پاکستان کو بے ہنگم آبادی نہیں، اچھے شہریوں کی ضرورت ہے


بچپن میں سکول جاتے ہوئے اچانک بس میں ایک فقیر نے صدا لگائی ”میں غریب اور بیمار آدمی ہوں، میرے آٹھ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، اللہ کے نام پہ میری امداد کریں۔ “ جس پر جھٹ سے میرے ایک شرارتی کلاس فیلو نے گداگر کو مخاطب کرتے ہوئے پنجابی میں گرہ لگائی، ”اٹھ بچے جم کے ساڈے سر کوئی احسان کیتا ای“ (آٹھ بچے پیدا کر کے ہمارے اوپر کوئی احسان کیا ہے؟)۔ اسی طرح ایک بار سکول میں آبادی کے بارے میں پڑھاتے ہوئے ہمارے ایک استاد محترم ہر طالب علم سے بہن بھائیوں کی تعداد اور والد کے پیشے سے متعلق دریافت کر رہے تھے کہ ایک طالب علم نے بتایا کہ وہ چودہ بہن بھائی ہیں۔ استاد نے اس سے پوچھا کہ آپ کے والد صاحب کیا کام کرتے ہیں تو اس نے ترنگ میں آ کر کہا ”ابھی بھی آپ کو پتہ نہیں چلا کہ وہ کیا کام کرتے ہیں، وہ یہی کام کرتے ہیں؟“ جس پر پوری کلاس کشت زعفران بن گئی۔
بڑھتی ہوئی آبادی ہمارا ایک سنجیدہ قومی مسئلہ ہے جسے ہمارے ہاں ہمیشہ غیر سنجیدہ لیا جاتا ہے اور آبادی کی روک تھام یا کمی کے لئے ہم کوئی واضح قومی لائحہ عمل طے نہیں کر سکے ہیں۔ اگر ہیومن ریسورس یا آبادی ہنرمند، تعلیم یافتہ اور باشعور ہو تو یہ کسی بھی ملک کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے لیکن اگر صورتحال اس کے برعکس ہو تو پھر کسی بھی ملک کو بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان کی کثیر آبادی چونکہ غیر ہنرمند اور غیر تعلیم یافتہ ہے تو نعمت کی بجائے زحمت بنتی جا رہی ہے۔ طبقاتی مفادات کی وجہ سے جس طرح ہمارے بہت سے دیگر قومی شعبے زوال کا شکار ہیں اسی طرح بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کے بارے میں بھی ہمارا رویہ مایوسی کی حد تک افسوسناک ہے۔ چین اور بہت سے دیگر ممالک نے آبادی کی روک تھام کے لئے سنجیدہ اقدامات کئیے جس کی وجہ سے آج ان ممالک کے وسائل اور آبادی میں توازن ہے۔

آبادی اور وسائل میں توازن بہت ضروری ہے اور بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ہمارے وسائل اور ترقیاتی منصوبے ہمیشہ پریشر میں رہتے ہیں۔ باوجود حکومتی اقدامات کے پاکستان میں تعلیم سمیت بہت سے دیگر شعبوں میں ترقی کی رفتار بہت سست ہے جس کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ اس وقت دنیا کا مجموعی لٹریسی ریٹ 86.81 فیصد ہے جس میں مردوں کی شرح خواندگی کا تناسب 90.1 اور عورتوں کی شرح خواندگی کا تناسب 83.3 فیصد ہے جبکہ پاکستان میں ابھی تک شرح خواندگی 58.9 % ہے جس میں مردوں کا تناسب 69.29 % اور خواتین کا تناسب 46.49 % ہے جبکہ افریقہ کے غریب ترین اور جنگ کے شکار ملک روانڈا میں شرح خواندگی کا تناسب 76 % ہے جبکہ ہمارے پڑوسی ملک انڈیا میں خواندگی کی شرح 78 % اور سابقہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش میں شرح خواندگی 75 % ہے۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ حکومتی سطح پر تعلیم کے فروغ کے لئے ناکافی اقدامات کئیے گئے ہیں بلکہ شاید حکومتی اقدامات کو بڑھتی ہوئی آبادی نگل گئی ہے۔ یہی حال صحت اور دیگر سیکٹرز کا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کا جن ہمارے تمام قومی وسائل کو نگل رہا ہے۔ اس وقت پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے جبکہ معاشی ترقی کے اعتبار سے ہمارا نمبر 43 ہے۔ اس وقت مجموعی طور پر دنیا کی کل آبادی 8 ارب ہے۔ ترتیب کے لحاظ سے دنیا کے دس بڑے ملکوں کی آبادی میں چین کی آبادی سب سے زیادہ ایک ارب بیالیس کروڑ، انڈیا کی ایک ارب چالیس کروڑ، امریکا کی آبادی چونتیس کروڑ، انڈونیشیا کی آبادی اٹھائیس کروڑ، پاکستان کی تئیس کروڑ 38 لاکھ، نائیجیریا کی اکیس کروڑ، برازیل کی بیس کروڑ، بنگلہ دیش کی سترہ کروڑ، روس کی پندرہ کروڑ، میکسیکو کی تیرہ کروڑ اور جاپان کی ساڑھے بارہ کروڑ ہے۔ 2012۔ 2021 کے دوران پاکستان کی آبادی میں شرح اضافہ 23.56 % ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پاکستان کے آئین کے مطابق ہر دس سال بعد مردم شماری ضروری ہے جو تاخیر اور بعض اوقات تنازعات کا شکار بھی ہو جاتی ہے۔ ہمارے طبقاتی مفادات بھی آبادی کے پھیلاؤ کو روکنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جن کی وجہ سے آبادی کو کنٹرول کرنے کی تمام سعی و کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں۔ بہت سی غلط مذہبی تشریحات بھی آبادی میں اضافے کا موجب ہیں۔ نیم جاہل علما غیر شعوری یا شعوری طور پر آبادی میں اضافے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ اس وقت امت مسلمہ کو پڑھی لکھی اور ہنر مند آبادی کی ضرورت ہے نہ کہ جاہلوں کی فوج کی جو ہمارے لیے امن و عامہ سمیت دیگر سماجی مسائل پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔

دراصل دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے کے کئی طبقات بڑھتی ہوئی آبادی سے مستفید ہوتے ہیں اور چونکہ یہ طبقات بالادست ہیں اور حکومتی سطح پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں لہٰذا اس مسئلے کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ ہماری اشرافیہ اکیسویں صدی کی پوسٹ ماڈرن نہیں بلکہ پندرھویں صدی کی پری ماڈرن سوچ رکھتی ہے، ان کا مقصد پاکستانیوں کو دنیا میں باعزت قوم بنانا نہیں بلکہ ایک ایسی قوم بنانا ہے جو ان کے اور ان کی اولادوں کے کنٹرول میں رہے اور اس کے لئے آبادی کے ایک بڑے حصے کا جاہل رہنا ضروری ہے۔ کیونکہ پڑھے لکھے اور باشعور لوگ تو سوال کریں گے۔ آبادی کا زیادہ پریشر دیہی علاقوں میں ہوتا ہے جہاں جہالت کا زیادہ راج ہے۔ ہمارے سست الوجود اور کاہل جاگیر داروں اور زمینداروں کو اپنی زمینوں کے لئے سستی لیبر مہیا ہوتی ہے جسے وہ اپنی رعایا کہتے ہیں لہٰذا وہ اپنی رعایا میں آبادی میں اضافے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ انھیں کام کاج کے لئے سستے داموں لیبر مہیا ہوتی رہے۔ اسی طرح صنعت کار اور سرمایہ دار بھی اپنی فیکٹری اور ملوں کے لئے سستی لیبر چاہتا ہے۔

سیاستدان بھی اپنے جاہل ووٹروں کے ذریعے اقتدار میں آتا ہے، کیونکہ جاہل ووٹر ہی ہر دفعہ ان کے جھوٹے وعدوں پر اعتبار کر لیتے ہیں سو وہ بھی بڑھتی ہوئی آبادی سے مستفید ہوتا ہے۔ حکومتیں اور افسر شاہی پٹواریوں، نمبرداروں اور تھانیداروں کے ذریعے عوام کو قابو میں رکھتی ہیں اور ان کا راج برقرار رہتا ہے سو جاہل اور بڑھتی ہوئی آبادی ان کے لئے بھی ایک نعمت ہے۔ مذہبی طبقے کے مفادات بھی کثیر اور جاہل آبادی سے وابستہ ہیں کیونکہ اس سے ان کے مدرسے آباد رہتے ہیں اور پیروکار بھی وافر تعداد میں میسر آتے ہیں۔

جرنیلوں کو بھی چھاؤنیاں اور بارڈر آباد کرنے اور اپنے طمطراق کے لئے زندہ باد کے نعرے لگانے والی جہلا کی ضرورت پڑتی ہے سو جب ہماری ریاست کے اہم اسٹیک ہولڈرز ایک چیز سے مستفید ہو رہے ہوں تو وہ اسے کیونکر مسئلہ سمجھیں گے؟ قومی مفادات سے زیادہ ذاتی اور طبقاتی مفادات عزیز ہو جائیں تو پھر قوم قوم نہیں رہتی وہ ریوڑ بن جاتی ہے۔ ہمیں اپنے مسائل حل کرنے میں تبھی کامیابی ہو گی جب ہم ان کی بنیادی وجوہات کو سمجھیں گے۔

ہم قالین، دری اور مصلے سے عارضی طور پر سوراخ بند کر کے اگر سمجھ لیں کہ مسئلہ حل ہو گیا تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے، ہمیں بہتر حکمت عملی سے کام لے کر سماجی مسائل کو جنم دینے والے تمام سوراخ بند کرنے پڑیں گے۔ ہمیں کرپشن، بیڈ گورننس اور سماجی نا انصافی کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی آبادی کو کنٹرول کرنے پر بھی توجہ دینا ہو گی ورنہ کثیر آبادی کی صورت میں ہمارے معاشرے میں بے روزگاروں اور جاہلوں کی فوج ہمارے لیے امن عامہ اور دیگر سماجی مسائل پیدا کرتی رہے گی۔ ہر بچے کا رزق خدا کے ہاتھ میں ہے لیکن ہمیں چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے کا بھی کہا گیا ہے۔ پاکستان کو اس وقت بے ہنگم آبادی کی نہیں بلکہ اچھے شہریوں کی ضرورت ہے جو اپنے ملک کو آگے لے جا سکیں نہ کہ ہمارے وسائل پر بوجھ بن کر مسائل پیدا کرتے رہیں۔

Facebook Comments HS