انسانی زندگی میں خدا کا تصور

افراد اور ثقافتوں کی زندگیوں میں خدا کی موجودگی کسی بھی معاشرے میں دو اہم ترین محرک قوتوں میں سے ایک ہوتی ہے۔ دوسری قومی سرحدیں ہیں۔ دونوں کا احترام تقریباً ایک ہی سطح کے تقدس کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ انسانی تاریخ کے تہذیبی دور میں داخل ہونے کے ساتھ ہی خدا اور قومیت جیسے نظریات پروان چڑھے۔ انہوں نے اکثر معاشروں میں انصاف، اقدار، باہمی احترام اور مساوات کو فروغ دیا ہے۔ تاہم، انسانوں نے ان دونوں نظریات کے نام پر کا فی خون خرابہ بھی کیا ہے اور اکثر دوسرے مذہب اور قومیت کے انسانوں کو بے رحمی سے مار ڈالا۔ اکیسویں صدی میں بھی خدا اور قوم کے یہ تصورات لوگوں کی زندگیوں، سیاست اور عقائد پر حاوی ہیں۔
ایک سوال یہ ہے کہ انسانی تاریخ کے ان اہم ترین اور سب سے زیادہ اثر انگیز تصورات کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی؟ ایک اور متعلقہ سوال ان تصورات کی صداقت سے متعلق ہے۔ کیا خدا اور قومی سرحدیں ازلی ہیں؟ اور انہیں مقدس کیوں سمجھا جاتا ہے؟
اس مضمون میں، میں اس سوال پر توجہ مرکوز کرتا ہوں : خدا کیا ہے اور وہ ہماری زندگیوں میں کب اور کیسے آیا؟ ایک الگ مضمون قومیت کے تصور کی تشکیل اور ارتقاء سے متعلق اسی طرح کے سوالات کے بارے میں ہو گا۔
زیادہ تر مذہبی لوگوں کے لیے خدا کا تصور اتنا ہی پرانا لگتا ہے جتنا کہ اس کائنات کی تخلیق۔ ان کے نزدیک، خدا ابدی ہے، اور کائنات کا منصوبہ ساز اور خالق ہے۔ وہ جگہ اور وقت کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ ہر انسان کی تقدیر کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ لیکن اس کا ثبوت کیا ہے؟ اور کیا یہ سچ ہے؟
پہلے میں یہ بیان کرتا ہوں کہ انسان کس طرح ایک قدیم زندگی کی شکل سے موجودہ جدید ترین شکل تک ارتقاء پذیر ہوا۔
پچھلے سو سالوں کی تازہ ترین سائنسی تحقیق کے مطابق تقریباً چودہ ارب سال پہلے ایک بگ بینگ کے نتیجے میں کائنات وجود میں آئی۔ فی الحال سائنس اس سوال کا جواب نہیں دے سکتی کہ بگ بینگ کی نوعیت اور وجہ کیا تھی۔ تاہم، موجودہ نظریات کائنات کے پھیلنے، ستاروں اور کہکشاؤں کی تشکیل کی وضاحت کر سکتے ہیں۔
کائنات کے ارتقاء کو تین جہتی جگہ اور وقت کی ایک جہت کے لحاظ سے بیان کیا گیا ہے۔ خلا کے برعکس جہاں کوئی کسی بھی سمت، بائیں اور دائیں، آگے اور پیچھے، اور اوپر اور نیچے حرکت کر سکتا ہے، وقت صرف ایک سمت میں، ماضی سے حال اور پھر مستقبل کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔
ہمارا سیاروں کا نظام تقریباً پانچ ارب سال پہلے تشکیل پایا تھا جب کائنات کافی حد تک ٹھنڈی ہو چکی تھی۔
زمین پر زندگی کا آغاز تقریباً ایک ارب سال بعد ان حالات میں ہوا جن کے بارے میں ہم فی الحال کچھ نہیں جانتے۔ ابتدائی طور پر، زندگی اپنی سب سے قدیم شکل میں ایک خلیے پر مشتمل تھی۔ زندگی کے اس عاجزانہ آغاز سے انسان کی موجودہ شکل تک کا سفر ایک طویل اور تھکا دینے والا ہے۔
ہم جو جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ موجودہ انسانی شکل میں زندگی کا ارتقا تقریباً بیس لاکھ سال پہلے افریقہ میں ہوا تھا۔ جلد ہی انسان افریقہ سے نکل کر یورپ اور ایشیا میں پھیل گئے۔ ہمیں شاید اپنے آبا و اجداد کا پتہ لگانے کے قابل ہونا چاہیے جو کم از کم دس لاکھ سال پہلے رہتے تھے۔
تقریباً ڈھائی لاکھ سال پہلے انسانوں نے آگ پیدا کرنے اور اسے کھانا پکانے کے لیے استعمال کرنے کا طریقہ سیکھا۔ یہ ایک مہذب طرز عمل کی طرف پہلا قدم تھا جس نے انہیں دوسرے جانوروں سے ممتاز کیا۔
ایک ابدی خدا کے وجود کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک لمحے کے لیے ہمیں رک کر اپنے ان آبا و اجداد کے بارے میں سوچنا چاہیے جو تہذیب کے طلوع ہونے سے پہلے لاکھوں سال زندہ رہے۔ ان کے لیے خدا کا تصور موجود نہیں ہو سکتا تھا۔ ان کی زندگی کا تو صرف ایک ہی مقصد تھا، اپنے آپ کو زندہ رکھنے کی جدوجہد۔ خود کو زندہ رکھنے کے مشکل حصول کے لیے وہ ایک ایسی زندگی گزارنے کے لیے مجبور تھے جو کسی دوسرے جاندار سے زیادہ مختلف نہیں تھی۔ ان کی زندگی میں کسی بھی قسم کے فلسفیانہ اور مذہبی خیالات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، بالکل اسی طرح جیسا کہ آج زمین پر موجود زیادہ تر مخلوقات کے لیے۔ کئی لاکھ سالوں تک، کوئی عبرانی بائیبل اور دیگر مذہبی صحیفے ان تک نہیں پہنچے۔ ہمارے ان آبا و اجداد کو کبھی کسی نے سیدھا راستہ نہیں دکھایا۔
یہ سلسلہ لاکھوں سال تک جاری رہا۔ انسانی تاریخ کا سب سے نمایاں واقعہ دس ہزار سال قبل زراعت کا عروج تھا۔ حیرت انگیز طور پر زرعی انقلاب ایک ہی وقت میں دنیا کے مختلف حصوں میں رونما ہوا۔ ایسا کیوں ہوا اس کی کوئی اچھی وضاحت موجود نہیں ہے۔ تاہم انسانی تہذیب کے لیے اس انقلاب کے نتائج بہت اہم تھے۔ ایک زرعی معاشرے کو زمین جوتنے، فصلوں کی کاشت کرنے اور پیداوار کو بانٹنے کے لیے ایک مشترکہ کوشش کی ضرورت تھی۔ اس کوشش کے نتیجے میں قدرتی طور پر ایک قبائلی ڈھانچے کی بنیاد پڑی جو بالآخر شہر اور ریاستی ڈھانچے کی شکل میں نمودار ہوئی۔
ایک زرعی معاشرہ قدرتی واقعات جیسے بارش اور دھوپ پر انحصار کرتا ہے، انسانی زندگی زیادہ تر سورج، چاند، آگ اور پانی جیسی چیزوں سے وابستہ ہے۔ ان اشیاء سے جڑے قدرتی مظاہر کے سامنے انسان نے خود کو بے بس پایا۔ بارش کی کمی یا اس کی بہت زیادہ مقدار یا سال کے مخصوص اوقات میں غیر معمولی طور پر گرم یا سرد موسم تمام کوششوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اس بے بسی نے انسان کو نامعلوم کے سامنے جھکا دیا۔ انسان نے اس نا معلوم کو خدا کا نام دیا۔ آخر کار انسانی سوچ نے خدا کے تصور کو جنم دیا۔
پہلی الہی عبادت تقریباً اسی وقت شروع ہوئی جب زرعی انقلاب آیا۔ اس طور خدا کا تصور انسانی زندگی میں داخل ہو گیا، ابتدائی طور پر یہ قدیم دیوتاؤں کی شکل میں تھا۔ خدا کا تصور ان سماجی اور سیاسی ڈھانچے کے ساتھ بھی مضبوطی سے جڑا ہوا تھا جو تشکیل پا رہے تھے۔ حکمران طبقات نے اپنے مراعات یافتہ مقام کا فطری جواز خدا سے براہ راست رابطہ قائم کر کے پایا۔ ایک پادری طبقے نے حکمران طبقے کے ساتھ ناپاک اتحاد کے ساتھ جنم لیا۔ کانسی کا زمانہ جو تقریباً پانچ ہزار سال پہلے شروع ہوا اس میں دریاؤں جیسے دجلہ اور فرات، سندھ اور نیل کے آس پاس شہر آباد ہونا شروع ہوئے۔ اس دور میں قومیت کے تصور کے ساتھ خدا کا تصور بھی مضبوطی پکڑ رہا تھا۔ مندر اور عبادت گاہیں کھلنے لگیں۔
اس دور کے دوران تقریباً تمام مذاہب جن کے بارے میں آج ہم جانتے ہیں، زرتشت، ہندو مت، بدھ مت اور یہودیت، اچھی طرح سے متعین نظریات کے ساتھ تیار ہوئے۔ یہ سلسلہ تقریباً اٹھ سو قبل مسیح سے دو سو قبل مسیح تک جاری رہا۔ ایسا کیوں ہوا کہ تقریباً ایک ہی وقت میں دنیا کے دور دراز مختلف علاقوں میں مذاہب کا ظہور ہوا، یہ ایک دلچسپ سوال ہے۔ تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مذاہب تہذیبوں کے مختلف پہلوؤں میں ترقی کا ایک فطری نتیجہ تھے۔ دو سب سے بڑے مذاہب، عیسائیت اور اسلام، نے جلد ہی ایک طاقتور خدا کے مضبوط نظریے کی بنیاد پر جنم لیا۔ ایک ایسا خدا جس نے کائنات کو تخلیق کیا اور جو انسانوں کی زندگیوں میں روز بروز رونما ہونے والے واقعات کو کنٹرول کرتا ہے۔
یہ مختصر بیان کہ ہم خدا پر کیسے ایمان لائے ہیں، اس انتہائی متزلزل بنیاد کو سامنے لاتا ہے جس پر انسانوں کے عقائد قائم ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ خدا کا تصور انسانوں کے لیے بہت نیا ہے۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ انسانی معاملات میں خدا کا کردار ان انسانوں کے لیے بالکل صفر تھا جو تقریباً دس سے بارہ ہزار سال قبل تہذیب کے آغاز سے پہلے موجود تھے۔ تہذیب کا یہ دورانیہ انسانی تاریخ کے مقابلے میں انتہائی معمولی ہے۔ کیا خدا ہمارے ان ابا و اجداد، جو تہذیب کے آغاز سے پہلے لاکھوں سال اس دنیا میں موجود تھے، قیامت کے دن اسی طرح حساب لے گا جس طرح ہم سے؟ لیکن ان کو تو جانوروں کی طرح اچھے برے کی کبھی تمیز ہی نہیں سکھائی گئی تھی۔
تاہم یہ دلائل اس بات پر روشنی نہیں ڈالتے کہ کائنات کیسے وجود میں آئی۔ وہ یہ بھی واضح نہیں کرتے کہ اس لا محدود کائنات میں انسان کا مقام کیا ہے؟ کیا انسان واقعی اشرف المخلوقات ہے یا یہ صرف اس کی خوش فہمی ہے؟ یہ شاید سب سے زیادہ پریشان کن سوالات ہیں۔
تاہم ایک بات واضح ہے کہ اگر کوئی منصوبہ ساز یا تخلیق کار موجود ہے تو وہ اس شکل کا ہرگز نہیں ہو سکتا جس کو آج مختلف قوموں اور مذاہب کے لوگ مانتے ہیں۔ ہم ابھی تک اپنے اردگرد کی کائنات کو سمجھنے سے بہت دور ہیں۔ یہاں تک کہ اگر ہم سائنس کے موجودہ قوانین پر پورا بھروسا رکھیں جو زیادہ تر صرف پچھلے ایک سو سالوں کے دوران وضع کیے اور سمجھے گئے تھے، تب بھی کائنات انتہائی پراسرار ہے۔ ہم مرئی کائنات میں جو کچھ دیکھتے ہیں وہ کائنات کا صرف 4 فیصد ہے۔ کائنات کا چھیانوے فیصد حصہ ہم سے مکمل طور پر پوشیدہ ہے، اور ہمیں اس بات کا کوئی پتہ نہیں ہے کہ کائنات کا یہ بہت بڑا حصہ کیا ہے۔ ہم ستاروں اور کہکشاؤں کی حرکت پر اس مخفی حصے کے اثرات تو دیکھتے ہیں مگر سائنس کی سر توڑ کوشش کے باوجود ابھی تک اس کی نوعیت معلوم کرنے سے قاصر ہیں۔
میرا احساس یہ ہے کہ، غالباً، ہم کبھی بھی خدا کے وجود کے بارے میں کسی سوال کا جواب نہیں دے پائیں گے۔ خدا کا موجودہ تصور مکمل طور پر انسانی ہے۔ یہ زیادہ تر انسان کی نفسانی خواہشات سے وابستہ ہے۔
خدا موجود ہے،
خدا دیکھ رہا ہے،
خدا سن رہا ہے،
خدا ہماری مدد کر رہا ہے،
خدا خوش ہے،
خدا ناراض ہے،
یہ سب کیفیات انسانی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انسان نے خدا کا ایسا تصور قائم کیا ہے جو ایک ایسے بادشاہ نما طاقتور شخص کا ہے جو ضرورت کے وقت اس کی مدد کر سکے اور اس کی اس کائنات میں تنہائی اور بے بسی کا ازالہ کر سکے۔ ایک ایسا خدا جو انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عنایت کر سکے۔
ایسا تصور خدا کی فطرت کے بارے میں کچھ بھی بیان نہیں کر سکتا۔ مثال کے طور پر انسان کے نزدیک وہ خود حقیقی ہے اور اس کے گرد یہ کائنات اور اس میں موجود ہر چیز حقیقی ہے۔ مزید یہ تصور راسخ ہے کہ انسان اور یہ کائنات خدا نے پیدا کیے ہیں۔ ان تصورات کے مطابق خدا کا وجود ہم سے علیحدہ ہے۔
ذرا تھوڑا سا سوچیں تو یہ بات کتنی ناقابل فہم ہے۔
اور یہ بھی تو واضح نہیں کہ یہ کائنات حقیقی ہے یا محض ایک سراب؟
یہ بھی واضح نہیں کہ وقت کی حقیقت کیا ہے، جیسا کہ میں نے ایک پچھلے مقالے میں ذکر کیا تھا۔ کیا خدا وقت کی قید سے آزاد ہے؟
جس طرح ایک مچھلی تالاب سے باہر کی دنیا اور اس میں رہنے والوں کی خصوصیات کا تصور نہیں کر سکتی، اسی طرح انسان جگہ اور وقت کی قیود سے باہر کی دنیا کا تصور نہیں کر سکتا۔ اگر اس نظام کے پیچھے کوئی ہے تو اسے ہمارے انتہائی محدود ذہن کی سوچ کی صلاحیت سے باہر ہونا چاہیے۔
خدا کی فطرت اور موجودگی کے بارے میں حتمی سوالات کا جواب کوئی ایسا شخص نہیں دے سکتا جو خود اس جگہ اور وقت کے تانے بانے کا حصہ ہو۔

