کالی زبان

ماں صبح سے مفت راشن اور زکوٰۃ کی تقسیم والی قطار میں لگی ہوئی تھی۔ اب تو دن ڈھل رہا تھا بھوک پیاس اور تھکن کے مارے اس کی ٹانگوں کی کپکپاہٹ زینب کو یہاں بیس قدم دور دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے بھی واضح نظر آ رہی تھی۔ اس کی اپنی حالت بھی ماں سے زیادہ بہتر نہ تھی۔ آخر کار صدیوں برابر انتظار کے بعد ماں کی باری آ ہی گئی۔ پر یہ کیا؟ ماں تو خالی ہاتھ واپس پلٹ رہی تھی۔ وہ بھاگ کر ماں کے پاس گئی دامن پکڑ کر پوچھا: اماں راشن؟
ماں نے تھکے تھکے انداز میں کہا۔ انہوں نے کہا ہے ہم راشن اور زکوٰۃ صرف بیوہ عورتوں کو دیتے ہیں۔
یہ سن کراس نے چپکے سے دعا کی کہ ابا مر جائے تاکہ کم از کم زکوٰۃ خیرات تو ملا کرے۔ زندہ ابے کی تو نہ دھوپ ہے نہ چھاؤں۔
اور پھر۔
دوسری ہی صبح ابا مر گیا۔ سچ مچ ہی مر گیا۔ زینب حیران جہاں کی تہاں رہ گئی۔
یہ آغاز تھا۔
دوسری بد دعا اس نے اپنے چچا کو دی جب اس کی بڑی بہن کے بھاگ جانے پر وہ اس کی ماں اور اس سے بڑی دو بہنوں کو بری طرح پیٹ رہا تھا ساتھ ہی اس کی ماں کو غلیظ ترین گالیاں بھی دیے جا رہا تھا۔ وہ کونے میں دبکی تھر تھر کانپ رہی تھی آنسو لڑیوں کی صورت گالوں پر لڑھک رہے تھے۔ اس کے چچا کو لگتا تھا کہ باجی کے بھاگنے میں اس کی ماں اور بہنوں کی مرضی شامل تھی اور انہیں پتا تھا کی وہ کس کے ساتھ اور کہاں بھاگی ہے۔
تب اس نے دعا کی اللہ کرے چچا کی اکلوتی بیٹی بھاگ جائے اور کبھی پتہ نہ چلے کہ کس کے ساتھ بھاگی ہے اور کہاں گئی ہے۔ ایک ہی ہفتہ گزرا تھا کہ وہ سچ مچ بھاگ گئی۔ چچا کئی روز گھر سے نہ نکلے پھر جب نکلے تو کندھے لٹکائے، سر جھکائے شرمندہ شرمندہ جیسے ان کی بیٹی کے گھر سے بھاگنے میں ساری غلطی ان کی ہو اور انہیں پتا ہو کہ وہ کہاں اور کس کے ساتھ بھاگی ہے۔
اور تب زینب ڈر گئی۔
اس نے سنا تھا کہ کالی زبان والوں کے منہ سے نکلی ہر بات پوری ہوتی ہے۔ وہ بھاگ کر گھر کے اکلوتے آدھ ٹوٹے شیشے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ پوری زبان نکال کر ہر ممکن زاوئیے سے دیکھ لی پر کہیں کالک نظر نہ آئی۔ وہاں تو بس گلابی زبان پر سفید سے مواد کی تہہ چڑھی تھی۔ پھر زینب نے ہر وقت اچھی اچھی دعائیں مانگنی شروع کر دیں۔ اچھے کھانے سے لے کر محل جیسے گھر، اور دولت کے انبار تک ہر چیز مانگ ڈالی۔ پر ان میں سے ایک بھی دعا قبول نہ ہوئی۔
زینب حیران ہوتی کہ کبھی کوئی اچھی دعا کیوں قبول نہیں ہوتی جبکہ ہر بد دعا فوراً قبول ہوجاتی ہے۔
وقت آگے بڑھتا رہا۔ ہمسائے میں میاں جی کی بیٹی کی شادی تھی۔ میاں جی سنار کا کام کرتے تھے اور اس محلے کے سب سے امیر آدمی تھے۔ ویسے تو محلے والے اپنی تقریبات میں ان ماں بیٹیوں کو کم کم ہی بلایا کرتے تھے کہ ان لوگوں نے کون سا نیوندرا دینا ہے الٹا چار جی تین وقت کے کھانے کی کسر ایک ہی وقت میں نکال جائیں گے۔ چنانچہ نہ بلانا زیادہ وارے میں رہتا۔ ہاں البتہ کھانا بچ جاتا تو ان کے گھر بھی کچھ نہ کچھ بھیج دیا جاتا۔ پر اس بار بلاوا آ گیا۔ شاید پرانی محلے داری کا لحاظ تھا یا شاید خدا ترسی۔
چاروں ماں بیٹیوں نے ٹرنک کھولا اور اپنے سب سے بہتر حالت میں موجود لباس نکالے، گو یہ بھی کسی کی اترن ہی تھی اور ریشمی ہونے کی وجہ سے گرم موسم کے لحاظ سے مناسب بھی نہیں تھے پر یہاں تن ڈھانکنے کو مل رہا تھا یہی غنیمت تھا۔
جب یہ ماں بیٹیاں میاں جی کی قمقموں اور پھولوں سے سجی حویلی پہنچیں خوب رونق لگی تھی، مہمان آ جا رہے تھے، ڈیک پر اونچی آواز میں شادی بیاہ کے گانے گونج رہے تھے۔ ان کی ماں انہیں ساتھ لے کر کونے میں موجود قدرے الگ تھلگ میز کے گرد بیٹھ گئی۔ زینب تھوڑی دیر تو وہیں ٹکی رہی پر اپنی ہم عمر سجی سنوری لڑکیوں کو تتلیوں کی مانند ادھر ادھر اٹکھیلیاں کرتے دیکھ کر اس سے رہا نہیں گیا۔ وہ اٹھ کر رونق والی جگہ کی طرف چل پڑی جہاں دلہن بیٹھی تھی اور اس کے ارد گرد ہنسی مذاق کرتی خواتین کا جھمگھٹا لگا تھا۔ وہاں تک آ تو گئی پر پھر جھجک کر ایک طرف کھڑی ہو گئی۔ جہاں زینب کھڑی تھی اس کے عقب میں ایک دروازہ تھا جو ہال میں کھلتا تھا اور اسی ہال میں کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ کھانے کا انتظام دیکھنے اور مہمانوں کی آؤ بھگت کرنے والی خواتین کی آوازیں زینب تک پہنچ رہی تھیں۔ ان میں سے ایک دوسری کو کہہ رہی تھی کہ باقی لوگ تو کھانا کھا چکے ہیں بس مہمانوں کی آخری ٹولی رہتی ہے ان کو اندر بلا لیتے ہیں اور ساتھ ہی زینب کی ماں کا نام لیا کہ اسے اور اس کی بیٹیوں کو بھی۔
دوسری خاتون نے درشتی سے اس کی بات کاٹی اور کہا دماغ تو نہیں خراب ان لوگوں کی اوقات ہے کہ مہمانوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں گی؟ جب جانے لگیں تو شاپر میں ڈال کر کھانا ساتھ کر دینا بس اندر لا کر بٹھانے کی ضرورت نہیں۔
زینب گویا زمین میں گڑ گئی۔ پھر باوجود کوشش اور ماں بہنوں کے لاکھ کہنے کے زینب کے حلق سے ایک نوالہ تک نہ اترا۔ اس نے آنسو اندر اتار کر پیٹ بھر لیا اور بھرے دل سے بددعا دی اللہ کرے یہ لوگ بھی ہماری طرح غریب ہوجائیں۔ دوسری صبح پتا چلا کہ شادی کی مصروفیات کے دوران چور میاں صاحب کی دکان کا صفایا کر گئے ہیں۔ ابھی اسی پر رونا پیٹنا ختم نہیں ہوا تھا کہ حویلی میں شارٹ سرکٹ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔ ہزار کوشش کے باوجود آگ کے بجھنے تک سب کچھ جل کر راکھ ہو چکا تھا۔ کوئی جانی نقصان تو نہ ہوا پر مال میں سے کچھ نہ بچا۔
محلے کی عورتوں نے سارا ملبہ نئی آنے والی بہو کی سبز قدمی پر ڈال دیا پر زینب احساس جرم کا شکار نگاہیں چرائے چرائے پھرتی رہی۔

