پراپیگینڈہ، بڑے جھوٹ اور ذہن سازی


دنیا میں جھوٹ بکتا ہے۔ جھوٹ پھیلایا جاتا ہے اور پھر اس جھوٹ کو عوام میں مقبول کرنے کہ لیے سوشل میڈیا، سلیبریٹیز، میمز، ٹرولنگ، کا سہارا لیا جاتا ہے۔ تاکہ ہر مزاج کا شخص اس جھوٹ کو سچ سمجھے۔ جیسے اگر کوئی سنجیدہ مزاج مذہبی شخص ہے تو اس کے لیے کسی مذہبی سکالر کا استعمال کر کہ جھوٹ کی پروموشن کی جائے گی۔ وہ مذہبی سکالر بنیادی مذہبی لٹریچر سے حوالے ڈھونڈ کر عوام کو گمراہ کرے گا اور اکثریت من و عن اس کو حوالوں کو اس لیے تسلیم کرے گی کیونکہ معاشرے میں مذہبی شخصیات کے بارے یہ خیال عام ہوتا ہے کہ ان سے زیادہ مذہب کا علم کسی کو نہیں اور وہ جھوٹ نہیں بول سکتے۔

ایسے ہی اگر ایک منچلے نوجوان کی ذہن سازی کرنی ہو تو سوشل میڈیا پر ٹرولنگ، میمز بہترین ہتھیار ہیں۔ خواتین، بچوں، بزرگوں یہاں تک کہ ہر معاشرے کہ ہر طبقہ تک جھوٹ پھیلانے کہ لیے باقاعدہ منصوبہ سازی کی جاتی ہے۔ اور بڑے بڑے جھوٹ بار بار دہرائے جاتے ہیں تاکہ عوام انہیں بار بار سنیں۔ جب عوام تک بار بار ایک چیز ذرائع مواصلات کہ ذریعے پہنچائی جاتی ہے تو اکثریت اسے سچ تسلیم کر لیتی ہے۔ اور جو سچ نہیں سمجھتے وہ بھی بار بار ایک جھوٹی چیز کو سننے کے بعد سوچتے ضرور ہیں کہ کوئی بات تو ہے جو بار بار دہرائی جا رہی ہے۔

ایڈولف ہٹلر نے 1925 میں اپنی ایک کتاب مین کیمپف میں بڑا جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کرنے کی ٹیکنیک استعمال کی۔ اس کا ماننا تھا کہ چھوٹے جھوٹ عوام پر اتنا اثر نہیں کرتے اس لیے اتنا بڑا جھوٹ بولو کہ عوام اس کو سچ مانے اور پراپیگنڈہ کا حصہ بنتی جائے۔ ہٹلر نے یہ پراپیگنڈہ یہودیوں کے خلاف اپنے ہولوکاسٹ کہ مذموم مقاصد کو جائز قرار دلوانے کہ لیے کیا۔ ایسا ہی کچھ 2020 کہ امریکی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا اور عوام کو اتنا جذباتی انداز میں اس پراپیگنڈہ کا حصہ بنایا کہ عوام امریکی صدر کے گھر میں گھس گئے اور متشدد رویہ اختیار کر کہ پوری دنیا میں امریکہ کا تمسخر اڑایا۔

پراپیگنڈہ اور جھوٹ پھیلانے کی یہ ٹیکنک ایک دم سامنے نہیں آتی بلکہ اس کہ پیچھے سالوں کی کوشش ہوتی ہے اور کافی مراحل طے کر کہ یہ ایک بڑے جھوٹ یا بڑے پراپیگنڈہ کی شکل اختیار لیتی ہے۔ جیسے پہلے مرحلے میں بار بار ایک ہی جھوٹ دہرایا جاتا ہے اور اس کو مختلف انداز میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ عوام کہ دل و دماغ میں پراپیگنڈہ رچ بس جائے۔ پھر جھوٹ کو مزید آسان زبان میں سمجھایا جاتا ہے تاکہ ہر عام انسان کو بات سمجھ آئے اور اس عام آدمی کو اس کا حصہ بنایا جاتا ہے تاکہ وہ یہ سمجھے کہ اس پراپیگنڈہ خبر کہ پیچھے اس کا استحصال ہے۔ عوام کہ جذبات ابھارنے کہ لیے ترانے، نغمے، تقاریر اور جذباتی الفاظ کہے جاتے ہیں تاکہ ایک بڑی تعداد پراپیگنڈہ مہم کا حصہ بن جائے۔

اگلے مرحلے میں دو اہم کام کرتے ہیں۔ ایک معلومات پر مکمل کنٹرول حاصل کرتے ہیں دوسرا اپنے مخالفین کی عزت کو ہر طرح سے مجروح کرنے اور انہیں بدنام کرنے کا ہر ممکن کام کرتے ہیں۔ اس میں آج کل کہ دور میں یہ کام سوشل میڈیا کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ مثلاً اگر کسی امیر آدمی کہ خلاف پراپیگنڈہ کرنا ہو تو یہ جھوٹ پھیلایا جائے گا کہ اس کی دولت غریب آدمی سے لوٹ کر بنائی گئی ہے۔ یا اس میں عام آدمی کا استحصال ہوا ہے۔ عوام الناس کی معلومات تک یا تو رسائی نہیں ہوتی یا پھر معیاری تعلیم ناں ہونے کی وجہ سے وہ تحقیق اور حقائق تک نہیں پہنچ پاتے۔ اور پراپیگنڈہ کا آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔

مثلاً اگر ایک شخص کہ کل اثاثے 30 ارب روپے ہوں اور اس کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جائے کہ اس نے 300 ارب روپے کی چوری کی ہے تو عوام الناس کے پاس یہ تحقیق کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی کہ کل 30 ارب کے اثاثے والے نے اگر 300 ارب کی چوری کی ہے تو باقی 270 ارب کہاں ہیں؟ عوام کو یہ جھوٹ اس اعتماد کہ ساتھ بتایا جاتا ہے کہ وہ اس کو من و عن سچ ماننے لگتے ہیں۔ یا اگر دوسری مثال فرض کریں کہ الیکشن میں کوئی امیدوار ہار جائے اور وہ جیتنے والے پر دھاندلی کا الزام لگا دے اور جیتنے والے شخص کو پہلے سے ہی کرپٹ مشہور کیا گیا ہو تو عوام میں پراپیگنڈہ کو مزید تقویت دی جاتی ہے کہ یہ تو عادی مجرم ہیں۔ بھلے میرٹ پہ الیکشن ہوا ہو لیکن عوام دھاندلی والے جھوٹ کا حصہ بن جاتی ہے۔

جھوٹ، پراپیگنڈہ آج کل کے سوشل میڈیا کے دور میں جنگل میں آگ کی طرح پھیلتا ہے اور اس کا سب سے پہلا شکار یونیورسٹی اور کالجز سے فارغ التحصیل نوجوان بنتے ہیں۔ جو ڈگریاں تو رکھتے ہیں مگر ان میں خود سے کوئی تخلیقی اور تحقیقی صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ جھوٹ اور پراپیگنڈہ پر اپنی تحقیق سے نتائج اخذ کر سکیں۔ یوں جھوٹ پھیلانے والے کے مقاصد پورے ہو جاتے ہیں اور سچ جھوٹ کے نیچے اتنا دبا دیا جاتا ہے کہ سچ کہنے والا معاشرے میں یا تو بیوقوف سمجھا جاتا ہے یا پھر اس پر دیگر فتوے لگا کر خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ جھوٹ کا یہ کاروبار تب تک چلتا رہے گا جب تک ہر انسان معیاری تعلیم حاصل نہ کر لے۔

 

Facebook Comments HS