ڈاکٹر لیاقت تابان کا ناول: دارالامان

دارالامان 203 صفحات پر مشتمل ناول ہے جسے 2017 میں پروفیسر ڈاکٹر لیاقت تابان نے لکھا تھا اور ملگری لکوال کوئٹہ نے شائع کیا تھا۔ ڈاکٹر لیاقت تابان پیشے کے اعتبار سے نیفرالوجی کے پروفیسر ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنی قلمی مشقت سے پشتو زبان کی آبیاری بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے بے شمار موضوعات پر بیس کتابیں تصنیف کی ہیں۔
مزکورہ ناول میں پشتون خواتین کے حقوق اور ان کو درپیش مسائل کے بارے میں بات کی گئ ہے۔ یہ ناول پشتو ادب میں تخلیق کے حوالے سے اچھی کاوش ہے، جہاں شاذ و نادر ہی مصنفین نے ان موضوعات پر لکھا ہے۔
دارالامان ایک این جی او ہے جو خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں پناہ دینے کے لیے کام کرتی ہے۔ ڈاکٹر لیاقت تابان نے اپنی کتاب کے انتساب کو پشتو زبان کی چار ممتاز ادبی شخصیات محترمہ زیتون بانو، پروین ملال، کبریٰ مظہری اور حسینہ گل کے نام کیا ہے۔ میرے نزدیک محترمہ کلثوم زیب کا نام بھی شامل کرنا چاے تھا جنہوں نے پشتو ادب کے لیے قابل تعریف ادبی خدمات انجام دی ہیں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کافی جدوجہد کی ہے۔
یہ ناول مجموعی طور پر پشتون قبیلے کے پدرانہ معاشرے کو خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔ ڈاکٹر لیاقت تابان کی یہ رائے درست ہے کہ جب پشتون گھرانے میں بیٹا جنم دیتا ہے تو خاندان خوشی سے ہوائی فائرنگ شروع کر دیتا ہے۔ جب لڑکی کی پیدائش ہوتی ہے، تو ایسی سرگرمیاں نہیں ہوتیں کیونکہ نئی جنم لینے والی بچی کو ناپسند کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر لیاقت تابان اس حوالے سے بھارت، بنگلہ دیش اور چین کی بھی مثالیں دیتے ہیں جہاں کے پدرانہ معاشرے ایسی مثالیں موجود ہیں۔ یہ بدترین تفریق اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ہم آج بھی تاریکی کے اس دور میں جی رہے ہیں جو اسلام کے ظہور سے پہلے تھا جب قریش وہاں کی لڑکیوں کو زندہ جلایا کرتے تھے۔
( سورہ) پشتون ثقافت کا حصہ اور ماتھے پر سیاہ دھبہ ہے۔ یہ بدترین ظلم عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب قتل کے معاملے کو حل کرنے کے لیے جرگہ فیصلہ کرتا ہے۔ اس سیاہ روایت کے مطابق قصوروار خاندان ایک یا ایک سے زیادہ غیر شادی شدہ لڑکیاں متاثرہ خاندان کو تاوان کے طور پر دینے کا پابند ہے۔ اس ناول میں مصنف نے ایک لڑکی گلالی کی کہانی بیان کی ہے جس کے بھائی نے ایک شخص کو قتل کر دیا ہے اور (جرگہ) گلالی کو اپنے فیصلے کے نتیجے میں مقتول خاندان کے ایک شخص سے (خواہ وہ بوڑھا ہو یا منشیات کا عادی) شادی کرنے کا فیصلہ صادر کرتا ہے۔ گلالئ اس فیصلے کی وجہ ڈپریشن میں چلی جاتی ہے اور اس فیصلے کے خلاف مزاحمت کر کے دارالامان میں پناہ لیتی ہے۔
ہائر ایجوکیشن تو دور ، پرائمری سے میٹرک تک پشتون معاشرے میں خواتین کی تعلیم کی صورتحال قابل افسوس اور ناگفتہ بہ ہے۔ مثال کے طور پر قلعہ عبداللہ میں خواتین کی شرح خواندگی صرف 8 فیصد، پشین میں 36 فیصد، شیرانی میں 7 فیصد، اور سابقہ فاٹا میں 8 فیصد ہے۔ جبکہ طالبان نے تو افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ڈاکٹر لیاقت تابان اس ناانصافی کی نشاندہی ناول کی ایک کردار کوترہ کے ذریعے کرتے ہیں جس نے اپنے والد کی جانب سے مزید تعلیم حاصل کرنے سے روکنے کی وجہ سے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی جب وہ Fsc ختم کر رہی تھی تو اسے کالج سے نکال دیا گیا تھا۔
تعلیم کی طرح پشتون خواتین کو ملازمتوں میں بھی رکاوٹوں کا سامنا رہا ہے۔ روزینہ نے ایم ایس سی کیمسٹری کی تعلیم حاصل کی۔جب انہوں نے نوکری کرنے کا ارادہ کیا۔تو اس کے والد نے کہا کی آپ کے سسرال والوں کے تحفظات ہو سکتے ہیں ۔ لہذا شادی کے بعد اگر سسرال نے چاہا تو آپ نوکری کر لینا۔ شادی کے کچھ عرصے بعد اس کا شوہر نشے کا عادی ہو جاتا ہے ۔ تو مجبوری میں روزینہ نے نوکری شروع کر کے بچوں کا پیٹ پالنا شروع کیا۔ لیکن اس کے سسرال انہیں نوکری کی اجازت نہیں دیتے۔
نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی رپورٹ (2005) نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ (خیبر پختونخوا) اور فاٹا کی پچپن فیصد خواتین وراثت میں حصہ نہ لینے کے رواج کو قبول کرتی ہیں۔ پاکستان جرنل آف سوسائٹی، ایجوکیشن اینڈ لینگوئج میں ایک ریسرچر نے اپنی سروے میں لکھا ہے کہ 80 فیصد جواب دہندگان نے رات دی کہ وراثت کے حق کے لیے خواتین کا مطالبہ خاندان کے درمیان تنازع کآ باعث بن جاتا ہے۔
ہم پشتون خواہ اسے مانے یا نہ مانے لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اسلام کے دئے گئے حقوق کی بجاے زیادہ تر خواتین وراثت میں حصہ سے محروم ہیں۔ شاذ و نادر ہی ایسے خاندان ہیں جو اپنی خواتین کو وراثت میں ان کا جائز حصہ فراہم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر لیاقت تابان نے اس مسئلے کی شدت سے نشاندہی کی ہے جہاں سلیمہ جس کی کوئی اولاد نہیں تھی اور اس کے سسرال والوں نے اس کی وراثت سے محروم کر دیا تھا۔ ناول میں یہی حال آمنہ کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ اس ناخوشگوار صورتحال نے دونوں خواتین کو ذہنی طور پر بیمار کر دیا جنہوں نے دارالامان میں پناہ لی۔ اس کے ساتھ ہی مصنف نے اس بات کا ثبوت بھی دیا ہے کہ اسلام خواتین کو وراثت میں مناسب حصہ فراہم کرتا ہے
غلط فیصلے ہمیشہ مستقبل پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ جب ایک پدرانہ معاشرے میں ایک عورت جو پہلے ہی مسائل کا شکار ہو غلط وقت پر اگر غلط فیصلے کرتی ہے، تو اسے مستقبل میں مزید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک کہانی میں ڈاکٹر لیاقت تابان نے ایک عورت رام بی بی کی تصویر کشی کی ہے جو ایک بیوہ ہے اور جس کی پانچ بیٹیاں ہیں لیکن کوئی لڑکا نہیں ہے۔ وہ اچھی تعلیم یافتہ ہے خاتون ہے۔ جب اس کا شوہر مر جاتا ہے تو وہ اپنے دیور کے ساتھ دوبارہ شادی کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ وہ نوکری شروع کرتی ہے اور اپنے 5 بچوں کی پرورش اچھے طریقے سے کرتی ہے۔ اس دوران، اس نے ایک غلاط فیصلہ کرکے ایک ایسے شخص سے شادی کر لی جو لالچی تھا۔ جب رام بی بی ٹیچر کی نوکری پانے میں ناکام رہتی ہے، تو اس کے شوہر کا رویہ بدل جاتا ہے۔ ساتھ ہی، اس کی پانچ بیٹیاں اس کے پہلے سسرال کے گھر میں ہوتی ہیں جو رام بی بی کو اپنی بیٹیوں سے ملوانے سے انکاری ہیں۔ یہی مسئلہ زہرہ کے ساتھ ہے جس کی سات بیٹیاں ہیں لیکن کوئی لڑکا نہیں ہے اور اسے اپنے سسرال میں رکاوٹوں اور طعنوں کا سامنا ہے کہ وہ مرد بچے کو جنم کیوں نہیں دیتی۔
پشتون معاشرے میں کثرت ازدواج عام ہے۔ عام طور پر ہم نے دیکھا ہے کہ شاذ و نادر ہی ایسا شوہر ہوتا ہے جو تمام بیویوں کے درمیان انصاف کا توازن برقرار رکھتا ہو۔ مزید یہ کہ زیادہ تر مرد کسی بھی دوسری مجبوریوں کی بجاے جنسی خواہشات کی خاطر زیادہ شادیاں کر لیتے ہیں۔ بلقیس کے والد نے دوسری شادی کر لیتا ہے اور جب سوتیلی ماں اس کے گھر آتی ہے تو بلقیس اور اس کی دو بہنوں کے ساتھ اس کا رویہ بدل جاتا ہے۔ اس کی دو بہنوں کی شادی اس کی سوتیلی ماں کی منظوری سے ایسے بندوں سے ہوتی ہے جو ان کے ھم عمر نہیں ۔ جبکہ دوسری طرف ، بلقیس کی سوتیلی ماں ایک منشیات کے عادی شخص کے ساتھ بلقیس کی شادی طے کرنے کی کوشش کرتی ہے، بلقیس مزاحمت کرتی ہے اور دارالامان میں پناہ لیتی ہے۔
پشتون روایتی معاشرے میں طلاق کا تناسب اگرچہ کم ہے۔ اور ان کی خواتین ہر قسم کی ناانصافی اور ظلم سہنے کے باوجود وفادار رہتی ہیں۔ اس ناول میں پروفیسر ڈاکٹر لیاقت تابان نے طبی نقطہ نظر سے ایک انتہائی سنگین مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔ یہ مسئلہ تقریباً تمام ممالک میں عام ہے۔ ڈاکٹر لیاقت تابان کی یہ رائے ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورت اس وقت پاک نہیں سمجھی جاتی جب تک شادی کی پہلی رات جماع کے دوران اس کا Hyman Fascia یعنی پردہ بکارت نہیں ٹوٹتا۔ جس کی وجہ تو زیادہ تر خواتین کو طلاق ہو جاتی ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ طبی لحاظ سے غلط ہے کیونکہ لڑکی کا پردہ بکارت کھیلتے ہوئے، کوئ سخت کام کرتے ہوئے، اور دوسرے وجوہات کی وجہ سے بھی ٹوٹ سکتا ہے
کتاب کے آخر میں پروفیسر ڈاکٹر لیاقت تابان پشتون معاشرے میں خواتین کے حقوق کی افسوسناک، قابل رحم اور مخدوش صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ دوسری طرف وہ وہ خواتین کے حقوق کا دفاع کر کے ان کی طاقت اور جدوجہد کو سراہتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ تیونس، مصر، اردن اور لیبیا میں جلوسوں میں خواتین نے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو، سری لنکا کی بندرا نائیکے، میانمار کی ان سان سوچی، برطانیہ کی تھریساماؤ، جرمنی کی انجلیا مارکر اور آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کرسٹن لوگارڈو جیسی بے شمار خواتین ہیں جو فرنٹ لائن پر رہیں اور اپنے ملکوں اور تنظیموں کی کامیابی سے نمائندگی کرکے اسے کامیابی سے چلایا۔
ایسے حالات میں جب مصنفین ذہنی آسودگی کے لیے جنسی جملے شامل کر کے لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان محبت کے جمالیاتی تصورات لکھ کر اطمینان محسوس کرتے ہیں__ یہ ناول جس نے سفاک پشتون روایتی معاشرے کو حقوق نسواں کے نامساعد حالات کے بارے میں بدنام کیا ہے، قابل تعریف ہے۔ اس تخلیقی ناول کے contents میں تھوڑا سا اضافہ کرکے ٹی وی کے مختصر کہانیوں والے ڈراموں کے طور پر نشر کرنے کی ضرورت ہے۔ میں پروفیسر ڈاکٹر لیاقت تابان کو اس کے لیے ناول کے مندرجات میں اضافہ کرنے کا مشورہ دیتا ہوں۔ مزید براں اس ناول کو کم از کم اردو، پنجابی، بلوچی، سندھی اور سب سے اہم انگریزی میں ترجمہ کرنے کی ضرورت ہے__ اس کے لیے مصنف کو ملک میں انسانی حقوق کی تنظیموں سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ یہ ناول ان کے موضوعات پر پورا اترتا ہے۔

