غلام ابن غلام

مسئلوں کی آماجگاہ بنا جنوبی پنجاب اور ظلم و نا انصافیوں میں پستے یہاں کے بے بس و لاچار باسیوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ خطہ جنوبی پنجاب خاص کر ڈویژن بہاول پور کی عظمت اور شان و شوکت اب تاریخ کے جھروکوں میں تو دیکھی جا سکتی ہے۔ مگر موجودہ صورت حال انتہائی دگرگوں ہے۔ تقریباً 57 برس قبل اس بدقسمت ریاست کی 36 بینکوں پر مشتمل اپنی ذاتی برانچیں تھیں۔ امیر آف بہاول پور نواب سر محمد صادق پنجم نے وطن عزیز کو مستحکم کرنے کے لیے اپنے تمام خزانوں کے منہ کھول دیے اور بغیر کسی تردد کے اپنا سب کچھ اس نو زائیدہ ریاست پر قربان کر دیا۔ وقت گزرتا گیا اور اس پاک وطن کے حکمرانوں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس عالیشان ریاست کو پس پشت ڈال کر اپنے مفادات کو خوب سمیٹا اور آج یہاں کے باسیوں کی یہ حالت ہے کہ ان کے پاس نہ تعلیم کا کوئی خاص انتظام ہے اور نہ ہی کوئی صحت و روزگار کے خاطر خواہ مواقع۔ ڈویژن بہاول پور کی کسی بھی تحصیل میں کوئی یونیورسٹی نہیں۔ دیہات کی خواتین کے لیے ہائی سکول تو دور کی بات میلوں دور تک کوئی مڈل سکول بھی میسر نہیں۔ گورنمنٹ کے ہیڈ کوارٹر ہسپتال صرف تحصیل کی سطح پر ہیں لیکن وہاں دور دراز کے دیہاتیوں کا پہنچنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہے جس کی وجہ سے شرح اموات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ زچگی کے دوران ماں اور بچہ موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ مگر آج تک کسی سیاسی لیڈر نے ان غریب دیہاتیوں کے لیے کوئی فلاحی کام سر انجام نہیں دیا بس پانچ سال بعد عوام میں آئے اور ووٹ کی بھیک مانگی منتخب ہوئے اور اپنی راہ چلتے بنے۔ بیچارہ غریب اپنی قسمت پہ روتا رہتا ہے اس کی قسمت کب بدلے گی آج تک کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
ہم ڈویژن بہاولپور کے صرف ایک حلقے NA۔ 171 کا تجزیہ کریں تو ہمیں تقریباً تمام جنوبی پنجاب کی بد حالی اور پسماندگی کے جواب مل جاتے ہیں۔ تو آئیں ہم مل کر وہ وجوہات تلاش کرتے ہیں جن کی وجہ سے اس حلقے کے عوام کی محرومیوں میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ حلقہNA۔ 171 دو تحصیلوں، تحصیل خیر پور ٹامیوالی PP۔ 248 اور تحصیل حاصل پور PP۔ 247 پر مشتمل ہے۔ ان دو تحصیلوں کی کل آبادی۔ ( 718634 ) ہے جبکہ دیہات سے تعلق رکھنے والے افراد کی مجموعی تعداد 561678 ) ) اور شہری آبادی سے اتنے ( 156956 ) لوگ تعلق رکھتے ہیں۔ ان دو تحصیلوں کا درمیانی فاصلہ 50 کلومیٹر ہے۔ اور تحصیل حاصل پور سے ضلع بہاول پور کا درمیانی فاصلہ 108.4 ) ) کلو میٹر ہے۔ دیہاتی علاقے اس فاصلے سے مستثنیٰ ہیں۔ اس حلقے میں اکثریت کا تعلق دور دراز دیہاتی علاقوں سے ہے۔ اتنے بڑی آبادی والے حلقے میں ایڈمنسٹریشن کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ریسکیو 1122 کے دفاتر صرف تحصیل سطح پر ہیں دور دراز کے دیہاتی علاقوں میں ایمرجنسی کی صورت میں کوئی حفاظتی اقدامات نہیں ہیں۔ اس کا ذمہ دار کون؟ تحصیل حاصل پور کی 15 یونین کونسلز اور خیر پور کی 8 یونین کونسلز کے پاس کوئی یونیورسٹی نہیں، کوئی پوسٹ گریجوایٹ کالج نہیں۔ کوئی ایسا ہسپتال نہیں جس میں ایک غریب آدمی اپنا علاج کروا سکے۔ دیہاتیوں کے لیے کوئی ایمبولنس سروس نہیں۔ یونین کی سطح پر کوئی ڈاکٹر میسر نہیں، خواتین کے لیے کوئی مڈل اور ہائی سکول نہیں۔ تحصیل چشتیاں اور حاصل پور کی سر حد سے لے کر دریائے ستلج کے دیہاتوں سے ہوتے ہوئے لال سوہانرہ تک آپ سروے کر لیں آپ کو کہیں بھولے سے بھی خواتین کی تعلیم اور حفظان صحت کے لیے کوئی اقدام نظر نہیں آئے گا۔ اس کا ذمہ دار کون؟
اس حلقے کی پسماندگی سیاسی وڈیروں اور جاگیر داروں کی بے حسی اور نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہاں مزدور کا بیٹا مزدور اور مزارع کا بیٹا ہمیشہ مزارع ہی رہے گا اور اپنی قسمت کا فیصلہ کبھی خود نہیں کر پائے گا اس کی بنیادی وجہ تعلیم اور شعور کا فقدان ہے۔ اس کا ذمہ دار کون؟
اس حلقے کی لاوارثی اور یتیمی اس سے بڑی اور کیا ہو گی کہ درجہ چہارم کی حالیہ بھرتی میں ڈویژن کی دوسری تحصیلوں سے سیاسی بھرتی کی گئی اور حلقہNA۔ 171 کے بے روزگار افراد منہ دیکھتے رہ گئے۔ صرف تحصیل حاصل پور میں کم و بیش 20 افراد اور خیرپور میں 14 افراد کو غیر قانونی طور پر دوسری تحصیلوں سے لا کر بھرتی کیا گیا۔ میرا سوال سیاسی لیڈران سے یہ ہے کہ اس حلقے میں کوئی ضرورت مند نہیں یا کوئی قابل افراد ایسا نہیں تھا جو چپڑاسی کے لیے اہل ہو۔ اس ظلم و زیادتی اور بربریت کا ذمہ دار کون؟
یہاں کے سوئے ہوئے بے حس لیڈران جو بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہوں اور عیش کوشی میں مگن ہوں ان کو کو کیا معلوم کہ ایک مزدور کے حالات کیا ہیں۔ ایک غریب کس طرح اپنی غربت کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اور یہاں آئے روز غربت سے تنگ افراد کی خود کشی کا ذمہ دار کون؟ یہاں کے سیاسی وڈیرے جنہوں نے ہمیشہ اقتدار کے مزے لوٹے اور شکست نام کی چیز سے واقف ہی نہیں وہ کیا جانیں ایک غریب کی ضرورت کیا ہے۔ ان امراء اور روساء کو کیا خبر کہ بھٹہ پر اس شدید گرمی کے موسم میں مزدوری کرتے خاندان اور لوگوں کے کھیتوں میں کام کرتے مزارع اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے کتنے پریشان ہیں۔ ایک ایسا شخص جو دریا کنارے اپنی زندگی گزار رہا ہے اس کی تقدیر کا فیصلہ کون کرے گا؟
چھوٹے چھوٹے معصوم بچے ورکشاپوں اور ہوٹلوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں ان کے مستقبل کا ذمہ دار کون؟ اس حلقے کے موجودہ MNA صاحب کے ڈیرے پر جائیں تو وہ ایک متکبرانہ اور فاخرانہ انداز سے محو گفتگو ہوتا ہے اور اس کا مشہور نظریہ یہ ہے کہ جب تک میرے ووٹ بینک میں پگڑی اور دھوتی باندھنے والے ان پڑھ بزرگ موجود ہیں تب تک آج کا پینٹ کوٹ والا طالب علم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اور ہاں یہ اس کا نظریہ بالکل درست ہے کہ اس نے اور اس کے باپ دادا نے ایک بھی سکول اور کالج نہیں بنوایا۔ اور نہ ہی کوئی اعلیٰ درجے کی علمی درسگاہ بننے دی۔ اس حلقے میں جتنے بھی سکول اور کالج بنے وہ انتہائی قلیل تعداد میں ہیں اور وہ سب کے سب ضلعی کوٹے کے تحت بنائے گئے جو اس اکثریتی آبادی والی تحصیلوں میں یوں ہیں جیسے آٹے میں نمک ہو۔ مسلسل اقتدار کے مزے لوٹنے کے باوجود آج تک اپنے ایم پی اے & MNA کوٹے کے تحت کسی غریب مزدور دیہاتی کے بچے کوایک بھی نوکری نہیں دی۔
جب بھی بھرتی ہوئی اپنے خوشامدیوں کو نوازا گیا یا دوسرے اضلاع سے لوگ لائے گئے اور ان سے پیسہ بنایا گیا۔ اور یہاں کے باسیوں سے ایسا ہی سلوک روا رکھا گیا جیسا اس ہونے والی حالیہ درجہ چہارم کی بھرتیوں میں ہوا۔ موجودہ قیادت صوبائی اسمبلی اور نیشنل اسمبلی میں کوئی ایک ڈیمانڈ ایسی بتا دیں جو انہوں نے سپیکرز اسمبلی کو جمع کروائی ہو جس میں غریب دیہاتیوں کے بنیادی حقوق کا مطالبہ کیا گیا ہو۔ دیہاتیوں کے لیے کوئی ہسپتال، ایمبولینس سروسز، ریسکیوز، روزگار، تعلیم، زراعت سے منسلک مسائل کسی ایک مسئلہ پر کبھی بات کی ہو۔ اور حلقے میں ایسے نظریات لوگوں کے ذہنوں میں ڈال دیے ہیں کہ وہ بے بس و لاچار ہو کر رہ گئے ہیں۔ میں اس حلقے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں سے مخاطب ہوں جن تک میری یہ تحریر پہنچے۔ آپ جوانوں پر ان غریب مزدوروں اور ان پڑھوں کا قرض ہے۔ ان کے دفاع اور حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے میدان عمل میں اترو۔ ان سیاسی وڈیروں سے اس حلقے کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک اور پسماندگی کا حساب لینے کے لیے یک زبان ہو جاؤ۔ رزق کا رازق اللہ کریم ہے اس کے حکم کے بغیر کوئی کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرو۔ اپنے آپ کو بدلو، مشکلات سے لڑنا سیکھو۔ اور ایسی قیادت کا انتخاب کرو جو آپ کے بنیادی مسائل سے بخوبی آگاہ بھی ہو اور آپ کے حقوق کے لیے نا صرف آواز بلند کر سکے بلکہ ظالموں سے لڑ کر آپ کے حقوق چھیننے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ اپنے اندر شعور بیدار کرو۔ اور اپنے حق کے لیے ان جاگیر داروں اور روساء کے راستے میں آہنی دیوار بن جاؤ۔ تاکہ مزید کوئی غریب خاندان اجتماعی طور پر خود کشی نہ کرے۔ کسی غریب مزدور کا بچہ محض اس لیے موت کا شکار نہ ہو کہ اسے بر وقت طبی امداد نہیں مل سکی۔ کسی غریب کی اولاد محض اس لیے تعلیم سے محروم نہ راہ جائے کہ اس کے پاس وسائل نہیں تھے۔ اچھی صحت اور اعلیٰ تعلیم سب کا بنیادی حق ہے تو پھر وہ حق ہم سب کا ہے ہم کسی بھی صورت اپنے حق سے دستبردار نہیں ہو سکتے لہذا اپنی صفحوں میں اتحاد پیدا کرو اور جاگو۔

