طاہرہ کاظمی، میں اور آپ
ڈاکٹر صاحبہ کی پوسٹ پڑھ کر آدھی ڈاکٹر ہو گئی۔ انہوں نے قصائی گائناکالوجسٹ سے بچنے کا طریقہ بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ کب آپ کو نارمل اور کب آپ کو سی سیکشن کی طرف جانا ہے۔ آپ کو اپنی حالت کا پتہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ آپ کا حق ہے آپ ڈاکٹر سے سوال کریں۔ اس اندھیر معاشرہ میں وہ خواتین کی زندگی کی راہ ہیں۔ میرے بچے نہیں مگر مجھے کافی علم حاصل ہوا ان کے ذریعے۔ یہ ہر لحاظ سے نہایت قابل خاتون ہیں۔
اب بات کرتے ہیں اصل مدعے کی طرف۔ جس کی وجہ سے پوسٹ کی۔ مختلف علاقوں کے مختلف رسم و رواج ہوتے ہیں۔ پنجاب کے الگ سندھ کے الگ بلوچستان و خیبر پختونخوا کے اور۔
میرا واسطہ صرف پنجاب کے ایک ضلع سے ہے تو میں تو دوسرے اضلاع کے رسم و رواج نہیں جانتی۔ رسم و رواج وہ ہوتا ہے جو اس علاقے کے سب لوگ عمل کریں۔ جو نہ کرے وہ معاشرہ میں برا کہلایا جائے۔ جیسے پنجاب میں (سرگودھا گردونواح) میں جہیز دینا لازم ہے نہ دو تو لوگ باتیں کرتے ہیں۔ عورت کے مرنے پر اس کے کفن دفن کی ذمہ داری اس کے میکے پر ہے۔ اور بھی بہت کچھ۔
مختلف صوبوں میں مختلف رسوم ہیں۔ پاکستان میں بہت سے قبیلے آباد ہیں۔ ان میں ان کے مختلف رسوم ہیں۔ کہی عورت کاری ہو رہی ہے تو کہی ونی۔ کہی جائیداد کے لیے قتل تو کہی قرآن سے نکاح تو کہی تاعمر کنواری۔
کہی شادی کے دوسرے دن بیوہ ہو کر تاعمر سفید جوڑے میں ملبوس۔ یہ معاشرہ مردوں کا معاشرہ ہے۔ بہت اچھے مرد بھی ہیں۔ لیکن ہم ایک عورت کے غلط ہونے سے تمام عورتوں کو غلط نہیں بول سکتے ویسے ہی تمام مردوں کو۔ لیکن یہ بھی سچ ہے آدھی سے زائد آبادی میں ایک اچھا مرد صرف اپنے محرم رشتوں کے لیے ہے۔ چاہے آپ لاکھ اختلاف کریں۔ یہی حقیقت ہے۔
وی***پر تالا ہے یا نہیں۔ لیکن پسماندہ علاقوں میں عورتوں کے حقوق پر ضرور تالا ہے۔ بلکہ تمام دنیا میں عورتوں کے حقوق پر کسی نہ کسی طرح تالا ہے مگر ہم پاکستان میں ہی تو اسی کی بات کریں گے۔
پہلا گروہ :جو یہ کہے گا کہ اسلام میں عورتوں کو باہر نکلنا منع ہے وغیرہ۔ تو جناب اسلام میں عورتوں کو تو گھر کے کام کے لیے بھی زبردستی سے منع کیے گیا ہے آپ کس طرح ان سے جانوروں کی طرح کام لیتے ہیں۔ گھر کا کھیتی باڑی کا۔ اسلام تو آپ کو نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ آپ ان کو سکول نہیں بھیجتے اس سے اسلام خطرہ میں آتا ہے مگر جب آپ ان کو ملکوں، وڈیروں، جاگیرداروں اور سرداروں کی حویلی میں کام کے لیے بھیجتے ہیں تب اسلام پر خطرہ نہیں۔ اس وقت تو آپ کی عزت پر بھی خطرہ رہتا ہے۔ مکمل اسلامی بنے۔
دوسرا گروہ:جو شہری علاقوں میں رہائش رکھتے ہیں۔ جی۔ ہم تو بہت کھلے دماغ کے ہیں وغیرہ۔ کیا عورت کوئی جانور ہے جو صبح اٹھ کر گھر کے کام کر کے آپ کے برابر دفتر جائے۔ گندی نظریں برداشت کرے۔ واپس آ کر پھر گھر کو سنوارے۔ اور تنخواہ آپ کی ہتھیلی پر رکھے۔ یہ بھی ظلم ہے۔ کہنے کو تو کہتے ہیں کہ جی اپنی مرضی سے کر رہی ہے۔ مگر وہ زندہ رہنے کے لیے کر رہی ہوتی ہے۔ کچھ ہوتی ہیں جن کو صرف عیاشی سے غرض ہوتی ہے۔
عورت کا استحصال ہر علاقے میں ہوتا ہے چاہے وہ قبائلی ہوں یا دوسرے۔ قبائلی ہماری نظر میں کوئی جانور ہیں۔
جرم جرم ہوتا ہے چاہے کوئی بھی کرے۔ ایک مرد برا تب بھی کہلائے گا اگرچہ وہ اسلام آباد کا رہائشی ہو۔ وہ جانور تب بھی کہلائے گا جب وہ کراچی کے ڈی ایچ اے سے تعلق رکھتا ہو۔ وہ غلیظ تب بھی ہو گا جب وہ لاہور بحریہ سے ہو۔ وہ درندہ تب بھی ہو گا جب وہ کوئٹہ سے۔ اور عورت کا بھی اسی طرح ہے۔ عورت تو چھپی ہوئی اچھی لگتی ہے۔ لیکن مرد کو بھی نظر جھکانے کا حکم ہے۔
پاکستان میں قبائلی علاقے سے مراد عام طور پر وزیرستان، خیبرپختونخوا وغیرہ کے علاقے لیے جاتے ہیں۔ مگر قبائل سے مراد ہر وہ علاقہ جدھر لوگوں کا گروہ رہتا ہو۔ ڈاکٹر صاحبہ کے مضمون میں بعد میں اس قبائل لفظ کو بدل کر کے پسماندہ کر دیا ہے۔ یہ عمل دنیا کے مختلف حصوں میں ہوتا ہے۔ کچھ لوگ بہت ہی زیادہ ایگیریسو بی ہیو کر رہے ہیں۔ وہ بس یہ سوال کریں کہ علاقہ بتائیں بلکہ علاقہ سے کیا ہو گا یہ کوئی رسم تو ہے نہیں یہ تو کوئی ذہنی مریض ہو گا جو کسی بھی سوسائٹی سے تعلق رکھتا ہو گا۔ وہ کوئی بھی صوبہ اور کوئی بھی شہر ہو سکتا ہے۔
ان کی اس پوسٹ میں کچھ باتیں من گھڑت بھی محسوس ہوئی مگر جیسے بہت سی باتیں یا حادثے ہمارے ساتھ نہیں ہوئے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کدھر ہوئے بھی نہیں۔
ہوئے ہوں گے جب ظلم ہوتا ہے تو ہماری عقل اس کو تسلیم نہیں کرتی۔ جو ذہنی مریض ہوتے ہیں وہ کسی حد تک جا سکتے ہیں۔ بچوں سے ریپ سوچتے ہوئے بھی کپکپاہٹ ہوتی ہے مگر کس سفاکی سے ہوتا ہے۔ اس طرح یہ بھی سفاکیت کی انتہا ہے۔ قتل جو لوگ کرتے ہیں کس اذیت سے کرتے ہیں۔ جو عورتیں آشنا کے ساتھ مل کر کرتی ہیں وہ کس درندگی سے کرتی ہیں۔ ایک پسماندہ علاقے میں کچھ سال قبل عورت نے اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کو کلہاڑی کے وار سے قتل کیا کیوں کہ ماں بیٹیاں کسی کے ساتھ عشق لڑا رہی تھی۔
اسی طرح دو سال قبل کوئی بہت بڑا آدمی تھا، جس کے بیٹے نے بہو کو درندگی کے ساتھ قتل کیا۔
بہت سے مظلوموں کی ویڈیو وائرل ہوتی ہیں جو بیان سے باہر ہیں۔ ذہنی مریض کے سامنے عورت کھلونا ہوتی ہے اس کو فرق نہیں پڑتا کہ اس کھلونے کو کتنی تکلیف ہو رہی ہے اور اس کو کھلونا بننے پر مجبور ہمارا معاشرہ کرتا ہے۔
تالا لگا ہو گا۔ ہاں علاقے کا نام نہیں لینا چاہیے تھا کیونکہ نہ آپ نے ان کے خلاف کارروائی کرنی تھی نہ کچھ۔ صرف ظلم کو ہائی لائٹ کرنا تھا۔ پھر آپ کو رسم کا نام نہیں لینا چاہیے تھا یہ ایک انفرادی فعل ہے علاقائی نہیں۔ اور یہ کسی بھی پوش علاقہ میں ہو بھی سکتا ہے۔ آپ ایک نہایت قابل ڈاکٹر ہیں۔ آپ پہنچ رکھتی ہیں۔ ایسا جو بھی کیس آپ کی نظر میں آئے آپ اس کو درندے تک پہنچ جائیں۔ چاہے وہ مظلوم آپ کی کتنی منت کرے کہ مت کریں۔


