فضل الرحمن صاحب کی عظمت سے جسم کے پہاڑوں اور غاروں تک


اس وقت رسالہ ’ختم نبوت‘ 23 جون  تا 7 جولائی 2023 کا اداریہ میرے سامنے ہے۔ اس تحریر کے اوپر لکھنے والے کا نام ’حضرت مولانا اللہ وسایا مد ظلہ‘ درج ہے۔ اور عنوان ہے ’مولانا کی استقامت کو سلام‘ ۔ اس اداریہ میں عمران خان صاحب اور انہیں اقتدار کی سیڑھی پر چڑھانے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں پاکستان میں صرف تین اشخاص تھے جو کہ بروقت پہچان گئے تھے کہ عمران خان صاحب کو مسند اقتدار پر کیوں بٹھایا جا رہا ہے؟ اور یہ تین اشخاص حکیم سعید صاحب، ڈاکٹر اسرار صاحب اور مولانا فضل الرحمن صاحب تھے۔ اور وہ بر وقت پہچان گئے تھے کہ:

” عمران خان امریکی مفادات کے لئے یہودی لابی کے کارپرداز ہیں۔ یہ پاکستان کے مفادات کی بجائے اپنے آقاؤں کے ان ایجنڈوں پر کام کریں گے ( 1 ) اسرائیل کو تسلیم کرانا ( 2 ) پاکستان کے اسلامی تشخص کو برباد کر کے مادر پدر آزاد نوجوان نسل کی تیاری و تشکیل۔ ( 3 ) پاکستان کے آئین سے اسلامی شقوں بالخصوص قادیانیت سے متعلق ترامیم کو کالعدم یا بے اثر قرار دینا۔ اس مشن کی تکمیل کے لئے ان کو لایا گیا ہے۔“

پھر وہ لکھتے ہیں کہ یہ صدمہ اتنا بڑا تھا کہ حکیم سعید صاحب اور ڈاکٹر اسرار احمد صاحب تو اس کی تاب نہ لا کر چل بسے مگر ایک فضل الرحمن صاحب ہیں جو کہ جرات، استقلال اور ثابت قدمی سے اب تک پہاڑ کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں۔ اور ان کی یہ استقامت تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔

پاکستان میں حکومت جب بھی بنے اور کسی بھی سیاسی جماعت کی بنے، اس کے سیاسی مخالفین اس پر یہ تین الزامات ضرور لگاتے ہیں۔ کہ ہوشیار خبردار یہ حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے آئی ہے۔ اور امریکہ اس کو اقتدار میں اس لئے لایا تاکہ اس ملک کا اسلامی تشخص تباہ و برباد کر دیا جائے۔ اور نئی نسل کو ہماری عظیم اقدار سے بیگانہ بنا دیا جائے۔ اور لگے ہاتھوں اس پر قادیانی یا قادیانی نواز ہونے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔

یہ خیال اس عاجز کی سمجھ سے بالا ہے کہ ہم یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ اسرائیل ہر وقت اس بات کے لئے تڑپ رہا ہے کہ پاکستان اس کو تسلیم کر لے۔ کیا پاکستان کی اقتصادی حالت اتنی مضبوط ہے کہ اسرائیل کو اس بات میں اپنا مالی فائدہ نظر آ رہا ہے کہ پاکستان ہمیں تسلیم کرے اور تجارت شروع ہو اور وارے نیارے ہو جائیں۔ کیا پاکستان نے کسی جنگ میں اسرائیل کو ایسا نقصان پہنچایا ہے کہ وہ اب تک زخم چاٹ رہا ہے اور اس پر ہماری طاقت کی اتنی ہیبت چھائی ہے کہ اس کی خواہش ہے کہ کسی طرح پاکستان اسے تسلیم کرے اور یہ خطرہ ٹلے۔

رہا ہمارا تشخص تو کیا ہمارے ملک میں عدالتیں مثالی انصاف دے رہی ہیں۔ کیا مختلف گروہوں میں ہم آہنگی اور بھائی چارہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ دنیا میں اس کی مثال ڈھونڈے سے بھی نہ ملے۔ کیا ہمارے وطن میں جہالت اور غربت کا خاتمہ ہو چکا ہے؟ کیا ہمارے ملک میں اتنا امن و امان ہے کہ دوسرے ممالک اس پر رشک کر رہے ہیں۔ یہاں کوئی جھوٹ نہیں بولتا۔ کوئی بد دیانتی نہیں کرتا۔ اگر ہم نے یہ سارے کارنامے سرانجام دے دیے ہیں تو واقعی ہمارا بھی کوئی مذہبی اور اخلاقی تشخص ہے۔ اگر حقیقت اس کے برعکس ہے تو کون سا تشخص؟ اور کیسا خطرہ؟

ماضی قریب کی مثالیں تو ہم سب کے ذہن میں تازہ ہیں لیکن یہ یاد کرانا ضروری ہے کہ بالکل اس قسم کے الزامات فضل الرحمن صاحب کی جماعت اور ان کے والد مفتی محمود صاحب پر بھی لگائے گئے تھے۔ جب 1970 کے انتخابات کی مہم اپنی تمام تر تلخیوں کے ساتھ عروج پر تھی تو شورش کاشمیری صاحب کے رسالہ چٹان میں ایک مضمون شائع ہوا جس کا عنوان تھا ”قادیانی جماعت نے آئین شریعت کانفرنس کے انعقاد پر دس ہزار روپیہ دیا تھا۔ غلام غوث ہزاروی اور مفتی محمود کس استاد کے آلہ کا رہیں۔“ اس مضمون میں مضمون نگار نے انکشاف کیا

”جمعیت العلماء کے دونوں بزرگ ان دنوں ہوا کے گھوڑے پر سوا رہیں۔ انھیں قادیانی گوارا ہیں، کمیونسٹ عزیز ہیں لیکن مولانا ابو الاعلیٰ مودودی اور آغا شورش کاشمیری کے خلاف جو زہر ان کے دل میں بیٹھ چکا ہے وہ نکلنا مشکل ہے۔ غلام غوث اور مفتی محمود پلکوں سے جاروب کشی کرتے ہوئے مبشر حسن کے گھر جاتے ہیں۔ ان کے جلسوں اور جلوسوں کی رونق سرخے ہوتے، وہی انھیں اچھال رہے ہیں اور ان کی بدولت وہ اچھال چھکا ہو گئے ہیں۔ آئینِ شریعت کانفرنس میں جو سبیلیں لگی تھیں، وہ سرخوں کی تھیں یا پھر ایک سبیل کے لیے قادیانی جماعت نے چندہ دیا تھا۔ راستہ بھر جھنڈے بھی سرخوں یا پہیوں کے لہرا ہے تھے۔ جمعیت کا ایک بھی جھنڈا کسی کونے یا نکڑ میں نہیں تھا۔“ (چٹان 20 جولائی 1970 )

ہفت روزہ چٹان کے ایک شمارہ میں یہ الزام لگایا گیا کہ جمعیت العلماء اسلام مرزائیوں کا بغل بچہ ہے۔ (چٹان 17 اگست 1970 )

ظاہر ہے کہ جمعیت العلما ء اسلام اور احمدیوں کا کوئی دور کا تعلق بھی نہیں تھا۔ اس مثال کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک دوسرے پراس قسم کے الزامات 75 سال سے لگائے جا رہے ہیں۔ اور سچ جھوٹ کی پرواہ کسی کو نہیں۔ جب فضل الرحمن صاحب لانگ مارچ کر رہے تھے تو تحریک انصاف کے حامی ان کی جماعت پر اس قسم کے الزامات لگا رہی تھی۔ اور اب تحریک انصاف اقتدار سے باہر ہے اور تحریک چلانے کی کوشش کر رہی ہے تو یہی الزامات جمعیت العلماء اسلام کے حامی عمران خان صاحب اور ان کی جماعت پر لگا کر بدلہ لے رہے ہیں۔

یہ سلسلہ تو چل رہا ہے لیکن اس اداریہ میں تحریک انصاف کی حامی خواتین اور مردوں کے بارے میں نہایت نازیبا جملے بھی لکھے ہیں۔ ان کے کچھ الفاظ ملاحظہ ہوں۔ استہزا، ناچ گانا، جسموں کا تھرکنا، کندھے ہلانے، اوپر نیچے کے زاویے، حصہ اعلی اور اسفل کے پہاڑ و غار، مستانی اور عریاں اداکاریاں، مخلوط اجتماعات کے برہنہ مناظر، سینہ کے ابھار کا جوار بھاٹا وغیرہ۔

کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکنان کے بارے میں اور خاص طور پر جب ان میں خواتین بھی شامل ہوں اس قسم کی فحش نگاری قابل مذمت ہے۔ اگر ان صاحب کو عمران خان صاحب سے سیاسی اختلاف ہے تو ضرور اس کا اظہار کریں۔ لیکن اس مقصد کے لئے جسم کے اعلیٰ اور اسفل حصوں کے پہاڑوں اور غاروں یا سینے کے ابھاروں کا ذکر کر کے ہم پاکستان کا کیا تشخص پیش کر رہے ہیں۔ آخر ہم بحیثیت قوم ایک دوسرے کا احترام کرنا کب سیکھیں گے؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments