شہباز تیری پرواز سے جلتا ہے زمانہ

کپتان کی آئی ایم ایف سے طے کردہ شرائط پوری کر کے موجودہ مخلوط حکومت نے جیسے تیسے کر کے آئی ایم ایف سے معاہدہ کر ہی لیا اور یوں ملک کے ڈٰیفالٹ ہونے کا خطرہ ٹل گیا۔ شہباز نے اس معاہدے کا کریڈٹ اکیلے نہیں لیا بلکہ اس میں سپہ سالار اور نوجوان وزیرخارجہ کو بھی دیا۔ معاہدہ ہوتے ہی ڈالر کے نرخ گرنے لگے سٹاک ایکسچینج کے انڈیکس میں بہتری ہونے لگی۔ مطلب بہت دنوں بعد اچھی خبریں سننے کو ملیں اور کوئی شک نہیں کہ مشکل ترین معاشی حالات میں دوست ممالک کے تعاون سے اور ٹیم ورک سے بہتر نتائج ملے ہیں۔ چلیں اس کو یوں سمجھ لیں کہ شاید آئندہ کا سیٹ اپ بھی شاید اسی طرح کا ہو اور تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ہو سکتا ہے کہ یہی ٹیم پرفارم کرے اگر ایسا ہے تو پھر یہ کپتان اور اس کے کھلاڑیوں کے لیے بری خبر ہے
ستم ظریفی دیکھیں کہ جہاں ایک طرف اچھی خبریں مل رہی ہیں وہیں پر کپتان کو مسلسل بلکہ آئے روز بری خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔ تبدیلی سرکار کے نام پر جو بھان متی کا کنبہ ایم کیو ایم، ق لیگ، جی ڈی اے اور باپ پارٹی کی صورت میں جوڑا گیا تھا یہ سارے روڑے اور پتھر تو عدم اعتماد کے وقت ہی اپنی جگہ پر چلے گئے تھے رہی سہی کسر کپتان کی اپنی ٹیم لڑکھڑا گئی اور جتنی تیزی سے کپتان کی ٹیم کی وکٹیں گری ہیں وطن عزیز کی سیاسی تاریخ میں ایسا دوسری بار ہوا ہے اس سے قبل ق لیگ کا بھی شیرازہ اسی طرح بکھرا تھا۔ مگر اس سب کے باوجود کپتان کا حوصلہ اپنی جگہ قائم ہے۔ کپتان روزانہ کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر قوم سے خطاب کرتے ہیں۔ ویسے کپتان کو دیکھ کر ایک تاریخی واقعہ یاد آتا ہے کہ ایک مغل بادشاہ کو بیٹے نے قید کر دیا اور خود بادشاہ بن گیا۔ قید تنہائی میں موجود سابق بادشاہ نے بیٹے کو پیغام بھیجا کہ مجھے کچھ بچے دے دو جن کو میں تعلیم دینا چاہتا ہوں۔ بیٹا باپ کی فرمائش سن کر مسکرایا اور کہا کہ جیل میں قید ہونے کے باوجود میرے والد کی حکمرانی کی خواہش ختم نہیں ہوئی
ایسا ہی کچھ کپتان کے قوم سے خطاب سن کر لگتا ہے کہ لنکا کو آگ لگ گئی، سب کچھ مسمار ہو گیا دینے والوں نے ویسے ہی واپس لے لیا جیسے عطا کیا تھا مگر بوئے سلطانی ہے کہ ختم نہیں ہو رہی۔ سینئر صحافی حامد میر کا کہنا بجا ہے کہ کپتان کو شاید اندازہ ہی نہیں ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہو گیا ہے۔ ویسے اگر اندازہ ہو بھی جائے تو کیا ہو سکتا ہے کپتان پھر بھی یہی کچھ کرے گا جو اب کر رہا ہے۔ سو اس نقار خانے میں پہلے کس کی سنی گئی ہے جو اب سنی جائے گی ویسے شور بنتا نہیں ہے کیونکہ خود بھی تو دروازے کی بجائے دیوار پھلانگ کر ہی آئے تھے اور مسند پر جلوہ افروز ہوئے تھے اور اگر ایسا کسی اور نے کر لیا ہے تو پھر اس سے کیسا گلہ اور کیسا شکوہ۔
رہی بات کہ کیا ہو گا تو کون سا راجہ پورس اور سکندر آمنے سامنے ہیں کہ مفتوح فاتح سے کہے کہ وہی سلوک کرے جو بادشاہ دوسرے بادشاہ سے کرتا ہے۔ لہذا کپتان کو بھی اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹنی پڑے گی بلکہ کاٹ رہے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب دیگر سیاسی قائدین کی طرح کپتان بھی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔ اور جیل میں کچھ وقت بعد ہی کپتان نے تعلیم دینے کی غرض سے طالب علم طلب کرنے ہیں اور جواب کیا آئے گا یہ تو آپ پہلے پڑھ چکے ہیں۔ مطلب فی الوقت کچھ نہیں ہو سکتا اور جو ہو سکتا ہے وہ ہو رہا ہے اور بڑی تیزی سے ہو رہا ہے پے در پے قوانین بن رہے ہیں، ساتھی چھوڑ کر جا رہے ہیں، شیرازہ بکھر رہا ہے بلکہ کسی حد تک بکھر چکا ہے۔ اب ہر چیز نوشتہ دیوار ہے سب کو معلوم ہے کہ آگے کیا ہو گا۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ کیسے ہو گا۔ کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا لہذا کسی قسم کے رحم کی توقع عبث ہے۔ سیاست میں صرف دماغ ہوتا ہے اور بروقت فیصلے ہوتے ہیں اور پھر ان فیصلوں کے اچھے یا برے ثمرات ہوتے ہیں جن کو فیصلہ ساز نے قبول کرنا ہوتا ہے
اسی ساری دھمال چوکڑی میں ہمارے لیے کیا سبق ہے تو تاریخ اور سیاست کے طالب علم کی حیثیت سے ہمارے لیے پہلا سبق یہ ہے کہ جب بھی اقتدار حاصل کرنا ہوتو اپنے زور بازو پر حاصل کریں کسی کی عطا کی ہوئی طاقت کسی بھی وقت واپس لی جا سکتی ہے۔ اور جو طاقت دے اس کی متعین کردہ حدود سے تجاوز نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ تیسری بات یہ کہ وطن عزیز جس طرح کی جغرافیائی پوزیشن پر واقع ہے اور جس طرح کے معاشی حالات سے نبرد آزما ہے وہاں پر کسی قسم کا ایڈونچر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح کا ملک زیادہ توڑ پھوڑ کی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
حرف آخر کہ اب ہو گیا کیا تو عرض یہ ہے کہ وہی ہو گا جو پیا کی خواہش ہوگی۔ اور پیا کی خواہش کیا ہے تو عرض ہے کہ ایک پراجیکٹ ناکام ہو چکا ہے اب دوسرا پراجیکٹ شروع ہونے جا رہا ہے مخلوط حکومت کا پراجیکٹ جس کا ایک ہی مقصد ہے کہ جیسے تیسے کر ملکی معیشت کو سنبھالا دیا جائے۔ فوکس صرف اور صرف مالی حالات کی بہتری پر ہو گا ایسے میں جو بھی معاشی بہتری کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرے گا تو اس کے ساتھ خیر کا معاملہ نہیں ہو گا۔ اپوزیشن کر کے کی خواہش اپنی جگہ مگر ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہو گا۔ مختصر یہ کہ ماضی کی قیادت جیل میں اور مخلوط حکومت اپنے عروج پر وقت گزارے گی اور شہباز کی پرواز اسی طرح جاری رہے گی۔ رہی بات عوام کی تو ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں یہ عوام اپنی گاڑیوں کے پیچھے لکھوائے گی کہ شہباز تیری پرواز سے جلتا ہے زمانہ۔

