نہ کرے۔ گویا اسے لگتا کہ یہ اعلیٰ صفت غریب پرور ہم میں سے ہی کوئی ایک ہے۔
وقت نے انگڑائی لی اور بابا کرم دین ضعیفی کی دہلیز پر جا پہنچا۔ گھر والی نے داعی اجل کو لبیک کہا تو بابا کرم دین بیٹوں اور بہوؤں کے رحم و کرم پر رہ گیا۔ جتنی وسیع جاگیر اولاد کے لیے بنائی تھی، اس سے کئی گنا زیادہ اولاد میں اپنے اپنے حصے کے لیے آئے روز اختلافات شدت پکڑنے لگے۔ مجبوراً خاندان کے چند دیگر بزرگوں کے توسط سے بابا کرم دین نے جائیداد کا بٹوارہ کر دیا۔ جبکہ زمین کا ایک زرخیز چھوٹا ٹکڑا اپنے حصے میں برقرار رکھا جو باپ کی دیکھ بھال کرنے والے بیٹے کے حصہ میں رہے گا۔ اب کے ہر بیٹا باپ کی خدمت کے لیے کمربستہ نظر آیا تو باہمی تصفیہ یہ طے پایا کہ والد گرامی ربیع اور خریف کے فصلی موسموں کے ساتھ ساتھ ہر چھ ماہ بعد باری باری ہر فرزند کو شرف خدمت بخشیں گے۔ اولاد کی اس سعادت مندی پر بابا کرم دین مسکرا کر رہ گیا۔
ادھر امیر حسین بھی پوتے پوتیوں والا ہوا تو ایک روز شہر بیاہی بیٹی کی خبر گیری کے لیے روانہ ہو گیا۔ مضبوط اعصاب کے مالک امیر حسین کو معلوم نہیں کیونکر دل کا دورہ پڑا تو وہیں شہر ایک قریبی ہسپتال لے جایا گیا۔ عزیز و اقارب کو اطلاع ملی تو چھوٹے چھوٹے قافلے ہسپتال کی جانب عازم سفر ہوئے۔ خیر۔ ڈاکٹر نے ضروری معائنے کے بعد چند دواؤں کے ہمراہ مکمل آرام کی ہدایات جاری کر دیں۔ اب جو ایک ہجوم کے ہمراہ امیر حسین گاؤں پہنچا تو امیر حسین کی حویلی پر اہل علاقہ کا تانتا بندھ گیا۔ غلام فاطمہ بوجھل دل کے ساتھ بھی تیمارداروں کی مہمان نوازی اور اپنے رفیق حیات کی خدمت کے لیے کمربستہ رہی۔ امیر حسین نے غلام فاطمہ کو مزید کسی تکلیف سے بچانے کے لئے ایک شام خاموشی سے ایک اطمینان بھری مسکراہٹ کے ساتھ خالق حقیقی کی رضا پر سر تسلیم خم کر دیا۔ غلام فاطمہ نے بھی اگلے جہاں امیر حسین کو زیادہ انتظار کرانا مناسب نا جانا اور لگ بھگ تین ماہ بعد اپنے بچھڑے ہم سفر سے ملاقات کے لیے روانہ ہو گئی۔ مقامی قبرستان کے ایک بلند مقام پر دونوں میاں بیوی کی ساتھ ساتھ قبریں بنائی گئیں، جنہیں علاقے کا غریب طبقہ آج بھی کسی دیوتا اور دیوی کی مانند لائق تعظیم سمجھتا ہے۔ اگرچہ فرزندان امیر حسین نے بھی علیحدہ علیحدہ مکان بنا لیے لیکن باہمی اتفاق کے ساتھ امیر حسین کا ترکے میں غرباء کے لیے چھوڑا گیا ’فیض‘ آج بھی اس کی اولاد کے ہاتھوں جاری و ساری ہے۔
امیر حسین و غلام فاطمہ کے گزرنے کے بعد تو داعی اجل نے گاؤں میں ڈیرے ہی لگا لئے۔ اب کے مقامی قبرستان میں مزید قبور کے لیے گنجائش کم ہوتی چلی گئی تو بابا کرم دین کو بھی اپنی قبر کی فکر لاحق ہوئی۔ کافی سوچ بچار کے بعد ایک دانشمندانہ وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد مجھے اپنے ہی حصہ والی زمین پر دفن کیا جائے۔ بیٹوں نے وصیت کے اس حصے کو مخفی رکھنا چاہا لیکن نیکی کی اس کلی کے کھلنے پر خوشبو کو پھیلنے سے روکنا کیونکر ممکن تھا۔
بابا کرم دین کے حصے والی زرخیز زمین پر اس کے بیٹوں کی للچائی ہوئی نگاہوں پر ایک روز عزرائیل علیہ السلام کو بھی ترس آ گیا اور یوں بابا کرم دین اپنا سارا مال و دولت یہیں چھوڑے ایک مختصر سا سفید لباس اوڑھے خاک میں خاک ہو جانے کے لیے چار کندھوں کی ایک سواری پر اپنی حویلی سے روانہ ہو گیا۔ سعادت مند بیٹے جو باپ کے گزرنے سے قبل ہی زمین کے اس ٹکڑے کے تین برابر حصے کرنے کے لیے ذہنی طور پر آمادہ تھے، قبر کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کیا جو کچی سڑک سے قریب ہونے کے ساتھ ساتھ تینوں حصوں کی مشترکہ تھی۔ بابا کرم دین کے دفن ہونے کے ساتھ ہی جو ایک عہد تمام ہوا تو بہت سے نئے ابواب کھل گئے۔
اولاد کی آپس میں ناچاقی تک تو بات قابل سمجھ تھی لیکن معلوم نہیں بابا کرم دین کے جانے کے بعد انہیں ایسی بے برکتی نے آ گھیرا کہ تین برابر حصوں والے باڑے میں جانوروں کی تعداد گھٹتی چلی گئی۔ سرسبز باغات ایک معقول آمدنی دینے سے بھی قاصر نظر آنے لگے، فصلوں پر بیماریوں اور نت نئے کیڑے مکوڑے پیداواری صلاحیت کو بری طرح سے متاثر کرنے لگے۔ حالات کی ستم ظریفی نے ایک بار پھر بھائیوں کو دست و گریباں ہوتے دیکھا۔ جھگڑوں نے مکالماتی رخ اختیار کیا تو اچانک انکشاف ہوا کہ سڑک کے پاس موجود بابا کرم دین کی قبر اور اس پر مستزاد فاتحہ خوانی کے لیے آنے والے لوگ اردگرد کی فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
اب کی بار جو بھائی اصل مسئلہ کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے سر جوڑ کر بیٹھے تو عالم برزخ میں بیٹھے باپ کو بھائیوں کے اس اکٹھے بیٹھنے کی ادا خوب پسند آئی حتیٰ مزید کسی اختلاف سے بچنے کے لیے معجزاتی طور پر رات و رات وہ کچی قبر چلتی چلتی اس کچی سڑک سے ملحق ہو گئی۔ بھائیوں کے درمیان معجزاتی طور پر تصفیہ ہو گیا تو کچھ عرصہ کے لیے باہمی اختلافات بھی سرد پڑ گئے۔
ابھی امن کے یہ دن مزید جاری رہتے لیکن قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔ ساون کے موسم میں ابر رحمت برسا تو قبر کی مٹی نم دار ہونے کے ساتھ ساتھ ملحق کچی سڑک بھی خستہ حالی کا شکار ہو گئی۔ ایک مقامی سیاستدان کے منچلے بیٹے نے سیر و تفریح کی غرض سے جو گاڑی گزاری تو اس خستہ حال سڑک کے تازہ ترین کیچڑ میں دھنس گئی۔ گاڑی نکالنے کی کاوش کے دوران ٹائر پھسلتے پھسلتے بابا کرم دین کے قبر پر چڑھ دوڑے۔ قبر کی حرمت پامال ہونے کی اطلاع ملتے ہی بابا کرم دین کے غیور بیٹے غصے میں بھرے ہوئے جائے وقوعہ پہنچے تو وہ مقامی سیاستدان کہ جن کے فرزند سے یہ توہین ہوئی تھی وہیں پہنچ چکے تھے۔ اس سے قبل کہ نوبت تلخ کلامی کی جانب بڑھتی، چند مقامی لوگوں نے دونوں فریقین کو سمجھا بجھا کر امیر حسین کے مہمان خانے مل کر بیٹھنے کا مشورہ دیا تاکہ لڑائی جھگڑے کی بجائے بات چیت سے معاملہ حل کیا جائے۔
خاندانی غیرت سے سرشار فرزندان بابا کرم دین کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ باپ کی قبر کی بے حرمتی کا انتقام کیسے لیں۔ ساون کے اس حبس زدہ موسم میں مہمان خانے ٹھنڈے مشروبات پہنچے تو ماحول بھی قدرے معمول پر آیا۔ معززین علاقہ اور ان مقامی سیاستدان کے درمیان جو مسائل کی بابت گفتگو کا باب کھلا تو بات بابا کرم دین کی قبر سے نکل کر بلدیاتی مسائل کو چل پڑی۔ کافی بحث و تمحیص کے بعد بالآخر فرزندان بابا کرم دین سے معافی مانگی گئی، جبکہ اس یقین دہانی پر محفل اختتام پذیر ہوئی کہ وہ سیاستدان اپنا اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے دیگر بلدیاتی مسائل کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کچی سڑک کو پکی کروانے کے لیے حتمی اقدامات اٹھائیں گے۔
ابھی اس واقعہ کو دو ہفتے ہی گزرے تھے کہ آناً فاناً سرکاری ٹھیکیدار تعمیراتی سامان لیے سڑک کی تعمیر میں جت گئے۔ لیکن اس دوران بابا کرم دین کے غیور بیٹوں میں سے کسی کو بھی فرصت نا ملی کہ وہ کم از کم باپ کی قبر کو ازسرنو سدھار لیں۔ خیر تیزی سے جاری تعمیراتی کام جب قبر کے قریب پہنچا تو انجان ٹھیکیدار نے اس بگڑی ہوئی مٹی کی ڈھیری کو زمین کے برابر کر کے زمین کے اس حصے کو سڑک میں شامل کر دیا۔
سڑک کا کام مکمل ہوا تو افتتاحی تقریب کے لیے ایک صوبائی وزیر تشریف لائے۔ پروقار افتتاح کے موقع پر ان وزیر صاحب نے قبرستان کی ضرورت کے پیش نظر پرانے قبرستان سے چند ایکڑ کے فاصلے پر موجود سرکاری زمین کو قبرستان کا درجہ دیا تو لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس سارے عمل کے دوران بابا کرم دین کی بیٹوں کی طرف سے کوئی ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا۔ اب کہ جسے قبر پر فاتحہ خوانی کی خواہش ہوتی وہ سڑک کے اس حصہ کے پاس احتراماً کھڑا ہو کر دعا کر لیتا۔ قبر پکی ہو جانے سے بیٹوں کے جھگڑے تو کم نا ہوئے لیکن کم از کم اب وہ قبر کو اپنے مسائل کے لیے مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے تھے۔
ہاں یاد آیا امیر حسین اور غلام فاطمہ کی قبریں آج بھی کچی ہیں۔


Very nice lines bro