کیا عورتوں کی تعلیم اور کام کرنا ضروری ہے؟


پچھلے دنوں ایک واقف کار خاتون کا آپریشن تھا۔ اور وہ اس سے ایک ہفتہ پہلے سے ڈاکٹرز اور اسپتال آ جا رہی تھیں۔ آپریشن سے پہلے جسم کی مدافعت کی ممکنہ تیاری جاری تھی۔ ڈرپس، دوائیاں، غذا، پرہیز سب ہو رہا تھا۔ بیماری محبت کی طرح بڑے عرصے سے پالی گئی تھی۔ وقتی ٹوٹکے، دیسی جگاڑوں نے صورت حال اتنی خراب کر دی کہ مرتا کیا نہ کرتا، کے مصداق جراحی ہی آخری حل رہ گیا۔ سات آٹھ دن کی مسلسل دوڑ اور تیاری کے بعد آپریشن کا دن آیا۔ تو ڈاکٹر کے پاس جانے سے پہلے ہی ان کا بی پی شوٹ کرنے لگا۔ اس کو نارمل کرنے کے بعد جب انھیں آپریشن تھیٹر لے جایا گا تو سرجری سے پہلے ہی انزائٹی سے تھیٹر سے باہر بھاگنا شروع کر دیا۔ خیر صورت حال کیسے کنٹرول ہوئی، کیسے سرجری کا کار دشوار پایہ تکمیل کو پہنچا، یہ الگ کہانی ہے۔ لیکن جب میں نے ان کے شوہر کو خیریت دریافت کرنے کی خاطر کال کی تو کہنے لگے، تمہاری باجی اس لئے ’پینک‘ ہوئی کہ مرد ڈاکٹر نے اسے بے ہوش کرنا تھا۔ آپریشن بھی مرد نے کرنا تھا بلکہ زیادہ تر عملہ مردوں پر مشتمل تھا۔ تو جس نے آج تک پردہ کیا ہو تو بے حجابی اسے پریشان کر رہی تھی۔ ورنہ اور کوئی بات نہیں تھی۔ بھلا پوچھو ہمارے اسپتالوں میں خواتین معالج ہی نہیں ہیں۔ جس پر میں نے آگے سے کہا کہ اس لئے تو میں خواتین کی تعلیم کا پرچار کرتی ہوں۔ اس بات کی ہر جگہ تبلیغ کرتی ہوں۔

کیا آپ کو پتہ ہے کہ الٹرا ساونڈ مرد ڈاکٹر سے کروانے پر پریشانی سے رونا، کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کی تکلیف اور مرد سے جڑوانے کا غم اس سے سوا، بریسٹ کینسر کی اذیت اپنی جگہ اور ایک نا محرم کے سامنے بے پردگی اس کے علاوہ، ایسی شرمندگی، بے بسی پاکستان کے بیشتر محروم علاقوں کی خواتین اکثر سہتی ہیں۔ جن میں جنوبی پنجاب کے علاقے، دیہی علاقے، اندرون سندھ، قبائلی ریاستیں، کے پی کے پہاڑی علاقے سر فہرست ہیں۔ جہاں اول تو ڈاکٹر اور طبی سہولیات کا ملنا ہی مشکل اور اگر ہو تو خاتون ڈاکٹر کی چوائس عنقا۔ ہمارے ہاں خواتین ڈاکٹرز کی اکثریت گائنی تک رہ جاتی ہے۔ جو کہ بذات خود ایک بہت بڑا سوال ہے۔ اس پر یورولوجسٹ، ریڈیولوجسٹ وغیرہ کی توقع رکھنا دیوانے کے خواب سے زیادہ نہیں۔ کیونکہ ہمارے ہاں ابھی تک لڑکیوں کو تعلیم اور تعلیمی نظام تک رسائی مکمل نہیں۔

پاکستان کی دو ہزار تیئیس کی مردم شماری، خواتین کا صرف ستاون فی صد لٹریسی ریٹ رپورٹ کرتی ہے۔ اور یہ بھی آپ کو معلوم ہو گا کہ پاکستان میں ’لٹریٹ یعنی پڑھے لکھے‘ کی تعریف کا ’بینچ مارک‘ کس قدر کم ہے۔ مطلب صرف لکھنا اور پڑھنا جانتا ہو۔ اسی طرح کام کرنے والی خواتین کی تعداد بھی کافی کم ہے۔ بین الاقوامی لیبر فورس (آئی۔ ایل۔ او) اور ورلڈ بنک رپورٹس کے مطابق پاکستان کی صرف اکیس فی صد خواتین کام کرتی ہیں۔

ہم جیسے ملک ابھی تک اس کنفیوژن کا شکار ہیں کہ کیا عورتوں کی تعلیم اور کام کرنا ضروری ہے کہ نہیں؟ اپنی پچھتر سالہ ملکی قیام میں صرف ہم جیسے دو چار ملک ہی ایسے ہیں جو اس شش و پنج میں مبتلا ہیں اور اتنے بے فکر ہیں کہ ابھی تک کوئی سمت متعین نہیں کر سکے۔ دیں اسلام کے نام پر دوسروں کو ناحق مارنے، مرنے والے مرد و زن نے شاید کبھی سوچا ہی نہیں کہ کتنی خواتین راوی رہی ہیں؟ کتنی جنگوں میں بے جگری سے لڑتی رہیں؟ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان جیسی بے شمار اور صحابیات ’بزنس ٹائیکون‘ تھیں۔ اگر پردے کا تقدس قائم تھا تو لازما خواتین کی جراحی خواتین ہی کرتی تھیں۔ جب گھر کے مرد اور عورتیں روانہ جنگ ہوتے تھے تو پیچھے پورا نظام خاتون خانہ اور باقی مرد مل کر چلاتے تھے۔ کیا اس پر عقل یقین کرتی ہے کہ وہ دین جس نے بلا تخصیص مرد و زن، انسان کو ’اشرف المخلوقات‘ کا درجہ دیا۔ سوچ اور سمجھ کی پرواز عطا کی۔ کتاب کو راہ ہدایت کہا۔ اس کو زندگیوں میں عمل کرنے، اس کا فہم حاصل کرنے کا بار صرف مرد کے ذمہ لگایا ہو گا؟

یہ اکیسویں صدی ہے۔ ’آرٹیفیشل انٹیلیجنس‘ یعنی مصنوعی ذہانت کا دور ہے۔ جہاں روبوٹ پڑھے لکھے انسانوں کی جگہ لے رہے ہیں۔ وہاں پر ان پڑھ، نئے علوم سے ناآشنا، دوسروں کی طرف ہر کام کے لئے دیکھنے والی خواتین کا کیا حال ہو گا، آپ خود سمجھدار ہیں۔ وہ سب مرد جو باپ، بھائی، شوہر یا کسی بھی حوالے میں خاندان کے کفیل ہیں، ان کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی بیٹیوں، بیویوں، بہنوں کو پڑھائیں۔ اگر کوئی آپ کو خاندان کا بڑا مان کر آپ سے اجازت مانگتا ہے تو اس مان کا خیال رکھیں۔ گھر کی چار دیواری میں کسی کو محدود کرنا اس بات کو ثابت نہیں کرتا کہ وہ اخلاقی، سماجی، دینی حدود و قیود کا احترام کرے گا۔ بلکہ گھٹن خود چور دروازوں پر دستک ہوتی ہے۔ فرار کی طرف رغبت ہے۔

پھر دین و دنیا سے نابلد خواتین نہ خود، نہ اپنے بچوں و شوہر، نہ معاشرہ کسی کی بھی ضرورت نہیں بن پاتیں۔ ہمیشہ دوسروں پر انحصار کرتی ہیں۔ بچوں کی پڑھائی، سپر اسٹورز پر خریداری، اے ٹی ایم کا استعمال، گاڑی چلانا، آئن لائن بکنگز، اکیلے ڈاکٹر کے پاس جانا وغیرہ وغیرہ سبھی کاموں کے لئے دوسروں کی محتاج ہوتی ہیں۔ اور اگر ایسی کسی لڑکی کی شادی ملک سے باہر ہو جاتی ہے تو اس نظام کا حصہ بننے کو کیسی بے بسی سے گزرتی ہے، وہ ایک الگ قصہ ہے۔ جہاں سب کچھ خود کار، اور مشینوں پر چلتا ہے۔ جہاں کی ایک ٹرین چڑھنے کو کتنی دوڑ، کسی سمجھ درکار ہے، وہ بھٹک بھٹک کر، سیکھتی ہے۔ حتی کہ پاکستان جیسے ملک میں بھی اب ’لائف پارٹنرز‘ کے انتخابات کی ترجیحات بدل رہی ہیں۔ اب وہ زمانے لد گئے، جب کسی گھرانے کا پڑھا لکھا چشم و چراغ والدین کی مرضی پر ’آمنا صدقنا‘ کہہ کر غیر تعلیم یافتہ یا کم تعلیم یافتہ کزن سے شادی کر لیتا تھا۔ یا ہر وقت، ہر چیز کے لئے اپنی طرف منتظر رہنے والی بیوی کا متمنی ہوتا تھا۔ اب تو اسے بھی اس تیز رفتار زندگی میں یہ ذہنی آسودگی چاہیے کہ اس کی ہم سفر اس کی غیر حاضری میں سب انتظام سنبھال سکے۔ اسے پیچھے بچوں کو اسکول لانے، لے جانے، گروسری کرنے، اسپتال جانے، ہنگامی ذمہ داریوں کے لئے ہلکان نہ ہونا پڑے۔ کام کی یکسوئی میسر ہو۔ اب کا مرد شادی کی صورت ساتھ چاہتا ہے، کندھوں پر مزید بوجھ نہیں۔

اس لئے اس الجھن سے باہر نکلیں کہ عورتوں کو پڑھنے اور کام کرنے کی ضرورت ہے کہ نہیں۔ مزید معاشرتی الجھنوں سے بچنے کے لئے اپنے گھر کی خواتین کو باشعور بنائیں۔ ان کی تعلیم پر خرچ کریں۔ وہ آپ کی رعیت ہیں، اور اس کے بارے میں روز جزا سوال ہو گا۔ اس لئے ان کو قابل و خود مختار بنائیں۔ زندگی جینے کی مہارتیں سکھائیں۔ آپ ان کو بہتر انسان بنانے پر توجہ کریں۔ شادی، پیسہ، تحفظ کے مسائل اس تعلیم کے ذریعے اللہ تعالی ان کے لئے خود حل کرے گا۔ اور خدارا اس بد گمانی سے باہر آئیں کہ پڑھنے کی اجازت بے راہ روی کا پرچہ ہے۔ کوئی ڈگری، کوئی ادارہ آپ کو اپنی اخلاقی و دینی حدیں توڑنے پر آمادہ نہیں کرتا۔ نہ ہی کوئی کام آپ کو فحاشی کا راستہ دکھاتا ہے۔ نہ ہی ہر نوکری گھر سے باہر جا کر کرنا ضروری ہے۔ وقت و حالات کے مطابق اپنے کام کا انتخاب کرنا بتائیں۔

خدارا! اپنی بچیوں کو علم کی راہ دکھائیں تاکہ پھر آپ کی باپردہ عورتوں کے لئے دل، دماغ، بریسٹ کینسر جیسے سبھی امراض کے لئے عورتیں سرجن دستیاب ہوں۔ انھیں پریشان ہو کر آپریشن تھیٹر سے باہر کی دوڑ نہ لگانا پڑے۔ آپ کے گھروں میں سائنسی، علمی گفتگو ہو۔ آپ کے بچوں اور افراد خانہ کے لئے ایک ’پرابلم سولور‘ موجود ہو۔ آپ کو زیادہ ’ایکٹو‘ اور ’اپ ڈیٹڈ‘ ساتھ دیکھنے کو ملے۔ جو اپنے شوق پورا کرنے کے قابل ہو۔ گھر داری کے نئے طریقے اختیار کر سکے۔ اپنی دلچسپیاں تلاش کر سکے۔ سماج کی مددگار ہو نہ کہ ایک ناکارہ پرزہ۔ جس کی ایک انسان، ایک شہری، ایک رکن کے طور پر مثبت، اور انفرادی پہچان ہو۔ ورنہ زندگی کے چوبیس گھنٹے غیبتوں، چغلیوں اور غیر ضروری گپ شپ کی نذر ہوتے رہیں گے جہاں معمول کا کھانا پکانا ہی سب سے بڑا اعزاز ہو گا۔

Facebook Comments HS