ووٹ کی حکمرانی


دور حاضر میں امور مملکت چلانے کے لیے جمہوری نظام کے افادیت سے مفر ممکن نہیں۔ ایک جمہوری نظام میں عوام مسلسل انتخاب رائے کے ذریعے اپنے منتخب عوامی نمائندوں کا احتساب کر سکتے ہیں اور یہی خوبی جمہوری نظام کو منفرد اور ممتاز بنا دیتے ہیں۔ سیاسی سمجھ بوجھ کا کچھ کچھ آغاز ہوا تو خود کو اس دور میں پایا جب محبان وطن بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے دورہ لاہور اور کارگل جنگ کے حوالے سے میاں نواز شریف کو ملت فروش اور جنرل مشرف کو جرار غازی جسے القابات سے نواز رہے تھیں۔

اپنے پیشرو کے طرح ڈیکٹیٹر مشرف نے بھی جمہوریت کا ناٹک رچانے کے خاطر سن 2002 میں جنرل الیکشن کا اعلان کر دیا۔ طاقتور ریاستی اداروں کے مداخلت، کینگرو کورٹ، کمزور اور جانبدار الیکشن کمیشن کے سائے تلے ایک پرو ڈیکٹیٹر پارٹی پاکستان مسلم لیگ ق مرکز اور دو صوبوں پنجاب اور سندھ پر حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ پارلیمان میں سترویں آئینی ترمیم کے ذریعے نہ صرف امر کی ہر اقدام کو قانونی شکل دی بلکہ اختیارات کو بھی ایک امر صدر کے ذات میں مرتکز کر دیا گیا۔

ان پانچ سالوں کا حاصل یہ رہا کہ حاضر سروس ججز قید کر دیے گئے، میڈیا پر بدترین سنسر شپ رہا، اکبر بگٹی شہید کر دیا گیا، سانحہ لال مسجد ہوا، 12 مئی کراچی کو خون میں نہلا دیا گیا، محترمہ بینظیر پر قاتلا نہ حملہ اور پھر بعد میں لیاقت باغ میں شہادت، فاٹا سے پشاور اور بلوچستان سے کراچی تک سارا پاکستان بدترین دہشتگردی لاقانونیت اور بدامنی کا شکار رہا۔

2007 میں وکلاء اور سول سوسائٹی کے تحریک اور خود فوج میں اندرونی دباؤ کے باعث نومبر میں مشرف آرمی چیف کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ فوج اپنا امیج اچھا بنانے اور ملکی و غیر ملکی حالات کے تناظر میں ملٹری اسٹبلشمنٹ نے 2008 کے جنرل الیکشن میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا۔ پی پی پی مرکز اور سندھ میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ پی پی پی جو ہمیشہ سے وطن عزیز میں جمہوری اور پارلیمانی سیاست کے امین پارٹی کے طور پر رہی نے اپریل سن 2010 میں اٹھارہویں ترمیم کی صورت میں ایک جامع آئینی پیکج دیا۔

صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخوا رکھ دیا، اٹھاون ٹو بی کا خاتمہ ہوا، صوبوں کو کافی حد تک خودمختاری دی گئی، اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کا طریقہ کار طے کر دیا گیا اور مستقبل میں امریت کے روک تھام کے لئے ائین شکنی پر موت کی سزا تجویز کر دی گئی۔ ملک میں توانائی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ایران سے گیس پائپ لائن معاہدہ کیا گیا۔ انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کے خاطر چائنا کے ساتھ سی پیک پر گفت و شنید کا آغاز ہوا۔

پی پی پی کا پانچ سالہ حکومت سنسنی خیزی اور پر آشوب دور کے طور پر بھی یاد رکھا جائے گا۔ میموگیٹ سکینڈل، چودھری کورٹ کے ایگزیکٹیو معاملات میں مداخلت، بدترین یک طرفہ میڈیا ٹرائل، توانائی بحران، بدانتظامی و مالیاتی اسکینڈلز، کراچی میں بدامنی اور الیکشن کمپین کے لئے لیول فیلڈ نہ ملنا جیسے معاملات سے 2013 الیکشن میں پی پی پی تقریباً سندھ تک محدود ہو گئی۔ طالبان کی پی پی پی اور اے این پی جیسے جماعتوں کے خلاف کھلی دھمکیوں اور حملوں سے الیکشن میدان پی ایم ایل این کے لیے تقریباً خالی رہ گیا۔

جیت کے تقریباً سال بعد طاقتور ریاستی اداروں اور حکمران جماعت پی ایم ایل این کے مابین اختیارات اور مشرف غداری کیس پر کشمکش کا آغاز ہوا۔ پی ٹی آئی کے 124 دن طویل دھرنے کے ذریعے نواز حکومت کے پر کاٹنے کی کوشش کی گئی۔ ڈان لیکس، پانامہ سکینڈل، سنجرانی ماڈل اور نواز کے تاحیات نا اہلی سے حکمران جماعت کو تقریباً ناک آؤٹ کر دیا گیا۔ 2018 کے جنرل الیکشن میں ار ٹی ایس سسٹم کو بٹھا کر ریاستی اداروں بشمول اعلیٰ عدلیہ، میڈیا اور خود الیکشن کمیشن کے توسط سے عمران خان کو ملک کا کپتان بنا دیا۔

کپتان بھی کامیابی سے صرف سوا تین سال نکال سکا اور ایک طاقتور شخصیت کے تقرری پر سیم پیج کے پٹنے پر اپوزیشن کے تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں حکومت گنوا بیٹھے اور 9 مئی کو جناح باغ حملے پر دیت کی صورت میں تقریباً اپنے پارٹی بھی قربان کر گئے۔ اج کپتان بھی اس مقام پر ہے جہاں کچھ سال قبل نواز شریف تھا اور نواز وہاں جہاں ایک دہائی قبل کپتان کھڑا تھا۔ وطن عزیز کی ارض وجود میں انے کے بعد سانپ سیڑھی کے اس بے رہم کھیل میں مقدر کا سکندر کون بنے گا سیاست دان یا طاقتور ریاستی ادارے پتہ نہیں لیکن ہار تو ہم جیسے ہاریوں و رعایا کے نصیب میں ہی آئے گی جو آج بھی ووٹ کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔

Facebook Comments HS