دیار غیر میں اقلیتی بیٹے کے نام خط

پیارے بیٹے
کیسے ہو؟ دیار غیر میں تمہارے شب و روز کیسے گزر رہے ہیں؟ تم جس ملک میں رہتے ہو اس میں تم ایک مذہبی اقلیت ہو اس لیے میں تمہارے بارے میں متفکر رہتا ہوں کہ کہیں تمہارے ساتھ وہاں برا سلوک نہ ہوتا ہو۔ تم بھی سوچتے ہو گے کہ اج صبح صبح میں یہ کیا قصہ لے بیٹھا۔
آج ایک کام کے سلسلے میں پرانی انارکلی کی طرف جانا ہوا تو جین مندر راستے میں پڑا۔ یہ علاقہ آج بھی جین مندر کے نام سے ہی مشہور ہے۔ اصل مندر تو 1992 میں ایک بپھرے ہوئے ہجوم نے بابری مسجد کے انہدام کے بدلے میں جلا دیا تھا، اب تو اس کی جگہ ایک نو تعمیر شدہ عمارت ہے جو تعمیراتی اعتبار سے اصل مندر کا پاسنگ بھی نہیں۔ چلو یہ بھی غنیمت ہے کہ 30 سال کے بعد ہی سہی اپنی سوختہ بختی کے اس سوختہ نشان کو مٹانے کی توفیق تو ہوئی۔
بیٹا، ایک اس مندر پر ہی کیا موقوف ہمارے ہاں کئی گرجوں اور مندروں کو اسی طرح ڈھا دیا گیا ہے بد قسمتی سے جب مذہب کا تعلق صرف جذبات سے جوڑ دیا جائے تو اس کی تعلیمات کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ امید ہے امریکہ میں جس مسجد میں تم نماز پڑھنے جاتے ہو وہ اتنی غیر محفوظ نہ ہوگی۔
تمہیں یاد ہے 2009 میں ایک گاؤں میں مسیحیوں کے علاقے میں چند کاغذ جن پر قرآنی ایات تحریر تھیں خراب حالت میں ملے تھے۔ قرآن کی یہ توہین علاقے کے مسلمانوں سے برداشت نہ ہوئی اور انہوں نے حملہ کر کے دو گر جاؤں اور مسیحیوں کے 75 گھر تباہ کر دیے۔ بلوائیوں کے خوف سے کئی مسیحی اپنے گھر بار چھوڑ کر شہر کی جانب نقل مکانی کر گئے۔ بیٹا، تم جس ملک میں رہتے ہو وہاں مسیحیوں کی آبادی زیادہ ہے اور تمہارے گھر کے نزدیکی علاقے میں تو گرجا گھروں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ تم خیال رکھنا کہیں تم سے نادانستگی میں بائبل مقدس کی بے حرمتی نہ ہو جائے اور تم بھی خدانخواستہ کسی ایسے حالات سے دوچار ہو جاؤ جن سے ہمارے ہاں اس گاؤں کے لوگ ہوئے۔
ہمارے ہاں صوبہ سندھ میں ہندو لڑکیاں کافی تعداد میں اسلام قبول کر رہی ہیں اور ان کی شادیاں بھی مسلمان لڑکوں سے بآسانی ہو جاتی ہیں۔ لیکن کسی وجہ سے ہندو لڑکوں میں اسلام قبول کرنے کا ایسا رجحان نہیں ہے۔ تاہم ہندو برادری کا اس معاملے میں عمومی موقف یہ ہے کہ تبدیلی مذہب اور مسلمان لڑکوں سے شادیاں دونوں عموماََ جبراً ہوتی ہیں اور اس جبر کا نشانہ معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ گھرانے ہوتے ہیں۔ اس قسم کی شکایات پر پولیس اور عدالتیں کارروائی تو کرتی ہیں لیکن یہ کارروائی اکثر بے نتیجہ رہتی ہے۔
تم نے بھی مجھے چند روز پہلے بتایا تھا کہ ایک عیسائی خاتون ایک مرد کے ہمراہ تمہارے گھر آئی تھی اور تمہیں عیسائی مذہب کے بارے میں کچھ کتابچے دیے تھے اور گرجا گھر آنے کی دعوت بھی دی تھی۔ اس کی باتوں میں تمہیں زبردستی اور تشدد کی بو تو نہیں ائی؟ اگر ایسا ہو تو تم فوراً پاکستان واپس چلے آنا ۔
تم نے اپنی گزشتہ ای میل میں احمدی برادری کے بارے میں میڈیا رپورٹس کا ذکر کیا تھا۔ بیٹا احمدیوں کے معاملے میں پاکستان میں جو عمومی فضا پائی جاتی ہے اس کے پیش نظر میں اس بارے کچھ لکھنے سے بھی ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ ای میل اگر کسی اور کے ہاتھ لگ گئی تو میرا پاکستان میں رہنا مشکل ہو سکتا ہے اور ہم لوگ عوامی تضحیک اور تشدد کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ مہربانی فرما کر تم بھی اس معاملے میں احتیاط برتنا اور اپنے دوستوں سے بھی کوئی بات نہ کرنا ۔ توہین مذہب کے قوانین کا سب سے بڑا نشانہ یہی برادری ہے۔ تمہیں شاید معلوم نہیں کہ اس قانون کا نشانہ بننے والا ملتان کا ایک نہایت پڑھا لکھا شخص پچھلے کئی سالوں سے جیل میں ہے اور کوئی عدالت اس کا مقدمہ سننے کو بھی تیار نہیں۔ ایک وکیل ہمت کر کے اس مقدمے کی پیروی کر رہا تھا اسے بھی قتل کر دیا گیا۔
تمہیں شاید علم نہ ہو کہ ہمارے بچپن میں ہمارے گھروں میں غیر مسلم ملازمین کے لیے الگ برتن رکھے جاتے تھے۔ ان سے ہاتھ ملانے کا تو کوئی تصور ہی نہ تھا۔ مجھے بہت وقت لگا اپنے گھر سے اس اچھوت پنے کا کلچر ختم کرتے۔ جہالت اور منافقت پر مبنی یہ سماجی رویہ آج بھی پاکستان میں موجود ہے۔ میرے جن دوستوں کے گھروں میں ایسا ہوتا ہے میں ان سے پوچھتا ہوں کہ جب آپ لوگ بیرون ملک خاص طور پر کسی غیر مسلم اکثریت کے ملک میں سفر کرتے ہیں تو کیا ریسٹورنٹ میں اپنے برتن گھر سے لے کر جاتے ہیں؟ میرے اس سوال کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا لیکن پاکستان میں ان کے غیر مسلم ملازمین اسی سلوک کا شکار ہیں۔
تم نے فیس بک پر دیکھا ہوگا کہ ہم ہر سال اپنے ادارے کے مسیحی اراکین کے ساتھ مل کر کرسمس کا کیک کاٹتے ہیں اور ادارے میں منعقد ہونے والی دیگر تقریبات کی طرح اس تقریب کو بھی اپنے ادارے کے فیس بک پیج پر پوسٹ کرتے ہیں۔ ہر سال ہمیں چند لوگوں کی طرف سے اپنے اس فعل پر مطعون کیا جاتا ہے اور ہمارے ایمان کی سلامتی کے بارے میں شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے۔
پیارے بیٹے، اب میں اپنے غیر مسلم دوستوں سے ملتا ہوں تو میں دل ہی دل میں ان سے شرمندہ رہتا ہوں۔ گو کہ وہ مجھے پورے خلوص سے ملتے ہیں اور ہماری گفتگو میں مذہب اور سیاست عموماً موضوع بحث نہیں ہوتے لیکن میں سوچتا ہوں کہ ان اقلیتوں کے ساتھ پاکستان میں یہ سلوک وہ قوم کررہی ہے جس کے ایمان کا بنیادی تقاضا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آنے والے انبیاء پر ایمان لانا ہے۔ جن کے قرآن مجید میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔ قرآن نے جن کی ذمہ داریوں میں اس بات کو شامل کیا کہ وہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے جہاد کریں۔ جن کے دین میں اہل کتاب کی عورتوں سے شادی کی اجازت دی گئی۔
بس بیٹا میں تم سے آخر میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ تم اب وطن سے بہت دور ایک بالکل مختلف ماحول اور معاشرے میں زندگی گزار رہے ہو۔ ہو سکتا ہے کہ یہ معاشرتی اثرات تمہاری سوچ پر اثر انداز ہوں اور تم جب پاکستان واپس آؤ تو اس معاملے میں تمہارا رویہ مختلف ہو۔ میں تمہیں ابھی سے تنبیہ کیے دیتا ہوں کہ ایسا ہرگز نہ کرنا۔ اس روم میں ویسے ہی رہنا جیسے رومی رہتے ہیں۔ میں اس بڑھاپے میں نہ اولاد کا غم برداشت کر سکوں گا نہ ہی مجھ میں تھانوں اور عدالتوں میں خوار ہونے کی ہمت ہے۔ اس ای میل کو پڑھنے کے بعد ضائع کر دینا۔
فقط تمہارا والد
Facebook Comments HS


very well said Sir