غصہ: وقفہ بہت ضروری ہے


چوہدری صاحب کے یہاں نیا ملازم دینو بھرتی ہوا۔ کھانے کے وقت چنا کشمش پلاؤ کی بھری قاب اسے پکڑا کر ہیڈ خانساماں نے کہا کہ جب تک چوہدری کھانا کھائے آس پاس ہی رہنا۔ دینو نے مزید چست کاری دکھاتے ہوئے پلاؤ چوہدری صاحب کے سامنے رکھ کر ان کی پنڈلیوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ چوہدری صاحب نے پلیٹ میں پلاؤ نکالا، ایک چمچ کھایا اور ادھر ادھر کچھ ڈھونڈنے لگے۔ پھر گویا ہوئے ”دینو ریتا (رائتہ) کہاں ہے؟“ ۔ دینو نے فٹ سے جواب دیا ”چک بتالی ( 42 ) چوہدری صاحب۔“ چوہدری صاحب نے نیچے دیکھتے ہوئے دینو کی ہمشیرہ کو دھاڑتے ہوئے یاد کیا تو منہ سے کشمش کا دانہ نکل کر دینو کی جیب میں جا پہنچا۔

دینو نے پنڈلیاں چھوڑ کر جیب سے کشمش کا دانہ نکال کر کھا لیا لیکن اسے پھر بھی کچھ سمجھ نہ آیا۔ یہاں چوہدری صاحب نے عقل سے کام لیتے ہوئے ”وقفہ“ لیا۔ پھر دینو کو کہا ”چاولوں کے ساتھ جو کھاتے ہیں وہ ریتا لے کر آ“ ۔ یوں چوہدری صاحب کے وقفہ لے لینے کی وجہ سے رائتہ پھیلنے سے بچ گیا۔

وقفہ بہت ضروری ہے۔ گھبرائیے مت۔ میں آپ کو یہاں کوئی سبز ستاروں سے متعلق بھاشن نہیں دینے لگا۔ اگر ان سبز ستاروں پر ہم نے کمند ڈال لی ہوتی تو آج ہم مردم شماری کے غیر تصدیق شدہ نتائج کے مطابق 30 کروڑ تک نہ پہنچ پاتے۔ میں اس وقفے کی بات کر رہا ہوں جو آپ کو غصہ آنے پر، کسی جذباتی موقع پر اور کسی کے سوال یا فیصلے پر رائے دینے سے پہلے لینا چاہیے۔ دو باتیں ان میں پرانی ہیں۔ آپ نے یقیناً پہلے بھی سن رکھی ہوں گی۔

تحقیق کہتی ہے کہ اگر غصہ آ جانے کے وقت آپ 8 سے 10 سیکنڈ کا وقفہ یا پاز لے لیتے ہیں، رک جاتے ہیں تو آپ اس صورت حال میں بہتر فیصلہ لے سکتے ہیں۔ جس پر یا جس وجہ سے غصہ آیا ہوا ہے اس انسان یا ان وجوہات کو بہتر طریقے سے ہینڈل یا کنٹرول کر سکتے ہیں۔ صرف 10 سیکنڈ آپ کو کسی بھی ایسے فیصلے سے بچا سکتے ہیں جو آپ کی آنے والی زندگی پر پچھتاوے کی کالی گھٹا کی مانند چھایا رہ سکتا ہے۔ غصے کی حالت میں جواب یا رد عمل دینے سے پہلے لیا جانے والا یہ مختصر وقفہ آپ کو بھیانک نتائج سے بچا سکتا ہے۔

جذبات کی رو میں بغیر جذباتی تیراکی سیکھے بہہ جانا ہمارے یہاں بہت عام سی بات ہے۔ کھیل، سیاست یا کوئی بھی شعبہ لے لیں حتیٰ کہ آج کل کی ”میمز“ میں بھی یہی بات کی جاتی ہے کہ ”وقت بدل دیا، جذبات بدل دیے“ ۔ جہاں غصے یا غم کی حالت میں آ کر کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے وہیں خوشی کے موقع پر کوئی وعدہ بھی نہیں کرنا چاہیے۔

اگر آپ کے اچھے کام کی پذیرائی نہیں ہو رہی تو غم نہ کریں۔ وقفہ لیں اور اس بارے میں سوچ کر فیصلہ لیں۔ اتنا کام کریں جتنا پیسہ مل رہا ہے لیکن اپنا کام پورا کریں اور غمگین ہو کر نوکری چھوڑنے یا بدلنے کا مت سوچیں۔ ہاں اگر اپنے اوپر بھروسا ہے تو کوئی کاروبار بھی کریں۔ لیکن فوراً کوئی فیصلہ نہ کریں۔ میرا بھروسا اس لائق نہیں لہذا میں کاروبار نہیں کرتا۔

خوشی کے موقع پر کوئی وعدہ کر لینا بھی بعد میں آپ کے ذمے لگ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر مال اچھا بک جانے پر ملازمین کو بونس ضرور دینا چاہیے لیکن ہر مہینے بونس دینے کا وعدہ کرنے سے پہلے وقفہ لازمی ہے۔

ہمارے یہاں ایک اور عادت کسی کا سوال سن کر فٹ سے جواب دینے کا ہے۔ خاص طور پر دفتروں میں کام کرتے ہمارے آس پاس ایسے کئی لوگ مل جاتے ہیں جو گھونگوں اور سلوتھ نامی ”تیز رفتار“ جانوروں سے مرعوب ہو کر انہی کی طرح کام بھی کرتے ہیں۔ ہر سوال کے جواب میں ”یہ تو نہیں ہو سکتا“ کا راگ الاپتے ہوئے ایسی وجوہات بتاتے ہیں کہ بندہ سر دھنتا ہی رہ جاتا ہے حالانکہ اس موقع پر ان کو دیوار میں ”دھننے“ کا دل کرتا ہے۔

آپ سے کوئی سوال کرے تو وقفہ لیں۔ ذرا سوچیں وہ یہ سوال کیوں کر رہا ہے۔ اس کی جگہ اپنے آپ کو رکھ کر سوچیں جس کو انگریزی میں ”ایمپتھی“ کہتے ہیں۔ یہ چیز ہمارے یہاں ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم سب لوگ ہمدردی تو کرتے ہیں لیکن کسی کے جوتے میں پاؤں رکھ کر نہیں سوچتے کہ ایسا اس نے کیوں کیا۔ یقیناً ہم بہت مصروف ہو گئے ہیں اور خود غرض بھی۔ کسی کے فیصلے پر رائے دینے سے پہلے بھی آپ کو وقفہ لینا چاہیے۔ ہر کسی کی الگ کہانی ہے۔ اگر یہ کہانی سننے کا وقت نہیں ہے تو رائے مت دیں۔

کوئی لندن سے کراچی اس لیے شفٹ ہو جاتا ہے کہ اس کے والدین کو اب اس کی ضرورت ہے تو آپ کے یہ تنقیدی جملے کہ ”ہائے اچھی خاصی لائف چھوڑ کر ادھر کیا کرنے آ گئے“ یا پھر کسی مسلے میں پھنسنے پر یہ کہنا کہ ”اب تو یہاں آ گئے ہو یہ تو پہلے سوچنا تھا نا“ اس انسان کا فیصلہ تو نہیں بدلے گا مگر اس کا دل ضرور دکھائے گا۔ وقفہ لیں اور جان لیں کہ یہ اس کا ذاتی فیصلہ ہے۔ یہاں ہمدردی کا بل پھاڑتے ہوئے ”ایمپتھی“ کی ندیا میں بھی غوطہ لگائیں ورنہ کم از کم پاؤں ڈال کر اس ندیا میں یہ ضرور سوچیں کہ آپ کے ماں باپ اس حال میں ہوتے تو کیا آپ یہی فیصلہ نہ کرتے؟

یاد آیا کہ یہ 10 سیکنڈ والے وقفے کا نسخہ آپ اپنے دوستوں کی محفل میں جگتوں سے ہوتی اپنی بے عزتی کے دوران بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو ایک ایسی جگت لگی ہے جس کا توڑ یا تریاق آپ کو ناممکن نظر آتا ہے تو پریشان نہ ہوں اور جلدبازی میں اپنے پیارے دوست کو کوئی جواب نہ دیں۔ مسکراتے ہوئے خاموشی سے 10 سیکنڈ کا وقفہ لیں۔ اگر آپ ایک ”نسلی“ مزاح وارثی ہیں یعنی اس میراث کے حامل، تو یقین کریں آپ کو اپنے دوست کے دانت کھٹے کرنے سے دنیا کی کوئی طاقت پھر روک نہ پائے گی۔ بس 10 سیکنڈ

 

Facebook Comments HS

خاور جمال

خاور جمال 15 سال فضائی میزبانی سے منسلک رہنے کے بعد ایک اردو سوانح ”ہوائی روزی“ کے مصنف ہیں۔ اب زمین پر اوقات سوسائٹی میں فکشن کے ساتھ رہتے ہیں۔ بہترین انگریزی فلموں، سیزن اور کتابوں کا نشہ کرتے ہیں۔

khawar-jamal has 54 posts and counting.See all posts by khawar-jamal