فرانس اور تارکین وطن


فرانس جس میں رومانس اور محبت کا دارالحکومت پیرس ہے، یہ ژاں پال سارتر، روسو، والٹیئر، البرٹ کامیو جیسے دانشوروں اور روشن خیالوں کا ملک ہے اس میں سیکولرازم دن بدن سخت گیر ہو رہا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد پوری دنیا بالخصوص الجیریا، شمالی اور سب صحارا افریقہ سے بڑی تعداد میں پناہ گزین فرانس کی تعمیر و ترقی کے لیے لائے گئے۔ انہیں بڑے بڑے شہروں کے گردونواح میں نئی بستیاں اور فلیٹس بنا کر آباد کیا گیا۔ 1945 سے 1975 کے درمیان سوشل ہاؤسنگ کے لیے بنائی گئی ان بستیوں میں حکومتوں کی عدم توجہ کے باعث غربت اور بے روزگاری بڑھتی گئی اور ان علاقوں کو ’مسائل زدہ‘ اور ’ہائی رسک‘ علاقے کہا جانے لگا۔

حال ہی میں الجیریائی نژاد فرانسیسی شہری ناہیل مرزوق کی پولیس کے ہاتھوں موت کے بعد ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد جو بحث چل رہی ہے وہ پولیس کے نسل پرستانہ رویے کے متعلق ہے۔ ’دی ڈیفینڈر آف رائٹس‘ کی 2021 میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق اس بات کا 20 فیصد زیادہ امکان ہے کہ فرانسیسی پولیس ان افراد کو چیکنگ کے لیے زیادہ روکتی ہے جو سیاہ فام یا عرب نظر آتے ہیں۔ اور ان میں زیادہ تعداد ان نوجوانوں کی ہوتی ہے جن کے آبا و اجداد سابق فرانسیسی نو آبادیوں سے آئے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہی وہ نوجوان ہیں جو پیرس، مارسیے اور لیون جیسے بڑے شہروں کے نواح میں بنائے گئے ’بانیو‘ (فلیٹس اور کالونیاں) میں غربت میں رہتے ہیں۔ 17 سالہ ناہیل بھی نانتیرے کی اسی طرح کی ایک بستی میں رہتا تھا جو گاڑی نہ روکنے پر قتل ہوا۔ یہاں کے نوجوانوں کی پولیس سے اکثر لڑائیاں رہتی ہیں اور پولیس نئے قوانین سے لیس اپنی طاقت کا خوب استعمال کرتی ہے۔ پولیس ناکوں پر اسلحے کا استعمال تارکین وطن پر ہی ہوتا ہے اسی لیے

پولیس پر نسل پرستی کا لیبل لگایا جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں پولیس نے افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کیا ہے جن میں سے 13 ایسے تھے جن کی گاڑیوں کو پولیس نے روکا اور وہ نہ رکے، جواباً پولیس نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ غیر سرکاری تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ایسے واقعات پر تارکین وطن کو غصہ آنا لازمی امر ہے۔

فرانسیسی محققین کے مطابق ملک میں نسل پرستی عام ہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ناہیل کے قتل کے بعد دائیں بازو کے کیمپ نے اس پولیس افسر کے خاندان کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے کے لیے ’گو فنڈ میں‘ اپیل کی تو اس میں 10 لاکھ سے زیادہ یورو جمع ہوئے۔ اسی پلیٹ فارم سے ناہیل کے خاندان کے لیے اپیل پر لگ بھگ ساڑھے تین لاکھ یورو جمع ہوئے۔

فرانس کے مقبول ترین اخبار لی موندے میں گزشتہ سال اکتوبر میں چھپنے والے ایک سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ فرانس میں 36 فیصد افراد نہایت غصے میں رہتے ہیں جبکہ 40 فیصد فرانسیسی غیر مطمئن ہیں۔ اسی طرح سروے میں شامل 86 فیصد لوگوں نے تسلیم کیا کہ فرانسیسی معاشرے میں نسل پرستی موجود ہے۔ اس کشمکش کا پس منظر یہ ہے :

فرانس کے مسلمانوں میں سے زیادہ تر کا تعلق شمالی افریقہ کے ممالک سے ہے جو فرانس کی کالونی رہے ہیں۔ فرانس کے ساتھ ان مسلمانوں کا ایک نوآبادیاتی تعلق ہے جس میں بڑی پیچیدگی ہے۔ مثلاً اگر آپ الجزائر کی بات کریں تو اس نے تحریک چلائی اور فرانس سے آزادی حاصل کی۔ فرانس نے اس تحریک کو دبانے کے لیے ایک بھرپور آپریشن کیا لیکن آخر کار فرانس کو الجزائر سے نکلنا پڑا اور سنہ 1962 میں الجزائر آزاد ہو گیا۔

’اس کے بعد فرانس کی سکیورٹی اداروں میں جو زیادہ تر لوگ شامل کیے گئے یہ وہ فوجی تھے جنھوں نے الجزائر کے لوگوں کے خلاف آپریشن میں حصہ لیا تھا۔ انہی لوگوں کو فرانس میں پولیس میں بھرتی کیا گیا۔ نئے انتظامی ڈھانچے میں یہی لوگ شامل کر دیے گئے۔ تو مسلمانوں کے ساتھ ان کے کشیدہ تعلقات پہلے ہی سے موجود تھے جو مذہبی سے زیادہ نسلی تھے۔ سکیورٹی اداروں خاص طور پر پولیس میں ان لوگوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے شمالی افریقہ سے آنے والے مسلمانوں اور اداروں کے درمیان ایک منافرت کا رشتہ بن گیا۔

موجودہ کشیدگی کی جڑیں فرانس میں بہت گہری ہیں۔ ’فرانسیسی اپنی نسل، شناخت، روایات اور اقدار کی بقا کے معاملے پر بہت حساس ہیں۔ شناخت کو بچانے کا بحران صرف مسلمانوں میں نہیں ہے یہ احساس اور خوف خود فرانسیسیوں میں بھی ابھرا ہے اور حالیہ واقعات اس کا اظہار ہیں۔ ‘ اس تناظر میں ’فرانسیسی اپنی اقدار اور ثقافتی شناخت کے بارے میں کسی حد تک قدامت پسند ہیں۔ حفصہ علا مراکشی نژاد ہیں جو الجزیرہ کے لیے کام کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک سفر میں کسی سے عربی میں جونہی بات کی تو فرانسیسی خاتون چیخنے چلانے لگیں مجھے دہشت گرد اور مہاجر کہا اور یہ کہ تم فرانس کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو۔

میں سوچتی ہوں کہ میرے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا جبکہ میں تو حجاب بھی نہیں کرتی۔ تو میں تصور کر سکتی ہوں کہ سکارف یا عبایہ وغیرہ پہننے والی خواتین کو کیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب ایک صحافی کے طور پر کام کرنے میں مجھے کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا کیونکہ فرانسیسی لوگ پڑھے لکھے اور قابل افراد کی عزت کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ کسی عرب مسلمان سے ملتے ہیں تو ان کا پہلا تاثر یہ ہوتا ہے کہ یہ ایک جاہل اور غریب آدمی ہو گا۔ اس بارے میں فرانسیسی لوگوں کی سوچ کافی تنگ نظر اور طے شدہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مسلمان برطانیہ اور امریکہ میں جس آسانی سے عوامی سطح پر اپنے آپ کو منوا لیتے ہیں وہ آسانی مسلمانوں کو فرانس میں میسر نہیں ہے۔ فرانس کے مسلمان نوجوانوں میں یہ تاثر عام ہے کہ انھیں فرانسیسی معاشرے کا حصہ نہیں سمجھا جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرانس کا معاشرہ اور فرانسیسی شناخت برطانیہ اور امریکہ کی طرح ایک کثیر الثقافتی معاشرہ اور شناخت نہیں ہے۔ فرانس میں ایک فرانسیسی اسلام کی کوشش ہو رہی ہے۔ ایسا اسلام جو اپنے آپ کو فرانسیسی اقدار میں ڈھال لے اور فرانسیسی کلچر کا آئینہ دار ہو۔

فرانس کے بارے میں ایک دہائی قبل ایک فرانسیسی ماہر تعلیم پروفیسر کلاڈیا سینک نے اپنے مقالے میں لکھا تھا کہ فرانسیسیوں میں اداسی کی وجہ خود ان کی اپنی ثقافت ہے جو انھیں اداسی ’سکھاتی‘ ہے۔ اپنی دولت اور طرز زندگی کی وجہ سے جتنا فرانسیسیوں کو خوش رہنا چاہیے وہ اپنی ثقافتی ’ذہنیت‘ کی وجہ سے اس سے کہیں زیادہ ناخوش ہیں۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو فرانس میں عوام کی فلاح و بہبود کا بہترین نظام ہے جس میں مفت تعلیم اور صحت کی سہولیات تک سب کی رسائی ہے۔

فرانسیسی اور احتجاج لازم و ملزوم ہیں۔ جس کے لیے یہ چھوٹی سے مثال کافی ہے کہ رواں سال مارچ میں فرانس میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ وجہ وزیر اعظم ایمانویل میکخواں حکومت کا پینشن کی عمر 62 سے 64 سال کرنا تھا۔ مظاہروں میں سڑکیں بلاک، بجلی کا نظام درہم برہم، سکول بند ہوئے اور برطانیہ آنے والی یورو سٹار ٹرین بھی منسوخ کرنا پڑی۔ حالانکہ برطانیہ میں پینشن کی عمر 66 سال ہے مگر برطانیہ میں احتجاج کی کوئی خبر نہیں آئی۔ فرانس میں ایسا کیا مختلف ہوا کہ لاکھوں افراد نے احتجاج کیا اور ریلیاں نکالیں۔ اس کا جواب بڑا سادہ سا ہے اور وہ یہ کہ احتجاج فرانس کا کلچر ہے 1789 میں باسٹیل کے مضبوط قلعہ نما جیل کے آگے سینکڑوں افراد نے احتجاج کیا اور بعد میں اس پر قبضہ کر کے انقلاب فرانس کا آغاز کیا۔ اس انقلاب میں 30 سے 40 ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اب اس کے ایک دو پتھروں کے علاوہ اس کا کوئی نام و نشان تک نہیں ہے۔
انقلاب فرانس کے بعد سے اب تک فرانس میں سینکڑوں پرتشدد مظاہرے ہو چکے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظریہ سوچ کر بہت تکلیف ہوتی ہے کہ ہمارے مہنگائی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر پاکستانی نوجوان یورپی ممالک تک پہنچنے اب بھی اپنی جان کی بازی لگا رہے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ فرانس میں مرکزی دھارے میں شامل متوسط ​​طبقے کے لوگ چاہتے ہیں۔ کہ سماجی بہبود کے نظام سے صرف سفید فام لوگوں کو فائدہ پہنچنا چاہیے نہ کہ تارکین وطن کو۔ مستقبل میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ جیسے جیسے مزید تارکین وطن یورپی ممالک میں داخل ہوں گے ویسے ویسے آزادی، مساوات اور بھائی چارے کی لبرل اقدار ختم ہوتی چلی جائیں گی۔ ان کی جگہ کچھ ایسی قانون سازی ہوگی۔ جو یورپی ریاستوں کو سرکاری مراعات کو غیر سفید فام لوگوں تک محدود کردینے کی اجازت دے گی۔ گویا:

سانس کی سیڑھی چڑھتے چڑھتے ہانپنے لگتی ہیں امیدیں
ارماں سارے دھیرے دھیرے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں

Facebook Comments HS